• Sat, March 14, 2026
  • Ramaḍān 24 1447
  • KHI - PAKISTAN 22.3°C

سائنس / میڈیکل

آپ کا بچہ بہت زیادہ شرارتی کیوں ہے ؟

تحریر: ثمین فاطمہ شائع شدہ جولائی ۰۹, ۲۰۲۵

ماں باپ بننا دنیا کا سب سے خوبصورت احساس ہے۔ ہم سب یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے ہمیشہ ہنستے کھیلتے رہیں۔ لیکن کبھی کبھی ننھے فرشتوں کی زندگی میں کچھ چیلنجز آ جاتے ہیں جنہیں سمجھنا اور ان کا سامنا کرنا والدین کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔

یہ مسائل نہ تو کسی کی غلطی ہوتے ہیں اور نہ ہی شرمندگی کی بات۔ یہ تو بس بچوں کی نشوونما کا حصہ ہیں، جنہیں اگر وقت پر پہچان لیا جائے تو ان کا حل آسان ہو جاتا ہے اور بچہ ایک خوشگوار زندگی گزار سکتا ہے۔

آئیے، ایسے ہی کچھ عام مسائل پر نظر ڈالتے ہیں تاکہ آپ اپنے بچے کی بہترین مدد کر سکیں:

1. جب ننھا مننا دماغی طور پر چنچل ہو: توجہ کی کمی اور ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر (ADHD)

کیا آپ کا بچہ ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھتا؟ یا کھیل میں بھی پوری توجہ دینا مشکل لگتا ہے؟ اکثر بچے شرارتیں کرتے ہیں، لیکن جب یہ عادت حد سے بڑھ جائے اور پڑھائی یا روزمرہ کے کاموں میں رکاوٹ بننے لگے تو یہ Attention Deficit Hyperactivity Disorder (ADHD) ہو سکتا ہے۔

یہ کوئی شرارت نہیں بلکہ ایک اعصابی مسئلہ ہے، جہاں بچے کا دماغ چیزوں پر توجہ مرکوز کرنے یا پرسکون رہنے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔

کیسے پہچانیں؟
اسکول میں دل نہ لگنا، چیزیں رکھ کر بھول جانا، بہت زیادہ باتیں کرنا، کسی کی بات کاٹنا، یا مسلسل حرکت میں رہنا۔

آپ کیا کر سکتے ہیں؟

صبر سے کام لیں۔ بچے کو چھوٹے چھوٹے کام دیں تاکہ وہ توجہ مرکوز کر سکے۔ ڈاکٹر سے ملیں، جو آپ کو علاج اور طریقے بتائیں گے جو بچے کی زندگی آسان بنا دیں گے۔ یقین کریں، ایسے بچے ذہین ہوتے ہیں بس انہیں تھوڑی زیادہ رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

2. ننھے دل میں چھپا خوف: اضطراب کے مسائل (Anxiety Disorders)

کبھی کبھی بچے چھوٹی چھوٹی باتوں پر بہت زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں، یا کسی سے الگ ہونے پر بہت روتے ہیں۔ اگر یہ ڈر اتنا بڑھ جائے کہ بچہ اسکول جانے سے گھبرائے، دوستوں سے نہ ملے، یا اس کے پیٹ میں بلاوجہ درد ہونے لگے تو یہ اضطراب ہو سکتا ہے۔

کیسے پہچانیں؟
بلاوجہ کا ڈر، پیٹ یا سر درد کی شکایت، نیند میں مشکل، یا نئی جگہوں پر جانے سے گریز۔

آپ کیا کر سکتے ہیں؟
بچے سے پیار سے بات کریں۔ اسے بتائیں کہ آپ ہمیشہ اس کے ساتھ ہیں۔ ڈاکٹر یا ماہر نفسیات گفتگو کی تھیراپی Cognitive Behavioral Therapy (CBT) تجویز کرتے ہیں جو بچوں کو اپنے ڈر کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
ان کے خوف کو حقیر نہ سمجھیں، یہ ان کے لیے حقیقی ہوتے ہیں۔

3. اپنے ہی دائرے میں سمٹا جہاں: آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر (ASD)

کچھ بچے دوسروں سے بات چیت کرنے یا دیکھ کر مسکرانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ وہ اکثر اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں، ایک ہی کام بار بار کرتے ہیں، یا تبدیلیوں کو قبول نہیں کر پاتے۔ یہ آٹزم کی علامات ہو سکتی ہیں۔

کیسے پہچانیں؟
آنکھ سے آنکھ نہ ملانا، نام پکارنے پر جواب نہ دینا، جذبات نہ سمجھ پانا، ایک ہی طرح کے کھیل کھیلنا، یا مخصوص چیزوں سے غیر معمولی لگاؤ۔

آپ کیا کر سکتے ہیں؟
سب سے اہم بات یہ ہے کہ جلدی ڈاکٹر سے ملیں۔ ماہرین انہیں بات چیت، سماجی رابطے اور روزمرہ کے کاموں میں مدد دیتے ہیں۔ آپ کا پیار بھرا ساتھ اور تھوڑی سی تربیت ان کے لیے نئی راہیں کھول سکتی ہے۔

4. کبھی ضدی تو کبھی شرارتی: رویے کے مسائل (Behavioral Disorders)

بعض اوقات بچے بہت زیادہ ضدی ہو جاتے ہیں، والدین یا اساتذہ کی بات نہیں مانتے، یا بلاوجہ غصہ کرتے ہیں۔ اگر یہ رویے مسلسل اور شدید ہو جائیں تو یہ ضدی رویوں کا ڈس آرڈر (ODD) یا رویہ کا ڈس آرڈر (CD) ہو سکتا ہے۔

کیسے پہچانیں؟

بات نہ ماننا، بحث کرنا، غصہ دکھانا (ODD)، دوسروں کو تنگ کرنا، چیزوں کو نقصان پہنچانا، جھوٹ بولنا (CD)۔

آپ کیا کر سکتے ہیں؟

صبر سے کام لیں، ٹھوس اصول بنائیں، اور بچے سے پیار سے بات کریں۔ ماہر نفسیات آپ کو ایسے طریقے سکھائیں گے جن سے بچہ اپنے رویوں پر قابو پا سکے گا۔ یاد رکھیں، ان رویوں کے پیچھے اکثر کوئی نہ کوئی پریشانی چھپی ہوتی ہے.

5. قلم اور کتاب سے دوری: سیکھنے کی دشواریاں (Learning Disabilities)

کچھ بچے پڑھنے، لکھنے یا حساب میں دوسروں سے پیچھے رہ جاتے ہیں حالانکہ وہ محنت بھی کرتے ہیں۔ یہ سیکھنے کی دشواریاں ہو سکتی ہیں جن کا تعلق ذہانت سے نہیں بلکہ دماغ کی معلومات کو پروسیس کرنے کی صلاحیت سے ہوتا ہے۔

کیسے پہچانیں؟

پڑھائی پر محنت کے باوجود نتائج خراب آنا، پڑھنے یا لکھنے میں دشواری، الفاظ کو الٹا پڑھنا، یا ریاضی کے بنیادی تصورات سمجھنے میں مشکل۔

آپ کیا کر سکتے ہیں؟

ڈانٹنے کے بجائے اس کی مشکل کو سمجھیں۔ اساتذہ اور ماہرین سے بات کریں جو خصوصی تعلیمی مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ تھوڑی سی اضافی رہنمائی سے یہ بچے بھی شاندار کارکردگی دکھا سکتے ہیں.

والدین کے لیے پیغام :

اگر آپ کو اپنے بچے میں ان میں سے کوئی بھی علامت نظر آئے تو پریشان نہ ہوں۔ یہ موقع ہے کہ آپ اپنے بچے کو بہتر سمجھیں اور اس کی مدد کریں۔
شرمندگی کو پیچھے چھوڑ کر کسی ماہر ڈاکٹر یا چائلڈ سائیکولوجسٹ سے بات کریں۔ یاد رکھیں، ہر بچہ منفرد ہوتا ہے اور اسے آپ کے پیار، صبر، اور سمجھ کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

آپ کا ایک چھوٹا سا قدم بچے کی پوری زندگی کو روشن کر سکتا ہے۔

سائنس ڈائجسٹ نیوز لیٹر

اپنے ان باکس میں پہنچائی جانے والی اہم ترین خبروں کی جھلکیاں حاصل کریں۔