• Sat, March 14, 2026
  • Ramaḍān 24 1447
  • KHI - PAKISTAN 22.3°C

ٹیکنالوجی / ہوا بازی

لڑاکا طیاروں کا ٹینک شکن کردار

تحریر: محمد آصف امین خاں شائع شدہ جنوری ۰۳, ۲۰۰۰

لڑاکا طیاروں کے بارے میں عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ یہ فضاء سے فضاء میں معرکہ کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور زمینی اہداف میں صرف غیر منقولہ ٹھکانوں کے خلاف کار کردگی دکھا سکتے ہیں جس میں شامل دشمن کے انڈسٹریل ایریا، ہوائی اڈے اور دیگر فوجی اہمیت کے پل عمارتیں وغیرہ شامل ہیں لیکن دوسری جنگ عظیم میں ٹینک کے بھر پور استعمال نے فضائیہ کے کاندھوں پر ایک ذمہ داری کا مزید اضافہ کر دیا۔ یعنی دوران جنگ دشمن کے فوجی قافلوں، ٹینکوں اور فوجی نوعیت کی گاڑیوں کو تباہ کرنا۔ اس مقصد کے لیے دوسری جنگ عظیم میں جرمنی نے خاطر خواہ کامیابی حاصل کی اور اتحادیوں کے ٹینکوں کو خوب نشانہ بنایا۔ اس کامیابی سے متاثر ہو کر اتحادیوں نے بھی ٹینک شکن طیارے بنا نا شروع کر دیئے جس کے نتیجے میں مقابلے کا رجحان پیدا ہوا اور ایک سے بڑھ کر ایک عمدہ ٹینک شکن طیارہ معرض وجود میں آیا۔ ابتدائی دنوں میں ٹینک کو تباہ کرنے کے لیے طیاروں میں طاقتور توپیں نصب کی جاتی تھیں لیکن ٹینک کی چادر کی موٹائی میں اضافہ سے تو پوں کا استعمال متروک ہو تا گیا اور آج کل اس کی جگہ جدید، ہلکے اور کار گر ٹینک میزائل استعمال ہو رہے ہیں۔ اس وقت دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک لڑا کا ٹینک شکن طیارے تیار کر رہے ہیں جن میں امریکہ، روس، برطانیہ، اور فرانس شامل ہیں لیکن ان میں امریکہ کے تیار کردہ A10 Warthog کو ان سب پر واضح سبقت حاصل ہے۔

ٹینک کو تباہ کرنا ہر حملہ آور لڑاکا بمبار طیارے کا دیرینہ خواب ہوتا ہے اور طیارے پر ٹینکوں اور دیگر کامیابیوں کے نشانات اسے دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں۔ ٹینک یا اسی سے متعلق توپیں، فوجی گاڑیاں، میزائل بیٹریاں، ریڈار سائٹس، اہم پل اور فضائی رن وے کی تباہی تقریباً ایک ہی زمرے میں آتی ہیں۔ مگر ٹینک حرکت کرنے والا ایک مضبوط ہوشیار اور جوابی کارروائی کرنے والا زمینی ہتھیار ہے۔ اس کی تباہی نہ صرف دشمن کی قوت کا ایک موثر حصہ تباہ کرنا ہے بلکہ اس کی پیش قدمی کو روکنے کے ساتھ ساتھ اپنی سر زمین اور افواج کے نقصانات سے بھی بچانا ہے۔کھلے میدان اور شاہراہوں پر حرکت کرتے ہوئے ٹینکوں کی نسبت چھپے ٹینک اور تنگ گھاٹیوں میں چھپے ٹینکوں کی تباہی ایک مشکل عمل ہے۔ فی زمانہ ٹیکنالوجی کی دستیابی کے باوجود ماضی کی طرح آج بھی ٹینک شکن رول ایک مشکل عمل ہے۔ اس مضمون میں فضائیہ کے طیاروں کے لیے زمینی پلوں کی تباہی فضائی اڈے کے رن وے کی تباہی کے تسلسل کی پہلی کڑی کے طور پر ٹینک شکن صلاحیت کو ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے دیکھا جائے گا۔ گذشتہ ساٹھ سالوں میں ٹینک شکن رول میں فی زمانہ خاصی ترقی ہوئی ہے ٹینکوں کی تباہی کے لیے جہاں نت نئی حکمت عملی تدابیر جدید اسلحہ جدید بہتر آلات اور بہترین حملہ آور طیاروں نے ترقی کی ہے وہیں ٹینک کی عمومی صلاحیت اس کی حملہ آور صلاحیت اور فضائی حملے سے بچاؤ کے لیے بہترین دفاعی نظام و دیگر صلاحیت میں بھی ترقی ہوئی ہے۔

جنگ عظیم دوئم کی ابتداء میں درمیانے درجے کے ٹینک کا وزن۱۲ٹن ہو تا تھا اور وہ ۳۰ ملی میٹر (۸/۱) انچ دھانے کی توپ سے لیس ہوتے تھے۔ جبکہ بھاری ٹینک۳۵ ٹن وزنی اور ۶ ملی میٹر (۸/۲۳)انچ دھانے کی توپ سے مسلح تھے۔۱۹۴۲ میں جرمن ٹائیگر ٹینک کا وزن۵۶ ٹن تھا اور یہ ایک سو ملی میٹر (چار انچ) دھانے کی توپ سے لیس تھے۔ جنگ عظیم دوئم کے اوائل میں ہلکے اور درمیانے ٹینکوں کو تباہ کرنے کے لئے کم از کم۰ ۴میٹر یعنی ۱۳۰ فٹ کا فاصلہ درکار ہو تا تھا جو کہ بھاری گنوں یا بموں سے ہی تباہ کیے جاسکتے تھے۔ اس طرح ٹینک کے۴۰ میٹر کے دائرے سے باہر ٹینک کو کوئی مشکل ہی سے تباہ کر سکتا تھا۔ اسی جنگ کے وسط میں ٹینک کو براہ راست تباہ کرنا ہی اسے کارروائی سے روکنے کے مترادف تھا جو کہ زیادہ تر ٹینک کو نقصان کی حد تک ہو تا تھا جبکہ مکمل طور پر ٹینک کم ہی تباہ ہوتے تھے اکثر ٹینک پر داغے گئے نشانے خطا ہو جاتے یا پھر اس زاویے یا قوت سے لگتے کہ ٹینک کو معمولی نقصان پہنچتا جو کہ مرمت کے بعد دوبارہ قابل استعمال ہو جاتا اس طرح دشمن کی قوت وقتی طور پر کم ہوتی۔ ٹینک کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے زیادہ ہلاکت خیز اور دھماکہ خیز مواد سے لیس بموں یا توپوں کو استعمال کیا جاتا تھا۔ ٹینک کی ہلاکت خیزی کے ساتھ اسے تباہ کرنے کے لیے بھی جد و جہد جاری رہی فری فال بم راکٹ اور خاص کر ۲۰ ملی میٹر دھانے کی گنیں ٹینک کو کافی نقصان پہنچاتی تھیں ہتھیار کی ہلاکت خیزی میں۰ ۵ کلوگرام (۰۰ ۱ پونڈ)وزنی یا اس سے بڑا بم ہی کسی ٹینک کو کارروائی سے روک سکتا تھا۔بشر طیکہ ہتھیار صحیح تناسب اور فاصلے سے ٹینک پر براہ راست لگے۔ فضائیہ کے طیارے زیادہ طاقتور گنوں اور بموں کی مدد سے ٹینک کو تباہ کرتے ہیں۔ افقی حملہ آور یا غوطہ خور بمبار طیارے بموں، گنوں یا پھر راکٹوں سے اپنے ہدف پر حملہ آور ہوتے ہیں جو کہ نیچے سے اوپر بلندی پر جا کر زاویہ بناتے ہوئے ہدف پر غوطہ لگاتے ہیں۔ اس تکنیک کو(POP-UP) بھی کہا جاتا ہے۔

یہ تکنیک ہوا بازکے صحیح یا غلط نشانے پر کامیاب و ناکام ہو سکتی ہے۔ لولیول یعنی نچلی پرواز کر کے بمباری و حملہ کرنے سے بہتر نتائج آتے تھے مگر زمینی فائر سے طیارے کابچ نکلنا مشکل ہو تا ٹینکوں یا دیگر تباہی کے لیے بموں کو ہدف پر پھینکا جاتا ہے جو کہ ان سے ٹکرا کر پھٹ جاتا ہے مگر انہی بموں پر فیوز نصب کر کے انہیں زیادہ تباہ کن بنایا جا سکتا ہے۔ ہم طیاروں سے پھینکے جانے کے ۸ یا۰ ۱سیکنڈ بعد فیوز کے ذریعے پھٹ جاتے ہیں۔ اس طرح بم زمین سے کچھ بلندی کے اوپر پھٹتے ہیں اور اپنے زبر دست دباؤ اور دھما کے کے باعث نیچے موجود ہدف کو زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں اس طرح ٹینک کے اوپری حصے کے پرخچے اڑ جاتے ہیں۔ فیوز کو مطلوبہ وقت پر پھاڑنے کے لیے بلندی اور طیارے کی رفتار کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔۹۴۲ ۱کے موسم خزاں میں برطانیہ نےہری کین مارک ٹوڈی (Hurrican MK II D) ٹینک شکن حملہ آور بمبار لڑاکا طیارہ متعارف کرایا جو کہ صحیح معنوں میں اپنی نوعیت کے ٹینک شکن طیارے کے طور پر سامنے آیا یہ طیارہ ویکر (Vicker) ۴۰ ملی میٹر ۲/۱ ۱ انچ دھانے کی دو گنوں سے مسلح تھا ہر گن۱۲ راؤنڈ سے لیس تھی۔ علاوہ ازیں اعشاریہ ۳۳۰ انچ ۸ ملی میٹر دھانے کی دو مشین گنوں سے بھی لیس تھا جو کہ دوبدو لڑائی کے لیے نصب کی گئی تھیں۔ اس طیارے کا ہواباز اپنے طیارے کو۱۵ میٹر (۵۰ فٹ) کی بلندی تک رکھتے ہوئے۸۰۲ ناٹ یعنی ۵۸۳ کلو میٹر فی گھنٹے تک کی رفتار سے۲۰۰ میٹر (۰۰۰ ۲فٹ) دور سے ہی ہدف پر حملہ آور ہو تا تھا۔ ہر گن ٹریگر دبانے پر صرف ایک گولہ داغتی تھی اور تربیت یافتہ ہوا باز ایک حملہ آور ڈور کے دوران تقریباً دس مرتبہ گولے داغ سکتا تھا اور حملہ آور ہوتے ہوئے ہدف سے۱۰۰ میٹر (۳۳۰ فٹ) تک قریب ہو جایا کرتا تھا۔ دوری سے قریب ہوتے ہوئے داغے جانے والے گولے کی شدت فاصلہ کم ہونے کی بناء پر شدید ہوتی۔

گن کے علاوہ مشین گنوں سے بھی ٹینک کی درگت بنائی جاتی۔ ہری کین مندرجہ بالا حملوں کے لیے بہترین مشین تھا۔ اگلے مورچوں پر ٹینکوں کی دفاعی لائن کو توڑنے ٹینکوں کی پیش قدمی کو روکنے اور دیگر حملہ آور مشینوں کے لیے یہ موزوں ترین ہتھیار تھا۔ مگر زمینی مزاحمت کامیابیوں کے ساتھ طیارے کی تباہی بھی لاتی۔ طیاروں کی سالمیت اور حملے کا دارومدار زمینی مزاحمت یعنی طیارہ شکن توپوں کی کمی یا عدم دستیابی کی صورت میں تھا۔۹۴۲ ۱میں شمالی افریقہ میں موسم خزاں کے بعد کمانڈر ہری کین کو اکثر اپنی طاقت کے اضافے اوردشمن کی تباہی کے لیے بلایا کرتے لیکن جرمن افواج کے فضائی حملے کے پیش نظر موبائل زمینی دفاعی یونٹ ساتھ رکھتے۔۵ ۲مارچ۳ ۹۴ ۱کو تقریباً دس عدد ہری کین طیاروں نے تیونس اور(الھما)کے مقام پر دشمن کی پیش قدمی روکنے کے لیے حملہ کیا۔ اس حملے میں چھ ہری کین طیارے زمینی طیارہ شکن توپوں کا شکار ہو گئے۔ معجزانہ طور پر تمام ہوابازبچ گئے اور زخمی ہوئے اور واپس اپنے یونٹ پہنچ گئے اپریل کوکیکھیرہ کے مقام کے قریب اسی(نویں) اسکوارڈن کے(۱۱) عدد ہری کین طیاروں کو بھیجا گیا۔ اس مشن میں بھی ۶ طیارے تباہ ہوئے جبکہ ۳ ہواباز بھی ہلاک ہوئے۔ ان طیاروں نے اپنی بھاری گنوں کی مدد سے کئی ہلکے ٹینک تباہ کیے۔ جبکہ بھاری ٹینکوں کو بھی معمولی نقصان پہنچا۔

۹۴۲ ۱میں جرمن فضائیہ(لفتحواف)نے دوہرے انجن والے(Henschel-129) گراؤنڈ اٹیک حملہ آور طیارے متعارف کرائے جو کہ کا کپٹ کے ارد گر دو سیع رقبے پر کارروائی کر سکنے والی(Rheinmetall) مارک ۱۰۱ نامی ۳۰ ملی میٹر دھانے کی سریع الحرکت فائر کرنے والی گنوں سے لیس تھے۔ طیارہ(HS-129) جارح ہونے کے باوجود ناکام ہو گیا۔اس کے انجن بڑے حساس تھے اور صحرائی علاقوں میں مٹی وریت کی بناء پر ناکارہ جاتے تھے۔ اس لیے اس طیارے کو روس کے قریب تر ایئر فیلڈ پر تعینات کر کے کارروائیاں کی گئیں۔

تقریباً ۰ ۶عددطیارے روس کے خلاف برسر پیکار رہے۔ ۳ ۹۴ ۱ میں اس طیارے کا جدید ماڈل اور ۳۰ ملی میٹر مارک ۱۳۰ گنوں سے لیس ماڈل متعارف کرایا گیا۔ اس کی گنیں پہلے سے زیادہ طاقتور تھیں۔ ۸ جون ۳ ۹۴ ۱ کو(کرش) کے مقام پر ایک(Henschel-129) طیارے نے جاسوس پرواز کر کے روس کے سیکنڈ ایس ایس پینزر(Penzer) کور کے۴۰ عدد ٹینکوں کو بغیر کسی زمینی تحفظ کے پیش قدمی کرتے ہوئے دیکھا۔ اس ہوا باز نے یہ اطلاع اپنے بیس (میکو یا نووکا)کو بذریعہ ریڈیو پہنچائی۔فوراً ہی۲۱ عدد طیارے ان روسی ٹینکوں کی خبر گیری کے لیے پرواز کر گئے اور انہوں نے اپنا سارا اسلحہ روسی ٹینکوں پر آزمایا۔ ان کے پیچھے مزید ۴ طیارے بھیجے گئے۔ ان تمام طیاروں نے کئی ٹینکوں کو تباہ کیا اور کئی کو نقصان پہنچایا یہ مشن ایک کامیاب مشن ثابت ہوا۔ اس مشن میں کیے گئے دعوے غیر واضح رہے کیونکہ صرف جرمن ہوابازوں کے دعووں اور روسی نقصان میں تضاد رہا۔

جنکر جی ۸۷ (JU87G)ٹینک شکن طیاروں کو جرمنوں نے۳ ۹۴ ۱ میں متعارف کرایا۔ اسے وسیع طور پر آزمایا گیا۔ اس میں دونوں پروں کے نیچے دو عدد۷ ۳ ملی میٹر۲/۱ ۱ انچ دھانے کی تو پیں نصب تھیں۔ ہر گن کے ساتھ ۶ گراؤنڈ کلپ گنجائش تھی۔ یہ گنیں روس کے بھاری ٹینکوں کے اگلے حصے کو تباہ نہیں کر سکتی تھیں مگر بعد میں تجربوں سے پتہ چلا کہ ٹینک کے انجن والے حصے اور پیچھے کے حصے پر نشانہ داغا جائے تو کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ہری کین ٹوڈی کی طرح جرمن(جنکر جی ۷۸) طیارہ بہترین ٹینک شکن اور بہترین غوطہ خور بمبار حملہ آور طیارہ ثابت ہوا اور اس نے جرمنی کی دفاعی لائن کو مضبوط کیا اور دشمن کی زمینی مزاحمت کے باوجود بہترین کامیابیاں حاصل کیں جر من فضائیہ کا ایک ہوابازمیجر ہینس الرچ روڈل (Maj Hens Ulrich Rudel) نے کئی مشنوں کی رہنمائی کی یہ(جنکر جی ۷۸)کے ہواباز تھے اور نڈر دلیر اور بہترین نشانہ باز تھے۔ روڈل اکثر اپنا شکار۰۰ ۳ میٹر قریب سے کرتے۔ اس طرح انہیں ٹینک پرنشانے کے لیے مختصر وقت ملتا لیکن کم فاصلے اور ہدف کے واضح ہونے اور بہترین نشانے کی بدولت یہ دشمن ٹینک کے پیچھے اور اوپری حصے اور انجن والے حصے کو نشانہ بنا لیتے تھے اور ان کا ہدف مشکل ہی سے بچ پاتا تھا۔ جنگ کے اختتام پر روڈل کے حساب میں۱۹ ۵ روسی ٹینکوں کی تباہی درج تھی۔ یہ دعویٰ اپنی مثال آپ تھا غالباً آج تک دنیا کے کسی ہواباز نے اس قدر ٹینک تباہ نہیں کیے ہوں گے ان تمام کامیابیوں کے باوجود جرمنی کو جنگ کے آخر میں جنگ کے دائرہ کار کو سمیٹناپڑا۔

جنگ عظیم دوئم کی شروعات کے ساتھ ساتھ بہترین ہتھیار آزمائے جانے لگے۔ روس نے جنگ میں دیگر ٹینکوں کے ساتھ بھاری ٹینک بھی استعمال کرنا شروع کر دیئے۔ انہیں تباہ کرنے کے لیے طیاروں کو زیادہ طاقتور گنوں کی ضرورت پڑی۔ اس مقصد کے لیے(Henschel-129) طیارے میں مارک ۱۰۱ نامی۳۰ ملی میٹر دھانے کی گنوں سے بہتر ۵۰ ملی میٹر (۲ ا نچ) اور بعد میں بعض طیاروں میں ۷۵ ملی میٹر (۳ انچ) دھانے کی تو پیں بھی نصب کی گئیں۔ ان گنوں کی تنصیب سے ٹینکوں کو بہترین طور پر تباہ کیا جا سکتا تھا مگر ساتھ ہی طیاروں کی رفتار میں فرق آتا اور یہ حملہ آوری کے دوران کم رفتار ہو جاتے اور ان کے مد مقابل مزاحمتی طیاروں اور زمینی مزاحمت کے لیے یہ آسان شکار ثابت ہوتے(FW-190)زمینی حملہ آور طیارے دشمن ٹینکوں پر کلسٹربم طرز کے بم گراتے جو کہ(SD10) ۱۰ کلوگرام وزنی ایمونیشن اور شیپڈ چارج (Shaped Charge Warheads) وارہیڈ سے لیس ہوتے تھے۔ روسیوں نے جرمن طیاروں کے مد مقابل، سنگل انجن والاایلوشن آئی ایل ٹو شٹر مووک (Ilyushin 2 Shturmovik) کو بڑے پیمانے پراستعمال کیا ایلوشن ٹو نچلی پرواز کرنے والا حملہ آور طیارہ تھا اس کی ۸ ملی میٹر موٹی فولادی دیوار طیارے کے کاک پٹ(Cockpit) کی حفاظت کرتی تھی اور ساتھ ہی انجن و فیول ٹینک کی دیوار میں بھی موٹی فولادی تھیں کا کپٹ کا شیشہ موٹی تہوں سے بنے شیشوں سے بنایا گیا تھا تاکہ ہواباز دشمن کی گولیوں سے محفوظ رہے جبکہ ۸ ملی میٹر موٹا فولادی حصار طیارے کو دشمن کی گولیوں سے محفوظ رکھتا۔ ایلیوشن ٹو طیارے تقریباً ۳۶۱۳۶کی تعداد میں بنائے گئے غالباً اس تعداد میں کوئی اور طیارہ نہیں بنایا گیا۔ اتنی بڑی تعداد کے باوجود جرمنوں نے انہیں کثیر تعداد میں تباہ کیا اس کے باوجود یہ جرمنوں کے لیے مد مقابل کے طور پر ہر وقت دستیاب رہتے ایلیوشن ٹو کم رفتار والے۸۲ ملی میٹر (۴/۱ ۳ انچ) دھانے اور۱۳۲ ملی میٹر ( ۴/۱ ۵انچ) راکٹوں سے لیس تھے جو کہ ٹینکوں کے خلاف کارگر ثابت ہوئے۔ان راکٹوں کی بناء پر ٹینک مکمل طور پر تباہ ہو تا یا پھر عملی طور پر ناکارہ ہو جاتا۔ ایلوشن ٹو طیارے بھی شیپڈ چارج وارہیڈ(PTAB) ایمونیشن سے لیس کلسٹر بم استعمال کرتے تھے جو کہ وسیع رقبے پر تباہی پھیلاتے تھے۔ ایلوشن ٹو طیاروں کی کچھ تعداد کو۳۷ ملی میٹر دھانے کی گنوں سے بھی لیس کیا گیا جو کہ زیادہ کامیاب ثابت نہ ہو سکیں۔ ایلیوشن ٹو شٹر مووک یونٹ نے جرمنوں کے کثیر تعداد میں ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا مگر ان کی صحیح تعداد کبھی بھی معلوم نہ ہو سکی اور خود روس نے بھی کبھی ان دعووں کو صحیح ثابت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

۲ ۹۴ ۱ کے اختتام پر برطانوی فضائیہ نے ٹینک شکن رول کے لیے گنوں کے بجائے ۳ انچ کے راکٹ پر انحصار زیادہ کر دیا۔ یہ راکٹ۲۷ کلوگرام وار ہیڈ اور۷ء۷ کلوگرام انتہائی دھماکہ خیز مواد سے لیس تھے جو کہ زمینی اہداف کی تباہی کے لیے بے حد خطر ناک تھے یہ راکٹ لانچ ہونے کے بعد۵ء۱ سیکنڈ کے اندر۱۶۰۰کلومیٹر فی گھنٹے یعنی۱۰۰۰ میل فی گھنٹہ کی تیز ترین رفتار حاصل کر لیتے تھے اس طرح یہ ٹینکوں کے خلاف بے حد موثر ثابت ہوئے۔ ہاکر ٹائیفون طیارہ جو کہ برطانوی فضائیہ کا بہترین فائٹر بمبار طیارہ تھا۔ ٹائیفون زمینی اہداف کے لیے بہترین اسلحہ سے لیس ہو کر موثر کارروائی کر سکتا تھا یہ آٹھ عدد راکٹوں سے لیس ہو کر ۵ ہزار فٹ کی بلندی سے حملہ آور ہو تا تھا اور۳۰ ڈگری کا زاویہ بناتا ہوا اپنے ہدف پر غوطہ لگا تا اور اپنے راکٹوں کو یکے بعد دیگرے لہروں کی صورت میں داغتا اور قریب آنے کے بعد یعنی تقریباً۵ ۹۱ میٹر کا فاصلہ راکٹ داغنے کے لیے بہترین فاصلہ ہو تا۔ علاوہ ازیں یہ اپنی مشین گنوں سے بھی کارروائی کرتا۔ ۱۳انچ کے راکٹ کے داغنے کے لیے غوطہ مارنے کا زاویہ اور ہدف اور طیارے کے درمیان فاصلہ بہت اہمیت رکھتا تھا۔ زاویہ اور فاصلے کی تمیز یا درستگی کو ہواباز اپنے اندازے سے ہی ممکن بنا سکتا تھا جو کہ بڑا مشکل عمل ثابت ہو تا خاص کر ۳ درجے زاویے کا غوطہ خود زاویے کا فرق یا فائر کرنے کے لیے فاصلے میں ۵۱ فیصد غلطی راکٹ کو۱۵ میٹر یا۰ ۵ فٹ تک ہدف سے بھٹکا دیتی تھی اور تو اور حرکت کرتے ہوئے ہدف پر نشانہ لینا بے حد مشکل عمل تھا۔ اس کے ساتھ ہوا کی رگڑ کشش ثقل یعنیG قوت کا دباؤ بھی بہت سی مشکلات پیدا کرتے تھے ۳ انچ کے راکٹ اپنی تیز رفتاری اور تباہ کن صلاحیت کی بناء پر ہدف سے بھٹکنے کے باوجود بڑی تباہی بر پا کرتے۔ مگر انہیں داغنے میں بہت ہی زیادہ غلطیاں کی گئیں اگست۹۴۴ ۱میں (Falaise Gap)کے مقام پر اتحادی افواج کی فضائیہ کے بمبار طیاروں نے جرمن زمینی یونٹوں کے خلاف بھر پور پروازیں کیں۔ آرمی آپریشن ریسرچ ٹیم کے ارکان نے جو کہ زمینی نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا تھا، اس علاقے میں جرمن نقل و حرکت کو نوٹ کیا اس نے تقریباً ۵ ۳۸ ٹینک اور دیگر فوجی گاڑیوں اور توپوں کو علاقے میں پایا۔ اس کے جواب میں اتحادی فضائیہ نے فضائی کارروائی کی۔ اس معرکے میں جرمنی کے ۱۳ ٹینکوں اور خودکار توپوں کا تباہ کیا گیا۔

ان میں گیارہ عدد کو براہ راست راکٹوں سے اور دو عدد کو بموں سے تباہ کیا گیا۔ مارچ۱۹۴۵ میں سیکنڈ ٹیکٹیکل ایئر فورس ہیڈ کوارٹر کے تجزیہ نگاروں نے دوران جنگ راکٹوں کی کار کردگی کا جائزہ لیا خفیہ رپورٹ کے مطابق آٹھ راکٹوں سے لیس ایک طیارے کا صرف ایک راکٹ ہی صحیح تناسب سے ہدف پر گر سکا۔ فلائس کے مقام پر کی گئی فضائی کارروائی میں صرف دو فیصد کامیابی حاصل ہو سکی لیکن اس کے باوجود اتحادی فضائیہ کی طرف سے جرمنی کی سپلائی لائن توڑ دینے کی بناء پر جرمن کے کئی ٹینک ایندھن کی عدم دستیابی کی بناء پر ناکارہ ہو گئے۔ جنگ عظیم دوئم میں دیگر ممالک کی فضائیہ کے علاوہ امریکی فضائیہ نے بھی جرمنوں کے خلاف بھر پور کارروائی کی۔ دسمبر۱۹۴۴ میں بلگ(Bulge) کے مقام پر امریکی ری پبلک(P47) تھنڈر بولٹ طیاروں نے کثیر تعداد میں ۴۱۱ ملی میٹر (۲/۱ ۴ انچ) قطر کے (M10)راکٹ داغے۔ ان کارروائیوں میں امریکی طیاروں کے ساتھ ہمیشہ کی طرح بر طانوی ٹائفون طیاروں نے بھی حصہ لیا۔ ان امریکی و بر طانوی طیاروں نے دشمن کے۷۵۱ ٹینک اور دیگر گاڑیوں کے نقصان کا دعویٰ کیا بعد میں ایک اور کارروائی میں ان طیاروں نے۶۶ ٹینک اور۳۴ دیگر گاڑیوں کو تباہ کیا۔ تجزیہ نگاروں کی رپورٹ پر یہ تعداد۵۷ ٹینک۸ ۱ خودکار توپوں اور ۶ ۲دیگر گاڑیوں کی تباہی تک ہو گئیں۔اس کے ساتھ ۴ عدد ٹینک دو خودکار توپیں اور ایک فوجی گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا۔ جرمنی کی فضائیہ لفتحواف نے بھی ۸ سینٹی میٹر ( ۴/۱ ۳ انچ) کے (Panzer Blitz) راکٹ جنگ کے اختتام پر آزمائے اور اتحادی زمینی افواج کو کافی نقصان پہنچایا۔

جنگ عظیم دوئم کے اختتام تک ٹینکوں کے خلاف معرکہ آرائی جاری رہی جنگ کے بعد تمام متعلقہ ممالک نے اپنی فوجی طاقت کو مضبوط کرنے کے لیے نت نئی تحقیق کی مدد سے نت نئے ہتھیار و دفاعی نظام تخلیق کیے۔ کوریا کی جنگ میں امریکیوں نے۱۹۴۵ کے ونٹیج ٹائپ کے جدید راکٹ اور(Napalm)بم استعمال کیے۔ نیپام فوجی قافلوں، فوجی گاڑیوں اور دیگر اہداف کے لیے موثر اور بہترین ہتھیار کے طور پر سامنے آیا یہ وسیع رقبے پر تباہی پھیلاتا ہے۔ یہ دراصل طیارے کے پروں کے نیچے علیحدہ سے لگنے والے ایندھن ٹینک کی طرز کا خول ہوتا ہے جس میں پیٹرول جیلی بھر دی جاتی ہے یہ ہلکے سے دباؤ پڑنے پر آگ پکڑ لیتی ہے اور پھٹ کر وسیع رقبے پر آگ پھیلا دیتا ہے اور ہر چیز کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔ اسے ہدف کے اوپر۱۰۰ فٹ کی بلندی سے گرایا جا سکتا ہے اور ٹینک پر گرائے جانے والے(Napalm)بم کی آگ کا شعلہ ٹینک کو جلاکر کافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔۱۹۶۰کی دھائی میں ٹینکوں کے خلاف بہتر اور موثر طریقے و ہتھیار آزمائے گئے۔ جنگ عظیم کے سست رفتار طیاروں کی جگہ آواز سے تیز میک ون/ٹو ر فتار کے بہترین حملہ آور طیارے وجود میں آئے جو کہ اپنی تیز رفتاری کی بناء پر زمینی مزاحمت سے بچ نکلتے ہوئے اپنا اسلحہ ریٹار ڈ بم، کلسٹربم، راکٹ، جنرل پر پزبم و دیگر ہتھیار حملہ آوری میں معاون بہترین آلات و نظام کی بدولت پہلے سے بہتر نشانے سے داغے جانے لگے۔ ماضی کے مقابلے میں اسلحہ اٹھانے کی استعداد میں بھی اضافہ ہوا ساتھ ہی ان کی ہلاکت خیزی میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا۔

۱۹۶۵ کی پاک بھارت جنگ میں پاک فضائیہ نے بھارتی زمینی پیش قدمی کے خلاف بھر پور کارروائی کی۔ ۶ ستمبر۱۹۶۵ کو لاہور کی طرف پیش قدمی کے سلسلے میں بھارتی زمینی افواج نے کئی محاذوں سے پاکستان پر حملہ کر دیا۔ ۸ ستمبر کو مغربی پاکستان کے جنوبی علاقے میں کراچی کے مشرق میں سندھ کے ایک دیہات گڈرو پر دشمن نے ایک بٹالین اور دو بکتر بند اسکواڈرن سے حملہ کیا اور گڈرو پر فوراً قابض ہو گیا ساتھ ہی گڈرو سے پندرہ میل دور راجستھان کے ریگستان سے حیدر آباد اور کراچی کی طرف جانے والی ریلوے لائن پر واقع کھوکھرا پار کی سمت پیش قدمی شروع کر دی۔ پاک آرمی نے جوابی کارروائی کے ساتھ ماری پور ایئر بیس (موجودہ مسرور ایئر بیس) سے فضائی مدد طلب کرلی۔(۹) ستمبر کوایف-۸۶ سیبر طیاروں نے صرف ۹ پروازوں کے ذریعے دشمن کی سپلائی لائن اور فوجی اجتماع پر حملوں کے ساتھ اپنی جوابی کارروائی سے بھارتی علاقوں میں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ سپر طیاروں نے اس کارروائی میں دشمن کی کم از کم۶ ۲فوجی گاڑیوں اور ریلوے کی دس ویگنوں کو تباہ کیا۔ ۰ ۱ستمبرکو گڈرو اور موناباؤ کے اطراف دشمن پر فضائی مدد سے مزید حملوں کے بعد پاک آرمی نے ہندوستان کی سرحد کے چھ میل اندر موناباؤ اور اس کے ریلوے اسٹیشن پر قبضہ کر لیا۔ ۸ تا۷۱ ستمبر تک روزانہ ایک ٹی ۳۳ تربیتی طیارہ ماری پور سے اڑ کر دشمن پر حملہ کرتا اور اس طرح اس طیارے نے۲۰ حملے کیے اور پوری جنگ میں ۷ ۲مشن مکمل کیے۔ ٹی ۳۳ طیاروں نے ۷ تا ۲۲ ستمبر تک بھارت کی۲ ۶توپوں اور۶ ۱ریلوے ویگنوں کی تباہی اور گاڑیوں کے نقصان کا اعزاز حاصل کیا۔ اسی جنگ میں سیبر طیاروں کی تقریباً ۵۰۰ مہمات میں پاک فضائیہ کو دشمن کے خلاف فضائی کارروائی کرنا پڑی جس کے دوران ہندوستانی طیارہ شکن سے کسی سیبرکو نقصان نہیں ہوا۔ جبکہ چند جوابی کارروائی اور ایک ریل پر حملہ کرتے ہوئے خود ہی پھٹ جانے کی بناء پر تباہ ہوئے۔ بھارتی زمینی تو پچیوں نے اپنی بہترین نشانہ بازی سے ایک بھی سیبرطیارہ نہیں مار گرایا لیکن اس کے برعکس ٹینکوں، فوجی گاڑیوں اور فوجی دستوں پر حملوں کے دوران بھارت کی عددی برتری کے سبب بھارتی گولہ باری کی شدت سے کم از کم ۵۸ سیبرطیاروں کو یعنی پاک فضائیہ کی نصف سیبر فورس کو ہندوستانی زمینی فائر سے نقصان پہنچا۔اس کے مقابلے میں پاک آرمی کے طیارہ شکن تو پچیوں نے۷۲ بھارتی طیارے مار گرائے اور بحریہ نے ۳ طیارے مار گرائے پاک فضائیہ کے طیارے بھارتی فضائی مداخلت کا بھر پور مذاق اڑاتے ہوئے درسی کتابوں کے اصول پر عام تربیتی طریقوں سے اپنے اپنے ہدف کو ٹھکانے لگاتے اور منظم حلقہ بنا کر ایک کے بعد ایک کارروائی کرتے جبکہ ان کے پچھلے ساتھی ان کا عقب محفوظ رکھتے۔

پاک فضائیہ کے سیبر طیاروں کے کسی بھی ہدف پر تیس منٹ تک کارروائی جاری رکھنے کے واقعات عام تھے اس کے برعکس بھارتی فضائیہ کے طیارے کسی ہدف پر ایک بار ہی جھپٹتے اور اکثر ادھر ادھر گولے برساکر نکل جاتے۔ یکم ستمبر تا ۲۲ ستمبر کے دوران صرف ایف ۸۶ سیبرطیاروں نے ۱۴۹ ٹینکوں، مختلف اقسام کی ۶۶۶ گاڑیوں اور ایک مال گاڑی کو مکمل تباہ کرنے کے علاوہ۵۶ ٹینکوں اور۲۹ فوجی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اس کے بر عکس بھارتی فضائیہ کے ہاتھوں صرف ایک ٹینک تباہ ہوا اور ایک کو ٹریک اڑ جانے سے نقصان پہنچا جبکہ بھارتی فضائیہ کم از کم۱۲۰ پاکستانی ٹینکوں کی تباہی کا دعوی کرتی ہے۔ اس کی وجہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت بھارتی حملے تھے اور دھند اور کہر کی بناء پر اکثر نشانے خالی جاتے اور ان کے دعوے صرف بھارتی ہوا باز کی بیان بازی پر ہی تسلیم کیے جاتے ایک واقعہ میں اسکواڈرن لیڈار شد کی زیر کمان سیبرفارمیشن نے پاک آرمی کے ٹینکوں کو دشمن سمجھ کر حملہ کر دیا۔ خوش قسمتی سے فوراً ہی فلائٹ لیفٹیننٹ مختار نے ٹینکوں کو اپنے دوست شناخت کر لیا لیکن اس دوران پاک آرمی کی توپوں نے انہیں گھیر لیا تھا اور پاک آرمی کے تو پچیوں کی بہترین نشانہ بازی کے سبب لیفٹیننٹ صدر الدین کے نمبر ۴ سیبرنے آگ پکڑ لی اور مجبوراً انہوں نے طیارہ چھوڑ کر بذریعہ پیراشوٹ کو دکرجان بچائی۔

سرگودھا میں تعینات نمبر۳۲ اسٹرائک ونگ کا کام ٹینک شکنی بھی تھا۔ اس مقصد کے لیے سیبرطیاروں کو شدید دھماکہ خیز ٹینک شکن حربی انی سے لیس۷۵ء۲انچ کے تہہ شدہ پنکھ والے ٹینک شکن راکٹوں (ایف ایف اے آر) سے لیس کیا گیا نمبر۳۲اسٹرائک ونگ کی حربی قوت میں دو اسکواڈرن جن میں سے ہر ایک۱۲سیبر طیاروں سے منظم تھا شامل تھے۔ یہ طیارے ۴ سے ۶ ستمبر کے دوران ماری پور سے سرگودھا پہنچائے گئے تھے۔ دونوں اسکواڈرن نمبر۱۷ اسکواڈرن لیڈر عظیم داؤد پوتہ اور نمبر ۱۸ اسکواڈرن اسکواڈرن لیڈر علاؤ الدین بچ کے زیر کمان تھے۔ یہ دونوں اسکواڈرن دیگر سرگودھا کے سیبرطیاروں کے ساتھ لاہور، امر تسر روڈ اور کشمیر پر فضائی نگہبانی کا کام انجام دیتے اور وقت پڑنے پر زمینی کارروائی کے لیے تیار رہتے۔سیبر طیاروں کو ٹینک شکن رول کے لیے جن راکٹوں سے لیس کیا گیا تھا یہ راکٹ طیارے کے بازؤوں کے نیچے نصب ۴ عدد ایسے خول میں بند ہوتے اور جن کو با آسانی پھینکا جا سکتا تھا۔ ہر خول میں ۷ عدد(ایف ایف اے آر) تھے یا پھر پانچ انچ والے ۸ راکٹوں سے ہر سیبر مسلح ہوتا۔ مخصوص اہداف کے لیے نیام بم استعمال کیے جاتے اور اعشاریہ ۵ انچ کی نالی والی براؤننگ مشین گن تین سو راؤنڈ فی منٹ کے حساب سے سخت اور نرم کھال والے شکار کے لیے بہت موثر ہتھیار ثابت ہوتی۔۷۵ء۲انچ کا چھوٹا سا مہلک راکٹ عام مقاصد کے لیے بہترین ہتھیار تھا۔ کیونکہ فوراً طلب کیے جانے کی صورت میں طیارے کو ان راکٹوں سے فوراً مسلح کیا جا سکتا تھا۔ ان راکٹوں کو ہدف پر پہنچانے کے لیے گن کی طرح ٹھیک ٹھیک نشانہ بازی ممکن نہ تھی لیکن جب یہ ساتوں راکٹ ایک ساتھ فائر کیے جاتے تو ٹینک کو اڑانے میں۵ ۷ تا۸۰ فیصد کامیابی یقینی ہوتی۔ کشمیر کے اندر سمبا سیکٹر میں ۱۰ اور ۱۱ ستمبر کے دوران اس اسٹرائیک ونگ کے موثر ہونے کا ثبوت مل چکا تھا۔ سیالکوٹ اور جسٹر پر یلغار کے لئے ہندوستانی افواج کا بکتر بند گاڑیوں کا بڑا اجتماع موجود تھا اس پر نمبر۲ ۳اسٹرائک ونگ کی خصوصی توجہ کے بعد دودن کی خصوصی کارروائی کے نتیجے میں۹ ۱ٹینکوں اور سو فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا گیا۔ ۹اور۱۰ ستمبر کو چونڈہ میں ہندوستان کی یلغار کو روکنے کے لئے قصورکے اطراف بڑی تعداد میں پاک آرمی کے ٹینک اور دوسر ا سامان ریل کے ذریعے شمالی علاقے میں منتقل کرنے اور اس پر بھارتی فضائیہ کی یلغار کو پاک فضائیہ اور پاک آرمی نے موثر طریقے سے روکے رکھا۔

۷ ستمبر کو ونگ کمانڈر تواب کی قیادت میں سمبا سیکٹر اور سیالکوٹ میں چار وا کے مقام پر بری فوج کی مدد کے لیے چار سیبر طیارے سرگودھا سے طلب کیے گئے۔ انہوں نے اپنی کارروائی میں چودھویں ہندوستانی انفنٹری ڈویژن کے کئی ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا۔۱۳ ستمبر کو پاک فضائیہ کے اس نمبر۳۲ اسٹرائک ونگ نے اسکواڈرن لیڈر(بچ)کی قیادت میں چار سیبرفلائٹ لیفٹیننٹ سلیم، امان اللہ اور منظور کے ساتھ صبح کے وقت نارووال سیکٹر میں دشمن کے بہت سے ٹینکوں اور تو پوں کو اڑایا۔ بری فوج کی پشت پناہی کے لیے سیبرایف۸۶ طیاروں کی طرف سے۴۸۱ کارروائیوں میں اس ونگ نے۴۰۰ سے زائد حملے کیے۔ فضاء میں فضائی برتری حاصل ہونے کے بعد صرف سرگودھا کے سیبرطیاروں نے بری فوج کی پشت پناہی کے لیے روزانہ تیس سے چالیس پروازیں کیں اور صرف ایک طیارے کا نقصان ہوا وہ بھی ایک اسلحہ سے لوڈ مال گاڑی پر حملے کے دوران اسلحہ کے دھماکے کی زد میں آنے کی بناء پر تباہ ہوا۔ زمینی حملوں کے دوران سرگودھا کے تقریبا ہر سیبرکو چوٹ آئی مگر اس کے باوجود یہ طیارے ہدف پر تیس منٹ گزارنے سے باز نہ رہے۔ ۵۱ ستمبر کو چونڈہ اور سمبا کے درمیان زمین سے ہونے والی شدید گولہ باری بھی پاک فضائیہ کے سیبر اسٹرائک ونگ کے طیاروں کو(۱۰) ٹینکوں،۱۳۷ فوجی گاڑیوں اور دو تو پوں کی تباہی سے نہ روک سکی۔

اگلے دن دشمن چونڈہ اور جسورن میں برسر پیکار تھا تو پاک فضائیہ کے ان طیاروں نے مزید۸۱ ٹینک۶ ۲موٹر گاڑیاں اور۲ ۱ عدد توپیں تباہ کیں۔ اس سے اگلے دن انہی طیاروں نے معرکہ چونڈہ کو دشمن کے سینچوین ٹینکوں کا قبرستان بنایا۔۱۹ ستمبر کو پاک فضائیہ نے ۱۹ ٹینک اور ۶ موٹر گاڑیاں تباہ کیں۔ معرکہ چونڈہ میں بھارت نے خونی اشنان کا بدلہ لینے کے لیے۱ ۲ستمبر کو لاہور اور کھیم کرن پر ایک زبر دست حملہ کیا۔ حالانکہ ہندوستان کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت ہو رہی تھی اور ہندوستان نے ۲۲ ستمبر سے زیر عمل آنے والے جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ میں پندرہ گھنٹے کی مہلت اس لیے طلب کی تھی تاکہ وہ اپنے تمام دستوں کو جنگ بندی کی اطلاع کر سکے لیکن پاکستان بھارت کی اس چال کو اچھی طرح جانتا تھا۔۲۱ ستمبر کو ہندوستان نے اپنی بھاری توپیں جلو اور اٹاری کے در میان تعینات کر دیں تاکہ لاہور پر گولہ باری کی جا سکے۔ پاک فضائیہ نے آغاز کے طور پر ونگ نمبر۲ ۳کے آٹھ سیبرطیاروں سے ان پر حملہ کیا اسکواڈرن لیڈر عظیم داؤد پوتہ بھی چار سیبرطیاروں کی قیادت کر رہے تھے بقیہ چار کی قیادت امان کر رہے تھے یہ طیارے راکٹوں اور نیپام بموں سے لیس تھے اس موقع پر دشمن کی توپوں کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی کے لیے پاک آرمی کے توپ خانے نے سینسر دھوئیں کے گولے استعمال کیے اور دشمن کی طرف سے دھوئیں کے جعلی اشاروں اور آرٹی (ریڈیو ٹرانسمیشن) پر دھوکہ دینے والے پیغامات کے باوجود پاک فضائیہ نے بالکل ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے اور دشمن کی درمیانے درجے کی۱۵ اور ۵ بھاری توپوں کے ساتھ دو عدد ٹینک اور کئی موٹر گاڑیاں تباہ کیں انہی سیبر طیاروں نے گڈرو اور ڈلی سیکٹر میں دشمن کے۳ ٹینک ایک دستہ بردار گاڑی، اسلحہ کے چار ٹرک اور دیگر گاڑیاں تباہ کیں۔ واہگہ اٹاری اور کھیم کرن وہی علاقہ تھا جہاں اس ونگ نے ۶ ستمبر کو زمینی حملوں کا آغاز کیا اور آخری مرحلے میں بھی یہ یہاں موجود تھے، انہوں نے اپنی فہرست میں مزید پانچ ٹینک اور۱۲ موٹر گاڑیوں کی تباہی کا اضافہ کیا۔ ۲۲ ستمبر کو کھیم کرن پر بھارتی قبضہ کی کوشش ناکام بنانے کے سلسلے میں اس ونگ نے مزید دو ٹینک ایک درمیانے درجے کی توپ اور کئی عدد موٹر گاڑیاں تباہ کیں بی آربی نہر پر مزید کمک کے ساتھ دشمن وارد ہوا تو پاک فضائیہ نے کل۶۸ پرواز میں کیں اور ان کا ایک بھی طیارہ ضائع نہیں ہوا اس کے بر عکس فضاء میں کم نظر آنے ولے بھارتی طیاروں میں سے ایک ہنٹر طیارے کو پاک آرمی کی توپوں نے مار گرایا۔ اس جگہ ہندوستانی زمینی حملوں کا زور توڑنے کے لیے پاک فضائیہ کے ۴(B57)کینبر ا طیاروں نے اٹاری سیکٹر میں دن کی روشنی میں ایک کارروائی کے دوران ایک ہزار پونڈ وزن کے۲۸بم گرا کر درختوں اور جھاڑیوں کی آڑ میں چھپی ہوئی ہندوستانی بکتر بند اور موٹر گاڑیوں میں سے ۲ ٹینک اور ۲ موٹر گاڑیاں تباہ کیں۔ علاوہ ازیں سیبرطیاروں کی کارروائیوں کے ساتھ ان طیاروں نے اعشاریہ پانچ انچ کی مشین گنوں سے ساڑھے تین لاکھ گولیوں کی بارش سے ہندوستانی دستوں کو سخت جانی نقصان پہنچایا۔ رات۱۱ بج کر ۲ منٹ پر پاک فضائیہ نے۹۶۵ ۱کی جنگ کی آخری پرواز کی۔

اس جنگ میں کامیابی حاصل کرنے والے ونگ نمبر۳۲ کے چار اراکین اسکواڈرن لیڈر عظیم داؤد پوتہ فلائٹ لیفٹیننٹ سید منصور الحسن ہاشمی، امان اللہ اور سیف اعظم کو ستارہ جرأت عطا کیا گیا۔ جنوب کے دور دراز علاقے میں بری فوج کی عملی امداد کے لیے سیبر کی ایک اور چھوٹی سی فورس نے اسکواڈرن لیڈر اے اے رندھاوا کی قیادت میں ماری پور سے پرواز کر کے ۳۳ بار راجستھان میں ہندوستان افواج کے خلاف کارروائیاں کیں اور۳۰ ٹینک اور۱۰۵ موٹر گاڑیاں تباہ کیں اور دشمن کی تیاریوں اور ذرائع مواصلات میں خلل ڈالا۔ ماری پور کے سیبر طیاروں نے مجموعی طور پر۱۶۰ پروازیں کیں جبکہ مغربی پاکستان کے شمال میں اسکواڈرن۱۹ نے ساری جنگ میں جو شیلے نوزی حیدر کی قیادت میں بھر پور کارروائیاں کیں اور اس اسکواڈرن نے ۷۱ ۵پروازیں کیں۔اس اسکواڈرن نے نیچی پرواز کے ساتھ ہدف پر پہنچ کر سب سے زیادہ شدید زمینی فائر کا رخ کر کے اپنا ہدف تلاش کرنے کا طریقہ اختیار کیا تھا۔ پشاور کے دیگر اسکواڈرن نے بھی چند کارروائیاں کیں مگر نمبر۱۹ اسکواڈرن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ سب سے خطر ناک تدبیر اختیار کرنے کے باوجود اس کے کسی طیارہ کا نقصان نہیں ہوا اور اس اسکواڈرن نے دشمن کے۱۴ طیارے تباہ کرنے اور ۶ کونقصان پہنچانے کے علاوہ۴ ۷ٹینک۴۰ ۱فوجی گاڑیاں اور۱۶ توپوں کو تباہ کیا جبکہ ۶۸ ٹینکوں اور۱۲ گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کا اعزاز حاصل کیا اسی اسکواڈرن نے ۸ ستمبر کو ہندوستانی کشمیر کے علاقے پٹھانکوٹ کے قریب رام گڑھ نالے کی کارروائی کے دوران بہتر بند گاڑیوں اور ایندھن فراہم کرنے والی گاڑیوں کو اپنی گنوں سے نشانہ بنایا۔ یہ اسکواڈرن راکٹ ختم ہو جانے کے بعد اپنی مشین گنوں سے دشمن کے زمینی دستوں کی گاڑیوں و ٹینکوں کے اے پی آئی اور انجن کو ٹھنڈا ر کھنے والے نظام کی حفاظتی دیوار اور ٹینک کے عقب میں حملہ کر کے کئی کامیابیاں حاصل کرتا رہا۔ اس طرح پاک فضائیہ نے۱۹۶۵ کی جنگ میں ٹینک شکن رول کو بھر پور طریقے سے ادا کیا۔

نمبر۱۷ اسکواڈرن ۶ تا۳ ۲ستمبر تک ۱۰۴ حربی پروازوں کے ذریعے۳۶ ۱گھنٹے فضاء میں سرگرم رہا اور اس اسکواڈرن نے۱۵ سے۳۰ ٹینک تباہ کیے اور سو سے ڈیڑھ سو تک گاڑیاں تباہ کیں اور۱۰۰ تا۳۰۰ دشمن فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارا عرب اسرائیل جنگ میں بھی اسرائیل نے عربوں کے مقابلے میں دشمن کی زمینی قوت کا بہت نقصان کیا۔۱۹۶۷ کی جنگ میں اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے گنوں، ان گائڈڈ بموں، راکٹوں اور کلسٹر بموں سے نہر سوئز کے قریب مصری زمینی افواج کا بے حد نقصان کیا۔ ٹینک کے خلاف فضائی کارروائی طیاروں کی بہترین کار کردگی طیاروں کی بہترین اقسام جدید سازوسامان گائیڈڈ و جدید ہتھیاروں کی ہولناکیوں کے ساتھ ساتھ ٹینکوں کو بھی مضبوط سے مضبوط اور جارح بنایا گیا اور اس کی حفاظت کو مزیدمضبوط کیا گیا۔

۱۹۷۰ میں پہلا گائیڈڈ میزائیل فکسڈونگ طیارے سے داغا گیا اور اس کے نتائج۱۰۰ فیصد کامیاب رہے یہ امریکی(Hughes AGM 65 Maverick) ماورک میزائل تھا۔ یہ ایک مکمل ٹینک شکن میزائل تھا۔۱۹۷۰ سے اب تک اس میزائل کی کئی جدید اقسام وجود میں آچکی ہیں اور دنیا بھر کی فضائیہ بشمول پاک فضائیہ میں یہ کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔۲۰۹ کلو گرام وزنی بشمول ۵۹ کلوگرام دھما کہ خیز مواد کے ساتھ یہ میزائل ٹی وی گائیڈڈ تھر مل امیج انفراریڈ گائیڈڈ میزائل ہے۔ میزائل کے اگلے حصے میں ٹی وی کیمرہ یا تھر مل امیج انفراریڈ کیمرہ وسینسر نصب ہوتا ہے۔ اسے ہدف پر ۲۲ کلو میٹر دور سے داغا جا سکتا ہے۔ا سے طیارے میں نصب ٹی وی ڈسپلے کے ذریعے میزائل میں لگے کیمرے کے عکس سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور آخری لمحوں تک اسے طیارے سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور اسے طیارے ہی سے دائیں بائیں اوپر نیچے حرکت دی جا سکتی ہے اور ہدف پر انتہائی درستگی سے گرایا جا سکتا ہے۔ اندھیرے میں تھر مل امیج انفراریڈ نظام کی بدولت ہدف تک رسائی ممکن،بنائی جاسکتی ہے اور جنگی میدان میں ہدف کی حرارت سے اسے تباہ کیا جا سکتا ہے۔ اس میزائل کو ۱۹۹۰ کی خلیجی جنگ اور یوگو سلاویہ کی جنگ میں کثرت سے استعمال کیا گیا۔

جنگ عظیم دوئم کے بعد سے کوئی ایسا طیارہ فضاؤں میں رقص نہ کر سکا جو خالصتاً ٹینک شکن رول کے لیے ہو۱۹۷۶ میں امریکہ نے ٹینک شکن رول کے لیے تمام پچھلے تجربات کی روشنی میں ایک انتہائی موثر اور با صلاحیت طیارہ (اے۰۱تھنڈر بولٹ) متعارف کرایا۔۱۹۷۶ تک تمام طیارے تیز رفتار لڑاکا حملہ آور طیارے تھے اور ان کا ٹینک شکن رول کے لیے استعمال ان طیاروں میں کئی طرح کی تبدیلیوں کا باعث بنتا اور اسی بناء پر کئی مشکلات بھی سامنے آتیں۔ ایف ۴ فینٹم ایس یو سیون، میراج اور دیگر طیاروں کو ٹینک شکن رول کے لیے استعمال کیا گیا مگر کہیں بھی مکمل اور بہترین نتائج حاصل نہ کیے جاسکے۔ کیونکہ کم بلندی پر کم رفتار سے پرواز کے دوران پھر تیلا پن ان طیاروں کو زمینی سام میزائل اور طیارہ شکن توپوں کے لیے آسان ہدف بنا دیتا ہے۔ ویتنام و دیگر معرکوں میں زمینی نقصان کے بر عکس طیاروں کا نقصان زیادہ ہوا۔ ان تمام تجربات کی روشنی میں امریکہ نے اسٹیٹ آف دی آرٹ ری پلک تھنڈر بولڈ اے۱۰ طیارہ متعارف کرایا۔ یہ طیارہ انتہائی نیچی پرواز کرتا ہوا مناسب رفتار اور بہترین حرکت پذیری و پھر تیلے پن سے حملہ آور ہوتا ہے۔ ہتھیاروں کی وسیع تعداد و اقسام بہترین نیویگیشن و حملہ ری نظام اور اس کی اپنی گوناگوں صلاحیتوں کی بناء پر یہ کسی حملہ آور ہواباز کا پہلا انتخاب ہو گا۔ جیگوار‘ٹار نیڈو ایف۱ ۱۱‘مگ ۲۷ اور ایس یو۲۵ فاگ فوٹ زمینی حملہ آور کے لیے بہترین طیارے ہیں مگر(A10)اپنی مثال آپ ہے۔ ٹینک شکن رول کے لیے تقریباً ۷۰۶ کلومیٹر فی گھنٹہ یعنی۱ ۳۸ ناٹ کی متوازن رفتار کی ضرورت ہوتی ہے۔(A10)طیارے کے لیے ہدف پر سبک رفتاری اور میدان سے فرار کے لیے تیز رفتاری کے لیے اس میں نصب دو عدد ٹربو فین انجن بہترین قوت فراہم کرتے ہیں۔ (A10)میں نصب۳۰ ملی میٹر دھانے کی گھومنے والی سات نالی والی جی اے یو ۸ گن نصب ہے جو کہ ہلاکت خیزی میں اپنی مثال آپ ہے جی اے یو ۸ گن ٹینک کی مضبوط سے مضبوط فولادی چادر کو پھاڑ کر اسے کباڑی کی دکان میں تبدیل کر دیتی ہے۔ اس کی گولی۳۰ ۷گرام وزنی ہوتی ہے اور اسے یورینیم دھات سے ملے دھما کہ خیز مواد سے لیس کیا جاتا ہے یہ گن سے نکلنے کے بعد۹۸۸ میٹر فی سیکنڈ کی شرح سے ہدف کی جانب لپکتی ہے۔ طیارے کے اگلے حصے میں ۱۱۷۴راؤنڈ کا میگزین سے بھرا ڈرم نصب ہوتا ہے۔

اس گن کی گولی اپنی جسامت میں ہوا باز کے ہیلمٹ کی اونچائی جتنی ہوتی ہے اور ہلاکت خیزی میں خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ یہ گن۸۰۰ ۱میٹر یعنی ۶ ہزار فٹ کی دوری تک ضرب لگا سکتی ہے۔ اس گن کے علاوہ اسے ۱۰ اپنے وسیع پروں کے نیچے ۸ سے۱۰ مختلف جگہوں پر مختلف اقسام کا اسلحہ و دیگر نظام میدان جنگ میں لے جا سکتا ہے۔ ان میں خود دفاع کے لیے دو عدد سائڈونڈر میزائل الیکٹرانک وار فیئر آلات نیویگیشن و حملہ آوری میں معاونت کار آلات ماروک پے وے لیزر گائیڈڈبم، جنرل پر پز بم، کلسٹر بم دیگر جدید اقسام کے ہتھیار شامل ہیں۔(A10) کو روسی ٹینکوں کے خلاف بھر پور کارروائی کے لیے تخلیق کیا گیا جو کہ فل لوڈ کے ساتھ اپنے مستقر سے۴۶۰ کلو میٹر کے دائرے میں کارروائی کر سکتا ہے اور اندرونی ایندھن کے ساتھ ۷ء۱ گھنٹے تک محو پرواز رہ سکتا ہے جبکہ فضاء میں دوبارہ ایندھن لینے سے اس کی صلاحیت دوگنی ہو جاتی ہے۔

۱۹۹۱ کی خلیج جنگ میں (A10)طیاروں نے پہلی مرتبہ کسی جنگ میں حصہ لیا(A10)طیاروں کے ہوابازوں نے اس جنگ میں ۹۸۷ عراقی ٹینکوں و دیگر گاڑیوں کی تباہی کا دعویٰ کیا جو کہ بعد میں تجزیہ نگاروں و دیگر شواہد کے بعد صرف ۳۳۰ عدد تک محدود ہو گیا۔ عراق نے اپنے یونٹس جنوبی عراق اور کویت کے صحرامیں متعین کیسے تھے اور بلڈوزروں کے ذریعے ۳ میٹر گہرے چوڑے گڑھے بنا کر ان میں ٹینک کو چھپا کر کارروائی کرتے تھے اور اردگرد کے ماحول سے مطابقت والے کیمو فلاج کی وجہ سے یہ ٹینک صحرا کی گرم ریت میں زمین سے اوپر آسمان سے صحرا کا حصہ محسوس ہوتے اور حملہ آور طیارے اور ماروک و دیگر ہتھیار ان کا عکس مشکل ہی سے پاتے۔ اس خلیجی جنگ میں ۸۴ ویں ٹیکٹیکل فائٹر ونگ کے جنرل ڈائنامکس(ایف۱۱۱) طیاروں کو عراقی زمینی افواج کے خلاف کارروائی کے لیے دیگر طیاروں کے ساتھ بھیجا جانے لگا یہ طیارے عراقی یونٹوں کے اوپر سے گزرے اور(پیوو ٹریک)اور پے وے لیزر گائیڈڈ بموں سے لیس ہو کر اندھیرے میں دیکھنے والے خصوصی آلات کی مدد سے ان چھپے ٹینکوں کو تلاش کرتے۔ صحرا میں دن کو گرم ماحول کی بناء پر ٹینک صحرا کا حصہ بن جاتے مگر رات کو صحرا کی ٹھنڈک کی بناء پر یہی ٹینک رات کے اندھیرے میں واضع ہدف نظر آتے۔

۵ اور ۶ فروری کی درمیانی رات۴۸ ویں ٹیکٹیکل ونگ کے(ایف ۱۱)طیاروں کی ایک جوڑی نے آزمائشی طور پر حملہ کیا ہر طیارہ ۵۰۰ پونڈ وزنی(GBU12)پے وے لیزر گائڈڈ بموں سے لیس تھا۔ ان طیاروں نے ۵۵۰۰ میٹر یعنی ۸ ۱ ہزار فٹ کی بلندی سے لیزر کے نشان زدہ ٹینکوں پر لیزر بم داغے اس کے نتیجے میں ۸ عدد بموں میں سے ۷ عدد بموں نے۹۰ فیصد کامیابی سے اپنے اہداف کو تباہ کیا۔(ایف۱۱۱) طیاروں نے(A10)کی برتری کو یہاں مات دے دی اور اس تدبیر کو وسعت دی گئی اور اس ونگ اور اس کے عملے کو(ٹینک پلنکنگ) کا نام دیا گیا۳۱۔۴۱ فروری کی درمیانی رات۴۶ ایف ۱۱۱ طیاروں کی فوج نے عراق کے ٹینکوں پر یلغار کی اور۳۲ ۱ ٹینکوں و دیگر گاڑیوں کی تباہی کا دعویٰ کیا اور مزید حملوں کا سلسلہ جاری رہا مگر ٹینکوں و دیگر نقصانات کا صحیح اندازہ کبھی نہ لگایا جا سکا۔ اسی بناء پر اکثر صور تحال غیر واضح رہی۔ اتحادی طیاروں نے ۹۲۰ عراقی ٹینکوں کی تباہی کا دعویٰ کیا جو کہ بعد میں ۴۶۰ ٹینکوں تک محدود ہو گیا اور اتحادیوں کے قبضہ کیے گئے علاقوں سے جو ٹوٹے پھوٹے و متاثرہ ٹینک ہاتھ لگے اس سے یہ بات پتہ چلی کہ ان لیزر گائیڈڈ بموں کے حملوں سے بھاری ٹینکوں کے پر خچے اڑ گئے اور جن پر ہم براہ راست نہ لگے انہیں بھی ان بموں نے ناکارہ کر دیا اور انہیں جنگ سے باہر کر دیا۔ امریکی(A10) کا حریف روسی(ایس یو۲۵) فراگ فوٹ طیارہ ہے جو کہ(A10)کی طرح کی خصوصیات رکھتا ہے۔ جیگوار،ٹار نیڈو طیارے بھی کامیاب زمینی حملہ آور طیارے کے طور پر سامنے آئے۔ جدید ٹیکنالوجی اور جدید آلات کے باوجو د رات کو حملہ کرنے کی صورت میں اصل ہدف کی پہچان مشکل ہے۔ حالیہ یوگو سلاویہ کی جنگ میں اتحادیوں نے فوجی قافلے کے بجائے مہاجرین کے قافلوں پر اکثر بمباری کی۔ برطانیہ کا(Harrier)طیارہ اپنی عمودی پرواز کرنے کی صلاحیت کی بناء پر ایک موثر طیارہ ہے اور اگلے مورچوں کے لیے اور کمانڈوز طرز کی جنگ کے لیے یہ ایک بہترین ہتھیار ہے۔ برطانیہ نے ہیلی کاپٹرز میں نصب ہونے والا(ہیلی فائر) کی طرز کاایک جدید ٹینک شکن میزائل(Brim-Stone)تخلیق کیا ہے۔

(۸ء۱میٹر)طویل اور۵۰ کلو گرام وزنی برم اسٹون میزائل(۱۲)تا(۱۸)عدد کی تعداد میں کسی طیارے میں نصب کیے جاسکتے ہیں۔ امریکی فضائیہ و دیگر فضائیہ کم بلندی سے حملہ آوری کے لیے ۳ طرح کی حملہ آور حکمت عملی اختیار کرتے ہیں ان میں (Loft)اٹیک (Level Pass)اور(POP-UP) اٹیک ٹیکنیک شامل ہیں حکمت عملی میں در اصل نچلی پرواز کرتے ہوئے ہدف کی جانب جاتے ہیں اور ہدف سے پہلے اچانک بلند ہو کر ہدف کی جانب غوطہ لگاتے ہوئے اسلحہ ان پر گرایا جاتا ہے۔

ان تدابیر کے علاوہ(Split Attack)(Trap Attack)اور(Echelon Attack)جیسی تدبیریں بھی اپنائی جاتی ہیں ان حکمت عملی میں ایک طیارہ ہدف کو تلاش کرتا ہے اور اس پر حملہ کرتا ہے جبکہ دوسر ا طیارہ اس ہدف پر آخری اور بھر پور ضرب لگاتا ہے تاکہ ہدف مکمل طور پر تباہ ہو سکے۔ جدید دور کی ٹیکنالوجی میں سیٹلائٹ نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے گلوبل پوزیشننگ نظام کی بدولت حملہ آور طیارے زمینی مزاحمت اور سام میزائلوں کی حد سے باہر رہتے ہوئے حملہ کر سکتے ہیں۔ ایک حالیہ آزمائش میں ایک بی ٹو بمبار طیارے نے ۴۴ ہزار فٹ کی بلندی سے جی پی ایس نظام سے لیس جدید ان گائڈڈ جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونٹیشن(JDAM) بم داغا اور یہ بم ہدف سے صرف۳ میٹر ہٹ کر پھٹا اس طرح اس صلاحیت نے حملہ آوری کی ایک نئی جہت کا اضافہ کر دیا ہے۔ ماضی و حال کے تجربات کی روشنی میں نت نئے ہتھیار تخلیق کیے جا رہے ہیں تاکہ زمین پر چلنے والے اس ہاتھی ٹینک کو روکاجاسکے۔

سائنس ڈائجسٹ نیوز لیٹر

اپنے ان باکس میں پہنچائی جانے والی اہم ترین خبروں کی جھلکیاں حاصل کریں۔