• Sat, March 14, 2026
  • Ramaḍān 24 1447
  • KHI - PAKISTAN 22.3°C

ماحول

خالہ اور بھانجے کی سلطنت

تحریر: محمد شعیب یامین شائع شدہ جنوری ۰۱, ۱۹۷۰

قدرت کے بے شمار شاہکاروں میں سے ایک شاہکار مخلوق بلی اور اسکی نسل سے تعلق رکھنے والے ممبران جن میں شیر، چیتا،تیندوااور دیگر شکاری جانور شامل ہیں شکار کرنے کی عمدہ صلاحیتوں کے سبب اپنے اپنے دائرہ کار میں بادشاہ یا سربراہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ وہ واحد نسل ہے جو۴ ۳ ملین سالوں سے اپنی شان و شوکت اور جاہ جلال کے جھنڈے گاڑ رہی ہے۔ ان بہترین صلاحیتوں کی وجہ سے بلیوں کو قدیم مصر میں دیوتا کی حیثیت حاصل تھی اور انکا اس قدر احترام کیا جاتا تھاکہ اگر کوئی شخص غلطی سے کسی بلی کو ہلاک کردیتاتو اسکی سزا سزائے موت ہوتی تھی اور اگر کسی کے گھر میں بلی اپنی طبعی موت مرجاتی تو گھر کے تمام افرادبطور ندامت اپنی بھونیں استرے سے صاف کرا لیا کرتے تھے۔

شیر،پھرتی، چلاکی،سمجھداری،بہادری اور جلال کی علامت ہے انہی خصوصیات کے بل بوتے پر وہ جنگل کا بادشاہ کہلوائے جانے کابجا طور پر مستحق ہے جس کا تعلق بلیوں کی بڑے سائز کی نسل سے ہے۔ غذائی چکر کا یہ وہ واحد جانور ہے جو انسان کے بعد غذائی چکر میں سب سے اونچا سمجھا جاتا ہے اور اسی کی نسل سے تعلق رکھنے والی قدرے چھوٹے سائز کی رکن بلی ہے جسے عرف عام میں شیر کی خالہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ جو اپنی ذہانت کی بناء پر کسی بھی طرح ایک چھوٹے وحشی تیندوے سے کم نہیں۔ دنیا جہان میں جہاں کہیں لوگوں میں پالتو جانور رکھنے کا شوق پایا جاتا ہے وہاں بلی کا نام ضرور آتا ہے۔ یہ وہ جانور ہے جو انسان کے اچھے ساتھیوں میں سے ایک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دنیا کے ہر خطے میں ماسوائے آسٹریلیا اور انٹار کٹیکا پائی جاتی ہے۔ ماحول سے اپنی ہم آہنگی کی بے پناہ صلاحیت کی بناء پر یہ میدانوں، ریگستانوں پہاڑوں برفانی جگہوں اور جنگلات غرض ہر جگہ اپنی ذہانت کا سکہ جمانے کے لیے موجود ہیں۔(مار گے) وسطی اور جنوبی امریکہ کی ایک چتی دار بلی اپنی ساخت کی بناء پر کسی جمناسٹ سے کم نہیں۔ اس کے مضبوط اور لچکدار پچھلے پنجوں کی بدولت برساتی جنگلات میں کوئی جانور اسے ہاتھ نہیں لگا سکتا وجہ یہ ہے کہ اس میں درختوں پر چڑھنے کی زبر دست صلاحیت ہے یعنی یہ اتنی پھرتی سے ایک درخت پر چڑھتی اور پھر ایک سے دوسرے پر چھلانگ مارتی ہے کہ پیچھا کرنے والا منہ تکتارہ جاتا ہے۔ اسی طرح بر فانی علاقوں میں پائے جانے والا سر مئی اور سفید لیو پارڈ اپنے مخصوص رنگ کی بدولت اپنے اطراف میں اتنا مل جل جاتاہے جسے بہروپ کہیں تو بے جانہ ہوگا کہ اس کے دشمنوں کو اس کی موجودگی کا پتہ چلانا خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ صلاحیت اسے سائبیریا سے ہمالیہ تک کی برف پوش پہاڑیوں کا بے تاج بادشاہ بنا دیتی ہیں۔ برفانی علاقے میں غذا کا واحد ذریعہ مچھلیاں ہوتی ہیں چنانچہ قدرت نے اس کے اگلے پنجے اس طرح تخلیق کیے ہیں کہ بھوک مٹانے کے لیے بہتے دریا میں سے مچھلیوں کو اس کے پنجے شکار کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتتے کچھ ایسی ہی دلچسپ خصوصیات کا حامل میدانی جنگلات میں پایا جانے والا تیندوا ہے جس کے پہلے جسم پر سیاہ یا گہرے رنگ کی (چھتیاں) تیز روشنی یا گھنے جنگلات کے مہیب سایوں میں اسے اس طرح مدغم کر دیتی ہیں کہ پہچاننا دشوار ہو جاتا ہے۔ یہ صلاحیت اسے اپنے شکار کی نظروں سے اوجھل کر دیتی ہے۔ یوں یہ اچانک شکار پر حملہ آور ہو کر اس کے اوسان خطا کر دیتا ہے اور پھر کچھ ہی دیر میں بے بس شکار تیز پنجوں اور نوکیلے دانتوں کا لقمہ بن جاتا ہے۔ جس طرح سائنسداں لیو پارڈ کے اس چنتی دار جسم کی توضیح پیش کرتے ہیں اسی طرح ایتھوپیا میں اس کے منفر در نگ سے ماورائی کہانی منسوب ہے جس کے مطابق ایک طاقتور شخص نے اپنی مضبوط انگلیاں تیندوا کی کھال میں پیوست کر کے نکال لی تھیں جس کی وجہ سے پانچ انگلیوں کے سیاہ دھبے قریب قریب بنتے چلے گئے۔

بلی کس طرح کام کرتی ہے؟

یہ وہ واحد جانور ہے جو۴۳ ملین سال کے بعد بھی عادتوں، خصلتوں اور ہئیت میں کوئی بہت بڑی تبدیلی کے بغیر ارتقاء کی منازل طے کرتا گیا۔ جسے قدرت نے ابتداء ہی سے اتنا متوازن بنایا ہے کہ زمانے کی تبدیلیوں کا کوئی اثر اس کی ذات کو متاثر نہیں کرسکا۔

اس کی جسمانی ساخت کا اگر جائزہ لیں تو اس کے اگلے پیر کو کسی گھومنے والے دروازے سے بھی زیادہ لچکدار پائیں جاتے ہیں۔ سر کے پچھلے حصے سے شروع ہونے والی قدرے ڈھیلے جوڑوں پر مبنی ریڑھ کی ہڈی اس کی لچیلی چال کا اہم حصہ ہے۔ اپنے جسم کی بے پناہ لچک دار خصوصیت ہی کی وجہ سے یہ بہت تنگ جگہوں میں سے انتہائی مزے سے گزر جاتی ہے جس کا مظاہرہ عام طور پر ہماری زندگی میں ہو تا رہتا ہے کہ دروازے کے نیچے انتہائی کم جگہ سے بلی اپنی لچکدار کمر کو خم دے کر نکل جاتی ہے۔

لچھدار جسم کا ایک اور فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کسی بلند جگہ سے چھلانگ لگانے کے دوران یہ ہوا میں اپنا توازن اتنے عمدہ طریقے سے بر قرار رکھتی ہے کہ شاید ہی کوئی دوسرا جانور کر سکتا ہو۔ اس صلاحیت کا تجربہ ابھی چند سال قبل اس وقت ہوا جب ایک بلی حادثاتی طور پر۴۶ ویں منزل سے نیچے گر گئی لیکن حیرت انگیز طور پر صرف دانتوں کے نقصان کے بلی محفوظ رہی اور اسے کوئی خراش تک نہیں آئی۔

بلی کا تعلق جانوروں کی اس قسم سے ہے جسے (کارنیور)یا گوشت خور کہتے ہیں۔ بلی کے جسم میں اس کا چہرہ خاصا چوڑا ہوتا ہے مگر اس کے بر عکس جبڑے قدرے چھوٹے ہیں۔ نتیجتاً جبڑوں میں پکڑنے کی زبر دست قوت پیدا ہو جاتی ہے اس کے بر عکس لمبے جبڑوں والے (جانوروں) کے یا اسے یوں سمجھیں کہ ایک بولٹ کھولنے والے پلاس کی قوت اور اس کے برعکس باریک کیلوں کو پکڑنے والے لمبے منہ کے(پلاس) کی قوت سکڑنے اور ضرورت پر باہر نکل آنے والے نوکیلے پنجے جو ضرورت نہ پڑنے پر پوروں کے درمیان واپس اندر کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کی چند اہم خوبیوں میں سے ایک اس کی تیز نظر ہے جو دن میں تو عمدہ دیکھتی ہی ہے لیکن رات کے اوقات یا اندھیرے میں بھی دیکھنے کی زبر دست صلاحیت رکھتی ہے جس کی بصری صلاحیت انسانی آنکھ سے چھ گنا زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس نسل کے تمام رکن جن میں شیر، چیتے، تیندوے شامل ہیں ان کی بڑی روشن اور چمکدار نکھیں ہوتی ہیں۔ جو انہیں دور بین کا سا منظر پیش کرتی ہیں بوقت ضرورت اپنے شکار کے اپنی جائے شکار سے فاصلے کا تعین یا او جھل اطراف میں سے شکار کو تلاش کرنا ان چمکدار آنکھوں کا ہی خاصہ ہے۔

(Smilodon) سیبر

اس نسل کا تعلق قدیم دنیا سے ہے۔ شیر سے مماثلت رکھنے والی اس نسل کا جانور تقریباً۸ا ملین سال تک قدیم دنیا میں حکمرانی کرتا رہا پھر آج سے تقریبا دس ہزار سال قبل یہ اپنی حدود سے آگے بڑھااور شمالی امریکہ تک اپنی حدود کو وسعت دی۳۲۰ پاؤنڈ (پونڈ) وزنی اسمیلوڈون ایک مضبوط جسامت والا جانور تھا جس کے اگلے پیر انتہائی جاندار سینہ کشادہ جبڑے نو کیلے خطر ناک اور طاقتور ہوتے تھے۔ جس کا اندازہ آپ لاس اینجلس کے مغرب میں واقع میوزیم میں محفوظ اس شاندار جسم کے رکازسے لگا سکتے ہیں۔ سپر اسمیلوڈون کے رکازات محفوظ کس طرح ہوئے یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ آج سے دس ہزار سال قبل اگر دیکھیں تو لاس اینجلس کا موجودہ شہر صنوبر (پائن) اور دیگر درختوں سے ڈھکاہوا تھا ۔ اس وقت زیر زمین تقریباً ۰۰۰ افٹ یا اس سے بھی زائد گہرائی میں سے تیل کی سوختوں سے سیاہ رنگ کا مائع رستے رستے سطح زمین پر آجاتا۔ اس سیاہ مائع کو بعد ازاں ایسفالٹ کے نام سے دریافت کر لیا گیا۔ خیر یہ سیاہ مائع زمین پر گڑھوں میں جمع ہونا شروع ہو جاتا۔ سطح زمین کی مٹی سے مل کر یہ دھوکہ کی حد تک بے ضرر دکھائی دیتا لیکن در حقیقت یہ دلدل بن چکا ہو تا تھا۔ اس دلدل میں اگر کوئی بد قسمت جانور ایک بار پھنس جاتا تو پھر اس کا باہر نکلنا محال ہو جاتا اس دوران اس اسمیلوڈون کے لیے یہ شکار نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہوتا وہ اپنے کنارے پر کھڑے ہو کر اپنے مضبوط جبڑوں میں شکار کو دبوچ کر کھینچ نکالتا اور چیر پھاڑ کھاتا لیکن یہی دلدل خود اس خونخوار جانور کے لیے بھی نقصان دہ تھی ایک بار اس میں پھنس جانے کے بعد نکلنے کی کوئی راہ نہ تھی بالآخر کچھ ہی دیر میں وہ موت کی آغوش میں چلا جاتا اور ہمیشہ کے لیے ایسفالٹ میں محفوظ ہو جاتا(پیج)میوزیم کے کلیکشن مینجر نے یوں اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔
” ایسفالٹ ایک عظیم محفوظ کنندہ ہے۔”

۱۹۷۵ میں ایک حیرت انگیز واقعہ رونما ہوا اس سال میوزیم کی تعمیر کے لیے جب زمین کھودی جانے لگی تو زمین کے نیچے سے مزدوروں کو دو سیبرٹوتھ کے ڈھانچے مکمل ایسی حالت میں ملے جس میں عام طور پر بلیاں مری ہوئی پائی جاتی ہیں۔ میوزیم کے ذخیرے میں اب تک جتنے ڈھانچے محفوظ ہیں وہ سب بھرے ہوئے پائے گئے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا جب یہ ڈھانچے مکمل حالت میں دریافت ہوئے۔ جب ان مکمل ڈھانچوں کا تفصیلی معائنہ کیا گیا تو سب سے اہم بات یہ معلوم ہوئی کہ ایڑی کی ہڈیوں میں سے جس ہڈی کو اب تک انگوٹھے کی ہڈی سمجھا جارہا تھا وہ انگوٹھے کی نہیں در اصل بیچ کی انگلی تھی۔ چنانچہ محفوظ ذخیرے کی از سر نو ترتیب کے لیے رضا کاروں نے اپنی چھٹیوں کے اوقات میں اس ترتیب کو درست کیا۔

شکار کا طریقہ کار

لیری مارٹن جو سیبر ٹوتھ اور اس قبیلے کے دوسرے جانوروں پر تحقیق میں مصروف ہیں شکار کے طریقہ کار کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سپر ٹوتھ کے سامنے کی طرف کے دوبڑے نوکیلے دانت اس کے شکار کو بے بس کرنے کی زبر دست صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کا مظاہرہ انہوں نے مشرق وسطی میں استعمال ہونے والے ایک تیز دھار والے خم کھائے ہوئے چاقو سے کیا۔ بقول لیری مارٹن کے اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ وہ اپنے تیز دھار والے لمبے نوکیلے دانتوں سے اپنے شکار کی گردن الگ کر دیتا تھا لیکن لیری مارٹن اس نظریے سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوتا تھا۔ کیونکہ دانتوں کی ساخت کا بغور جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ سپر ٹوتھ اپنے شکار کی گردن پر حملہ آور ہو کر اپنے تیز دھار دانتوں سے شکار کا نرخرہ کاٹ ڈالتا تھا جس سے تیزی سے خون بہنا شروع ہو جاتا اور شکار جلد ہی بے جان ہو کر بے سدھ زمین پر گر پڑتا۔

ایک اور طبقہ کے مطابق سپر ٹوتھ کا طریقہ کچھ شیر کے طریقہ سے ملتا جلتا ہو گا جو اپنے شکار کے پیٹ کی نرم کھال پر حملہ کرتا ہے اور پھر کمر سے ہوتا ہوا گردن دبوچ لیتا ہے لیکن ان دونوں طریقوں میں سے کون سا طریقہ قرین از قیاس ہے یہ کہنا بہت مشکل ہے کیونکہ موجودہ دور میں اس ہیبت ناک جانور کی نسل سے قریب ترین کوئی جانور نہیں جس کے طریقے کو بطور ثبوت یا سند کے پیش کیا جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر بہترین مخلوق جنگلات سے کس طرح غائب ہو گئی کہ اس نسل کے قریب تر کوئی دوسرا جانور بھی موجود نہیں۔ اس سوال کے بھی دوجوابات ہیں۔

نمبرا :
موسم کی تبدیلی جس کے نتیجے میں سبزہ ختم ہو گیا اور وہ سبزہ خور جانور جو سپر ٹوتھ کی خوراک بنتے تھے یا تو معدوم ہو گئے یا مختلف علاقوں میں ہجرت کر گئے جس کے نتیجے میں خوراک کی قلت ہوئی اور یہ عظیم نسل صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔

نمبر ۲ :
اس تمام قصہ میں حضرت انسان کی آمد ہے یعنی انسانوں نے جنگلات کو کاٹنا اور جانوروں کو ہلاک کرنا شروع کیا نتیجتاًسپر ٹوتھ کی ہلاکت ہوئی۔ آج بھی جنگلی بلیوں کی۳۷ اقسام کو جن میں شیر، چیتے وغیرہ سب شامل ہیں اور بہت سی نسلوں کی بقاء کو مشکلات در پیش ہیں۔

“چیتاا یا شیر بھوک کی حالت میں ایک رات کے کھانے میں 60 سے 80 پاؤنڈ تک گوشت کھا لیتا ہے، جبکہ دوسرے گوشت خور جانور مثلاً ریچھ، گوشت نہ ملنے کی صورت میں پودوں اور پتوں پر گزارا کر لیتے ہیں۔ شیر یا چیتا اس قدر زیادہ گوشت کھانے کے بعد کئی دنوں تک بغیر کھائے گزارا کر سکتا ہے۔”

اس کا اندازہ سوئٹزر لینڈ میں قائم ورلڈ کنزرویشن یونین کی رپورٹ سے کیا جا سکتا ہے کہ چیتا جس کی تعداد۰۷۹۱ میں ۵۱ ہزار تھی اب صرف دس ہزار رہ گئی ہے۔ ٹائیگر۱۱۰۰۰ہزار میں سے صرف۶۰۰۰ ہزار باقی رہ گئے ہیں۔ ان اقسام کی تیزی سے ختم ہوتی ہوئی ہوئی تعداد کی وجہ ایشیاء میں روایتی قسم کی ادویات میں ان کی ہڈیوں کا استعمال اور باقی ماندہ دنیا میں ان کی کھال کی بڑھتی ہوئی طلب ہے۔

ایشین یا ایشیائی ٹائیگر کو نسل تو سب سے زیادہ نقصان یہاں کے روایتی اطباء نے پہنچایا ہے جنہوں نے روایتی ادویات کی تیاری میں ٹائیگر کی ہڈیوں کا بے دریغ استعمال کیا اور ان کی خاصی بڑی تعداد کو بے رحمی سے ختم کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ شیر، چیتے اور میدانی تیندوے کی خوبصورت کھال ہی اس کی جان کی دشمن بن گئی۔ بین الا قوامی مارکیٹ میں اس کی کھال (فر) کی بڑھتی ہوئی مانگ اور منہ مانگے دام دونوں ہی نے اس خوبصورت اور حشمت کے نشان شیر کے غیر قانونی شکار کو بام عروج پر پہنچا دیا جس کے لیے افریقی اور ایشیائی ممالک میں جنگلات سے متعلق افسران اور دیگر افراد کی ملی بھگت سے اب بھی ان کا شکار جاری ہے۔ اگر بلیوں کی نسل کے ان بڑے ممبران جن میں شیر چیتا ٹائیگر اور تیندوے شامل ہیں، کی زندگی کا سنہری دور کسی زمانے کو کہا جائے تو وہ آج سے دس ملین سال قبل کا زمانہ ہے جب ان بلیوں کی خوراک جو گھاس یا سبزہ خور چوپایوں پر مشتمل تھی، جنگلات میں خاصی بڑی تعداد میں موجود تھی۔ وسیع و عریض جنگلات میں اس کثرت سے ان چوپایوں کی موجودگی نے شیر اور دیگر گوشت خور بڑے سائز کی بلیوں کی نسل کو بہت پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا لیکن جیسے جیسے انسان کا اثر ورسوخ جنگلات پر بڑھتا گیا جنگلات کاٹے جانے لگے اور سبزہ خور مویشی مختلف انجانی منزلوں کی جانب ہجرت کر گئے تو نتیجتاً یہ شیر چیتے وغیرہ بھی کچھ تو غذا کی کمیابی سے ختم ہو گئے اور کچھ انسانوں کے ہتھے چڑھ گئے۔ جو بچ گئے تو ان کی تعداد اب اس قدر کم ہے کہ ان کا شمار ان نسلوں میں کیا جا رہا ہے جن کی بقاء کو خطرات لاحق ہیں۔ بلیوں کی ایک اور دلچسپ خصوصیت ان کی اپنے آپ کو اپنے ارد گرد کے ماحول یں ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت ہے۔ مثلاً دھبے دار بلی ا پنا رنگ جنگلی سرمئی رنگ کے سائے دار اسٹائل میں بدل لیتی ہے۔ یہ رنگ کی تبدیلی انہیں ان کے دشمنوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور دوسری جانب خود انہیں اپنے شکار کی نظروں سے اوجھل رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے جس کی مثال ایشیائی ٹائیگر کے جسم پر سیاہ عمودی دھاریاں ہیں جو اسے لمبی خشک گھاس میں اس طرح چھپا لیتی ہیں کہ یہ بڑی مشکل سے نظر آتا ہے۔ خطہ زمین جیسے جیسے ٹھندا ہوتا گیا ویسے ویسے ہی بلیوں کی یہ نسل دو بڑے خاندانوں میں بٹ گئی۔ ایک کا تعلق لمبے دانتوں والے(اسمیلوڈون) سے ہے جو ایک عرصے تک زمین پر حکمرانی کرنے کے بعد قدرتی منظر میں تبدیلیوں کی بناء پر ایک سنہرا باب رقم کر کے ختم ہو گئے اس کے بر عکس دوسرے خاندان سے تعلق رکھنے والی بلیاں جن میں شیر، چیتا، ٹائیگر ایرانی اور سیامی بلیاں شامل ہیں انہوں نے اپنی بقاء کو ہر طرح کے خطرات سے محفوظ کیا موسمی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا نتیجہ آج تک ان کی اپنی اصل حالت میں موجودگی ہے۔ بلیوں کو پالتو بنانے کا فن سب سے پہلے مصریوں نے سیکھا اس کے بعد سے پالتو بلیوں کی مختلف النوع نسلوں کو پالتو بنایا گیا اور یہ عمل تقریباً۰۰۰ ۲ سال قبل مسیح میں شروع ہوا جب مصر میں بلیوں کو انتہائی مقدس مقام حاصل تھا۔ اس مقدس مقام کی بناء پر بلیوں کو قدیم مصری(میو)بلی کو خدائی درجات دینے کے لیے دیا گیا تھا۔ مصر میں بلیوں کے اعلیٰ مرتبے کا اندازہ یونانی تاریخ داں (ہیروڈوٹس) کی اس رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس رپورٹ میں وہ کہتا ہے۔

“اور اگر کسی قدیم مصری کے گھر میں کوئی بلی مر جاتی تھی تو اس گھر کے تمام اہل خانہ اپنی بھنویں استرے سے صاف کرا دیا کرتے تھے۔”

یہ وہ رپورٹ ہے جو مصریوں کے بارے میں ایک یونانی تاریخ داں نے دی ہے اس رپورٹ پر برطانیہ کے اہرام پر تحقیق کے ادارے کے سربراہ نے کہا کہ یہ رپورٹ بلیوں کی قدرو منزلت بتانے کے اعتبار سے آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہرام میں جہاں مصری بادشاہوں اور اعلیٰ افسران کی حنوط شدہ لاشیں اور مقبرے ملتے ہیں ویسی ہی بلیوں کی حنوط شدہ لاشیں بھی ملی ہیں جنہیں با قاعدہ مقبروں میں دفن کیا گیا تھا۔ قدیم مصری جن بلیوں کو خدائی درجات حاصل تھے ان میں سب سے بلند مقام جس بلی کو حاصل تھا وہ(اسفنکس)تھی۔ اگر کبھی آپ کو مصر جا کر اہرام دیکھنے کا موقع ملے تو علی الصبح آپ سورج نکلتے ہوئے دیکھیں گے تو سورج کی سب سے پہلی کرن اہرام پر جس جگہ پڑتی ہے وہاں مصر کے طاقتور شخص(فاراؤ) کی یہ تاریخ ساز آرزو لکھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ(میں بلیوں کی نسل کے طاقتور ترین رکن شیر کے روپ میں تبدیل ہو جاؤں)۔
موجودہ دور جدید میں جہاں اور بہت سی چیزیں لوگوں کے طرز زندگی میں شامل ہو گئی ہیں انہی میں سے ایک کسی پالتو جانور کا ساتھ رکھنا بھی شامل ہے اور ان جانوروں میں بلیاں اور کتے سر فہرست ہیں مگر ریاستہائے متحدہ امریکہ میں بلیاں کتوں پر سبقت لے گئی ہیں۔ مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں ۶۶ ملین پالتو بلیاں پائی جاتی ہیں جنہیں ۵۵ ملین پالتو کتوں پر واضح سبقت حاصل ہے۔ اس کی وجہ امریکیوں کی بلیوں سے انسیت نہیں ہے بلکہ کتوں کے مقابلے میں ان کی کم دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے اور یہ مصروفیت موجودہ تیز رفتار طرز زندگی میں آسانی سے ایڈ جسٹ ہو جاتی ہے لیکن اس کے مقابلے میں فرانس میں صور تحال اس کے بر عکس ہے وہاں عوام کی ایک بہت بڑی تعداد کتوں کو بلیاں پالنے پر ترجیح دیتی ہے۔ جب اس فرق کی وجہ ایک برطانوی ماہر آثار قدیمہ سے دریافت کی گئی تو اپنی روایتی چپقلش سے اس نے اس کی وضاحت صرف چند لفظوں میں یوں کی(ثقافتی فرق)ماہرین کے مطابق گھر یلو بلیاں دو طرز زندگیوں کا بھرپور لطف اٹھاتی ہیں۔ ایک پالتو گھریلو بلی ہونے کے ناطے ایک پالتو جانور کی حیثیت سے وہ تمام سہولتیں حاصل کرتی ہے جو اس کا مالک اسے فراہم کرتا ہے اور اسی دوران وہ اپنے جبلی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے چھوٹے پرندوں اور دیگر جانوروں کے شکار سے اپنی شکار کی عادت کو بھی بروئے کار لاتے ہوئے دوسری زندگی کا لطف بھی اٹھاتی ہیں۔

“قدرت نے بلی میں چھٹی حس (Whiskers) کی بے پناہ قوت رکھی ہے جس کی بدولت وہ بہت مشکل جگہوں پربھی انتہائی کامیابی سے اپنا شکار کرتی ہے۔ ایک ماہر کے مطابق نابینا بلی صرف اسی قوت اور کانوں کی مدد سے راستہ
تلاش کر لیتی ہے۔”

اگر کبھی یہ مقابلہ کیا جائے کہ بلی اور کتے میں سے زیادہ اسمارٹ کون ہے تو یہ خاصا مشکل کام ہو گا وہ اس وجہ سے کہ اگر کوئی ایسا امتحان لیا جائے جو ان دونوں جانوروں کے لیے ان کی فطرت سے قریب ہو تو دونوں ہی اپنی جگہ خوب تر ہیں۔ مثلاً اگر آپ ایک مقابلہ کریں جس میں کتے اور بلی کو آپ کے ہاتھ کے اشاروں کو سمجھنا ہو تو لا محالہ یہ مقابلہ کتا جیت جائے گا۔ دوسری طرف اگر گھاس اور پتوں میں چھپے کسی چوہے کو جھپٹنے کا مقابلہ ہو تو یہ میدان بلی مارے گی۔ غرض بلی مخلوقات خداوندی کا ایک ایسا شاہکار ہے جس پر غور و فکر اور مشاہدہ کی نظر سے مستقل مطالعہ کیا جائے تو کچھ عجب نہیں کہ ہمیں جدید علوم کے رہنما اصول نہ مل سکیں۔ یہ واحد جانور ہے جو پالتو ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر شکار کی ازلی خصوصیت رکھتا ہے۔

سائنس ڈائجسٹ نیوز لیٹر

اپنے ان باکس میں پہنچائی جانے والی اہم ترین خبروں کی جھلکیاں حاصل کریں۔