
پر کشش جاذب نظر شخصیت ہونا حضرت انسان کی فطری کمزوری ہے اور اس میں مردو عورت کی کوئی تخصیص نہیں۔ چنانچہ اس کمزوری سے فائدو اٹھا کر صاحب نظر اور زیرک صنعت کاروں نے کا سمیٹکس اور سنگھاری مصنوعات کو جدید تہذیب کا ایک لازمی حصہ بنا دیا ہے اور یہ صنعت ساری دنیا میں بڑی تیزی سے ترقی کرتی جارہی ہے۔ میک اپ اور سنگھار کے ان ہی ساحرانہ اثرات کے پیشن نظر ۱۷۷۰ میں بر طانوی پارلیمنٹ میں : ایک بل پیش کیا گیا تھا جس کی رو سےہر عمر اور طبقہ کی عورتوں پر چاہے وہ کنواری ہوں طلاق شده و یاریا بیوہ پہ پابندی لگادی گئی تھی کہ اگر انہوں نے کسی مرد کو خوشبو کا سمیٹکس مصنوعی دانتوں بالوں یا اونچی ایڑھی کےجوتوں کی مدد سے شادی کے لئے راغب کرنے کی کو شش کی تو وہ شادی باطل سمجھی جائے گی۔
ہر مرد اور عورت کے دل میں حسین اور خوبصورت ہونے اور دوسروں کو ایسا نظر آنے کی خواہش ہلکے ہلکے چٹکیاں لیتی رہتی ہے۔ بلوغ کے قریب قدرت بھی ہمارے حسن کو دوبالا کرتی ہے۔ خود نمائی ایک ایسا جذبہ ہے جو بچپن سے ہم میں موجود ہوتا ہے اور عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتا ہے۔ خوبصورت اور حسین نظر آنے کا احساس صنف نازک میں مرد حضرات کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے لیکن اس خواہش سے مرد بھی عاری نہیں ہوتے۔ خواتین تو حسین نظر آنے کے لئے بڑے بڑے جتن کرتی ہیں اور پاپڑ بیلتی ہیں اور اس سلسلے میں جتنی محنت کرتی ہیں ایسی کوشش اگر دوسری مشکلات کے حل کرنے میں صرف کریں تو بڑی بڑی مہمات سر کرلیں۔
عورت کو قدرت نے حسن سے مالا مال کیا ہو یا نہ کیا ہو مگر وہ اپنے حسن کو بڑھانے کے لئے ہر حربہ وہتھیار استعمال کرتی ہے۔ اور ان ہتھیاروں میں لباس کے بعد سرفہرست حسن افروز سنگھار کی اشیاء سنگھار کا سامان ہیں جن کا استعمال عورتیں اپنے حسن کو بڑھانے میں ہزار ہا سال سے کر رہی ہیں لیکن مرد بھی ان سے کچھ زیادہ پیچھے نہیں ہیں اور تاریخ کے ہر دور میں مرد بھی حسن افروز اشیاء کا استعمال تھوڑا بہت ضرور کرتے نظر آتے ہیں۔
انسان نے حسن افروز اشیاء کا استعمال قبل از تاریخ شاید ہزار ہا سال پہلے اس وقت شروع کر دیا تھا جب کہ وہ لباس کی جگہ پتے باندھتا تھا۔ اس وقت سے ہی وہ رنگ برنگی قدرتی مٹیوں یا سفوف کا استعمال جسم پر سندور کی طرح مل کر اور چہرہ پر غازہ کی طرح لگا کر کرتا تھا کہ مقابلہ حسن میں ایک دوسرے سے بڑھتا ہوا ہو۔ اس کا ثبوت آج تک دنیا کے مختلف حصوں میں غیر ترقی یافتہ قبائل کی رسومات ہیں جو مختلف طریقوں سے اپنے جسم کی زیبائش و سنگھار کرتے ہیں۔ آج بھی امریکہ اور کینیڈا کے قدیمی باشندے (ریڈ انڈین ) برازیل میں دریائے ایمیزان کے قدیمی قبائل آسٹریلیا کے قدیمی باشندے (Aboriginals (گئی ،آسام و ہنددوستان کے قدیمی قبائل اپنے اجسام پر اورچہرہ پر مختلف رنگ و روغن سرخ یا پیلا گیرو(Ochre مل کر افزائش حسن کرتے ہیں۔ یہاں یہ بتانا خالی از دلچسپی نہیں ہو گا کہ انسان نہ صرف جسم پر مختلف رنگ و روغن مل کر افزائش حسن کرتا ہے بلکہ کھال کو گود کر (Tattoo) کر کے مختلف نقش و نگار بناتا ہے اگرچہ یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ جیسے تہذیب یافتہ ملک میں بھی ایسے لوگ ملتے ہیں جو بازؤں اور جسم کے دیگر حصوں پر بڑے بڑے ٹیٹو (Tattoo) بنواتے ہیں۔ کچھ قدیمی قبائل میں تو پورے چہرے یا جسم پر یا جسم کے بڑے حصہ کو گدوا کر خوبصورت نقش و نگار بنوانے کا رواج تھا۔ نیوزی لینڈ کے اندر بسنے والے ماوری (Maori) مرد ایک زمانہ میں فیشن میں پورے چہرہ کو گدوا کر خوبصورت نقش و نگار بنواتے تھے۔ اگرچہ اب یہ رواج ان لوگوں میں کم ہو گیا ہے لیکن اب بھی ماوری مرد اور عورتیں چہرہ پر ایک یا دو نقش ضرور گدوا تے ہیں۔

مختلف اقسام کی حسن افروز اشیاء کے آمیزہ کا استعمال زیادہ تر کھال کو صاف کرنے کھال کے داغ دھبوں کو دور کرنے یا چھپانے یا زیادہ خوبصورت بنانے کے لئے ہوتا ہے۔ تاریخ میں ایسی اشیاء کا استعمال سب سے پہلے مصری تہذیب میں ملتا ہے۔ ان اشیاء کے استعمال کا سراغ پہلی فراعنہ کی سلطنت تک میں (جو ساڑھے تین ہزار سے پانچ ہزار سال قبل مسیح میں گزری ہے) ملتا ہے۔ فراعنہ مصر کے مقابر جو ساڑھے تیرہ سو سے سولہ سو سال قبل مسیح کے دور کے ہیں، ان میں حسین افروز اشیاء رکھنے کے برتن جو سنگ سفید سنگ مرمر او ر سنگ سفید(Onyx) کے بنے ہوئے ہیں دریافت ہوئے ہیں۔ فراعنہ مصر کے دور کی خواتین اپنے حسن کو مختلف رنگوں کے استعمال سے بڑھاتی تھیں اور اس فن کو ملکہ قلوپطرہ نے انتہا تک پہنچا دیا جس نے اپنی خوبصورتی کاسمیٹکس (Cosmetics) اور خوشبویات (Perfumes) کے استعمال سے دو چند کی۔ اس دور کی عورتوں نے آنکھوں کے حسن بڑھانے پر بہت توجہ دی۔
مصری عورتوں کی آنکھیں ویسے بھی خوبصورت ہوتی ہیں اور مصر میں عرب عورتوں کے مقابلے میں قبطی عورتوں کی آنکھیں زیادہ بڑی اور خوبصورت ہوتی ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال پہلے فراعنہ مصر جو قبطی تھے ان کے زمانہ سے بھی عورتوں نے آنکھوں کے حسن کوبڑھانے کے لئے خصوصی توجہ دی ہے۔ آنکھوں آنکھوں کی پلکوں اور بھوؤں کو سرمہ کے ذریعے گری سیاہی دی جاتی ہے اور یہ سرمہ ہاتھی دانت یا لکڑی کی سلائی سے لگایا جاتا تھا۔ آئینہ کا استعمال فراعنہ مصر کی چھٹی سلطنت میں جو پندرہ سو سال قبل مسیح کے دور میں تھی سب سے پہلے پایا گیا اور اس دور کے بعد فراعنہ مصر کے دیگر ادوار میں عورتوں میں آئینہ کنگھی کے استعمال اور مہندی سے ہاتھوں اور پاؤں کو رنگنے کا رواج بھی ملتا ہے۔ اس طرح سے آج کحل جو ہند و پاکستان میں لڑکیاں مہندی انگلیوں، ہتھیلیوں اور پاؤں پر لگاتی ہیں اور مندی سے طرح طرح کے نقش و نگار بناتی ہیں یہ رواج کم از کم تین ہزار سال پرانا ہے۔
یہودی عورتوں میں بھی ہزاروں سال سے چہرہ پر حسن افروز اشیاء اور آنکھوں میں کحل (Kohl) یا سرمہ لگانے کا رواج ہے اور اس کا ذکر بائیل یا توریت (Old Testament) میں ملتا ہے۔ سرمہ اور خصاب کا استعمال عربوں میں بھی زمانہ قدیم سے ہے۔ رومی لوگوں میں کاسمیٹکس کے استعمال کا دو ہزار سال سے پتہ چلتا ہے۔ نیرو (Nero) ۵۴ ء مسیح میں روم کا حاکم ہوا۔ نیرو اور اس کی بیگم پاپی(Poppaea) حسن افروز اشیا کا بے دریغ استعمال کرتے تھے۔ یہ لوگ کھال سفید کرنے کے لئے چاک اور سفید سمیہ (White Lead) استعمال کرتے تھے۔ آنکھوں کو سیاہ کرنے کے لیے کھل یا سرمہ استعمال کیا جاتا تھا اور گالوں اور ہونٹوں پر لگانے کے لئے سرخی کا استعمال کیا جاتا تھا۔ کھال پر داغ دھبوں اور مہاسوں کو دور کرنے کے لئے جو کا آٹا اور لکھن کا آمیزه استعمال کیا جاتا تھا۔ رومن دربار کی حسینائیں اس دور میں بھی اپنے بالوں کا رنگ ہلکا کرنے کے لئے (Bleaching Of Hair) مختلف قسم کے صابن استعمال کرتی تھیں رومن لوگوں کی طرح برطانیہ کے انگریز بھی کاسمیٹکس کا استعمال کافی عرصے سے کر رہے ہیں۔ خوبصورتی بڑھانے کے لئے دودھ میں نہانے کا بھی رواج ہے اور اسکاٹ لینڈ کی ملکہ میری (Mary) کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنی کھال ترو تازہ رکھنے اور خوبصورت رکھنے کے لئے شراب سے بھرے حوض میں نہاتی تھی۔ شراب سے چہرہ کو دھونے کا تو عام رواج تھا تاکہ چہرہ ترو تازہ رہے۔ حسن افروز اشیاء کا استعمال صرف برطانیہ ہی میں نہیں بلکہ یورپ کے دیگر ملکوں میں بھی عام تھا۔ نپولین کی ملکہ جوزفین (Josephine) حسین رہنے کے لئے کاسمیٹکس اور پر فیوم کا بے تحاشہ استعمال کرتی تھی۔
سترھویں صدی تک برطانیہ میں حسن افروز اشیاء کا استعمال اتنا بڑھ گیا کہ ۱۷۷۰ء میں برطانیہ کی پارلیمینٹ میں ایک بل پیش کیا گیا جس میں ہر عمر طبقہ اور ہر قسم کی عورتوں پر چاہے وہ باکرہ ہوں، طلاق شدہ ہوں یا بیوہ یہ پابندی لگا دی گئی کہ وہ کسی مرد کو خوشبو، کاسمیٹکس اور مصنوعی دانتوں یا بالوں، اونچی ایڑھی کے جوتوں وغیرہ سے شادی کے لئے آمادہ نہیں کریں گی اور ان حربوں سے اگر یہ ثابت ہو گیا کہ شادی کی گئی ہے تو پھر یہ شادی باطل سمجھی جائے گی یعنی بناؤ سنگھار اور مصنوعی بالوں اور حسن افروز اشیاء کے استعمال سے کسی عورت کو مرد کو شادی کے لئے راغب کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔ زمانہ قدیم سے ہندوستان میں بھی کاسمیٹکس کا رواج ہے اور مغل بادشاہوں کے دور میں حسن افروز اشیا کا استعمال عام تھا۔ جہانگیر کی ملکہ نور جہاں کاسمیٹکس اور پرفیوم کا استعمال کرتی تھی اور مشہور ہے کہ گلاب کا عطر بھی ہندوستان میں ملکہ نور جہاں نے ہی ایجاد کیا تھا۔غرض بناؤ سنگھار کی اشیاء کا استعمال انسان میں زمانہ قدیم سے رائج ہے اور اب تو ان اشیاء کا استعمال اتنا بڑھ گیا ہے کہ ہر ملک اور معاشرہ میں یہ اشیاء کروڑوں و اربوں روپے کی استعمال ہوتی ہیں اور دنیا کی تجارت میں کاسمیٹکس کی تجارت بھی ایک منفعت بخش کاروبار ہے۔
پاکستان میں بھی ہم کروڑوں روپے کی حسن افروز اشیاء استعمال کرتے ہیں اور ملک کا اچھا خاصہ زر مبادلہ ان اشیاء کی درآمد یا یہاں بنائی ہوئی کاسمیٹکس کے خام اجزاء کی درآمد پر خرچ ہوتا ہے۔ کاسمیٹکس ایسے تو سینکڑوں قسم کے ہیں لیکن ان بہت سی اشیاء کی ہم چند خاص قسم کی کاسمیٹکس میں درجہ بندی کر سکتے ہیں جن میں مختلف قسم کے پاؤڈر کریم، غسل کے وقت پانی میں ڈال کر استعمال کرنے والے نمکیات (Bath Salts) بدبو دور کرنے اور بال صاف کرنے والی کریم، آنکھوں کو خوبصورت بنانے کے لئے) (Eye Shadows اور بھنویں بنانے کے لئے سلائیاں (Eye Brow Sticks))، لپ اسٹک(Lip Sticks)، مسکارا (Mascara) ناخنوں کی دیکھ بھال کے لئے اشیاء اور بالوں کی دیکھ بال کے لئے تیل، رنگنے کے لئے اشیاء (Hair Dyes) بالوں کو گھنگریالے بنانے کے لئے تضبیطات (Hair Curling Formulations) شیمپو ہیرٹانک (Hair Tonic) شامل ہیں مردوں کے استعمال میں شیونگ صابن (Shaving Soap) شیو بنانے کے بعد چہرے پر لگانے کے لئے لوشن کریم وغیرہ آتے) (After Shave Lotionsہیں۔ افزائش حسن کے لئے زیادہ تر اشیاء کا استعمال چہرہ ہاتھوں اور جسم کے دیگر حصوں کی کھال پر اور بالوں پر ہوتا ہے۔ اس لئے ان اشیاء کی افادیت اور حقیقت جاننے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ کھال اور بالوں کی ہیئت کو سمجھا جائے۔ انسانی جلد قدرت کی طرف سے حضرت انسان کو ملنے والا ایک حیرت انگیز تحفہ ہے۔ جلد انسان کے بڑے عضویات (Organs) میں سے ایک عضو ہے۔ ایک ساڑھے پانچ فٹ قد کے ستر کلو گرام وزنی انسان کی کھال کا رقبہ سولہ ہزار مربع سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا حجم دو ہزار چار سو ملی میٹر اور وزن تین کلو گرام ہوتا ہے۔ ہمارے جسم کا اپنے گرد ماحول سے تعلق کھال ہی کے ذریعہ ہوتا ہے۔ یعنی ہمارے جسم کی کیمیائی اور فعلیاتی (Physiological) کائنات کو گردو پیش کی کائنات سے کھال ہی جدا کرتی ہے۔ کھال کے مختلف افعال میں سے تین افعال خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔
کھال پر پسینہ کے اخراج سے جسم کا درجہ حرارت بڑھنے نہیں پاتا۔ پسینہ کی جلدسےجسم ٹھنڈا رہتا ہے (Evaporation)پر تبخیر ورنہ اس تبخیر کے رکھنے سے جسم گرم ہو جائے گا اور انسان بہت بے چینی محسوس کرے گا۔ کھال گردوں کے فعل کی بھی معاونت کرتی ہے اس لئے کہ جسم سے پسینہ کے ساتھ ایسے کیمیائی مرکبات جیسے یوریا (Urea) وغیرہ کا بھی اخراج ہوتا ہے جو کہ پیشاب میں بھی پائے جاتے ہیں اس طرح کھال گردوں کی طرح ان غیر ضروری کیمیائی مرکبات کا اخراج کرکے جسم کی صفائی کرتی ہے۔ ان دو اہم افعال کے علاوہ(Bacteriostatic) کھال پر مختلف جراثیم کش اور پھپھوند کش(Fungistatic) شحی ترشی (Fatty Acids) اور کیمیائی مرکبات پائے جاتے ہیں جن سے ہماری جلد مختلف بیماریوں سے ہمارے جسم کا دفاع کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کھال پر موجود کچھ کیمیائی مرکبات جذباتی ترسیل اور کیمیائی پیغام رسانی کے ذریعے کے اہم (Chemical Communication) کام بھی انجام دیتے ہیں۔ انسانی کھال میں تین تہیں ہوتی ہیں۔ سب سے اوپر کی تہ ابھی ڈرمس (Epidermis) کہلاتی ہے۔ اس میں خون کی شریانیں نہیں ہوتیں اور یہ نیچے کی تہ ڈرمس (Dermis) کے ذریعہ غذا عمل نفوز (Diffusion) کے ذریعہ سے حاصل کرتی ہے۔ درمیانہ تبہ (ڈرمس) کے نیچے ایک تیسری تہ ہوتی ہے جس میں چربی کے خلیات ہوتے ہیں یا چربی کی تہہ ہوتی ہے اور یہ جسم کی نچلے حصوں کی حفاظت کرتی ہے۔ اور نسوں اور خون کی شریانوں کی حفاظت کرتی ہے۔ یہ حرارت کی خراب ترسیل (Bad Conduction) کرتی ہے۔ اس لئے جسم کو حرارت کے اخراج سے بچاتی ہے۔
جلد کی اوپری تہہ (Epidermis) ایک سے تین ملی میٹر تک موٹی ہوتی ہے لیکن ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلوؤں میں اس کی موٹائی کہیں زیادہ ہوتی ہے لیکن چہرہ کی کھال کم موٹی ہوتی ہے۔ اس اوپری تہہ میں بھی بہت سی تھیں (Layers) ہوتی ہیں اندورونی تہیں زندہ ہوتی ہیں لیکن باہر کی کھردری تہہ(Horny) یا (Stratum Corneum) مردہ ہوتی ہے۔ یہ سخت اور مضبوط مدافعت کرنے والی تہہ ایک ریشہ دار پروٹین (Keratin) سے بنی ہوئی ہوتی ہے۔ اس اوپری تہہ کی سب سے اندورونی تمہ میں نئے خلیات بنتے ہیں جیسے جیسے ان خلیات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے ویسے ویسے یہ خلیات نچلی تہوں سے ہوتے ہوئے اوپر کی طرف آتے ہیں اور ان میں کیراٹن کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے اور کھال کی سطح پر آتے آتے یہ مردہ ہو جاتے ہیں اور کھال سے چھوٹے چھوٹے چٹپے ٹکڑوں (Flakes) کی شکل میں الگ ہو جاتے ہیں۔ یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور اس طریقہ سے ایک آدمی کے جسم سے ایک دن میں تقریبا ایک گرام وزن کے یہ خلیات الگ ہو جاتے ہیں۔ کھال کی اوپری تہہ پر یہ مردہ خلیات اسکویم (Squames) بھی کہلائے جاتے ہیں اور اپنے اندر پانی، چربی اور دیگر مائعات کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے کھال کے اوپر بہت سے مادے نکلنے کے بعد کھال پر پھیل جاتے ہیں۔ یہی جلد کے وہ خلیات ہیں جو ہم نہاتے یا پسینہ آتے وقت جسم کو مل کر میل کی شکل میں الگ کرتے ہیں۔ ایک خلیہ کو نیچے کی تہہ سے کھال کے اوپر آتے آتے دو سے چار ہفتہ تک لگ جاتے ہیں۔ یعنی نیچے کی تہہ میں بنے والے خلیات دو سے چار ہفتوں میں اوپر آکر مردہ ہو کر الگ ہو جاتے ہیں اور اس سارے عمل سے ان جلد کی اوپری تہہ (Epidermis) ایک سے تین ملی میٹر تک موٹی ہوتی ہے لیکن ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلوؤں میں اس کی موٹائی کہیں زیادہ ہوتی ہے لیکن چہرہ کی کھال کم موٹی ہوتی ہے۔ اس اوپری تہ میں بھی بہت سی لہریں (Layers) ہوتی ہیں اندورونی تہیں زندہ ہوتی ہیں لیکن باہر کی کھردری (Stratum Corneum) (Horny) مردہ ہوتی ہے۔ یہ سخت اور مضبوط مدافعت کرنے والی تہہ ایک ریشہ دار پروٹین (Keratin) سے بنی ہوئی ہوتی ہے۔ اس اوپری تہہ کی سب سے اندورونی تہہ میں نئے خلیات بنتے ہیں جیسے جیسے ان خلیات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے ویسے ویسے یہ خلیات نچلی تہوں سے ہوتے ہوئے اوپر کی طرف آتے ہیں اور ان میں کیراٹن کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے اور کھال کی سطح پر آتے آتے یہ مردہ ہو جاتے ہیں اور کھال سے چھوٹے چھوٹے چٹپے ٹکڑوں (Flakes) کی شکل میں الگ ہو جاتے ہیں۔ یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور اس طریقہ سے ایک آدمی کے جسم سے ایک دن میں تقریباایک گرام وزن کے یہ خلیات الگ ہو جاتے ہیں۔ کھال کی اوپری تہہ پر یہ مردہ خلیات اسکویم (Squames) بھی کہلائے جاتے ہیں اور اپنے اندر پانی، چربی اور دیگر مائعات کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے کھال کے اوپر بہت سے مادے نکلنے کے بعد کھال پر پھیل جاتے ہیں۔ یہی جلد کے وہ خلیات ہیں جو ہم نہاتے یا پسینہ آتے وقت جسم کو مل کر میل کی شکل میں الگ کرتے ہیں۔ ایک خلیہ کو نیچے کی تہہ سے کھال کے اوپر آتے آتے دو سے چار ہفتہ تک لگ جاتے ہیں۔ یعنی نیچے کی تہہ میں بنے والے خلیات دو سے چار ہفتوں میں اوپر آکر مردہ ہو کر الگ ہو جاتے ہیں اور اس سارے عمل سے ان تم اپنا حلیہ بدل لود دیکھو بالکل فلمی ہیروئن کی طرح بال چھونے اور ناخن لیے ہیں۔ خلیات کے ساتھ ساتھ خلیات کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والے لحمیات (Lipids) بھی جسم کی سطح پر پھیل کر جسم کو چکنا کرتے ہیں۔ مختلف اعضاء میں و مثامنز (Vitamins) کی کمی کا اظہار بھی کھال کی اوپری تہہ پر ہوتا ہے۔ اوپری جلد کے نیچے زیریں جلد (Dermis) کی تہہ ہوتی ہے۔ جو ریشہ دار نسوں (fibrous Tissues) سے بنی ہوئی ہوتی ہے اور اس میں لچکدار نسوں کی لڑیاں (Strands) بھی ہوتی ہیں۔ اس تہہ میں خون کی نالیاں، اعصاب لمف (جسیمات (Corpuscles) اور بالوں کی تھیلیاں (Hair Follicles) بھی ہوتی ہیں۔ اس تمہ میں پائے جانے والے دو پروٹین زیریں نسوں کی حفاظت کے لئے ضروری ہوتے ہیں جب کہ ایک تیسرا پائے جانے والا پروٹین کولیجین (Collagen) زخموں کو بھرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔

کھال کی زیریں تہہ آسانی سے دو تہوں پیپلری (Papillary) اور ریٹی کیولر (Reticular) تہوں میں تقسیم کی جاسکتی ہے۔ پیپلری تہہ میں اعصاب (Nerves) کے اختتامی سرے(Terminal Endings) اورچھونے کے اعصاب ہوتے ہیں اور ان کی سب سے زیادہ تعداد انگلی کے سروں، انگوٹھوں، پستانی گھنڈیوں (Nipples) اور اعضائے تناسل میں پائی جاتی ہے جہاں احساس لمس سب سے شدید ہوتا ہے۔ یہ تہہ غیر محسوس طریقہ سے نچلی ریٹی کیولر تہہ میں مل جاتی ہے جس میں عصبیات نسیات (Vessels) بالوں کی تھیلیاں اور ریشہ دار نسوں کے کچھے ہوتے ہیں۔ جلد چار بنیادی احساسات کا ادراک کرتی ہے۔ یہ احساسات لمس یا چھونا ٹھنڈک گرمی اور درد ہیں۔ باقی احساسات جیسے ہموار یا چکنا پن، کھجلی گدگدی و غیرہ ایک یا بنیادی احساسات کے ایک ساتھ اعصابی نظام پر ملنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ جلد کا رنگ پانچ رنگین مرکبات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان رنگوں میں میلانن (Melanin) سب سے اہم ہے اور کھال کی نچلی تہہ میں بھورے رنگ کے ذرات میں پایا جاتا ہے۔ یہ مرکب انسانی کھال کو بالا بنفشی شعاعوں الٹرا وائلٹ ریز (Ultra Violet Rays) کے اثرات سے بچاتا ہے اور ایسی شعاعوں کے جلد پر پڑنے سے یہ جلد میں زیادہ مقدار میں بننے لگتا ہے۔ گرم ممالک میں لوگ سورج کی شعاعوں کے زیر اثر زیادہ رہتے ہیں۔ اس لئے ان شعاعوں سے بچنے کے لئے ان کی جلد میں میلانن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور وہ سانولے یا کالے رنگ کے ہوتے ہیں۔ حبشیوں کی سیاہ رنگت بھی میلانن کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن سیاہ ترین حبشی کی پوری کھال میں بھی اس کیمیائی مرکب کی مقدار دو گرام سے زیادہ نہیں ہوتی۔ جسم کے مختلف حصوں میں میلانن کی مختلف مقدار پائی جاتی ہے مثلاً یہ مرکب جسم پر اوسط مقدار سے زیادہ چہرہ پیشانیاعضائے تناسل کے اطراف، سرپستان (Areoles) اور پستانی گھنڈیوں پر پایا جاتا ہے۔ یعنی یہ حصے عام جلد کے مقابلے میں زیادہ گہرے رنگ کے ہوتے ہیں۔ میلان بنانے والے خلیات (Melanocytes) کھال میں کبھی غدود (Sebaceous Glands) کے ساتھ آنکھوں کی پلکوں، بھنوؤں (Eye Brows) اور بالغ خواتین کی پستانی گھنڈیوں پر پائے جاتے (Adult Female Nipples) ہیں۔ میلان کی مقدار کچھ بیماریوں میں اور حمل کے دوران بھی جسم کے کچھ حصوں میں بڑھ جاتی ہے۔ جس سے ان حصوں کا رنگ عام جلد کے مقابلے میں گھرا ہو جاتا ہے سرد ممالک میں گرمیوں کے موسم میں خواتین ساحل سمندر پر سورج کی شعاعوں سے غسل کرتی ہیں تاکہ ان کی رنگت بھی سانولی یا رنگ دار (Tanned) ہو جائے اور اس رنگت سے ان کا حسن گرمیوں میں دو بالا ہو سکے۔ ان گوری خواتین کی خواہش تو یہ ہوتی ہے کہ گرمیوں میں سارے دن ساحل سمندر پر لیٹ کر سورج کی کوئی شعاع ضائع نہ کریں تاکہ ان کا رنگ بھی ہم جیسا سانولا ہو جائے لیکن قباحت یہ ہے کہ سفید کھال کی اقوام کو قدرت نے ہماری طرح میلائن کی زیادہ مقدار نہیں دی ہے۔ جو جلد کی بالا بنفشی شعاعوں سے حفاظت کرتی ہے۔
اس مرکب کی کھال میں کمی کی وجہ سے جسم کو سورج کی زیادہ روشنی لگنے سے جلد کا سرطان ہو سکتا ہے اوریہی وجہ ہے کہ مغرب میں موسم گرما کے شروع ہوتے ہی وہاں کے اطباء لوگوں کو سورج کی شعاعوں میں کھلے جسم کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کو منع کرتے ہیں کہ اس طرح جلد کے سرطان ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ کاسمیٹکس بنانے والی کمپنیوں نے غسل آفتاب کے شائقین کے لئے تے نئے تضبیطات (Formulations) تیار کئے ہیں۔ ان میں سورج کی شعاعوں سے بچانے کی تضبیطات (Sunscreen Products) سرفہرست ہیں۔ یہ مرکبات روغن یا کریم کی صورت میں کھال پر لگائے جاتے ہیں۔ جن کا مقصد سورج کی بالا بنفشی شعاعوں کو ہے۔ جو جسم پر پہنچنے سے روکنا نہیں بلکہ ان کی شدت کو کم کر کے ان کے مقابلے میں جسم کے دفاع کو بڑھاتا ہوتا کہ کھال کی تہہ (Stratum Corneum) کو موٹا کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ مرکبات روغن یا کریم لگانے کے بعد جسم کی دو سے چار گھنٹے تک حفاظت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی تضبیطات بھی ہوتی ہیں جو جسم کو سورج کی روشنی کے چھلنے (Sun Burn) سے بچاتی ہیں اور ایسے روغنیات اور تیل و کریم بھی ملتے ہیں جن کو جسم پر لگانے سے کھال آسانی سے سورج کی روشنی میں سنولا ہو جاتی ہے او ریہ (Suntan) لوشن یا کریم کہلاتے ہیں ان میں زیادہ تر پیرا امینو زوئیک ایسڈ خاص (Aminobenzoic Acid) مرکب ہوتا ہے جس کو دیگر مرکبات سے ملا کر آمیزہ بناتے ہیں اور لوشن یا کریم کی طرح استعمال کرتے ہیں۔
جلد کے اوپر خاص کر انگلیوں کے نشانات ہر شخص پرمختلف ہوتے ہیں اور انگلیوں کے ان نشانات سے کسی خاص شخص کو پہچاننا ممکن ہوتا ہے اور اس طرح سے پولیس کافی عرصہ سے جرائم پیشہ اشخاص کی شناخت جرم کی جگہ پر ان کی انگلیوں کے نشانات سے کر سکتی ہے۔ ہماری جلد کے اوپر جو مائع یا پسینہ پایا جاتا ہے وہ تیزابی ہوتا ہے یا دوسرے لفظوں میں ہماری کھال ترش ہوتی ہے۔ مغربی ممالک میں تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ گورے مردوں کی کھال عورتوں کے مقابلے میں زیادہ ترش ہوتی ہے۔ گورے مردوں کی اوسط پی انچ قدر (PH Value) ۸۵ء ۴ ہوتی ہے جب کہ گوری عورتوں کی یہ اوسط قدر ۵ ء ۵ پائی گئی ہے۔ یہ قدریں مختلف لوگوں میں مختلف ہو سکتی ہیں اور یہ زیادہ تعجب خیز نہیں ہے اس لئے کہ کھال ایک انتہائی پیچیدہ عضو ہے جو وراثت اور ماحول سے اثر پذیر ہوتی ہے۔ تیزا بیت کھال کے اوپر پائے جانے والے بہت سے شحمی ترشوں (Fatty Acids) کی وجہ سے ہوتی ہے جو جراثیم کش و پھپوند کش ہوتے ہیں کھال کی مختلف انسانوں میں مختلف ترشی کی وجہ سے حسن افروز اشیاء (کا کاسمیٹکس) کے مختلف لوگوں میں استعمال سے مختلف اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ایک حسن افروز روغن کی مقدار اور کیفیت ایک عورت کی کھال پر دوسری عورت کی کھال کے مقابلے میں مختلف تاثیر پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حسن افروز اشیاء کا استعمال بھی ایک آرٹ ہے اور اس ہیں وجہ سے سنگھار کرنے والی خواتین (Beauty Parlours ) کا کاروبار خوب چمکتا ہے۔
کھال سخت سردی میں بھی آسانی سے منجمد نہیں ہوتی اور کھال پر موجود روغنیات کھال کو سردی سے بچانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور اس طرح کھال کی یہ خصوصیت سخت سردی میں بھی انسان کی حفاظت کرتی ہے۔ انسان میں پسینہ والے غدود کی تعداد تقریبا تئیس سے چالیس لاکھ ہوتی ہے اور ایک غدہ کا وزن تئیس سے چالیس مائیکرو گرام تک ہوتا ہے۔ یہ نکلی نما (Tubular ) ہوتے ہیں اور ان کا قطر ۳۰۰/۱ اینچ ہوتا ہے۔ یہ غدود تین قسم کے ہوتے ہیں اور یہ ایکرائن (Accrine) اپوکرائن (Apocrine) اور سیبی (Sebaceous) غدود ہوتے ہیں۔ ایکرائن غدود ہونٹوں اور اعضائے تناسل کی جلد کے علاوہ جسم پر ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ انسانی جسم سے ایک دن میں پسینہ کے ذریعے ایک لیٹر پانی کا اخراج ہوتا ہے اور پسینہ میں ننانوے فیصد سے زیادہ پانی ہوتا ہے اور پسینہ بے رنگ اور ہلکا ترش ہوتا ہے۔ تازہ پسینہ کی بو ناپسندیدہ نہیں ہوتی۔ ایکرائن غدود سے نکلے والا پسینہ کھال کے اوپر سیبی اور ایپوکرائن غدود کے ابرازات یا پسینہ سے مل جاتا ہے۔ جلد پر مناسب درجہ حرارت اور رطوبت کی وجہ سے پسینہ پر جراثیم کا عمل فورا ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اس عمل سے شحمی ترشوں (Fatty Acids) کی ٹوٹ پھوٹ اور خمیر سے بنے والے ذیلی مرکبات (By Products) کی وجہ سے پسینہ میں بو پیدا ہو جاتی ہے۔
سیبی غدود سب سے زیادہ سر اور پیشانی پر ہوتے اور ہونٹوں اور نتھنوں کے گرد پستانی گھنڈیوں اور اعضائے تناسل کے قریب بغیر بالوں کی جلد پر بھی پائے جاتے ہیں اور ان کے ابرازات کیمیائی پیغام رسانی کا سبب ہو سکتے ہیں۔ کبھی غدود ایک روغنی مادہ یا تیل کا اخراج کرتے ہیں جو سیبم (Sebum) کہلاتا ہے اور زیادہ تر لحمیات (Lipids) کا مرکب ہوتا ہے۔ انسانی جلد روزانہ ایک سے دو گرام تک سیبم تیار کرتی ہے۔ یہ روغنی مادہ کھال کو نرم اور ملائم رکھتا ہے اور بلوغ کے قریب یہ غدود زیادہ سرگرم ہو جاتے ہیں اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی جلد پر چکنائی کی مقدار زیادہ بنتی ہے۔ لیکن ادھیڑ عمری میں عام پر ان کا عمل سست پڑ جاتا ہے لیے عرصہ تک قلوی (Alkaline) محلول کھال پر لگنے سے اور کھال کو بار بار صابن سے لگا دھونے سے کھال پر سیبم کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور کھال سوکھی نظر آنے لگتی ہے اور آسانی سے ادھڑ نے لگتی ہے۔ بڑے حلقہ والے غدود (Large Coil Gland) سے منسلک ہوتے ہیں۔ یہ آنکھ کے پوٹوں کے کناروں کان کی نالی کے بیرونی حصے، بغلوں، پستانوں اور پستانی گھنڈیوں، مقعد اور اعضائے تناسل کی جلد میں پائے جاتے ہیں یہ بھی شحمی ترشے، نائٹروجنی مرکبات (Nitrogenous Compounds) نمکیات پانی اور کھال کی زیریں تہہ کے خلیات کا اخراج کرتے ہیں۔ ان غدود کے ابرازات کا جنسی خواہش اور رغبت کی کیمیائی پیغام رسانی میں اہم کردار معلوم ہوتا ہے اور اس طرح سے لاشعوری طور پر یہ جنسی اظہار میں اہم ہیں۔ پسینہ کھال کے اندر پائے جانے والے تینوں غدودوں (ایکرائن، سیبی اور ایپو کرائن) کے ابرازات کے مجموعہ کا نام ہے اور اس میں کیمیائی پیغام رسانی کی اہمیت کے مرکبات بھی شامل ہوتے ہیں۔
مندرجہ بالا حقائق سے یہ واضح ہو گیا کہ کھال جسم کے دیگر اعضاء کی طرح ایک پیچیدہ عضو ہے اور کھال میں بیرونی اشیاء کا بیرونی طریقہ سے نفوذ نہیں ہو سکتا یعنی کھال پر کوئی بیرونی تیل، روغن یا کریم لگا کر یہ سمجھنا غلط ہو گا کہ اس فارمولیشن کے اجزا کھال میں جذب ہو جائیں گے۔ کیونکہ قدرت نے باہر کے اجزاء کے نفوذ سے کھال کو محفوظ کیا ہوا ہے۔ لیکن جسم میں اندورنی تبدیلیوں یعنی پروٹین کی زیادتی یا کمی وٹامن کی زیادتی یا کمی یا غذا میں تبدیلی کا اثر کھال پر بھی پڑے گا۔ کھال کو کسی بیرونی ذریعہ سے غذا نہیں پہنچائی جاسکتی اس لئے بہت سی ایسی مصنوعات جو یہ بلند بانگ دعوے کرتی ہیں کہ ان کے استعمال سے جسم کی کھال کو غذائیت ملے گی اور چہرہ اور جسم کی کھال اس غذائیت سے دوبارہ خوشنما، تازی اور دیدہ زیب ہو جائے گی تو ایسی مصنوعات بنانے والے صرف لوگوں کو بے وقوف بنا کر ان کی جیبیں خالی کرتے ہیں۔ چہرہ، ہاتھوں اور جسم کے دیگر حصوں کی جلد کو تازہ خوشنما اور حسین رکھنے کے لئے افزائش حسن کی مصنوعات (Cosmetics) بنانے والی کمپنیوں نے مردوں اور عورتوں کے استعمال کے لئے اربوں روپے کے پاؤڈر، کریم، رنگ و روغن اور دیگر اشیاء بنا کر دنیا کے چپہ چپہ میں فروخت کرکے اس تجارت سے بے انتہا دولت کمائی ہے۔ ان مصنوعات کو مندرجہ بالا حقائق کے پس منظر میں دیکھنے سے آپ یہ اندازہ کر سکتی ہیں کہ ان مصنوعات کا صرف اتنا فائدہ ہو سکتا ہے کہ یہ جلد کو صاف کرنے اور رکھنے میں مدد کر سکتے ہیں لیکن ان مصنوعات کے بنانے والوں کے دیگر بلند و بانگ دعوے دور از حقیقت ہیں۔
ان مصنوعات کا یہ فائدہ ضرور ہو سکتا ہے کہ بڑھاپے میں جلد پر سیم اور شخمیات کی کمی کو یہ دور کر سکتی ہیں اور اس وجہ سے کھال پر جھریاں پڑنے کا عمل مقابلتا سست پڑ جاتا ہے اور جلد زیادہ عرصہ تک جوان محسوس ہوتی ہے اور خشک اور سوکھی ہوئی نہیں محسوس ہوتی۔ لیکن حسن دیر پا نہیں ہوتا اور اگر ایسا ممکن ہوتا تو دنیا میں الزبتھ ٹیلر ، جینا لولو بر جریدا ، صوفیہ لارین برجت بار دوت اور گریس کیلی جیسی حسین اور دولت مند خواتین ہمیشہ جوان اور حسین رہتیں اوربڑھاپے کو اپنے قریب بھی نہ پھٹکنے دیتیں۔ لیکن لاکھوں روپے کے کاسمیٹکس، یہاں تک کہ پلاسٹک سرجری کے کمالات بھی ان کے چہروں کے حسن اور دیدہ زیبی کو زیادہ عرصہ تک نہ روک سکے اور آخر کار بڑھاپے نے ان کو بھی آ لیا اور اب ان چہروں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ حسن کہاں گیا اور بے اختیار منہ سے نکلتا ہے کہ ذرا عمر رفتہ کو آواز دیتا۔ ہار سنگھار کے لئے بہت سے کریم استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہ کریمیں ٹھنڈی کریم (Cold Cream)، اڑنے والی کریم (Vanishing Cream)، جلدی کریم (Skin Cream)، پسینہ روکنے والی کریم (Antiperspiration Cream)، سورج سے جھلسنے کی صورت میں لگائی جانے والی کریم (Antisun Burn Cream)، غیر روغنی کریم (Greaseless Cream)، مساج کریم (Massage Cream)، بدبو دور کرنے والی کریم (Deodorising Cream)، اور بال صفا کریم (Depilatory Cream) شامل ہیں۔ ہاتھوں پر لگانے کے لئے (Hand Cream) استعمال ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ زیبائش (میک اپ) کے لئے ایک بنیادی کریم (Makeup Base) بھی ہوتی ہے، جس کو چہرے پر پہلے لگا کر دوسری حسن افروز مصنوعات لگائی جاتی ہیں۔ ہر کریم کی بہت سی مختلف اقسام بھی ہوتی ہیں۔
کریم زیادہ تر موم، تیل اور پانی کا شیرا (Emulsion) ہوتی ہیں۔ کولڈ کریم میں گلاب کا پانی بھی ڈالا جاتا ہے۔ جلدی کریم میں بوریکس (Borax) ڈالا جاتا ہے۔ اڑنے والی کریم اور ہاتھوں کی کریم (Vanishing Cream, Hand Cream) میں زیادہ تر اسٹیرک ایسڈ صابن ،گلسیرین (Glycerine)، اسٹیرک ایسڈ (Stearic Acid) اور پانی ہوتا ہے۔ اس قسم کی کریم کو چہرے پر لگانے کے سفوف کی بنیاد (Face Powder Foundation) کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ کریمیں چہرے اور ہاتھوں کی حفاظت کے لئے ایک تہہ بنانے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ جلد صاف کرنے والی کریم (Cleansing Cream) میں موم(Base wax)، لیولین (Lanolin)، پیرافن موم (Paraffin Wax)، بوریکس اور پانی شامل ہوتے ہیں۔
حسن افروز سفوف (Powder) میں چہرے پر لگانے والا پاؤڈر (Face Powder)، ٹالکم پاؤڈر (Talcum Powder) اور ٹائلٹ پاؤڈر (Toilet Powder) شامل ہیں۔ ان میں زیادہ تر ٹالک (Talc) جو آبی میگنیشیم سلیکیٹ (Magnesium Hydrated Silicate)، ہوتا ہے۔ میگنیشیم کاربونیٹ (Magnesium Carbonate)، چاک، کیولن (Kaolin)، ٹائٹینیم آکسائیڈ (Titanium Oxide)، زنگ آکسائیڈ (Zinc Oxide) اور میگنیشیم اسٹیریٹ (Magnesium Stearate) ہوتے ہیں۔ ایسے سفوف میں نشاستہ (Starch) بھی بنیادی سفوف کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
ہونٹوں کی خوبصورتی بڑھانے کے لئے لپ اسٹکس میں مختلف قسم کی موم جیسے بیس ویکس (Spermaceti, Beeswax)، کارنوبا ویکس (Carnauba Wax)، ارنڈی کا تیل (Castor Oil) یا دوسرے تیل اور لینولین شامل ہوتے ہیں۔ (Lanolin) یا اونی چربی (Wool Fat)، پیٹرولٹم (Petrolatum)، تالیفی مانو گلیسرائڈ (Synthetic Glyceride)، مختلف قسم کے رنگ جو ایک (Lakes) یعنی dyes کی مختلف دھاتوں (المونیم، ٹیٹینیم، کیلشیم، اسٹرا نشیم) کے ساتھ مرکب (Complex) اور بال (Resins) بھی ڈالا جاتا ہے۔ موم اور تیل ملا کر کھلائے جاتے ہیں اور رنگ ملائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد سانچوں (Molds) میں ڈال کر لپ اسٹکس بنائی جاتی ہیں۔
آنکھوں کے حسن کو بڑھانے کے لئے مسکارا آنکھوں کا میک اپ اور آنکھوں کے شیڈوز (Eye Shadows) استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان تضبیطات میں لوہے کا آکسائیڈ (Iron Oxide)، مختلف کاربن بلیک (Carbon Black) اور الٹرا میرین (Ultra Marines) استعمال کئے جاتے ہیں۔ آنکھوں کے حسن کو دوبالا کرنے کے لیے آنکھوں کی پلکوں کو گہرا کیا جاتا ہے اور یہ کام مسکارا کرتا ہے، مسکارا تیل میں رنگ اور شیرہ بنانے والے مرکبات (Emulsifiers) کے ذریعہ سے تیار کیا ہوا ایک شیرہ (Emulsion) ہوتا ہے۔ آنکھوں کے شیڈوز (Eye Shadows) میں زیادہ تر رنگ مختلف لوہے کے آکسائیڈ کے ذریعہ سے حاصل کئے جاتے ہیں۔ موم کو منزل آئل (Mineral Oil)، لینولین یا پیٹرولٹیم میں گھول کر اس آمیزہ میں رنگ ملا کر یہ شیڈوز بناتے ہیں۔ دھاتی چمک (Metallic Lustre) کے شیڈوز بہت باریک پسے ہوئے المونیم، چاندی یا سونے کے سفوف ملا کر بنائے جاتے ہیں۔
ناخنوں کی خوبصورتی کے لئے ناخن بڑھائے جاتے ہیں اور اگر خواتین ناخن نہ بھی بڑھائیں تو بھی ان کا حسن ناخنوں کی پالش (Nail Polish) کے ذریعہ بڑھا سکتی ہیں۔ ان میں سیلیولوز نائٹریٹ رنگ (Cellulose Nitrate) جو کہ ناخنوں پر رنگ کی تہہ (Film Former)، پلاسٹیسائزر (Plasticizer) جیسے ڈائی آکٹیل تھیلیٹ ((Dioctyl Phthalate)) یا ڈائی بیوٹل تھیلیٹ (Divutyl Phthalate)، مختلف رنگ اور محلل (Solvent) ہوتے ہیں۔ سیلیولوز نائٹریٹ کی جگہ اب مختلف رال (Resins) استعمال کئے جاتے ہیں۔
ناخنوں پر سے رنگ اتارنے کے لئے نیل پالش ریمور (Nail Polish Remover) استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں لینولن، ایک محلل جو نیل پالش گھلا سکے اور پرفیوم استعمال کیا جاتا ہے۔
عورتوں کی حسن افروز اشیاء کی طرح مرد بھی مختلف کاسمیٹکس استعمال کرتے ہیں۔ ان میں شیو کے بعد (After Shave Lotion)، جلد کی کریم یا لوشن (Skin Cream)، شیونگ کریم، غیر روغنی سن اسکرین کریم (Greaseless Sunscreen Cream) اور بالوں میں لگانے والے کریم (Hair Grooming Cream) شامل ہیں۔ کریم کے اجزاء تقریبا وہی ہوتے ہیں جو خواتین کی اس قسم کی کریم میں ہوتے ہیں۔ لیکن مردوں کے استعمال کے کریم میں پرفیوم (Perfume) مختلف ہوتے ہیں اور ایسے پرفیوم استعمال کئے جاتے ہیں جو Spicy ہوتے ہیں اور جن کو مرد حضرات لگانا پسند کرتے ہیں۔
بالوں کو بڑھانے، بالوں کی حفاظت اور بالوں کی آرائش و زیبائش کے لئے بھی مختلف انواع و اقسام کی اشیاء استعمال ہوتی ہیں۔ لیکن ان چیزوں کے بارے میں بتانے سے پہلے کچھ بالوں کے بارے میں بتانا بہتر ہو گا۔ ایک تندرست انسان کے سر پر ایک لاکھ بئیس ہزار بال پائے جاتے ہیں لیکن بالوں کی تعداد مختلف لوگوں میں مختلف ہوتی ہے۔ بھورے بال عام طور پر باریک ہوتے ہیں اور ان کی تعداد سر پر ایک لاکھ چالیس ہزار تک ہو سکتی ہے جب کہ سیاہ بال موٹے ہوتے ہیں اور سر پر ان کی تعداد ایک لاکھ آٹھ ہزار ہوتی ہے۔ بالوں کی اوسط عمر چھ ماہ ہوتی ہے یعنی ایک سو اسی دن لیکن گرمیوں میں عموما بال زیادہ عرصے میں گرتے ہیں اور ان کی عمر ایک سو ستانوے (۱۹۷) دن تک ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سردیوں میں بال زیادہ جھڑتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اب خواتین یہ اندازہ کر سکتی ہیں کہ کنگھا کرتے وقت بال جھڑیں تو یہ پریشانی کی بات نہیں کیونکہ یہ ایک قدرتی عمل ہے اور یہ وہ بال ہیں جو کہ اپنی عمر طبعی پوری کر چکے ہیں۔
انسانی جلد کی طرح بالوں پر بھی بیرونی اثرات کا بہت کم اثر ہوتا ہے۔ اگر جسمانی صحت اچھی ہو تو بالوں کی افزائش بھی زیادہ ہوگی اور بال گھنے ہوں گے۔
اچھی صحت کے لئے اچھی اور متوازن غذا کی ضرورت ہے جس میں پروٹین، وٹامن، کاربوہائیڈریٹ اور نمکیات شامل ہونے چاہئیں۔ گوشت، دودھ، انڈا اور پھل کھانے سے ایسی متوازن غذا مل سکتی ہے۔ اس لیے جو مرد و خواتین بال بڑھانے اور گھنے کرنے خواہشمند ہیں ان کے لیے یہ بہتر ہو گا کہ بجائے سینکڑوں روپے ہر ماہ بالوں کی حفاظت و بڑھانے کی مصنوعات یعنی تیل، کریم و روغن پر خرچ کرنے کے یہ رقم اچھی غذا کھانے پر خرچ کی جائے تاکہ صحت عمدہ ہونے سے جلد کی چمک بھی بڑھے اور بال بھی صحت مند رہیں۔
بال کیراٹن سے بنتے ہیں اور جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے انسانی جلد میں سکیبی غدود ایسی چکنائی خارج کرتے ہیں جو کہ بالوں کو چکنا رکھتی ہے۔ ان غدود کا فعل خراب ہونے پر بالوں کی جڑیں چکنی نہیں رہیں گی اور سر کی جلد سوکھنے سے بالوں کے گرنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ آج کل عام طور پر یہ فیشن ہے کہ بالوں کو تیل نہیں لگایا جاتا اور سوکھا رکھا جاتا ہے۔ اس طرح سے سر کی کھال بھی سوکھی رہتی ہے اور بال زیادہ گرتے ہیں۔ سر میں تیل لگانے سے بالوں کی جلد چکنی رہے گی اور بال مضبوط رہیں گے۔
بالوں کو بڑھانے کا دعوی کرنے والے نسخے اور روغنیات بے بنیاد ہوتے ہیں اس لیے کہ ان نسخوں سے بنائی ہوئی اشیاء کو بالوں پر لگانے سے ان کے بڑھنے کی رفتار پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ سر پر بالوں میں خشکی کی عام شکایت کی جاتی ہے اور خشکی کو دور کرنے کے لئے سینکڑوں قسم کے صابن، شیمپو اور تیل فروخت کیے جاتے ہیں اور بناؤ سنگھار کی مصنوعات بنانے والی کمپنیاں لوگوں سے اس طرح کروڑوں روپے وصول کرتی ہیں لیکن جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ جلد مردہ خلیات کا مستقل اخراج کرتی رہتی ہے اور سر کی کھال بھی اس طرح مردہ خلیات بناتی ہے اور بالوں کی جڑوں کو چکنا کرنے والا سیبم ان خلیات کو بھی چکنا رکھتا ہے جو کنگھی کرنے یا نہانے کے دوران سر دھونے پر نکل جاتے ہیں لیکن بالوں کے خشک ہونے کی صورت میں یا سر کی کھال کی خشکی کی وجہ سے یہ خلیات بالکل سوکھ جاتے ہیں اور پھر کنگھی کرنے پر خشکی یا (Dandruff) کی شکل میں جھڑتے ہیں۔ خشکی بذات خود بالوں کو گرانے کا باعث نہیں ہوتی اور اگر سر کے بالوں کو تیل ڈال کر چکنا رکھا جائے تو خشکی پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
مردوں کو گنجے پن کی شکایت ہزاروں برس سے ہے اور اس کا علاج بقراط حکیم بھی نہ کر سکے۔ گنجے پن کا تعلق موروثی اور جسم میں مردانہ ہارمون (Testosterone) سے وابستہ لگتا ہے کیونکہ عورتیں عموما گنجی نہیں ہوتیں۔ مردوں میں گنجا پن شروع میں سر پر انگریزی حرف M کی شکل سے شروع ہوتا ہے اور بعد میں سر کے سارے آگے کے حصے یا کافی حصے کے بال گر جاتے ہیں اور پورا سر گنجا ہو جاتا ہے۔
سر کے بال بڑھانے، گنجا پن دور کرنے اور بال دوبارہ اگانے کے لئے سینکڑوں نسخے، چٹکلے اور مصنوعات ایجاد کی گئی ہیں اور بہت سے گنجے حضرات انتہائی ذوق و شوق سے یہ مصنوعات خرید کر گنجا پن دور کرنا چاہتے ہیں لیکن اس طرح ان کی جیب ضرور خالی ہو جاتی ہے لیکن سربالوں سے نہیں بھرتا۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ جلد کو بیرونی طور پر غذا نہیں دی جا سکتی اور کیمیائی مرکبات بھی عموما جلد میں نفوذ نہیں کرتے۔ اس لیے یہ بالوں کو اگانے والے بیرونی نسخے بھی بے کار ہوتے ہیں۔ مرد میں بالوں کی صحت کا تعلق بھی اس کے جسم کی صحت، وراثت اور مردانہ ہارمون کی جسم میں مقدار پر ہوتا ہے اور یہ چیزیں یا باہر سے سر پر لگانے والے نسخوں، کریم اور لوشنوں سے تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔ اس لئے گنجے پن کو دور کرنے والی مصنوعات سے سوائے ان مصنوعات کے بنانے والوں کو مالی فائدہ پہنچانے کے گنجے حضرات کو خود کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔
بالوں کا حسن بڑھانے کے لئے بالوں میں لگانے کے تیل و کریم و ٹانک، بالوں کو جمانے کے لئے اشیاء (Hair Fixative)، شیمپو (Hair Setting Fluid)، بالوں کو گنگریالے بنانے کے لئے تیل و کریم، کنڈیشنر (Hair Cleaner And Conditioner) ملتے ہیں۔ زیادہ تر کاسمیٹکس میں خوشبویات (Perfumes) ڈالی جاتی ہیں اور حسن افروز اشیاء اور پرفیوم کا استعمال میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ مختلف پاؤڈر، کریم، لوشن، نیل پالش غرض زیادہ تر مصنوعات کا جزو پرفیوم ہی ہوتی ہے۔

اگر زن و مرد میں حسن افروز اشیاء کے استعمال اور حسین لگنے کی شدید خواہش پر غور کیا جائے تو اس خواہش میں قدرت کی بڑی مصلحت پوشیدہ نظر آتی ہے۔ جدید کیمیائی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایک ماحول میں ذی حیات ایک دوسرے سے اشاراتی کیمیائی مرکبات (Semiochemicals) کے ذریعہ سے کیمیائی پیغام رسانی کرتے ہیں۔ کیڑوں میں کیمیائی پیغام رسانی کرنے والے کیمیائی مرکبات فیرومون (Pheromone) کہلاتے ہیں۔ کیمیائی پیغام رسانی کرنے والے مرکبات کی موجودگی کا احساس بو (Smell) سے ہوتا ہے۔ دیگر جانوروں کی طرح انسان میں بھی بو کی کیمیائی پیغام رسانی کی بہت اہمیت ہے اور ہر مرد اور عورت کی ایک منفرد بو ہوتی ہے۔ بو کے اندر بے انتہا خفیف مقدار میں موجود کیمیائی مرکبات مرد و زن کو ایک دوسرے کی طرف کھینچنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کے درمیان جنسی تعلقات بھی بہت اہم ہیں۔ انسانی جسم کے ابرازات خصوصا پسینہ میں ان مرکبات کا اخراج ایک گرام کے کھربویں حصہ کے برابر ہوتا ہے۔ مگر انسانی ناک اتنی کم مقدار میں بھی ان مرکبات کا احساس کر لیتی ہے۔ عورت مرد کے مقابلہ میں ان مرکبات کی موجودگی کا زیادہ احساس کرتی ہے اور یہ مرکبات عورت کے لئے جنسی کشش کا باعث ہوتے ہیں اور ان مرکبات کا اخراج جنس مخالف کو جنسی اختلاط کے لئے آمادہ کرنے کے لئے ہو سکتا ہے۔ لیکن ان مرکبات کا جادو جگانے کے لئے مرد و زن کے ایک دوسرے کے انتہائی قریب آنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس خفیف مقدار میں پیغام رسانی کے ان مرکبات کا احساس کیا جا سکے۔
فطرت کا مقصد افزائش نسل ہے اور بلوغ کے وقت قدرت مرد و زن کو انتہائی پرکشش بناتی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے میں دلچسپی لے کر اپنی نسل کو بڑھائیں اور اس طرح سے تقاضہ حیات پورا کریں۔
حسن افروز اشیاء کے استعمال سے جنس مخالف ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچیں گے اور حسین چہرہ کشش کا باعث ہوگا اور اس طرح نگاہ کا جادو اپنی کمان سے تیر چلاے گا۔ پھر ان مصنوعات میں پڑی ہوئی پرفیوم اس کشش کو دو چند کر دے گی۔ یہاں تک کہ ان اشیاء کے استعمال سے وہ ایک دوسرے کے اتنے قریب آسکیں گے کہ کیمیائی پیغام رسانی کے مرکبات اپنے حیرت انگیز اثر دکھا سکیں گے۔ قدرت کے یہ کمالات انسانی فطرت کا حصہ ہیں مگر انسانی فطرت نے ہزاروں سال پہلے ہی یہ سیکھ لیا کہ ان جذبات اور خواہشات کو بے محابا آزاد چھوڑنے پر معاشرہ میں بے انتہا فتنے تباہ کاریاں و بربادی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لئے ان پر کنٹرول ضروری ہے۔ اس لئے ہر معاشرہ میں مرد و عورت کے بالعموم آزادانہ اختلاط پر پابندیاں لگائی گئیں اور ہر مذہب و معاشرہ نے بے مہار جنسی آزادی کو ناپسند کیا ہے۔ ہمارے مذہب میں بھی مرد و عورت کو اپنی زیب و زینت اور آرائش و زیبائش نا محرم مردوں کو دکھانے سے پرہیز کرنے کو کہا گیا ہے۔ لیکن شادی کے بعد عورت کو اپنے شوہر کے لئے آرائش و زیبائش کی صرف اجازت ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایک پسندیدہ امر خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے لئے بناؤ سنگھار کرے۔ یعنی شادی کے بعد ان میں کیمیائی پیغام رسانی کو بڑھانے کی ہمت افزائی کی گئی ہے تاکہ وہ فطرت کے تقاضے بخوبی پورے کر سکیں اور اپنی نسل کو بڑھا سکیں۔
بہر حال یہ ساری باتیں تو فلسفہ سے تعلق رکھتی ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حسن افروز اشیاء اگرچہ ان دعووں پر پورا نہ اتر سکیں جو ان کے بنانے والے کرتے ہیں لیکن ان کی تھوڑی بہت افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور یہی وجہ ہے کہ ان مصنوعات کی تجارت ہزارہا سال سے انسانی معاشرے میں رائج ہے۔ یہ ہر انسان کا حق ہے کہ وہ خوبصورت لگے اور اپنے حسن کو بڑھانے اور حسن افروز مصنوعات عارضی عرصہ کے لئے خوبصورتی کو بڑھا سکتی ہیں اور اس طرح سے ان اشیاء کے استعمال کرنے والوں کو اپنے میں خود اعتمادی اور اچھا محسوس کرنے کا اعتماد دلاتی ہیں اور جس معاشرہ میں ایسے لوگ ہوں گے جو مطمئن اور پر اعتماد ہوں گے تو وہ معاشرہ بھی خوشحال ہو گا اور ترقی کر سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دولتمند اور ترقی یافتہ تہذیبوں میں کاسمیٹکس کا استعمال بڑھتا ہے۔ اس لئے آپ کسی حسن افروز شے کو خریدنے کے بارے میں سوچیں تو یہ شوق ضرور پورا کریں اور خوش رہیں۔
حساس ترین انسان بھی تقریبا ۲۰۰ حصے پانی میں ایک حصہ شکر کو محسوس کر سکتا ہے۔ جب کہ شہد کی مکھی، تتلیاں اور دیگر رس چوسنے والے کیڑے تین سو ہزار حصے پانی میں صرف ایک حصہ شکر کو بھی آسانی سے محسوس کر لیتے ہیں۔
اپنے ان باکس میں پہنچائی جانے والی اہم ترین خبروں کی جھلکیاں حاصل کریں۔