• Sat, March 14, 2026
  • Ramaḍān 24 1447
  • KHI - PAKISTAN 22.3°C

سائنس / حیاتیات

کلوننگ کا کارنامہ

تحریر: پروفیسر احمداللہ قریشی شائع شدہ فروری ۰۲, ۱۹۹۸

“ڈولی” بھیڑ کی کلوننگ کو غیر جنسی پیدائش کے سلسلے میں بہت ہی غیر معمولی کارنامہ قرار دیا جارہا ہے۔ حالاں کہ اس میں جین یا جین بردار کرو مموسیز کا کوئی غیر معمولی کردار نظر ہی نہیں آرہا۔ حقیقت یہ ہےکہ حاملہ بھیڑ نمبر ایک جس کے پستانی غدود سے بافت حاصل کی گئی وہ بافت پہلے ہی سے 2n یا مکمل سیٹ والے کروموسومز کی حامل تھی اور یہ بھیڑ عام بھیڑوں کی طرح امشاجی طریقہ ( فیوژن آف گیمیٹس) سے اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوئی ۔ با الفاظ دیگر نر اور ماده خلیوں کے کروموسوم اپنی حسب معمول جینیاتی خصوصیات کے ساتھ 2n کی تعداد میں اس پستانی بافت سے حاصل کردہ خلیے میں پہلے ہی موجود تھے مختصر یوں یوں کہا جاسکتا هے کہ ہنی مون پہلے منالیا گیا اور سہرا بعد میں باندھا گیا۔

کلون کیا ہے؟

A Group of animals or plants produced artificially by the cells (or cuttings) of an ancestor which is exactly like it.(i.e.the ancestor)

یعنی حیوانات اور پودوں کا ایک ایسا گروپ جسے مصنوعی طور سے اپنے جد کے خلیوں یا تراشیدہ حصوں سے تیار کیا جائے۔ ایسا گروپ اپنے جد کی جسمانی خاصیتوں اور شباہت سے ہو بہو ملتا ہے۔

کلون کی مذکورہ بالا تعریف میں (راقم کے نزدیک) ایک خامی یہ رہ گئی ہے کہ اس میں مصنوعی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے (Bryophyllum) جسے عام انگریزی زبان میں (Sprout leaf plant) اردو میں پتھر چٹ کہا جاتا ہے۔ اس کے پتے کٹاؤ دار ہوتے ہیں (شکل نمبرا) اکثر پتا پرانا ہو کر گملے کی مٹی پر گر پڑتا ہے یا پودے میں لگے ہوئے پتے کو کسی چیز سے دبا کر مٹی سے چھوا دیا جائے تب بھی پتے کے ہر کٹاؤ سے نباتاتی کلیاں (Vegetative buds) اگنے لگتی ہیں

جن میں اوپر کی طرف پتیاں اور نچلی طرف جڑیں بن جاتی ہیں۔ اس طرح ایک پتے سے بہت سے نئے پودے پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ کلونگ کا قدرتی طریقہ ہے۔ اس قسم کی پیدائش کو غیر جنسی پیدائش کہا جاتا ہے۔ اس طرح جانوروں کے نچلے درجات (Lower animals) میں مثلا پیرا میشئم (Paramecium) میں غیر جنسی پیدائش کا یہ عمل بہت تیزی سے قدرتی طور پر ہوتا رہتا ہے۔ اس کی کچھ تفصیل آگے بیان کی جائے گی۔ پیرا میشئیم کے علاوہ (Hydra) Vorticella پلے نیرئیم، اشار فش اور کینچوئے تک میں کلیوں (Budding) اور قلموں (Cuttings)کے ذریعہ غیر جنسی پیدائش (A sexual reproduction) قدرتی اور مصنوعی طرح سے ہوتی رہتی ہے۔ گنے کی فصل اور گلاب کی فصل ہمارے کھیتوں اور کیاریوں میں اس طرح اگائی جاتی ہیں لیکن اعلیٰ درجات کے جانوروں مثلا پرندوں اور ممالیہ وغیرہ میں پیدائش کا عمل صرف جنسی ہی ہوتا ہے۔ جنسی پیدائش کے طریقہ میں اکثر دو مختلف قسم کے خلیوں (Sperm) اور (Ovum) یعنی نر اور مادہ خلیوں اور ان کے مرکزوں کے باہم پیوست (Fuse) ہو جانے کے بعد ہی ایک نئی جان پیدا ہوتی ہے لیکن جنین (Embryo) کی بالکل ابتدائی حالت میں جب وہ کم از کم ۳۲ خلیوں کی ایک چھوٹی سی گولی (Morulla) کی حالت میں ہوتا ہے اگر اسے اتفاقیہ طور سے یا مصنوعی طور سے دو حصوں میں کٹ جانا پڑے یا کاٹ دیا جائے اور وہ بعد میں رحم مادر تن میں حسب معمول پرورش پاتے رہیں تو مدت حمل پوری ہونے کے بعد جڑواں بچے پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی کلون ہی کہلائیں گے۔ انہیں عام زبان میں ہم شکل مثنی(Identical Twins) بھی کہا جاتا ہے یا زیادہ اصطلاحی الفاظ میں یہ (Homozygous Twins) بھی کہلاتے ہیں یعنی ایک ہی امشاجی خلیہ (Zygote) سے پیدا شدہ جنین کے دو حصوں علیحدہ علیحدہ یا جڑواں حصوں سے بننے والے ایک دوسرے کی ہو بہو نقل۔ موجودہ ڈولی بھیڑ کی کلوننگ میں بھی ایک حاملہ بھیڑ کے لنبی غدود سے حاصل کردہ بافت کے ایک 2x خلیہ کو ایک خالی از مرکزه مادہ خلیہ (Ovum) میں پیوست کرنے کے بعد اسے کسی تیسری حاملہ بھیڑ کے رحم میں منتقل کر کے مرحلہ وار مشکلات پر قابو پاکر یہ کارنامہ سر انجام دیا گیا جو اپنی نوعیت کا پہلا کارنامہ کہلانے کا مستحق ہے جس نے حیاتیاتی سائنس کی دنیا میں ایک وقتی ہلچل ضرور پیدا کر دی ہے۔

مندرجہ ذیل مضمون میں پہلے پیرا میشنیم کی غیر جنسی پیدائش پر روشنی ڈالنے کے بعد کلوننگ کے طریقہ کار اور نتائج پر مزید روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔

پیرا میشنیم میں قدرتی کلوننگ:

اوپر کے بیان سے یہ تو معلوم ہو ہی گیا ہو گا کہ کلونگ کوئی نئی بات نہیں قدرتی طور پر بھی اس طریقہ پیدائش سے نسلوں کی نسلیں کروڑہا برس سے پیدا ہوتی رہی ہیں آئی این ولمٹ نے جو ڈولی بھیٹر تالیف کی ہے اس میں اور قدرتی طریقہ کار میں کیا فرق ہے اسے ہم چند مثالوں سے سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نچلے درجوں کے یک خلوی (Acellular organisms) عضویوں جیسے پیرا میشئیم میں عام پیدائشی طریقہ غیر جنسی (Asexual) ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اس عضویہ میں جب غیر جنسی پیدائش ہوتی ہے تو اس میں خورد مرکزہ (Micronucleus) عام تقسیمی عمل (Mitosis) سے گزر کر دو دختر مرکزے بناتا ہے اس کے بعد نخر ما یہ (یعنی سائٹو پلازم) کی تقسیم واقع ہوتی ہے۔ مرکزہ کے کروموسومل مواد اور ان کی تعداد میں کوئی فرق نہیں آتا یعنی مادر پیرا میشٗیم اور دونوں دختر پیرا میشئیم 2x یا دہرے کروموسوم ہی کے حامل ہوتے ہیں۔ اس طریقہ پیدائش میں نر اور مادہ مرکزے یعنی (Male and female pronucleii) میں نہیں آتے اس طرح اس خوردبینی عضویہ کی نسل بڑھتی رہتی ہے۔ پیرا میشئیم میں کلونگ کا یہ قدرتی طریقہ ہے۔ اگر پرورش والی ڈش (Culture) میں مقررہ وقت کے اندر پرانے غذائی جو شاندے (Hay Infusion) کو نئے جوشاندے سے بدلا جاتا رہے تو یہ سلسلہ کئی نسلوں تک جاری رہے گا حتی کہ (Senile decay) بعد پیدا ہونی شروع ہو جائے گی۔ اس کے بعد نئے طریقہ پیدائش سے رجوع کرنا پڑے گا جسے عمل (Conjugation) یا سنجوگ کہا جاتا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیر جنسی طریقہ پیدائش کے مقابلے میں جنسی پیدائش کے طریقہ کو برتری حاصل ہے۔ اس طرح سے خورد مرکزہ کو حیات تازه (Nuclear reorganization) حاصل ہو جائی ہے۔ اس کے بعد پھر وہی عام تقسیمی عمل شروع ہو جاتا ہے۔ پیرائی شیئیم کی مختلف انواع اس طرح سے پیدا شدہ نسلیں یا کلونز ہی بناتی رہتی ہیں شکل نمبر (۲)۔ ان میں کروموسومل مواد ان کی تعداد اور خاصیت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی جب تک کہ بعض طاقتور اسباب مثلاً تاب کاری یا کسی اور قدرتی یا مصنوعی طریقہ سے ان میں تبدیلی واقع نہ کی جائے۔

دوسری مثال گرین فلائیز (Aphids) یا سبز مکھیوں کی ہے جو ہماری فصلوں کو بے انتہا نقصان پہنچاتی ہیں۔ ان میں بھی کئی نسلیں کلونگ جیسے طریقہ سے وجود میں آتی ہیں۔ اگرچہ یہ طریقہ کہیں مختصر اور آسان ہوتا ہے۔ یہاں Stem mothers یا پہلی مائیں بغیر نر سے وصل کئے کئی بار تا بالغ مکھیاں (Nymphs) پیدا کرتی ہیں۔ یہ تمام کی تمام نابالغ مکھیاں مادہ ہوتے ہیں جو پہلی ماؤں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور یہ بھی بغیر کسی نر سے وصل کئے اس نیم جنسی پیدائشی عل کو دہراتے رہتے ہیں۔ اس طرح کی کئی نسلیں ایک ہی موسم میں پیدا ہوتی ہیں لیکن اس میں اور پیرا میشئیم والی مثال میں نمایاں فرق یہ ہے کہ ان میں کرد موسومل مواد نصف عددی (Haploid) ہوتا ہے یعنی صرف x۔ اس قسم کی پیدائش کو کنواری تولید Virgin birthیا (Parthenogenesis)بھی کہتے ہیں۔ اس میں صرف مادہ خلیہ (Ovum) کے ذریعہ یا غیر امشاجی (یعنی بغیر دو نطفوں کے ملاپ) کے پیدائشی طریقہ کہا جا سکتا ہے۔ کنواری ملکہ شہد کی مکھی بھی جب اسے نکھٹو(Drone) سے وصل نہیں ہوا ہوتا، غیر امشاجی طریقہ سے صرف نکھٹو ہی پیدا کرتی ہے۔ شہد کی مکھیوں میں مادہ 2x کروموسومز کی حامل ہوتی ہے کیوں کہ اس کی پیدائش میں دو مختلف جنسی خلیوں میں امشاج (Fusion) ہو چکا ہوتا ہے۔ ڈولی والے موجودہ کلوننگ اور پارتھینو جنیس میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ڈولی2xکروموسومز کی حامل ہوتی ہے جبکہ نکھٹو یا Drones جو کنواری تولید کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں صرف x یا نصف عددی (یعنی Haploid) کروموسومز کے حامل ہوتے ہیں۔ ہم نے اپنے کسی پہلے مضمون میں حضرت عیسی کی پیدائش کو بھی کنواری تولید (پارتھینو جنیسس) کے ذریعہ صرف حکم خدا سے انسان کی پیدائش کا معجزہ قرار دیا ہے کیونکہ اعلیٰ درجہ (Higher animals) مثلا ممالیہ وغیرہ میں طریق پیدائش صرف دو مختلف نطفوں (Sex Cells) کے امشاج کے ذریعہ ہی ہوتا ہے۔ پودوں اور نچلے درجات کے جانوروں میں قلم کاری (Fragmentation) کے ذریعہ بھی پیدائش ہوتی ہے لیکن ان تمام مثالوں میں کروموسومز کی تعداد مکمل یعنی 2x ہوتی ہے۔ پیپل کے درخت کو پورا اکھاڑ کر پھینک دو اگر ایک جڑ کا ٹکڑا بھی زمین یا دیوار میں باقی رہ جائے گا تو وہ پھر تناور درخت بن جائے گا۔ کلوننگ کی مندرجہ بالا تعریف یہاں بھی لاگو ہے۔

ڈولی بھیٹر کی کلوننگ یا جسے جینیاتی طریقہ سے جینیاتی برادری بنانے کا اعزاز بھی دیا جا رہا ہے اس میں جین یا جین بردار کروموسومز کا کوئی غیر معمولی کردار نظر ہی نہیں آرہا ہے) اور جس کے طریقہ پیدائش میں جو کمالات اور عجائب بتلائے گئے ہیں ان ہی میں سے ایک کمال یہ بھی ہے کہ اس میں بظاہر بغیر نر اور مادہ دونوں جنسی خلیوں کو خارج از عمل دکھلایا گیا ہے اگرچہ اخباری اطلاعات کے مطابق صرف نر خلیہ کو خارج از عمل دکھلایاگیا ہے) جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حاملہ بھیٹر نمبرا (1.Donar sheep no) جس کے لبنی غدود سے بافت حاصل کی گئی یہ بافت پہلے ہی سے 2X یا مکمل سیٹ والے کروموسومز کی حامل ہے اور یہ بھیٹر عام بھیڑوں کی طرح امشاجی طریقہ (Fusion of gametes) ہی سے اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوئی باالفاظ دیگر نر اور مادہ خلیوں کے کروموسومز اپنی حسب معمول جنیاتی خصوصیات کے ساتھ2X کی تعداد میں اس لبنی بافت سے حاصل کردہ خلیہ میں پہلے ہی موجود تھے۔ اگرچہ اسے کسی مصلحت کے تحت امشاجی خلیہ (Zygote) نہیں کہا گیا کیونکہ عملا یہ امشاجی خلیہ یا زانگوٹ کا بھر پور کردار ادا کر رہا ہے اس لیے کہ ان نر اور مادہ خلیوں کے پیوستگی) Fertilization) کے عمل کو کچھ عرصہ پہلے (1.D.S) کی شکل میں لایا جا چکا تھا یا اسے یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہنی مون پہلے منایا گیا لیکن سہرا بعد میں باندھا گیا اور ولیمہ کے نتائج کی تشیر فروری ۱۹۹۷ء کے”Nature” کے ذریعہ کرائی گئی۔

دراصل 2xبافت عطا کرنے والی ڈو نر شیپ ون جسے ہم D.S.1 کہیں گے کے لبنی غدود سے جو خلیے لئےگے ان میں سے ہر ایک کو (Preformed zygote) یا غیر مروجہ امشابی خلیہ کا مرتبہ حاصل تھا اسے ہم zygote یا عوضی امشاجی خلیہ کا نام دے سکتے ہیں اور یہ نام دیا جاتا ہر حالت میں صحیح ہی ہوگا۔ ڈولی بھیڑ والے معاملے میں دو ازواج کے علاوہ درمیانی میزبان خلیہ(Host cell) بھی نظر آرہا ہے یعنی وه ماده غیر امشاجی خلیہ اور (Unfertilized Ovum) جسے ایک اور درمیانی حاملہ بھیٹر کی بیضہ دانی سے حاصل کرنے کے بعد اس کا مرکزہ (جو x کروموسومز کا حامل تھا) خارج کر دیا گیا کیونکہ محقق نے پہلے ہی2x والے یعنی مصنوعی عوضی امشاجی خلیہ (سر رو گیٹ زانگوٹ) کے پورے کروموسومل مواد (ڈی این اے وغیرہ) کی خدمات مستعار لی ہیں۔

Udder سے حاصل کردہ غیر متشخص بافت (Undifferentiated tissue) خصوصیات:

تمام لنبی غدود ایک خاص ساخت کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کے غیر مختص خلیے کھال میں پائے جانے والے چکنائی پیدا کرنے والے غدود یعنی Sebaceous glands ہی کی طرح تبدیل ہو کر ایک نئی شکل اختیار کر کے (Alveolar glands) یا (Racemose gland) (انگور کے خوشہ نما غدود) بن کر بعض ہارمونز سے متاثر ہو کر دودھ تیار کرنے لگتے ہیں۔ راقم کے خیال میں میں کام کھال کی نچلی سطح یعنی (Oogonia) یا (Malpighean Layer) یا (Spermatogonia) کے خلیوں سے بھی لیا جاسکا ہے۔ ان Racemose glands کی ابتدائی شکل Blastula جیسی ہوتی ہے۔ دوئم یہ بھی کہ ان میں پچوٹری اور دیگر ہارمونز کے زیر اثر تقسیم در تقسیم کا عمل تیزی کے ساتھ جنین میں ہونے والے “Cleavage” کی طرح ہوتا ہے۔ خاص طور سے حاملہ بھیڑ میں بچہ پیدا ہونے سے عین قبل محقق نے بڑی ذہانت سے اس حصے کے غیر مختص یا نیم مختص خلیوں کا انتخاب اس مقصد کے لیے کیا۔ شروع میں اس بافت کے تقسیم در تقسیم ہونے کے عمل کو کم کرنے یا روکنے کے لیے ٹیسٹ ٹیوب بے بی والے طریقے سے منجمد کرکے اور ہائبر نیٹ (hibernate) کراکے محفوظ کر لیا گیا۔ اب درمیانی حاملہ بھیڑ11 (Intermediate donar sheep) ہے اب ID.SII کہا جائے گا کی بیضہ دانی سے غیر امشاجی بیضہ (Ovum) حاصل کرکے اس کے x کروموسوم والے مرکزہ کو خارج کر دیا گیا۔ (اخبارات کا یہ بیان کہ ڈاکٹر ولیٹ نے اس کلوننگ کے درمیان صرف نر خلیہ کو خارج از عمل کردیا۔ کتنا غلط ہے اور پھر عوضی امشاجی خلیے کو جو2xکروموسومل مواد کا حامل ہے، مہین خوردبینی سرجری کے عمل سے مرکزہ سے خالی بیضہ میں پیوند کاری کر کے پیوست کر دیا گیا (دیکھئے شکل نمبر2a,4 اور (3a) یہ سب کام قواریری ظرف (Invitro) میں کیا گیا اور پیوستگی کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیئے کمزور برقی لہروں سے ان دونوں خلیوں کو متاثر کیا گیا۔ اس طرح سے ایک مصنوعی امشاجی خلیہ (جسے ایک دوسرے میزبان مادہ 2x کا نخزمایہ’ (Cytoplasm) اغذیا وغیرہ کو جذب کرنے کے لیئے مہیا کر دیا گیا) بنایا گیا۔ یہاں یہ بات نہیں بتلائی گئی کہ بافت کا صرف 2 والا مرکزہ رکھا گیا یا اس کا پورا خلیہ جس کی بیرونی جھلی (Cell membrane)اتار دی گئی ہو۔ ٹیسٹ ٹیوب بے بی اور ڈولی کے درمیان ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ اول الذکر میں مکمل مادہ خلیہ صرف x کروموسوم کا حامل( اور مکمل نر خلیہ یا لا کروموسوم کے حامل خلیوں) میں قواریری ظرف ( Invitre) میں بیرونی طرح امشاج کرایا جاتا ہے جب کہ ڈولی میں محروم مرکزہ والے میزبان خلیہ میں 2x والے خلیہ کی پیوست کاری کردی جاتی ہے۔ دشوار ترین مرحلہ: یہ بھی خیال کرنا چاہنے کہ غیر مرکزی میزبان خلیہ ایسا ہونا چاہیئے کہ اس میں تردید (Rejection) (یعنی بیرونی اجزا کو رد کیئے جانے کا عمل) کم سے کم ہو۔ ایک ہی نسل کی بھیڑ اس مقصد کے لیئے ہی لی گئی ہوگی۔ دوئم یہ بات کہ ایک ایسے بیضے (Ovum) کا نخزمایہ بھی ضروری تھا جو اس عوضی ( امشاجی خلیہ کے لیے حسب ضرورت غذائیت اور افزائش (growth) کا سامان بخوبی مہیا کر سکے۔ اس عوضی امشاجی خلیہ کو میزبان خلیے کے ساتھ پیوست کرنے کے لیئے خوردبینی مین آلات کے ذریعہ مادہ میزبان خلیہ کے سرجری شدہ خلاء میں رکھ کر بہت ہی کمزور برقی لہروں کے ذریعہ مہمان مرکزہ اور میزبان خلیہ میں پیوست (Fuse) کیا گیا۔ میں اس پورے آپریشن کا دشوار ترین حصہ ہے۔ اس کے بعد اسی قواریری طرف ( In vitro) والے طریقے میں مناسب غذائی ماحول اور درجہ حرارت میں رکھ کر اور مزید برقی لہروں سے متاثر کرکے اسے تقسیم در تقسیم (Cleave) ہونے کے لیے آمادہ کیا گیا۔ محققین نے اس قسم کے ۲۷۷ تجربات کیئے جن میں سے صرف ۲۹ عوضی امشاہی خلیوں میں تقسیم در تقسیم (Cleavage) کا عمل کامیاب رہا لیکن ان میں بھی ۲۸ تلف ہو گئے اور صرف ایک ہی کامیابی کی منزلیں کرتا ہوا حاملہ عوضی ماں ۱۱۱ (Surrogate mother sh.no.III) کے رحم میں منتقل کر دیا گیا۔ یہاں بھی اس کی مستقل نگہداشت کی گئی ہوگی اور اس عوضی ماں کو ہارمونل ٹریٹ مینٹ کے زیر اثر رکھا گیا ہو گا اس میں ایک ماہر (Gynaecologist) کی خدمات بھی لی گئی ہوں گی۔ اس طرح بعد از دشواری بسیار انہیں “ڈولی” بھیٹر کا تحفہ حاصل ہوا یعنی کامیابی کا تناسب 277/1 رہا (یعنی %۰۰۰۰۳ جو کامیابی کا بہت ہی کم تناسب ہے )۔

یہاں بیسویں صدی کے اوائل کے ایک واقعہ کی طرف متوجہ کرنا بھی ضروری ہے جو اس طرح بتلایا گیا ہے کہ ایک روسی ماہر حیاتیات نے جو کتوں کی پر تحقیق کر رہے تھے(Conditional Reflex) چوہوں کو گھنٹی بجنے کی آواز پر لبیک کرتے ہوئے کھانے کی پلیٹوں پر پہنچنے کی تعلیم دینی شروع کی ابتداءً انہوں نے نوٹ کیا کہ اس طرح سے سو دفعہ سبق دینے کے بعد ۱۰۱ ویں میں گھنٹی کے سبق پر وہ چو ہے آواز سنتے ہیں کھانے کی (خالی) بلیٹوں پر بھی ٹوٹ پڑتے تھے۔ دوسری نسل نے ۹۹ ویں دفعہ میں، تیسری نسل نے اس سے کم چوتھی نے اس سے بھی کم اور پچاسویں نسل چند ہی بار گھنٹی بجنے کی آواز سن کر کھانے کی پلیٹوں پر لیکنے لگی یعنی انہوں نے (جن کا نام Pavlov تھا) یہ ثابت کیا کہ خاص قسم کا طرز عمل (Behavior) بھی of acqurid characters Lamarkian theory of inhetance کے مطابق حیوانات کی وراثت میں داخل کیا جاسکتا ہے۔ مغربی ممالک کے ماہرین نفسیات اور حیوانات نے اس تحقیق کو بڑی دلچسپی سے پڑھا اور اپنے اپنے تحقیقاتی مراکز میں اس تجربہ کو آزمائشی طور پر دہرایا لیکن نتیجہ ہر مرتبہ منفی نکلا۔ چنانچہ سائنسی حلقوں میں بڑی لے دے ہوئی۔ اس لیے ہمیں آئن ولمٹ صاحب کے کارنامے کو مزید تحقیقی آزمائشوں کے بعد ہی توثیقی سرٹیفکیٹ دینا چاہیئے۔ (ولمٹ صاحب سے معذرت کے ساتھ) جہاں تک جنین خلیوں (یعنی زیادہ خلیوں سے امشاج شدہ حاصل کیئے ہوئے ۳۲ خلیوں والے (Morulla) یا اس کے کسی حصہ ) کا تعلق ہے تو وہ کسی بھی دودھ پلانے والی مادہ (اسی نسل کی) کے رحم میں پیوند کاری کے ذریعہ تو کامیابی سے ہم کنار ہو سکا ہے اور اس قسم کی گائیں اور بکریاں پیدا بھی کی جاچکی ہیں۔ اس لیئے ڈاکٹر ولمٹ کے تجربے کو شک کی نظر سے دیکھنا کچھ غلط ہی ہو گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس سلسلے میں صرف ایک ہی بھیٹر کام میں نہیں لائی جاسکتی تھی یعنی ایک ہی حاملہ بھیٹر کے لبنی غدود سے حاصل کردہ خلیہ کو اس بھیڑ کے رحم میں (ڈاکٹر ولیٹ والے طریقہ سے) پیوند کر دیا جاتا۔ ان دونوں طریقوں سے صرف مادہ بھیڑ ہی کا کلون حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن اگر تجربہ نسلا بعد نسل جاری رکھا جائے تو اس میں یہ خدشہ ضرور موجود رہے گا کہ اس کا جینیاتی مادہ (DNA وغیرہ) ضعف پیری (Senile decay) کے سب مزید کار آمد نہ رہے۔ اس لیے اسے دوبارہ تازگی بخشنے یا (Rejuvinate) کرنے کے لیے کسی نے بھیڑ کی موزوں بافت سے خلیہ لینا پڑے گا۔ اس بافت کے ہر خلیہ میں xy جنسی کروموسومز کی موجودگی کے سبب جو بھی کلون بنے گا وہ نر بھیڑوں ہی پر مشتمل ہو گا۔ کیا یہ دلچسپ صورت حال بھی پیدا کی جاسکتی ہے کہ انسانی موزوں بافت سے خلیہ حاصل کرکے اس کی پیوند کاری گائے کے رحم میں کردی جائے؟ اس میں اولا” تردید (بیرونی بافت کے رد کرنے کے عمل پر قابو پانا ہوگا ۔ دوسری دشواری زمانہ حمل کے دورانیہ (Gestation period)کے فرق کو دور کرنے کے طریقے وضع کرنے پڑیں گے اور مصنوعی طور پر (Labour process) اور (Labour pains) شروع کرا کے وضع حمل (Delivery) کرانی پڑے گی ۔ کیا اس طرز سے انسانی کلون حاصل کر کے اس کے اعضاء کی پیوندکاری پر مذہبی رائے عامہ کو کچھ اعتراض ہوگا؟

ایک اور عجیب واقعہ:

ہمارے ملکی معاصر جریدے میں کلوننگ کے موضوع پر لکھے ہوئے ایک تبصرے میں ایک عجیب واقعہ بیان کیا گیا ہے (جو راقم کی ضعیف رائے میں قابل یقین معلوم نہیں ہوتا وہ یہ ہے: عورت کے بانجھ پن کو دور کرنے کے لیئے تجرباتی علاج کیا جا رہا تھا۔ ڈاکٹروں نے منجمد (Frozen) تولیدی خلیے (نوٹ: یہاں مصنف نے “تولیدی خلیے” کے الفاظ استعمال کیئے ہیں جبکہ ابتدائی جنینی خلیے مناسب الفاظ ہیں) یعنی ایک خلیہ کو لیباریٹری میں شیشے کی راڈ سے رگڑ دیا تاکہ رحم میں آسانی سے اسے رکھا جاسکے لیکن تین ہفتے بعد ڈاکٹر یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ محض اس رگڑنے کی وجہ سے تولیدی خلیے میں دو جنین پیدا ہو چکے ہیں۔ یوں ایک چار سالہ لڑکے کے روپ میں اپنے والدین اور جڑواں بھائی کے ساتھ جنوبی پیلجئیم میں زندگی گزار رہا ہے ۔ ” ہمارے خیال میں یہ صرف تو yکرو موسوم والا واحد خلیہ نہ تھا بلکہ یہ ایسا انسانی جنین کا بالکل ابتدائی مرحلہ تھا جو باروری(Fertilization) کے بعد تقسیم در تقسیم سے گزرتا ہوا ۳۲ خلیوں یا اس سے بھی کم ۱۶ خلیوں والا ابتدائی جنین (Early morulla stage) تھا جو رگڑنے سے دو حصوں میں الگ ہو گیا اور پھر ہر حصے سے ایک ایک (Identical twin = ہم شکل مثنی بھائی) پیدا ہو گئے۔ اس میں کوئی ایسی حیرانی یا حیرت کی بات بھی نہیں معلوم ہوتی کہ اسے عجیب واقعہ کہا جائے بلکہ اس سے زیادہ حیرت کی بات رحم میں اس جنین کو ٹرانسپلانٹ کرنے کے طریقے کو جس سادگی سے بتلایا گیا ہے وہ معلوم ہوتی ہے۔

اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ تولیدی مادے سے مراد صرف کسی مرد سے حاصل کیئے گئے (Sperms) یا نر خلیے ہی رحم میں داخل کیئے گئے جہاں پر دونوں کے مابین حسب معمول امشاج (Fusion) ہو کر زانکوٹ امشاجی خلیہ بنا جس میں تقسیم در تقسیم کا عمل (کلیویج) شروع ہو گیا تو ابتدائی درجہ کا یہ جنین شروع میں دوبارہ ہو گیا اور اس طرح دو دختر جنین وجود میں آئے جو بالآخر دو ہم شکل فنی برادرز یعنی Identical twins کی صورت میں پیدا ہوئے۔ جہاں تک راقم کے معمولی علم کا تعلق ہے تو ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی پیدائش میں ابتدائی جنین ہی کو ماں کے رحم میں منتقل کیا جاتا ہے (دونوں صورتوں میں حیرت اور تعجب کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔

ڈاکٹر ولمٹ کے پیش کردہ کارنامے میں کتنا سرمایہ خرچ ہوا؟ اس میں کتنا وقت لگا۔ شاید اس طریقہ کو آمیزہ صنعت بنا کر (یعنی Commercialize کرکے) جب پیش کیا جائے گا تو ان دشواریوں پر قابو پالیا جائے گا۔ فی الوقت تین مادہ بھیڑوں کے تعاون سے ایک ڈولی بھیر تیار ہوئی جبکہ عام طرح سے ایک بھیٹر ڈنر کے تعاون سے ) ۲،۱ اور تین بچے تک جن لیتی ہے۔ تصاویر کے ذریعہ پیر میشئیم اور Bryophyllum (پتھرچٹ) میں قدرتی کلوننگ ہوتی ہوئی دکھلائی گئی ہے۔ جو نچلے درجے کے حیوانات اور عام پودوں میں ہوتی رہتی ہے لیکن اعلیٰ درجات والے حیوانات (Higher animals) کے لیئے قدرت نے اس طریقہ کو مناسب نہ سمجھا۔ کیونکہ جنسی تولید کے ذریعہ حیات میں نوع واقع ہوتا ہے جو زندگی کے لیے ایک لازمہ ہے۔ انگریزی کا ایک مقولہ بھی ہے life اب ایک ایسا کارنامہ سر انجام دیا جانا چاہتے کہ نزر اور مادہ خلیوں کے مرکزوں کے تعاون کے بغیر صرف x کروموسوم والے خلیے یا صرف لا کروموسوم والے خلیے ہی سے نصف عددی (Haploid) نسل پیدا کر لی جائے۔ انسان کو اللہ نے اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے۔ کیا وہ یہ نہیں کر سکتا ۔ Polyploidy کے ذریعہ تو پودے وغیرہ بنا لیے گئے، کیا Haploidy کے ذریعہ ایسا ممکن نہیں؟ (Aphids) اور شہد مکھی کے کھو دست قدرت کے ذریعہ کب سے پیدا کیئے جا رہے ہیں۔ ایک “Nirally” بھیڑ اس طرح بھی !اگر چہ مندرجہ بالا بتلائے ہوئے طریقوں میں اخلاقی مذہبی اور سماجی اقدار کو کم ہی اعتراض ہو تا معلوم ہوتا ہے لیکن ایسی صورت میں کہ کلونگ سے پیدا شدہ افراد کے اعضاء مثلا گردے، مغز، قرنیہ اور دل وغیرہ کو اگر پیوند کاری کے ذریعہ کسی دوسرے سرمایہ دار کے سینے میں منتقل کیا گیا تو عطا کرنے والا کلون تو ” بیدل” اور بے مغز ہو جائے گا لیکن وہ حضرت بیدل کی طرح شاعری کر کے ایسے اشعار کہاں مرتب کر سکے گا حمد باری لکھ کے اور نعت رسول جو لکھے بیدل کرد دل سے قبول اور مثل مشہور ہے کہ کسی بہادری یا مشکل کام کو کرنے کے لیئے دل گردے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ بیچارہ تو شاعری بھی نہ کر پائے گا۔ اسی طرح اگر دماغ عطا کرنے والے کلون کے “بالا خانے ” میں اگر بھوسہ ہی بھر دیا جائے تو تصور کیجئے کہ کیا حشر برپا ہوگا۔ اس طرح ایک ایسی خاتون جو اپنے شوہر نامدار کے مادہ منویہ (Semen) میں نقص پائے جانے کے سبب بچوں کی محرومی سے تنگ آکر کسی دوسرے نا محرم کی کار آمد بافت سے خلیہ لے کر اپنے ہی بطن سے نرینہ اولاد پیدا کر ڈالے تو پھر اہل کتاب کے علما اور ہمارے مفتیان کرام بیچ اس مسئلہ کے کیا فرما ئیں گے؟ مندرجہ بالا سطور میں Tissue اور حمل کے دورانیہ (Gestation period) کے مسائل پر قابو پا جانے کی بات کی ہے جو ایک مفید پیش رفت ہو سکتی ہے اس طرح گائیوں اور بھینسوں اور ہتھنیوں کے رحم میں ایک سے زیادہ انسانی بافتوں کی بیک وقت پیوند کاری ممکن ہو سکے گی یعنی بیک وقت کئی کئی انسان ہتھنی کے بطن سے پیدا ہو سکیں گے۔ اس طرح ہتھنی کے بطن سے نصف درجن کے قریب بھیڑیں یا بکریاں بھی پیدا کرلی جائیں گی۔ بلکہ اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہوگی کہ ایک میں یونیورس یورپین مارکہ) کی کئی بافتوں کی افریقن ہتھنی کے رحم میں پیوند کاری کردی جائے تو اس نوع یعنی مس یونیورس کی کمیابی دور ہو جائے گی۔ایک اور سوال جو ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا انسان آئندہ اپنی نسل بڑھانے کے لیئے مرد اور عورت کی خدمات مخصوصہ سے بے نیاز ہو جائے گا۔ کیا دونوں اصناف لذت وصل سے محروم ہونا پسند فرمائیں گی؟ ایک تندرست بھو کا انسان صرف ڈرپ یا نالی کے ذریعہ پتلی یا مصنوعی غذا اپنے معدہ میں کب تک بھرتا رہے گا۔ کیا وہ اس طرح اپنی قدرتی اشتہا اور خوراک حاصل کرنے کی خواہش کو پورا کر سکے گا؟ بھوک کی خواہش کی تکمیل کے لیے کھانے کی خوشبو، انگلیوں کا لمس، کام و دہن کی لذت، پیٹ بھرنے کا احساس سوکھے ہوئے حلق میں ٹھنڈے پانی کی تراوٹ ، کھانوں کی نرم گرم حرارت یا ٹھنڈک کے احساس کے علاوہ برابر بیٹھنے والوں کی گفتگو کھانوں کی لذتوں پر خوشگوار تبصرے اور نہ معلوم کیا کیا دوسرے عوامل شامل ہیں۔ اسی طرح جنسی خواہش کی تکمیل اور تسکین بھی ایک نوجوان ادھیڑ عمر اور پیٹھ سالہ بوڑھے انسان کی جسمانی اور اعصابی صحت کے لیئے اہم ضرورت ہے۔ تقریبا ہر سماج اور مذہب نے انسان کی اس تسکین کی جائز طرح سے محفوظ ہونے کی اجازت دی ہے۔ چنانچہ شادی کرنا ایک اخلاقی اور سماجی ضرورت قرار دی گئی ہے اور مذہب اسلام نے ایک حدیث کے حوالے سے جس کا مفہوم کم و بیش یہ ہے کہ ”جو میری سنت نکاح کو مقدور ہونے کے باوجود پورا نہیں کرتا وہ ہم (یعنی مسلمانوں) میں سے نہیں۔ اسی طرح سورہ نور کی آیات نمبر ۳۱ اور ۳۲ میں بھی شادی کرنے پر زور دیا گیا کامیابی کی انتہائی قلیل مقدار ہے۔ پھر اس پر کتنا سرمایہ ہے چنانچہ ان دونوں حوالوں کو بنیاد بنا کر بعض فقہاء اور وقت لگا، سانتک معاملات میں ان چیزوں کو کم ہی نے شادی کرنے کو واجب تک قرار دے دیا ہے اور مارے شاعروں نے تو اس خواہش کی تکمیل یا عدم حمیل پر کیا کیا کچھ نہیں لکھ مارا مثلا مارے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال ہی کو لیجئے:اہمیت دی جاتی ہے۔ آئندہ کے تجربات اور ان میں موثر تبدیلیاں وقت اور خرچے میں ضرور کی پیدا (Semidifferentiated tissue) خلیوں کردیں کی ۔ مثال کے طور پر بھی نمرود کے یہ مستی سے بنی تھیلی شکل نمبر (1)3 ہی کو فریزنگ اور (Hibernation) کے مراحل سے گزار کر جو یقیناً . کیمیائی اور ہار مول آزمودہ طریقوں کی مدد سے کیا گیا ہوگا اگر اسی ابتدائی نبی تھیلی کو عرضی ماں کے رحم میں فقتل (Substitute mother) کر دیا جائے تو شاید تجربہ کو مختصر بنا لیا جائے۔ (یہ ایک عامیانہ کی رائے ہی ہے)۔ قدرتی طور سے کلونگ کب سے ہوتی رہی اگر چہ نچلے درجے کے یک خلوی اور (Acellular organisms) جسیموں پودوں وغیرہ ہی میں لیکن قدرت نے اعلیٰ درجوں کے ممالیہ وغیرہ میں اس طریقہ کو فائدہ مند نہیں گردانا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس طریقہ میں Variation یعنی جینیاتی تبدیلیوں کے قدرتی مواقع جو دو ازدواجی پیدائشی طریقہ کا لازمی حصہ ہیں اور جس کے ذریعہ زوجین کے کروموسومل مواد یعنی (ڈی این اے اور آر این اے) میں رد و بدل اور اختلاط ہوتا رہتا ہے اس کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔ دوسری بات جس کا ذکر اوپر بھی ہو چکا ہے یہ ہے کہ قدرت صرف نصف عددی تولیدی خلیه یعنی صرف x کروموسومل ماده خلیے (Ovum) کے ذریعہ شد لکھیوں میں لکھنو (Drones) اور ہر مکھیوں میں (Nymphs) پیدا کرتی رہی ہے کیا انسان بھی یہ کارنامہ (ممالیہ وغیرہ میں) کرکے اللہ تعالی کا خلقی کارنامہ دہرا سکتا ہے؟

کبھی میں ڈھونڈتا ہوں لذت وصل خوش آتا ہے کبھی سوز جدائی لذت وصل نہ صرف انسانوں کے نفیس احساسات اور جذبات کے ساتھ منسلک ہے بلکہ انسان سے کم عقل رکھنے والے جانوروں خاص طور سے پرندوں کو نجوں تازوں اور نسوں تک میں یہ جذبہ ان کی روح حیات کے ساتھ پیوست ہے اس لیئے اس ناقص کی رائے میں یہ طریقہ صرف جانوروں ہی کی حد تک بہت تھوڑے دائرے میں محدود رہے۔ انسان جانوروں کی بولی اور احساسات سے تقریبا ” نابلد ہے اور وہ ان کے ساتھ وہ تجربات کر ڈالتا ہے جنہیں وہ اپنے لیے روا نہیں سمجھتا سمجھتا ممکن ہے کہ انسانوں ہی میں سے کوئی حقوق حیوانات کا علم بردار پیدا ہو جائے اور وہ اس غیر فطری طریقہ پیدائش حیوانات کے خلاف قانون سازی کا بل پاس کرانے میں کامیابی حاصل کرلے۔ البتہ یہ بات بڑی خوش آئند معلوم ہوتی ہے کہ امریکہ اور یورپ کے بعض ممالک میں انسان میں اس طریقہ پیدائش (Cloning) پر پابندی لگا دی ہے۔ اس پوری بحث کا ماحصل یہ ہے کہ آئن ولعت صاحب کی کاوش یقینا غیر معمولی دلچسپی کا باعث ہی نہیں بنی بلکہ یہ ایک غیر معمولی پیش رفت بھی ہے لیکن اس کی آزمائش دوسری جگہوں پر بھی ہونی چاہئے کیونکہ ۲۷۷ تجربات میں سے ایک تجربہ ہی کامیاب بتلایا گیا ہے یعنی کامیابی صرف صفر اعشاریہ صفر صفر تین رہی جوسائل التجست و (Morulla) یا اسکے کسی حصہ کا تعلق ہے تو وہ کسی بھی دودھ پلانے والی مادہ (اسی نسل کی) کے رحم میں پیوند کاری کے ذریعہ تو کامیابی سے ہم کنار ہو سکا ہے اور اس قسم کی گائیں اور بکریاں پیدا بھی کی جاچکی ہیں۔ اس لیئے ڈاکٹر ولمٹ کے تجربے کو شک کی نظر سے دیکھنا کچھ غلط ہی ہو گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس سلسلے میں صرف ایک ہی بھیٹر کام میں نہیں لائی جاسکتی تھی یعنی ایک ہی حالمہ بھیٹر کے نبی غدود سے حاصل کردہ خلیہ کو اس بھیڑ کے رحم میں (ڈاکٹر ولیٹ والے طریقہ سے) پیوند کر دیا جاتا۔ ان دونوں طریقوں سے صرف مادہ بھیڑ ہی کا کلون حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن اگر تجربہ نسلا بعد نسل جاری رکھا جائے تو اس میں یہ خدشہ ضرور موجود رہے گا کہ اس کا جینیاتی مادہ (DNA وغیرہ) ضعف پیری (Senile decay) کے سب مزید کار آمد نہ رہے۔ اس لیے اسے دوبارہ تازگی بخشنے یا) (Rejuvinate کرنے کے لیے کسی نے بھیڑ کی موزوں بافت سے خلیہ لینا پڑے گا۔ اس بافت کے ہر خلیہ میں xy جنسی کروموسومز کی موجودگی کے سبب جو بھی کلون بنے گا وہ نر بھیڑوں ہی پر مشتمل ہو گا۔ کیا یہ چٹ) میں قدرتی کلوننگ ہوتی ہوئی دکھلائی گئی ہے۔ جو نچلے درجے کے حیوانات اور عام پودوں میں ہوتی رہتی ہے لیکن اعلیٰ درجات والے حیوانات (Higher animals) کے لیئے قدرت نے اس طریقہ کو مناسب نہ سمجھا۔ کیونکہ جنسی تولید کے ذریعہ حیات میں تنوع واقع ہوتا ہے جو زندگی کے لیے ایک لازمہ ہے۔ انگریزی کا ایک مقولہ بھی ہےVariety is the spice life اب ایک ایسا کارنامہ سر انجام دیا جانا چاہتے کہ نر اور مادہ خلیوں کے مرکزوں کے تعاون کے بغیر صرف x کروموسوم والے خلیے یا صرف لا کروموسوم والے خلیے ہی سے نصف عددی (Haploid) نسل پیدا کر لی جائے۔ انسان کو اللہ نے اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے۔ کیا وہ یہ نہیں کر سکتا ۔ (Polyploidy) کے ذریعہ تو پودے وغیرہ بنا لیے گئے، کیا (Haploidy) کے ذریعہ ایسا ممکن نہیں؟ (Aphids) اور شہد مکھی کے نکھٹودست قدرت کے ذریعہ کب سے پیدا کیئے جا رہے ہیں۔ ایک “Nirally” بھیڑ اس طرح بھی !

اگر چہ مندرجہ بالا بتلائے ہوئے طریقوں میں اخلاقی مذہبی اور سماجی اقدار کو کم ہی اعتراض ہو تا معلوم ہوتا ہے لیکن ایسی صورت میں کہ کلوننگ سے پیدا شدہ افراد کے اعضاء مثلا گردے، مغز، قرنیہ اور دل وغیرہ کو اگر پیوند کاری کے ذریعہ کسی دوسرے سرمایہ دار کے سینے میں منتقل کیا گیا تو عطا کرنے والا کلون تو ” بیدل” اور بے مغز ہو جائے گا لیکن وہ حضرت بیدل کی طرح شاعری کر کے ایسے اشعار کہاں مرتب کر سکے گا حمد باری لکھ کے اور نعت رسول جو لکھے بیدل کرو دل سے قبول اور مثل مشہور ہے کہ کسی بہادری یا مشکل کام کو کرنے کے لیئے دل گردے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ بیچارہ تو شاعری بھی نہ کر پائے گا۔ اسی طرح اگر دماغ عطا کرنے والے کلون کے “بالا خانے ” میں اگر بھوسہ ہی بھر دیا جائے تو تصور کیجئے کہ کیا حشر برپا ہوگا۔ اس طرح ایک ایسی خاتون جو اپنے شوہر نامدار کے مادہ منویہ (Semen) میں نقص پائے جانے کے سبب بچوں کی محرومی سے تنگ آکر کسی دوسرے نا محرم کی کار آمد بافت سے خلیہ لے کر اپنے ہی بطن سے نرینہ اولاد پیدا کر ڈالے تو پھر اہل کتاب کے علما اور ہمارے مفتیان کرام بیچ اس مسئلہ کے کیا فرما ئیں گے؟

مندرجہ بالا سطور میں (Rejection Tissue) اور حمل کے دورانیہ (Gestation period) کے مسائل پر قابو پا جانے کی بات کی ہے جو ایک مفید پیش رفت ہو سکتی ہے اس طرح گائیوں اور بھینسوں اور ہتھنیوں کے رحم میں ایک سے زیادہ انسانی بافتوں کی بیک وقت پیوند کاری ممکن ہو سکے گی یعنی بیک وقت کئی کئی انسان ہتھنی کے بطن سے پیدا ہو سکیں گے۔ اس طرح ہتھنی کے بطن سے نصف درجن کے قریب بھیڑیں یا بکریاں بھی پیدا کرلی جائیں گی۔ بلکہ اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہوگی کہ ایک مس یونیورس یورپین مارکہ) کی کئی بافتوں کی افریقن ہتھنی کے رحم میں پیوند کاری کردی جائے تو اس نوع یعنی مس یونیورس کی کمیابی دور ہو جائے گی۔

ایک اور سوال جو ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا انسان آئندہ اپنی نسل بڑھانے کے لیئے مرد اور عورت کی خدمات مخصوصہ سے بے نیاز ہو جائے گا۔ کیا دونوں اصناف لذت وصل سے محروم ہونا پسند فرمائیں گی؟ ایک تندرست بھو کا انسان صرف ڈرپ یا نالی کے ذریعہ پتلی یا مصنوعی غذا اپنے معدہ میں کب تک بھرتا رہے گا۔ کیا وہ اس طرح اپنی قدرتی اشتہا اور خوراک حاصل کرنے کی خواہش کو پورا کر سکے گا؟ بھوک کی خواہش کی تکمیل کے لیے کھانے کی خوشبو، انگلیوں کا لمس، کام و دہن کی لذت، پیٹ بھرنے کا احساس سوکھے ہوئے حلق میں ٹھنڈے پانی کی تراوٹ ، کھانوں کی نرم گرم حرارت یا ٹھنڈک کے احساس کے علاوہ برابر بیٹھنے والوں کی گفتگو کھانوں کی لذتوں پر خوشگوار تبصرے اور نہ معلوم کیا کیا دوسرے عوامل شامل ہیں۔ اسی طرح جنسی خواہش کی تکمیل اور تسکین بھی ایک نوجوان ادھیڑ عمر اور پیٹھ سالہ بوڑھے انسان کی جسمانی اور اعصابی صحت کے لیئے اہم ضرورت ہے۔ تقریبا ہر سماج اور مذہب نے انسان کی اس تسکین کی جائز طرح سے محفوظ ہونے کی اجازت دی ہے۔ چنانچہ شادی کرنا ایک اخلاقی اور سماجی ضرورت قرار دی گئی ہے اور مذہب اسلام نے ایک حدیث کے حوالے سے جس کا مفہوم کم و بیش یہ ہے کہ ”جو میری سنت نکاح کو مقدور ہونے کے باوجود پورا نہیں کرتا وہ ہم (یعنی مسلمانوں) میں سے نہیں۔ اسی طرح سورہ نور کی آیات نمبر ۳۱ اور ۳۲ میں بھی شادی کرنے پر زور دیا گیا کامیابی کی انتہائی قلیل مقدار ہے۔ پھر اس پر کتنا سرمایہ ہے چنانچہ ان دونوں حوالوں کو بنیاد بنا کر بعض فقہاء نے شادی کرنے واجب کرار دے دیا ہے اور ہمارے شعروں نے ان خواہش کی تکمیل یا عدم تکمیل پر کیا کیا کچھ نہیں لکھ مثلا ہمارے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کو لیجئے :

کبھی میں ڈھونڈتا ہوں لذت وصل
خوش آتا ہے کبھی سوز جدائی

لذت وصل نہ صرف انسانوں کے نفیس احساسات اور جذبات کے ساتھ منسلک ہے بلکہ انسان سے کم عقل رکھنے والے جانوروں خاص طور سے پرندوں کو نجوں قازوں اور نسوں تک میں یہ جذبہ ان کی روح حیات کے ساتھ پیوست ہے اس لیئے اس ناقص کی رائے میں یہ طریقہ صرف جانوروں ہی کی حد تک بہت تھوڑے دائرے میں محدود رہے۔ انسان جانوروں کی بولی اور احساسات سے تقریبا ” نابلد ہے اور وہ ان کے ساتھ وہ تجربات کر ڈالتا ہے جنہیں وہ اپنے لیے روا نہیں سمجھتا ممکن ہے کہ انسانوں ہی میں سے کوئی حقوق حیوانات کا علم بردار پیدا ہو جائے اور وہ اس غیر فطری طریقہ پیدائش حیوانات کے خلاف قانون سازی کا بل پاس کرانے میں کامیابی حاصل کرلے۔ البتہ یہ بات بڑی خوش آئند معلوم ہوتی ہے کہ امریکہ اور یورپ کے بعض ممالک میں انسان میں اس طریقہ پیدائش (Cloning) پر پابندی لگا دی ہے۔ اس پوری بحث کا ماحصل یہ ہے کہ آئن ولعت صاحب کی کاوش یقینا غیر معمولی دلچسپی کا باعث ہی نہیں بنی بلکہ یہ ایک غیر معمولی پیش رفت بھی ہے لیکن اس کی آزمائش دوسری جگہوں پر بھی ہونی چاہئے کیونکہ ۲۷۷ تجربات میں سے ایک تجربہ ہی کامیاب بتلایا گیا ہے یعنی کامیابی صرف صفر اعشاریہ صفر صفر تین رہی جو کامیابی کی انتہائی قلیل مقدار ہے۔ پھر اس پر کتنا سرمایہ اور وقت لگا سائنٹفک معاملات میں ان چیزوں کو کم ہی اہمیت دی جاتی ہے۔ آئندہ کے تجربات اور ان میں مو ثر تبدیلیاں وقت اور خرچے میں ضرور کی پیدا کردیں گی۔ مثال کے طور پر نبی غدود کے نیم مشخص (Semidifferentiated tissue) خلیوں سے بنی تھیلی شکل نمبر (1) ہی کو فریزنگ اور (Hibernation) کے مراحل سے گزار کر جو یقینا کیمیائی اور ہار موغل آزمودہ طریقوں کی مدد سے کیا گیا ہوگا اگر اسی ابتدائی نبی تھیلی کو عوضی ماں کے رحم میں حقل Substitute mother کر دیا جائے تو شاید تجربہ کو مختصر بنا لیا جائے۔ (یہ ایک عامیانہ کی رائے ہی ہے)۔ قدرتی طور سے کلوننگ کب سے ہوتی رہی اگرچہ نچلے درجے کے یک خلوی اور Acellular organisms جسممول پودوں وغیرہ ہی میں لیکن قدرت نے اعلیٰ درجوں کے ممالیہ وغیرہ میں اس طریقہ کو فائدہ مند نہیں گردانا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس طریقہ میں (Variation) یعنی جینیاتی تبدیلیوں کے قدرتی مواقع جو دو ازدواجی پیدائشی طریقہ کا لازمی حصہ ہیں اور جس کے ذریعہ زوجین کے کروموسومل مواد یعنی (ڈی این اے اور آر این اے) میں رد و بدل اور اختلاط ہوتا رہتا ہے اس کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔ دوسری بات جس کا ذکر اوپر بھی ہو چکا ہے یہ ہے کہ قدرت صرف نصف عددی تولیدی خلیہ یعنی صرف x کروموسومل ما خلیے (Ovum) کے ذریعہ شہد مکھیوں میں نکھٹو (Drones) اور سبز مکھیوں میں Nymphs) (پیدا کرتی رہی ہے کیا انسان بھی یہ کارنامہ (ممالیہ وغیرہ میں) کر کے اللہ تعالی کا تخلیقی کارنامہ دہرا سکتا ہے؟

سائنس ڈائجسٹ نیوز لیٹر

اپنے ان باکس میں پہنچائی جانے والی اہم ترین خبروں کی جھلکیاں حاصل کریں۔