• Sat, March 14, 2026
  • Ramaḍān 24 1447
  • KHI - PAKISTAN 22.3°C

سائنس / مذہب

اسلام اور سائنس

تحریر: ڈاکٹر محمد رفیع الدین شائع شدہ فروری ۰۷, ۲۰۰۰

سائنس موجوده جدید ترقی کا جزو لازم ہے جس کے نشتر میں ہر اس مسئلے کا حل موجود ہے جس کے بارے میں انسان کے ذہن میں انتشار پایا جاتا تھا لیکن سائنس کی ابتداء کہاں سے ہوئی اور کیا سائنس صرف اقوام مغرب ہی کا خاصہ ہے۔ نہیں اسلام ہی نے سب سے پہلے تدبر اور غور و فکر کی دعوت دی قرآن حکیم میں جا بجا اشیائے کائنات پر غوروفکر کی دعوت دی گئی ہے۔

ترجمہ: یعنی دین میں غوروفکر کرو
ترجمہ: یعنی اس زمین پر گھومو پهرو اشیائے کائنات پر غوروفکر کرو اور اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو خود اپنے آپ کو دیکھو

اسی طرح کی کئی آیات قرآن حکیم میں موجود ہیں۔ انہی اصولوں کو اپناتے ہوئے اقوام مغرب اور ترقی یافتہ اقوام نے ترقی کا راز پا لیا یعنی ہر مسئلے کے حل کے لیئے فکر و تدبر سوچ بچار اور اس عمل سے گزرنے کے بعد مرحلہ تجربے کا آتا ہے۔ یعنی اپنی فکر کو عملی جامہ پہنایا جائے پھر اس کے نتائج کا تجزیہ کر کے ان کی افادیت کا اندازہ لگانا یہی وہ عمل ہے جس پر آج سے چودہ سو برس پہلے مسلمان عمل پیرا ہوئے اورتین چوتھائی دنیا پر چھا گئے آج ہمارے اسلوب ترقی یافتہ اقوام نے اپنا لئے لہٰذا اللہ تعالیٰ کے برحق قوانین کے تحت آج وہ اس پھل دار درخت سے ثمر بار ہو رہے ہیں۔

سائنس کیا ہے؟

علم کے جس شعبہ کو ہم سائنس کہتے ہیں اس کا دوسرا نام علم کا ئنات ہے جس میں انسان کا علم بھی شامل ہے۔ سائنسی علوم کی کلید کائنات کے قدرتی حالات اور واقعات کا یا دوسرے لفظوں میں مظاہر قدرت کا مشاہدہ ہے جو ہمارے حواس خمسہ کے ذریعے سے عمل میں آتا ہے۔ سائنس داں کا ئنات کے مشاہدے سے کچھ نتائج اخذ کرتا ہے پھر ان نتائج کو ایک قابل فہم تنظیم اور ترتیب کے ساتھ جمع کرتا ہے۔ ہر درست سائنسی نتیجے کو ہم ایک مستقل علمی حقیقت یا قانون قدرت سمجھتے ہیں۔ مشاہدے سے دریافت ہونے والے نتائج یا علمی حقائق کو جب مرتب اور منظم کر لیا جاتا ہے تو اسے ہم سائنس کہتے ہیں۔

سائنسی طریق تحقیق کے چار مر حلے

بعض اوقات سائنس داں کا ئنات کے حالات اور واقعات کا مشاہدہ براہِ راست ان کی قدرتی حالت میں کرتا ہے اور اس غرض کے لئے ان کو ڈھونڈھ نکالتا ہے اور خود ان کے قریب جاتا ہے، لیکن بعض اوقات وہ اپنے معمل کے اندر کائنات کے حالات اور واقعات کو مصنوعی طور پر پیدا کر کے ان کا مشاہدہ کرتا ہے گویا ان کو اپنے قریب لائے۔ دونوں صورتوں میں وہ کائنات کے مشاہدے اور مطالعے کی خاطر اپنے لئے سہولتیں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سائنس داں کی اس کوشش کو تجربہ کا نام دیا جاتا ہے۔ تجربہ کی غرض مشاہدہ ہے اور مشاہدہ کی غرض غور و فکر کے بعد نتائج اخذ کرنا۔ بعض اوقات بہت سے الگ تھلگ سائنسی حقائق مل کر ایک ایسی حقیقت کی طرف راہنمائی کرتے ہیں جو بر او ر است تجربے اور مشاہدے کے طریقوں سے ثابت شدہ نہیں ہوتی، تاہم چونکہ وہ بعض ثابت شدہ حقائق کو منظم کرتی ہے، اس لئے سائنس داں اسے ایک قابل یقین نظریہ کے طور پر اپنے سائنسی حقائق میں داخل کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا کئے بغیر اس کے الگ تھلگ سائنسی حقائق قابل فہم نہیں ہوتے اور ان میں کوئی عقلی تنظیم یا وحدت پیدا نہیں ہو سکتی لہذا یہ نظریہ بھی، جب تک کہ سائنسی حقائق اسے غلط ثابت نہ کریں ایک سائنسی حقیقت کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ وہ بھی ہمارے مشاہدات کے نتائج میں شامل ہوتا ہے۔ سائنس داں کے اس طریق تحقیق کو جس کی روح کائنات کا مشاہدہ اور مطالعہ ہے، سائنسی طریق تحقیق یا سائنٹیفک میتھڈ کہا جاتا ہے ۔ اس سے ظاہر ہے کہ سائنس داں کے طریق تحقیق کے چارمرحلے ہوتے ہیں :

اول۔(تجربہ)
دوم۔(مشاہدہ)
سوم۔استنتاج یا اخذ نتائج
چہارم۔(تنظیم نتائج)

سائنسی علوم کی قسمیں

کائنات کے تین واضح طبقے ہیں: (۱) مادہ (۲) زندہ اجسام اور (۳) نفس انسانی۔

اور ان کے بالمقابل علم کا ئنات یا سائنس کے بھی تین بڑے حصے ہیں:

(1) مادے کی ماہیت سے تعلق رکھنے والے علوم یا طبیعیاتی علوم جن میں علم طبیعیات، علم کیمیا، علم الافلاک، علم الارض وغیرہ شامل ہیں۔
(۲) زندگی کی ماہیت سے تعلق رکھنے والے علوم، علوم ریا حیاتیاتی علوم جن میں علم حیاتیات، علم نباتات، علم الحیوانات، علم الجنین، علم الابدا ان طب وغیرہ شامل ہیں۔
(۳) نفس انسانی کی ماہیت اور اس کے مظاہر سے تعلق رکھنے والے علوم یا انسانی یا نفسیاتی علوم جن میں نفسیات فرد نفسیات جماعت، علم التاریخ علم السیاست علم الاخلاق، علم الاقتصاد، علم القانون، علم التعلیم وغیرہ شامل ہیں۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو ریاضیات اور منطق بھی نفسیات ہی کی شاخیں ہیں کیونکہ وہ ان اصولوں کی تشریح اور تفصیل پر مشتمل ہیں جن کے مطابق ذہن انسانی سوچتا ہے۔ ہم سائنس کے ان شعبوں کو اختصار کی غرض سے علی الترتیب طبیعیات، حیاتیات اور نفسیات بھی کہہ سکتے ہیں۔

سائنس داں کے بنیادی اعتقادات

بعض اوقات یہ سمجھا جاتا ہے کہ سائنس کو اعتقاد سے کوئی تعلق نہیں اور دور حاضر کا سائنس داں اپنی تحقیق کسی ایسے اعتقاد سے شروع نہیں کرتا جس کو اس نے بلا ثبوت پہلے سے قبول کر لیا ہو بلکہ وہ خالی الذہن ہوتا ہے اور اس کے مشاہدات جس طرف اسے لے جاتے ہیں، چلا جاتا ہے۔ یہ خیال درست نہیں۔ ہر سائنس داں اپنی سائنسی تحقیق کی بنیاد کے طور پر حقیقت سائنس یا حقیقت علم کے متعلق کچھ عقائد رکھتا ہے جو خود حقیقت کائنات کے کسی عقیدے سے ماخوذ ہوتے ہیں اور جو اس کی تحقیق کے نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں مثلاً ہر سائنس داں شروع سے ہی اس بات کا اعتقاد رکھتا ہے کہ کائنات ایک یکساں کل یا وحدت ہے، یعنی وہ فاصلے اور وقت دونوں کے لحاظ سے ایسے منطقوں یا حصوں میں بٹی ہوئی نہیں جن میں متضاد قسم کے قوانین قدرت جاری ہوں۔ کائنات کے قوانین مسلسل اور مستقل ہیں۔ وہ نہ صرف ہر جگہ ایک ہی ہیں بلکہ ہر زمانے میں بھی ایک ہی رہتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ سائنس داں کا یہ عقیدہ صحیح ہے اور اس کی صحت کی ایک دلیل یہ ہے کہ وہ آج تک غلط ثابت نہیں ہو سکا۔ یہ عقیدہ سائنسی تحقیق کا باعث ہے اس کا نتیجہ نہیں۔ سائنس کیتمام ترقیات جو اب تک ممکن ہوئی ہیں، ان کی بنیاد یہی عقیدہ ہے۔ اگر سائنس داں اس عقیدے سے آغاز نہ کرتے اور یہ عقیدہ صحیح نہ ہوتا تو سائنس ممکن ہی نہ ہوتی۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو سائنس داں کو سائنسی تحقیق کے لئے اکساتا ہے اور اسی کی تصدیق سے وہ اپنے سائنسی نتائج پر مطمئن ہوتا ہے اور اس کی راہ پر آگے قدم اٹھاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر سائنس داں کو معلوم ہو جائے کہ جو سائنسی حقیقت اس نے اپنی تحقیق سے آج اس وقت اور اس مقام پر دریافت کی ہے، وہ محض وقتی اور مقامی ہے اور اس کی متبادل یا متوازی سائنسی حقیقتیں اس کا ئنات میں بہت سی ہیں یا آئندہ ہو سکتی ہیں، مثلاً اگر اسے یہ خیال ہو کہ پانی سطح سمندر سے یکساں بلندی پر کہیں تو سو درجہ حرارت پر اور کہیں پچاسی درجہ حرارت پر ابلتا ہے اور کسی خاص ابلتا پر کسی وقت ۱۰۰ درجہ حرارت پر اور کسی اور وقت پچاس درجہ حرارت پر ابلتا ہے تو وہ اپنی تحقیق کے نتیجے کو بیکار سمجھ کر چھوڑ دے گا۔

کائنات کی وحدت کے نتائج

پھر کائنات کی اس وحدت کی وجہ سے سائنس داں بلا ثبوت اور بلادلیل یہ عقیدہ بھی رکھتا ہے کہ سائنس ایک وحدت ہے اور تمام بچے سائنسی حقائق خواہ وہ طبیعیاتی ہوں یا حیاتیاتی یا نفسیاتی ایک دوسرے کے ساتھ عقلی طور پر وابستہ ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ علمی ربط وضبط رکھتے ہیں، ایک دوسرے کو سہارا دیتے اور ایک دوسرے کی تائید و توثیق کرتے ہیں ایک دوسرے پر روشنی ڈالتے ہیں اور کسی صورت میں بھی ایک دوسرے سے متضاد نہیں ہوتے اور ایک دوسرے کی علمی اور عقلی مخالفت نہیں کرتے۔ سائنس داں بلا ثبوت اور بلادلیل یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ تمام سائنسی حقائق مل کر ایک ایسا عقلی اور علمی نظام بناتے ہیں کہ اگر کوئی ایسی نام نہاد ”سائنسی حقیقت اس میں داخل کر دی جائے جو سچی سائنسی حقیقت نہ ہو تو وہ اس نظام میں سما نہیں سکتی کیونکہ تمام سائنسی حقائق اس کی علمی اور عقلی مخالفت کرتے ہیں۔ اسی اعتقاد کی وجہ سے جب سائنس داں دیکھتا ہے کہ اس کی تحقیق کے ذریعے سے کوئی ایسی سائنسی حقیقت آشکار ہوئی ہے جو کسی دوسری سائنسی حقیقت سے جو پہلے سے معلوم اور مسلم ہو، ٹکراتی ہے تو وہ اپنی تحقیق کو ناقص سمجھتا ہے اور اس نام نہاد“ سائنسی حقیقت کو غلط سمجھ کر رد کر دیتا ہے یا پھر پہلی معلوم اور مسلم سائنسی حقیقت کو غلط سمجھ کر رد کر دیتا ہے۔ اس پر شبہ کرنے لگتا ہے، اس پر نظر ثانی کرتا ہے اور اگر وہ غلط ہو تو اسے رد کر دیتا ہے۔ سائنسی حقائق کی وحدت کا نتیجہ یہ ہے کہ جب سائنس کا کوئی حصہ غلط طور پر ترقی کر رہا ہو تو ساری سائنس کی ترقی پر اس کا برا اثر پڑتا ہے، یہاں تک کہ سائنس کے بعض خصوں کی ترقی بالکل رک جاتی ہے۔ سائنس داں بلا ثبوت اور بلادلیل یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ ہر سچی سائنسی حقیقت بہت کسی اور سائنسی حقیقتوں پر روشنی ڈالتی ہے اور اگر اس نے ایک ایسی حقیقت کو رد کر دیا تو بہت سی اور سائنسی حقیقتیں اس کی نظروں سے اوجھل ہو جائیں گی اور سائنس کی ترقی اس کے کسی نہ کسی شعبے یا حصے میں رک جائے گی۔ یہ وہ اعتقادات ہیں جن سے سائنس داں اپنی تحقیق کا آغاز کرتا ہے۔ یہ اعتقادات اس کی تحقیق کے آغاز سے پہلے اس کے دل کے اندر بطور مسلمات کے موجود ہوتے ہیں۔ وہ ان کو ثابت نہیں کرتا بلکہ قبول کرتا ہے اور ان کی مدد سے اور ان کی روشنی میں اپنے تمام سائنسی حقائق کو ثابت کرتاہے۔

سائنس کی وحدت کا سبب حقیقت کا ئنات کی وحدت ہے

سائنس داں وحدت کائنات اور وحدت سائنس پر بلا ثبوت اور بلادلیل اعتقاد کیوں رکھتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بحیثیت انسان اپنی فطرت کی بناء پر ایسا کرنے کے لئے مجبور ہے۔ انسان کی فطرت کے اندر یہ اعتقاد ودیعت کیا گیا ہے کہ حقیقت کا ئنات ایک ہے اور ساری کائنات اس کا مظہر ہے اور خواہ سائنس دان اپنے اس وجدانی اعتقاد کا اعتراف کرے یا نہ کرے لیکن یہ اعتقاد پھر بھی اس کی فطرت کے جزو لانیفک کے طور پر اس کے لاشعور میں جاگزیں رہتا ہے اور وہ اس اعتقاد کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ جب تک حقیقت کا ئنات کو شعوری یا لاشعوری طور پر ایک نہ مانا جائے، سائنسی حقائق کی وحدت کو ماننا ممکن نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وحدت بغیر نظم یا اتحاد کے نہیں ہوتی اور نظم متحد کرنے والے یا منتظم کرنے والے کسی مرکزی اصول کے بغیر محال ہے۔ پھر یہ ضروری ہے کہ جو اصدان تمام سائنسی حقائق کو متحد اور منتظم کرے اور ان کی جان یا روح یا آخری حقیقت کے طور پر ہو، یعنی وہ حقیقت الحقائق یا کائنات کی آخری حقیقت ہو اور تمام سائنسی حقائق اس کی تشریح اور تفسیر کے اجزاء اور عناصر ہوں اور اس کے ساتھ علمی ربط وضبط کی وجہ یہی ہے کہ وہ سب حقیقت کا ئنات کے ساتھ عقلی اور علمی ربط و ضبط رکھتے ہیں۔ سائنس داں کا شعوری یا لاشعوری تصور حقیقت ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے اور اس کے سائنسی نتائج پر اثر انداز ہوتا رہتا ہے اور چونکہ سائنسی حقائق صرف صحیح تصویر حقیقت کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں اور کسی غلط تصور حقیقت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھ سکتے لہذا اگر سائنس داں کا تصور حقیقت درست ہوگا تو اس کی سائنسی تحقیق درست ہو گی اور اس کو درست نتائج تک پہنچائے گی ور نہ جانجا غلط ہو جائے گی اور آخر کار رک جائے گی۔ ظاہر ہے کہ یہ صورت نفسیاتی یا انسانی علوم کے دائرے میں جو تصور حقیقت کے ساتھ زیادہ قریب کا تعلق رکھتے ہیں زیادہ شدت سے نمودار ہو گی۔ تصور حقیقت کے غلط ہونے سے سائنس کے غلط ہو جانے کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں سائنس والاں غیر شعوری طور پر بعض صحیح سائنسی حقائق کو بدل کر اپنے غلط تصور حقیقت کے مطابق کرتا جاتا ہے اور بعض غلط اور نام نہاد ”سائنسی حقائق کو جو اس کے مطابق ہوں صحیح سمجھ کر قبول کرتا جاتا ہے۔

فلسفہ کا کام یہ ہے کہ وہ آشکار طور پر کسی تصور حقیقت کو پیش کرتا ہے اور اس کے ساتھ تمام سائنسی حقائق کی عقلی اور علمی مطابقت کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ فلسفیوں نے صحیح تصور حقیقت کے مختلف نظریات قائم کئے ہیں اور قدرتی طور پر ہر فلسفی نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ تمام سائنسی حقائق صرف اسی کے تصور حقیقت کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں لہذا اسی کا تصور حقیقت صحیح ہے لیکن چونکہ صرف ایک ہی تصور حقیقت تمام سائنسی حقائق کو متحد اور منظم کر سکتا ہے، اس لئے ظاہر ہے کہ درست تصور حقیقت صرف ایک ہی ہو سکتا ہے۔

مسلمانوں کا تصور حقیقت

اشتراکیوں کے نزدیک یہ تصور حقیقت مادہ ہے لیکن مسلمانوں کے نزدیک یہ تصور حقیقت خدا ہے۔ لہذا مسلمانوں کے نزدیک یہی تصور حقیقت ہے جس سے تمام سائنسی حقائق مطابقت رکھتے ہیں اور جو تمام سائنسی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے اور ان کی طرف صحیح راہنمائی کرتا ہے۔ باقی ہر قسم کے تصوراتِ حقیقت سائنس کی مجموعی ترقی کے لئے مضر ہیں۔ دراصل ایک ہی تصور حقیقت ایسا ہے جو وحدت عالم اور وحدت علم کی معقول اور قابل قبول تشریح کر سکتا ہے اور وہ مسلمانوں کا تصور حقیقت ہے جس کی رو سے وہ یہ مانتے ہیں کہ سائنسی حقائق اور قوانین قدرت کی حقیقت اور اصلیت یہ ہے کہ وہ کائنات میں خدا کے تخلیقی اور تربیتی اعمال و افعال ہیں اور خدا ایک شخصیت کا خاصہ ہے کہ اس کا صرف ایک مقصد یا مدعا ہوتا ہے جس کے ماتحت اس کے سارے اعمال و افعال سرزد ہوتے ہیں۔ جہاں بھی ہمیں اعمال اور افعال کا ایک منظم سلسلہ نظر آئے وہاں کسی شخصیت کی کار فرمائی کا موجود ہونا ضروری ہے۔ فرد انسانی کے اعمال و افعال کے اندر بھی ایک وحدت ہوتی ہے کیونکہ وہ بھی ایک شخصیت ہے اور بیک وقت ہمیشہ ایک مقصد اور مدعا کے تحت اپنے سارے کام کرتا ہے۔ چونکہ کائنات کی تخلیق سے خدا کا ایک مقصد ہے لہذا خدا کے سارے اعمال و افعال میں جو قوانین قدرت یا سائنسی حقائق کی صورت اختیار کرتے ہیں، ایک وحدت موجود ہے۔ اب چونکہ قوانین قدرت یا کائنات کے اعمال و افعال کے اندر ایک وحدت موجود ہے لنڈ ا ضروری ہے کہ ان اعمال و افعال کا باعث کوئی شخصیت ہو جو کائنات کی خالق ہو۔

وحدت کا ئنات سے خدا کے وجود کا قرآنی استشہاد

وحدت کا ئنات کا باعث یہ ہے کہ اس کا کوئی مقصد ہے اور وہ مقصد ایک ہی ہے اور اس کے مقصد کی وحدت کا باعث یہ ہے کہ اس کا کوئی خالق ہے اور وہ خالق ایک ہی ہے۔ وحدت کا ئنات پر سائنس دانوں کے غیر شعوری وجدانی اعتقاد کا باعث ان کی فطرت کا یہ مخفی اور غیر شعوری تقاضا ہے کہ وہ کائنات کا ایک مقصد ما نیں اور وہ مقصد ایک ہی ہو اور اس کا ایک خالق تسلیم کریں اور وہ خالق ایک ہی ہو۔

قرآن حکیم نے کائنات کی وحدت کی طرف پر زور الفاظ میں توجہ دلائی ہے اور اس کو اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے کہ کائنات کا کوئی خالق ہے اور وہ خالق ایک ہی ہے۔

ما ترى في خلق الرحمن من تفاوت فارجع البصر هل ترى من فطور ثم ارجع البصر كرتين ينقلب اليك البصر خاستاً وهو حسير (الملك)

(ترجمہ) اے پیغمبر ! آپ خدا کی تخلیق میں کوئی فرق نہ دیکھیں گے۔ ذرا نظر دوڑائیے اور کائنات کا مشاہدہ کیجئے کیا آپ کو خدا کی اس تخلیق میں کبھی کوئی دراڑ نظر آتی ہے ؟ پھر دوبارہ نظر دوڑائیے اور دیکھئے نگا ہیں مایوس اور درماندہ ہو کر لوٹیں گی کہ خدا کی تخلیق میں کوئی دراڑ نہیں۔

کیا کا ئنات کی یہ وحدت اس کی مقصدیت کا اور پھر اس کی مقصدیت کسی خالق کائنات کی ہستی اور وحدت کا ثبوت نہیں؟

قل ارثيتم شركاء كم الذين تدعون من دون الله اروني ماذا خلقوا من الارض ام لهم شرك في السموت(فاطر :۴۰)

(ترجمہ) اے پیغمبر ان سے کہئے کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم خدا کو چھوڑ کر کس کو پکارتے ہو۔ مجھےبتاؤ تو سہی کہ آیا انہوں نے زمین میں کچھ پیدا کیا ہے یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کا کوئی حصہ ہے۔

یعنی اگر کائنات کی تخلیق میں خدا کے ساتھ کوئی اور شریک ہوتا تو زمین و آسمان میں کہیں تو اس کی اپنی تخلیق کا کوئی نشان ملتا جہاں جدا قسم کے قوانین قدرت نافذ ہوتے۔ ظاہر ہے کہ منکرین قرآن حکیم کے اس سوال کے جواب میں اس کا ئنات کا ایک حصہ پیش کر کے معقولیت کے ساتھ ہیں کہہ سکتے تھے کہ یہ حصہ خدا کے اس شریک نے پیدا کیا ہے جسے ہم مانتےہیں کیونکہ جب کائنات کے اس حصے میں بھی قوانین قدرت وہی ہیں جو باقی کا ئنات میں ہیں تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس کا خالق وہی نہیں جو باقی کائنات کا ہے؟

فلسفہ سائنس کا ہی ایک شعبہ ہے

فلسفے اور سائنس کے اس باہمی تعلق کی بناء پر ہم فلسفے کو سائنس سے الگ نہیں کر سکتے۔ جب تک سائنس کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے دریافت کئے ہوئے حقائق کی تشریح تو جہہہ یا تنظیم کے لئے نظریات قائم کرے فلسفے اور سائنس میں کوئی واضح امتیاز نہیں کیا جا سکتا بلکہ صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ فلسفہ پوری کائنات کی سائنسی تحقیق کی وہ چوتھی اور آخری منزل ہے جہاں تمام کائنات کا سائنسی علم، تجربے اور مشاہدے اور استنتاج کے تینوں مرحلوں سے گزر کر تنظیم کے چوتھے مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔ دراصل جب سائنسی تحقیق اپنی مجموعی حیثیت سے اپنے آخری درجہ پر پہنچتی ہے تو ہم اسے فلسفہ کہتے ہیں۔

مسلمان سائنسی طریق تحقیق کے موجد اور سائنسی علوم کے بانی تھے

بعض یورپی مصنفوں کی غلط بیانیوں کی وجہ سے دنیا مدت تک اس غلط فہمی میں مبتلارہی ہے کہ سائنسی علوم اور سائنسی طریق تحقیق کے موجد یورپ کے لوگ ہیں، چنانچہ بعض لوگوں کا خیال یہ تھا کہ سائنسی طریق تحقیق کا موجد( راجر بیکن) یا اس کا ایک اور ہم نام (فرانسس بیکن) ہے لیکن سائنسی علوم کی تاریخ کے موضوع پر حال کی علمی تحقیق نے اس نا قابل تردید تاریخی حقیقت سے پردہ چاک کر دیا ہے کہ سائنسی طریق تحقیق، جس کی بدولت موجودہ سائنسی علوم وجود میں آکر ترقی پذیر ہوئے، مسلمانوں نے ایجاد کیا تھا اور یورپ کے حالیہ سائنسی علوم کی بنیاد بھی مسلمانوں نے رکھی تھی۔ پھر بعض لوگوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ مسلمانوں نے سائنسی طریق تحقیق یونانیوں سے سیکھا تھا اور اپنے سائنسی علوم کی بنیاد یونانیوں کی سائنس پر رکھی تھی لیکن یہ خیال بھی درست نہیں۔

تعمیر انسانیت کا مصنف بر یفالٹ اس قسم کی تمام غلط فہمیوں کی پر زور تردید کرتے ہوئے لکھتا ہے: عصر جدید میں عربوں کی تہذیب کا عظیم الشان حصہ سائنس ہے لیکن اس کے پھل کو پکنے میں کچھ دیر لگی۔ جب تک ہسپانوی عربوں کی تہذیب تاریکی میں دوبارہ گم نہیں ہوئی، وہ دیو صہیب جس کو اس نے جنم دیا تھا اپنی پوری قوت کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا۔ یہ فقط سائنس ہی نہیں تھی جس نے یورپ کو زندہ کیا۔ اسلام کی تہذیب کے اور بہت سے اثرات نے یورپ کی زندگی کو اس کی پہلی چمک دمک سے آراستہ کیا۔
(ص: ۲۰۲)

“اگر چہ یورپ کی ترقی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس میں اسلامی تہذیب کے فیصلہ کن اثر کے نشانات موجود نہ ہوں، لیکن یہ اثر کہیں بھی اتنا واضح اور اتنا اہم نہیں جتنا کہ اس طاقت کے ظہور میں ہے جو دنیائے جدید کی مخصوص اور مستقل قوت اور اس کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے یعنی سائنس اور سائنسی طرز فکر ۔ “(ص: ۱۰۹)

“ہماری سائنس فقط انقلاب آفریں نظریات کی حیرت انگیز دریافت کے لئے ہی علوم عرب کی احسان مند نہیں بلکہ سائنس اس سے بھی بڑے احسان کے لئے عربوں کی تہذیب کی مرہون منت ہے اور اصل بات تو یہ ہے کہ وہ خود اپنے وجود ہی کے لئے اس زیر احسان ہے۔ دنیائے قدیم یعنی یونانیوں کی تہذیب جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، سائنس سے پہلے کی دنیا تھی۔ یونانیوں کی فلکیات اور ریاضیات دوسرے ملکوں سے درآمد کی ہوئی چیزیں تھیں جن کو یونانی تہذیب کی آب و ہوا کبھی پوری طرح سازگار نہ آسکی۔ اہل یونان حقائق کو منظم کرتے تھے، ان سے عمومی نتائج اور اصول اخذ کرتے تھے اور نظریات قائم کرتے تھے لیکن تحقیق و تجس کے صبر آزما راستے، مثبت علم کی فراہمی، سائنس کے نکتہ اس طریقے، مفصل اور طویل مشاہدے اور تجرباتی چھان بین ایسی چیزوں کا اہلِ یونان کی افتاد طبیعت سے کوئی سروکار نہ تھا۔ قدیم کلاسیکی دنیا کا علمی کام اگر کسی مقام پر ذرا سا بھی سائنسی تحقیق کے نزدیک پہنچا تو وہ یونانیوں کے دور کا اسکندریہ تھا۔ جسے ہم سائنس کہتے ہیں وہ یورپ میں تحقیق کی ایک ایسی نئی روح اور تجس کے ایسے نئے طریقوں یعنی تجربے، مشاہدے اور پیمائش اور ریاضیات کی اس قسم کی ترقی کے طفیل ظہور پذیر ہوئی جس سے اہل یونان محض بے خبر تھے۔ اس روح کو اور ان طریقوں کو یورپ میں عربوں نے داخل کیا۔ ” (ص: ۱۹۰)

یورپ میں علوم کا احیاء پندرہویں صدی میں نہیں بلکہ اس وقت ہوا جب عربوں اور موروں کی تہذیب کے اثر سے یورپی تہذیب میں زندگی کی نئی روح پھونکی گئی۔ یورپ کی نئی زندگی کا گہوارہ اٹلی نہیں بلکہ اسپین تھا۔ مدتوں تک بربریت کی پستیوں میں غرق ہوتے رہنے کے بعد یورپ جہالت اور ذلت کی تاریک ترین گہرائیوں میں پہنچ چکا تھا۔ جب عرب ملکوں کے شہر بغداد، قاہرہ، قرطبہ اور طلیطلہ تہذیب اور علمی مشاغل کے ترقی پذیر مراکز بنے ہوئے تھے ان شہروں میں اس نئی زندگی کا آغاز ہوا جو نوع انسانی کے ارتقاء کے ایک نئے پہلو کی صورت میں جلوہ افروز ہونے والی تھی۔ اس وقت سے لے کر جب عربوں کی تہذیب کا اثر محسوس ہونے لگا نئی زندگی حرکت میں آنے لگی۔(ص: ۱۸۸)

” لیکن وہ نقطہ نظر جس کی روشنی میں عرب موجودہ مواد کو کام میں لاتے تھے یونانیوں کے نقطہ نظر کے بالکل متضاد تھا۔ یہ نقطہ نظر بعینہ وہ چیز مہیا کرتا تھا جس کا فقدان یونانیوں کے ذہن کا کمزور اور ناقص پہلو تھا۔ یونانیوں کی دلچسپی کا مرکز نظریہ آفرینی اور اصول سازی تھے۔ وہ ٹھوس مشاہداتی حقائق سے بے پروا تھے اور ان کو نظر انداز کرتے تھے۔ اس کے بر عکس عرب محققین کا ذوق دریافت نظریہ آفرینی سے بے پروا تھا اور اس کا مقصود ٹھوس حقائق بہم پہنچانا اور اپنی معلومات کو صحت اور کمیت کے معیاروں پر لانا تھا۔ معتبر اور پائیدار سائنس اور ایک ڈھیلے ڈھالے سائنسی ذوق میں جو چیز فرق پیدا کرتی ہے۔وہ یہ ہے کہ کہنے والا کیفیت نہیں بلکہ کمیت بیان کر رہا ہے اور اپنی پیمائش کو ہر ممکن طریق سے درست کرنے کے لئے بے تاب ہے۔ عربوں کا سارا وسیع و عریض سائنسی کام اسی معروضی تحقیق اور کمیتی صحت و صفائی کے ذوق کے زیر اثر انجام پاتا رہا ہے۔ راجر پیکن نے آکسفورڈ اسکول میں ان لوگوں کے جانشینوں کے ماتحت عربی زبان اور عربی سائنس کا علم حاصل کیا تھا۔ نہ راجر لیکن اور نہ ہی اس کا دوسرا ہم نام اس بات کا اہل ہے کہ اسے سائنسی طریق تحقیق کے موجد ہونے کا اعزاز بخشا جائے۔ راجر لیکن تو محض عیسائی یورپ کے لئے مسلمانوں کی سائنس کے سفیروں یا پیام رسانوں میں سے ایک تھا اور وہ کبھی یہ کہتے ہوئے نہ تھکتا تھا کہ عربی زبان اور عربی سائنس کا سیکھنا اس کے ہم عصروں کے لئے بچے علم کا واحد راستہ ہے۔ یہ بخشیں کہ سائنسی طریق تحقیق کا موجد کون تھا، یورپی تہذیب کے سرچشموں کے بارے میں ایک بہت بڑی غلط بیانی پر مشتمل ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ لیکن سے پہلے عربوں کا تجرباتی طریق تحقیق عام ہو چکا تھا اور یورپ بھر میں اس کا تتبع نہایت ذوق و شوق سے کیاجاتا تھا۔”

مسلمانوں کو یہ امتیاز کیسے حاصل ہوا؟

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا سبب کیا ہے کہ دنیا کی تمام قوموں میں سے فقط مسلمانوں کو یہ امتیاز نصیب ہو سکا کہ انہوں نے قدرت کے گہرے مشاہدے اور مطالعے کو اپنا شعار بنایا یہاں تک کہ وہ اس قابل ہوئے کہ سائنسی طریق تحقیق ایجاد کریں اور سائنسی علوم کی بنیاد رکھیں۔ قرآن کی تعلیمات پر سرسری نگاہ ڈالنے سے اس بات میں ذرا بھی شک باقی نہیں رہتا کہ اس کا سبب خود قرآن حکیم ہے جس کے تقریباً ایک تہائی حصے میں قدرت کے گوناگوں مظاہر کی طرف توجہ دلا کر کائنات کے مشاہدہ اور مطالعہ پر زور دیا گیا ہے۔ دراصل مشاہدہ و مطالعہ قدرت کے لئے سب سے پہلی موثر آواز جو دنیا میں بلند کی گئی ہے وہ قرآن ہی کی آواز ہے۔

مشاہدہ اور مطالعہ قدرت کی قرآنی دعوت

قرآن نے مشاہدہ اور مطالعہ قدرت پر کیوں زور دیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی تعلیم کا نچوڑ یہ ہے کہ خدا کی محبت انسان کی فطرت میں رکھی گئی ہے اور جب تک انسان خدا کی ستائش، عبادت اور اطاعت کے ذریعہ سے خدا کی محبت کا اظہار نہ کرے اس کی شخصیت نشو و نما پا کر اپنے کمال کو نہیں پہنچ سکتی اور اس زندگی میں اور آنے والی زندگی میں اس مسرتوں اور راحتوں کو نہیں پاسکتی جو اس کے کمال کے ساتھ وابستہ ہیں۔ غذا کی محبت کے ذریعہ سے انسانی شخصیت کی تحمیل ہی مقصد کا ئنات ہے لیکن خدا کی محبت جو انسان کی فطرت میں ہے خدا کی معرفت کے بغیر بیدار نہیں ہوتی اور خدا کی معرفت حاصل کرنے کا طریق یہ ہے کہ انسان خدا کی صنعت یعنی کائنات کو دیکھے اس پر غور و فکر کرے اور اس کے ذریعہ سے اس کے صانع کے اوصاف اور محاسن اور کمالات کو جانے اور پہچانے۔ کائنات کا خود مخود وجود میں آنا انسان کی سمجھ میں نہیں آسکتا تو پھر جس ہستی نے کائنات پیدا کی ہے اس کی وجو د اور صفات کی شہادت اس کا ئنات سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے۔

کیا خدا میں شک ہے جو کائنات کا خالق ہے؟

صنعت کے اندر صانع کی تمام صفات جلوہ گر ہوتی ہیں اور اس کی صنعت سے اس کے مقاصد اورعزائم اور اس کی قابلیتوں اور اہلیتوں کا پتہ چلتا ہے۔ اگر چہ خدا کی شخصیت انسان کی آنکھوں سے مخفی ہے، تاہم اس کی صفات حسن کی کار فرمائیاں انسان کی آنکھوں کے سامنے آشکار ہیں۔ جسمانی اور مادی آنکھوں سے مخفی رہنا شخصیت کا خاصہ ہے خواہ شخصیت انسان. کی ہو یا خدا کی۔ لیکن جس طرح ہمارے لئے ایک ایسے انسان کی شخصیت کو بھی جو بعد میں ہمارے جاننے اور پہچاننے کی وجہ سے ہمارا بہترین دوست بن جانے والا ہو جاننے اور پہچاننے کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ ہم اس کی اندرونی مخفی صفات کے مظاہر کا جو اس کے اعمال و افعال کی صورت اختیار کرتے ہیں، مشاہدہ اور مطالعہ کریں۔ اسی طرح سے خدا کی شخصیت کو جاننے اور پہچاننے کی بھی صرف یہی ایک صورت ہے کہ ہم اس کی مخفی صفات کے مظاہر کا جو اس کے اعمال وافعال کی صورت اختیار کرتے ہیں، مشاہدہ اور مطالعہ کریں۔ خدا کے خالق کا ئنات ہونے کے معنی یہ ہیں کہ خدا کائنات کے اندر اپنی صفات کے ذریعہ سے موجود ہے اور کائنات اور خدا ایک دوسرے سے الگ الگ نہیں ہو سکتے۔ یہ کائنات سوائے اس کے اور کچھ بھی نہیں کہ خدا کی صفات کی ایک مرئی شکل ہے۔ اگر خدا کی صفات کا ظہور جو کائنات میں ہے، غائب ہو جائے تو پوری کائنات ہی فنا ہو جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم جہاں مومنین سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے ہوئے خدا کا ذکر کریں وہاں ان سے اس بات کی بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ کائنات کی تخلیق پر غورو فکر کریں۔

ٱلَّذِينَ يَذۡكُرُونَ ٱللَّهَ قِيَٰمٗا وَقُعُودٗا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمۡ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هَٰذَا بَٰطِلٗا سُبۡحَٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ

(ترجمہ) اور وہ لوگ جو خدا کا ذکر کرتے ہیں، کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر اور اپنے پہلوؤں پر لیٹے ہوئے اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور و فکر کرتے ہیں ( یہاں تک کہ پکار اٹھتے ہیں) اے ہمارے رب یہ کائنات (جس میں ہم بھی ہیں اور جس کا ذرہ ذرہ تیری صفات حسن کا آئینہ دار اور تیری خالقیت اور ربوبیت کا گواہ ہے) تو نے اپنے سچےمقصد کے بغیر پیدا نہیں کی پس ہمیں کائنات کے اندر اپنے مقصد کے ساتھ اعتقادی اور عملی مطابقت کی توفیق عطا فرما کر آگ کے عذاب سے بچائیو۔”

اور یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم مظاہر قدرت کو خدا کی ہستی اور صفات خالقیت و ربوبیت کی نشانیاں ( آیات) کہتا ہے :

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ

(ترجمہ) اس میں شک نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے اختلاف میں عقلمندوں کے لئے (خدا کی ہستی اور صفات ) نشانیاں ہیں۔

وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ

(ترجمہ) یقین کرنے والوں کے لئے روئے زمین پر خدا کی ہستی اور صفات کے بہت سے نشانات ہیں
اورتمہارے نفوس میں بھی۔ پھر تم کیوں نہیں دیکھتے؟

وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ
(ترجمہ) ایک نشان ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے مردہ زمین کو زندہ کیا اور اس سے دانے اگائے جن کو وہ خوراک کے لئے استعمال کرتے ہیں

إِنَّ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَٱلْفُلْكِ ٱلَّتِى تَجْرِى فِى ٱلْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن مَّآءٍۢ فَأَحْيَا بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍۢ وَتَصْرِيفِ ٱلرِّيَٰحِ وَٱلسَّحَابِ ٱلْمُسَخَّرِ بَيْنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَعْقِلُونَ

(ترجمہ) بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے تغیر میں اور کشتی میں جو سمندر میں لوگوں کو نفع دینے والے تجارتی مال کو لے کر چلتی ہے اور اس بات میں کہ خدا آسمان سے پانی نازل کرتا ہے پھر اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے اور اس بات میں کہ اس نے زمین کے اوپر ہر قسم کے جاندار پھیلا دیئے ہیں اور ہواؤں کی تبدیلیوں میں اور بادل میں جو آسمان اور زمین کے درمیان ٹھہرا دیا جاتا ہے، عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَٰجًا لِّتَسْكُنُوٓاْ إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ

(ترجمہ) اور اس کے نشانات میں سے ایک یہ ہے کہ تم کو مٹی سے پیدا کیا اور تم انسان بن کر زمین پر پھیل گئے۔ اور اس کے نشانات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تم میں سے ہی تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم اپنی بیوی سے سکون قلب حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی پیدا کی۔ بے شک اس بات میں غور کرنے والوں کے لئے نشانات ہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ

(ترجمہ) اور اس کے نشانات میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے۔ بے شک اس میں اہل علم کے لئے نشانات ہیں۔ اور اس کے نشانات ہی میں سے تمہارا دن اور رات کو سونا اور رزق کی صورت میں اس کے فضل کی جستجو کرنا ہے۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانات ہیں جو سنتے ہیں۔

وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ

(ترجمہ) اور اس بات میں ان کے لئے خدا کی ہستی اور صفات کا ایک نشان ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کر دیا۔

حواس سے کام لے کر مظاہر قدرت کا مشاہدہ کرنا اور دل سے کام لے کر ان پر غور و فکر کرنا اور ان سے صحیح صحیح نتائج اخذ کرنا مسلمان پر فرض قرار دیا گیا کیونکہ ایسا کرنا قرآن کے نزدیک صحیح عقائد اور صحیح اعمال کی بنیاد د ہے۔ جو لوگ آنکھیں تو رکھتے ہیں لیکن دیکھتے نہیں کان تو رکھتے ہیں لیکن سنتے نہیں اور دل تو رکھتے ہیں لیکن سوچتے نہیں، ان کو چوپایوں سے بدتر اور عذاب جہنم کا مستحق قرار دیا گیا ہے :

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ ﳲ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا٘-وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا٘-وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّؕ

(ترجمہ) اور بے شک ہم بہت سے ایسے جنوں اور انسانوں کو جہنم کی طرف ہانک دیں گے جن کے دل ہیں لیکن ان سے سوچتے نہیں آنکھیں ہیں لیکن ان سے دیکھتے نہیں کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں۔ وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ۔

جو لوگ اپنے حواس سے کام نہیں لیتے اور اپنے دلوں سے نہیں سوچتے یا تعصب کی وجہ سے غلط سوچتے ہیں ان سے اپنی ان قوتوں کو ضائع کرنے کے لئے باز پرس کی جائے گی۔

إِنَّ ٱلسَّمْعَ وَٱلْبَصَرَ وَٱلْفُؤَادَ كُلُّ أُوْلَٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔولًا

(ترجمہ) بے شک کان اور آنکھ اور دل ان سب سےپوچھا جائے گا۔
قرآن حکیم نے آسمانوں اور زمین میں مظاہر قدرت کو دیکھنے کے بعد ان پر غور و فکر کے بغیر آگے گزر جانے سے منع کیا ہے کہ ایسا کرنے سے خدا کی معرفت کے مواقع ہاتھ سے نکل جاتے ہیں اور انسان کی محبت اور شخصیت کا ارتقا نہیں ہوتا۔

وَكَأَيِّن مِّنْ ءَايَةٍۢ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ

(ترجمہ) آسمانوں اور زمین میں کتنے ہی نشانات ( خدا کی ہستی اور صفات حسن کے ایسے ہیں کہ یہ ان سے گزرتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں (اور ان پر غور و فکر نہیں کرتے۔) کسی مظہر قدرت یا آیت اللہ پر غور و فکر ترک کر دینا اس سے پہلے کہ اس کی حقیقت پوری طرح سے منکشف ہو یہ بھی اس سے اعراض ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کو یہ حکم ہے کہ جب موجودات قدرت میں سے کوئی چیز اس کے نوٹس میں آئے تو اسے نظر انداز نہ کرے بلکہ اس کے مشاہدے اور مطالعہ کا حق ادا کرے اس کی حقیقت اور اصلیت کو پوری طرح سے سمجھے اور خدا کی حکمتیں جو اس کے اندر پوشیدہ ہیں ان سے پوری طرح واقف ہونے کی کوشش کرے۔ گویا جب تک کسی چیز کی حقیقت پوری طرح واضح نہ ہو جائے مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ اپنی تحقیق و تجسس کو جاری رکھے۔

حضور نے امت کو ایک دعا سکھائی ہے جو اس مطلب کی تائید کرتی ہے:

اللهم نا الحق حقاً وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه اللهم ارنا الاشياء كماهي

(ترجمہ) اے خدا ہم کو صداقت بطور صداقت کے دکھا اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق دے اور جھوٹ بطور جھوٹ کے دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ اے خدا ہمیں اشیاء کو اسی طرح سے دکھا جیسی وہ در حقیقت ہیں۔

حضور کی یہ دعا گویا سائنسی طریق تحقیق کی حمایت کرتی ہے کیونکہ سائنسی طریق تحقیق جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ مشاہدہ کے نتائج کو کامل احتیاط سے اخذ کیا جائے اور انتہائی طور پر درست کرنے کی کوشش کی جائے اس کا مقصد یہی ہے کہ اشیاء ویسی ہی نظر آئیں جیسی کہ وہ در حقیقت ہیں۔

تفکر فی الخلق کا لازمی نتیجہ

قرآن کی رو سے خدا کی خالقیت اور ربوبیت کے نشانات کا ئنات کی تینوں سطحوں پر موجود ہیں۔ مادی دنیا کے مظاہر قدرت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے قرآن حکیم، چاند سورج اور ستاروں کی حرکت کا برق و سحاب کا ہواؤں کے چلنے کا اختلاف لیل و نہار کا مینہ برسنے کا چاند کے گھٹنے بڑھنے کا پہاڑوں کا زمین کی ہموار سطح کا، پہلے آسمان اور زمین کے یکجا ہونے اور پھر الگ الگ ہونے کا اور اس طرح کے اور مظاہر قدرت کا ذکر کر کے ان کے مشاہدہ اور مطالعہ کی دعوت دیتا ہے۔ اگر ہم ان مظاہر قدرت کے مشاہدہ اور مطالعہ کا حق ادا کر کے ان کی حقیقت اور اصلیت کو پوری طرح سمجھ لیں اور ان کے تمام رموز و اسرار سے اور خدا کی ان تمام حکمتوں سے جو ان کے اندر پوشیدہ ہیں پوری طرح آگاہ ہو جائیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ تمام طبیعیاتی علوم وجود میں آجائیں گے۔ اس کی وجہ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے، یہ ہے کہ تمام سائنسی حقائق ایک سلسلہ یا نظام بناتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ عملی اور عقلی ربط و ضبط رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی طرف دلالت اور راہنمائی کرتے ہیں۔

اسی طرح سے حیاتیاتی دنیا کے مظاہر قدرت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے قرآن حکیم زمین روئیدگی کے نمودار ہونے کا لہلہاتے کھیتوں کا غلہ کے پیدا ہونے کا مختلف رنگوں اور ذائقوں کے پھلوں کا پانی سے ہر جاندار کے زندہ ہونے کا کیچڑ سے انسان کی تخلیق کے آغاز کا زمین سے نسل انسانی کے اگنے کا زمین میں ہر قسم کے جانداروں کے پھیل جانے کا پرندوں کے اڑنے کا سواری کے کام آنے والے اور دودھ دینے والے چوپایوں کا نباتات اور حیوانات کے ازواج کا اونٹ کی حیرت انگیز جسمانی ساخت کا انسان کی قوت فہم و دید و شنید کا اور ماں کے رحم میں انسانی جنین کی حالتوں کے تدریجی تغیر کا اور اسی طرح کے دوسرے مظاہر قدرت کا ذکر کر کے ان کے مشاہدہ اور مطالعہ کی دعوت دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر ہم ان مظاہر قدرت کا پورا مشاہدہ اور مطالعہ کریں یہاں تک کہ ان کے تمام اسرار ورموز سے آشنا ہو جائیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ تمام حیاتیاتی علوم مکمل طور پر وجود میں آجائیں گے۔

پھر اسی طرح سے نفسیاتی یا انسانی دنیا کے مظاہر قدرت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے قرآن حکیم، انسانی تاریخ کے بعض اہم واقعات اور قوانین کا اور انسانی فطرت کے بعض بنیادی قواعد اور حقائق کا ذکر کرتا ہے۔ مثلاً قرآن حکیم ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح سے تاریخ عالم میں پے در پے ایسے انسانوں کا ظہور ہوتا رہا جنہوں نے کہا کہ وہ خدا کے رسول ہیں اور لوگوں کو یہ بتایا کہ ان کا سچا معبود خدا ہے جو اس کا ئنات کاخالق ہے۔ کس طرح سے رسولوں کی دعوت کو بعض لوگوں نے قبول کر لیا اور بعضوں نے قبول نہ کیا۔ کس طرح سے قبول کرنے والوں کے دل اطمینان اور مسرت سے بھر گئے یہاں تک کہ وہ خدا کے لئے طرح طرح کی مصیبتیں اور ذلتیں اٹھانے بلکہ مرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ کس طرح سے انکار کرنے والوں کو تباہی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ وہ نیست و نابود ہو گئے۔ کس طرح سے خدا کی محبت یا دین انسان کی فطرت میں ہے جو لازوال اور غیر مبدل ہے۔ کس طرح سے خدا کی عبادت انسان کے دل کو مطمئن کرتی ہے۔ کس طرح سے نوع انسانی اپنی فطرت کے اصلی تقاضوں کو بھولنے اور مختلف قسم کے غلط اور جھوٹے معبودوں کو اپنانے کی وجہ سے ٹکڑوں میں بٹ گئی ہے اور کس طرح سے ان کے اتحاد کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ وہ اپنے بچے معبود کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں۔ کس طرح سے انسان کے دل میں نیک و بد درست اور نادرست اور خوب وزشت کو پرکھنے کا ایک معیار موجود ہے جو خواہ انسان اس سے گریز کے بہانے بتاتا رہے، ہر وقت اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ پھر انسانی شعور کے بعض ایسے وظائف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جن کو ماہرین نفسیات نے حال ہی میں سمجھا ہے، قرآن حکیم ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح سے انسانی فرد کے تمام چھوٹے اور بڑے اعمال اس کے وجود میں ایک نامہ اعمال کی صورت میں محفوظ رہتے ہیں اور کس طرح سے یہ نامہ اعمال موت کے بعد انسان کے سامنے کھل جائے گا اور وہ کہے گا کہ میرا کوئی چھوٹا یا بڑا افعل ایسا نہیں جو اس کے اندر لکھانہ گیا ہو۔ وعلی ہذا القیاس؟ اگر ہم ان حقائق کا پورا پورا تجزیہ کریں اور ان کے معافی اور مطالب اور ان کے نتائج اور مضمرات اور اسباب اور عوامل پر پوری طرح سے حاوی ہو جائیں تو تمام انسانی علوم اپنی پوری تفصیلات کے ساتھ وجود میں آجاتے ہیں۔

گویا اگر ہم قرآن حکیم کے اس ارشاد پر کہ مظاہر قدرت پر پوری طرح سے غورو فکر کرو عمل کریں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تمام سائنسی علوم آیات اللہ کے ایک سلسلہ کے طور پر وجود میں آجاتے ہیں۔ مسلمانوں نے جو سائنسی طریق تحقیق ایجاد کیا تھا اور سائنسی علوم کی بنیادر کھی تھی اس کی اصل قرآن کی یہی تعلیم ہے۔

منکرین خدا کا مشاہدہ و مطالعہ کائنات

شاید یہاں یہ سوال کیا جائے گا کہ اگر مظاہرقدرت آیات اللہ ہیں تو کا فریاد ہر یہ قسم کے سائنس داں جو مظاہر قدرت کا مشاہدہ اور مطالعہ کرتے ہیں، خدا پر ایمان کیوں نہیں لے آتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک منکر خدا کا دل غیر اللہ کی محبت سے معمور ہوتا ہے۔ لہذاوہ مظاہر قدرت کو اس غلط محبت کی روشنی میں دیکھتا ہے اور ان کو اپنے غلط معبود کے ساتھ متعلق کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ چونکہ اس کا تصور حقیقت غلط ہوتا ہے اس لیئے وہ مظاہر قدرت کو دیکھ کر ان سے صحیح نتائج اخذ نہیں کر سکتا۔ ظاہر ہے کہ اگر مظاہر قدرت آیات اللہ یعنی خدا کی ہستی اور اس کی صفات خالقیت و ربوبیت پر دلالت کرنے والے نشانات ہیں تو ان کو آیات اللہ کے طور پر یعنی خدا کی خالقیت اور ربوبیت کے عقیدہ کی روشنی میں ہی ٹھیک طرح سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر ہم ان کے مشاہدہ اور مطالعہ کو خدا کے عقیدہ سے الگ کر دیں تو ان کو ٹھیک طرح سے نہیں سمجھ سکیں گے کیونکہ اس صورت میں ہم ان کو کسی اور قائم مقام عقیدہ کی روشنی میں یعنی کسی جھوٹے خدا کے عقیدہ کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں گے مثلاً مادہ کو ہی ایک قادر مطلق، خالق اور رب سمجھ لیں گے اور چونکہ یہ عقیدہ غلط ہوگا وہ ہماری غلط راہنمائی کرے گا اور ان کے مشاہدہ اور مطالعہ سے ہم جن نتائج تک پہنچیں گے وہ غلط یا نا تمام اور ناقص ہوں گے۔

آنکھوں کی بینائی اور دل کا اندھا پن

قرآن کی رو سے خدا کا ئنات کا نور ہے (اللہ نور السموت والارض) اس نور سے کائنات کا ایک ایک ذرہ روشن ہے۔ اگر ہم اس نور کے بغیر کا ئنات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تو ہمارا حال ایسا ہی ہو گا جیسے کوئی شخص رات کے وقت کسی کمرہ کے برقی قمقمے کو بجھا کرگھٹا ٹوپ اندھیرے میں چیزوں کو ٹولتا پھرے۔ ایک مومن کو مظاہر قدرت میں تخلیق اور تربیت اور و تجمیل اور تنظیم اور رحمت اور عدل اورتحفظ اورتحسین وحکمت اور علم اور قدرت اور زندگی اور بصارت اورسماعت کے آثار آشکار نظر آتے ہیں۔ اس لئے اس کا یہ یقین اور محکم ہو جاتا ہے کہ اس کا ئنات کا کوئی خالق ہے جو رب اور رحیم اور قدیر اور حفیظ اور جمیل اور حکیم اور علیم اور قدیر اور سمیع اور بصیر اور حی و قیوم ہے۔ اور اسے یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کوئی منکر خدا یہ کہے کہ کائنات میں تخلیق تو موجود ہے لیکن کوئی خالق نہیں، ربوبیت تو موجود ہے لیکن کوئی رب نہیں۔ تحفظ تو موجود ہے لیکن کوئی حفیظ نہیں۔ جمال تو موجود ہے لیکن کوئی جمیل نہیں اور رحمت اور عدل اور حکمت اور علم اور قدرت اور زندگی اور بصارت اور سماعت تو موجود ہیں لیکن کوئی رحیم یا علیم یا قد مر یا سمیع و بصیر یا حی و قیوم نہیں۔ لیکن یہ بات منکر خدا کے بس کی بات نہیں۔ اس کو کائنات میں نہ خدا کی صفات نظر آ سکتی ہیں اور نہ خدا کیونکہ اس کے دل کی فطری محبت جو بچے خدا کے لئے پیدا کی گئی تھی کسی اور جھوٹے خدا کے لیئے مصروف کار ہے لہذا بچے خدا کے لیئے مہیا نہیں ہو سکتی۔ وہ حقائق کی غلط ترجمانی کرتا ہے کیونکہ اس کی آنکھیں تو دیکھتی ہیں لیکن دل نہیں دیکھتا۔ اسی حالت کے متعلق قرآن حکیم نے فرمایا ہے کہ جو لوگ مظاہر قدرت کا مشاہدہ اور مطالعہ کرنے کے بعد بھی غلط نتائج پر پہنچتے ہیں ان کی آنکھیں تو اپنا کام کرتی ہیں لیکن دل نہیں دیکھتے۔

ترجمہ: آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں (وہ سب کچھ دیکھتی ہیں) لیکن دل جو سینوں میں ہیں اندھے ہو جاتے ہیں (کہ غلط سوچتے اور مشاہدات سے غلط نتائج نکالتے ہیں۔)

اقبال نے اسی مضمون کو ایک شعر میں یوں ادا کیا ہے۔

دل بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں

قرآن حکیم کی اس آیت کے حوالے سے اقبال کے اس شعر میں بھی دلِ بینا سے مراد ایسا دل ہے جس میں خدا کی محبت کا فطری جذبہ ابھی غیر االلہ کی محبت کے لئے اس طرح سے صرف نہ ہوا کہ پھر خدا کی محبت کے لئے مہیانہ ہو سکے یعنی جس میں غیر اللہ کی غیر فطری محبت سے بے اطمینانی ابھی باقی ہو جیسی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل کی بے اطمینانی تھی کہ وہ کسی ستارے چاند یا سورج کو زیادہ دیر تک اپنا رب نہ مان سکے۔

انسان کی فطرت اس طرح سے بنائی گئی ہے کہ جہاں بھی، جس وقت بھی اور جس وقت تک بھی وہ بچے خدا کے عقیدہ سے الگ رہے اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس جگہ اور اس وقت تک وہ بچے خدا کے عقیدہ کی بجائے عملی طور پر کسی اور خدا یعنی جھوٹے خدا کے عقیدہ کو اختیار کرے اور اسے کائنات کا خالق اور مالک اور رب سمجھے، خواہ زبانی طور پر اس بات کا اعتراف کرے یا نہ کرے۔ نظریاتی غیر جانبداری یا بے یقینی انسان کے لئے ناممکن ہے۔ انسان کا دل کبھی کسی معبود یا خدا کے بغیر نہیں رہ سکتا اور انسان کوئی عمل ایسا نہیں کر سکتا جو اس کے دل سے سرزد نہ ہو۔ جب بچے خدا کا عقیدہ انسان کے دل سے ہٹ جائے تو ی وقت کسی جھوٹے خدا کا متبادل عقیدہ اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ اگر انسان کا کوئی عمل (خواہ اس کی نوعیت روحانی ہو یا علمی یا اخلاقی یا جمالیاتی) بچے خدا کے عقیدہ کے ماتحت سرزد نہ ہو تو وہ کسی جھوٹے خدا کے عقیدہ کے ماتحت سر زد ہوتا ہے اور غلط ہوتا ہے۔ اسی لئے قرآن کی تعلیمات کے مطابق بتوں سے کفر کرنا خدا پر عملی ایمان لانے کی لازمی شرط ہے۔

(ترجمہ) جو شخص طاغوت سے کفر کرے اور اللہ پر ایمان لائے وہ ایک ایسے مضبوط حلقہ کو گرفت میں لیتا ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔

ہر قسم کے بتوں سے انکار خدا کے اقرار کی ایک ایسی شرط ہے جو انسان کی فطرت نے اس پر عائد کر رکھی ہے۔ اس سے گریز سائنس دان کے لئے سائنسی تحقیقات اور تعلیمات کے میدان میں بھی ممکن نہیں۔

قرآن کے فلسفہ سائنس کی بنیادیں

ان مفروضات سے ظاہر ہے کہ علم کا ئنات کے متعلق قرآن کے فلسفہ کی بنیاد یہ ہے کہ مصنوع کا علم بغیر صانع کے اور صانع کا علم بغیر مصنوع کے ممکن نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے علم کے لیئے لازم و ملزوم ہیں کیونکہ مصنوع صانع کے داخلی محاسن اور کمالات کا ایک خارجی مظہر ہوتا ہے۔ لہذا صانع کی صفات کا علم مصنوع کے علم کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ کائنات مصنوع اور مخلوق ہے اور خدا اس کا صانع اور خالق ہے۔ لہذا کا ئنات کا صحیح علم خدا کے علم کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم خدا کی معرفت چاہتے ہیں تو ہمیں کائنات پر جو خدا نے پیدا کی ہے غور و خوض کرنا پڑے گا، یہاں تک کہ ہم اس کے اندر خدا کی صفات خالقیت اور ربوبیت کا جلوہ دیکھ لیں اور اگر ہم کا ئنات کو ٹھیک طرح سے سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کا مشاہدہ اور مطالعہ اس عقیدہ کی روشنی میں کرنا پڑے گا کہ خدا اس کا خالق اور رب مع اور اس کی صفات اس میں جلوہ افروز ہیں۔

سائنس ڈائجسٹ نیوز لیٹر

اپنے ان باکس میں پہنچائی جانے والی اہم ترین خبروں کی جھلکیاں حاصل کریں۔