
آج سے تیرہ سال قبل ۱۹۷۳ء کی عرب اسرائیل جنگ کے موقع پر سعودی عرب کے فرماں روا شاہ فیصل بن عبد العزیز السعود نے مغربی ملکوں اور امریکہ کو تیل کی سپلائی بند کر کے ساری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا جھٹکا اتنا شدید تھا کہ ترقی یافتہ دنیا اور ان کے حلیف سنجیدگی سے یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ اگر کسی قوم کی سلامتی بقا اور عزت نفس کا مسئلہ آجائے تو وہ بڑے سے بڑا قدم بھی اٹھا سکتی ہے۔ چنانچہ ان کے بقول عرب دنیا خصوصاً سعودی عرب کے بارے میں یہ خوش گمانی کرنا کہ وہ امریکہ اور مغربی دنیا کے ایسے دائمی اور روایتی حلیف ہیں کہ کسی حالت میں ان کے مفادات کے خلاف نہیں جا سکتے، دور اندیشی اور دانش مندی کی بات نہیں ہو گی ۔ شاہ فیصل مرحوم کے اس جرأت مندانہ اور دور رس اقدام کے بعد سے ترقی یافتہ صنعتی ممالک بالخصوص امریکہ نے ایسے اقدامات شروع کر دیئے ، جن کے نتیجے میں بیرون ملک سے تیل کی درآمدات پر ان کا انحصار کم سے کم ہوتا گیا۔ یوں بھی درحقیقت امریکہ نے اپنے محفوظ ذخائر کو آئندہ پیش آنے والے بڑے وقتوں کے لئے رکھ چھوڑا تھا۔ اور اصل حکمت عملی یہ تھی کہ پہلے دوسرے ممالک کے تیل کے ذخائر کو مصرف میں لایا جائے اور پھر اپنے محفوظ ذخائر میں سے استعمال کا تناسب بڑھایا جائے لیکن بعد ازاں انہوں نے نئی صورت حال میں اپنی پالیسی میں قدرے تبدیلی پیدا کی۔ پھر کئی ممالک نے ساتھ ساتھ ایسے متبادل انتظامات پر بھی توجہ دینا شروع کر دی کہ تیل کی سپلائی کم ہو جانے کی صورت میں توانائی کے دوسرے ذرائع سے کام لیا جاسکے ۔ اسی اثناء میں برطانیہ کے شمالی سمندر میں تیل کا وافر ذ خیره دریافت ہوا اور اوپیک سے باہر کے ممالک نے بھی اپنی پیداوار میں بتدریج اضافہ کر کے تیل کی سیاست کے اثرات کو زائل کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ چنانچہ عالمی سطح پر کئے جانے والے ان مختلف اقدامات اور عوامل کا آج نتیجہ یہ ہے کہ تیل کی قیمت جو کسی زمانے میں ۴۳ ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی، گرتے گرتے آٹھ ڈالر فی بیرل تک آگئی ہے۔ اور اوپیک کے وہ ممالک جو ایک زمانے میں اپنی مرضی سے قیمتیں مقرر کر کے عالمی منڈی کو کنٹرول کرتے تھے ایک مؤثر اور قابل عمل پالیسی وضع کرنے اور اس پر عمل کرانے کی پوزیشن میں نہیں رہے ہیں۔ ایک طرف تو تیل کے بحران اور دوسرے چھ سال سے جاری عراق ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ بالخصوص عرب ممالک کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سعودی عرب مشرق وسطی کے دو تین بڑے مالک میں سے ایک ہے۔ اسی لئے اس کے مسائل اور مشکلات میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوا ہے ۔ عرب ممالک کے بارے میں ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ ان کے ہاں پچھلے دو تین عشروں میں دولت کی جو ریل پیل اور فراوانی رہی ہے اس سے خاطر خواہ فائدے نہیں اٹھائے گئے ہیں اور اس کا بیشتر حصہ غیر پیداواری شعبوں مثلاً بڑی اور کشادہ عمارتوں کی تعمیر و توسیع ہوائی اڈوں کی تعمیر و تزئین چوڑی چوڑی سڑکوں اور زندگی کی دوسری آسائشوں اور سہولتوں پر صرف ہوا ہے اور سائنسی و صنعتی ترقی اور منصوبہ بندی کی طرف بالکل توجہ نہیں دی گئی ہے۔ چنانچہ انہی غلط تاثرات کی وجہ سے مغربی پریس میں اس قسم کے تبصرے شائع ہوتے رہے ہیں کہ جب عربوں کے پاس تیل ختم ہو جائے گا تو ان کی شاندار عمارتیں ، سڑکیں اور غیر ملکی سامان سے بھرے ہوئے بازار سنسان و ویران ہو جائیں گے اور اونٹ وخیمہ کا پرانا دور پھر لوٹ آئے گا۔
مبصرین کا یہ تجزیہ بعض عرب ممالک کے لئے کسی حد تک درست بھی ہے لیکن جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے اس نے تیل کی دولت سے خاصی حد تک کفایت اور دور اندیشی سے کام لیا ہے ۔ ملک کو سائنسی و صنعتی ترقی کے دور میں داخل کرنے کے لئے بعض بنیادی اور اہم نوعیت کے منصوبے مکمل کر لئے گئے ہیں اور بعض پر تیزی سے کام جاری ہے جس کے نتیجے میں آئندہ چند برسوں کے بعد ملک کو کسی غیر معمولی معاشی بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ پاکستان کے جن صحافیوں نے وقتاً فوقتاً سعودی عرب کے دورے کئے ہیں اُن کے تاثرات بھی یہی ہیں سعودی حکومت نے معاشرے کو صنعتی و زرعی خوش حالی کے دور میں داخل کرنے کے لئے خاصی مدت پہلے سے منصوبہ بندی شروع کر دی تھی اور اندازہ ہے کہ کچھ ہی عرصے بعد سعودی عرب کئی زرعی و صنعتی اشیاء کی پیدا وار میں در آمدات پر انحصارنہیں کرے گا۔
سعودی عرب کی اس سائنسی اور فنی ترقی کے پہلی بار وسیع تذکرے جون ۱۹۸۵ ء میں امریکی خلائی شٹل ڈسکوری کی پرواز کے موقع پر ہوئے جب دنیا والوں نے یہ خبرسُنی کہ اس پرواز میں سعودی شاہی خاندان کا ایک فرد اور سائنس داں سلطان بن سلمان السعود بھی خلاء کی سیر کو جائے گا اور عرب دنیا کے لئے ایک مواصلاتی سیارہ خلاء میں چھوڑنےکے فرائض سرانجام دے گا۔ عرب اور اسلامی دنیا کے لئے یہ واقعہ کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل تھا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان خصوصی تعلقات کی وجہ سے پاکستان میں اس خبر کو خصوصی دلچسپی اورتوجہ سے سنا گیا۔ خلائی شٹل ڈسکوری کی کامیاب پرواز کے بعد پرنس سلطان نے اپنے ملک کے علاوہ یورپی ممالک اور امریکہ کے دورے کئے جہاں ان کا زبر دست خیر مقدم کیا گیا اور ہر طرف انہیں اس کارنامے پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اسی سال جب اپریل کے شروع میں یہ خبر آئی کہ شہزادہ سلطان پاکستان کے سرکاری دورے پر آرہے ہیں تو ہمارے ذوق تجسس میں بے حد اضافہ ہو گیا کہ اس موقع پر عالم اسلام کے اس عظیم خلا نورد اور سپوت سے سائنسی و علمی گفتگو ضرور کی جائے۔ پروگرام کے مطابق شہزادہ سلطان پہلے اسلام آباد اور پھر لاہور جانا تھا۔ چونکہ شہزادہ سلطان سرکاری دورے پر تھے اس لئے ان کی مصروفیات پہلے سے طے شدہ اور لگی بندھی تھیں۔ ہمیں جس دن معلوم ہوا کہ آج شهزاده سلطان شام کی فلائٹ سے کراچی پہنچ رہے ہیں تو ہم نے احتیاطاً سعودی قونصل جنرل کے دفتر فون کر کے توثیق کرنا چاہی تو معلوم ہوا کہ انہیں سلطان کی آمد اور پروگرام کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے ہمیں اس بے خبری پہ تعجب بھی ہوا۔ خیر ہم اطلاع کے مطابق شام ساڑھے سات بجے کراچی ائیر پورٹ کے وی آئی پی لاؤنج پہنچ گئے۔ معلوم ہوا کہ ان کا خصوصی طیارہ تو ساڑھے چار بجے ہی آگیا تھا۔ ہم نے اپنے صحافتی حلقوں سے رابطہ قائم کیا تو اتنا پتہ چل سکا کہ کل صبح پرنس سلطان سپارکو کے سائنس دانوں سے خطاب کریں گے اور سپارکو کی تجربہ گا ہیں دیکھیں گے۔ ہم نے سپارکو کے سیکرٹری جناب عبدالحفیظ بھنڈاری کو رات گھر فون کر کے دریافت کیا کہ کیا کل کی تقریب میں پریس کو بھی مدعو کیا گیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ کل کی تقریب میں سپارکو کی طرف سے پریس کو کوئی دعوت نہیں دی گئی ہے اور شہزادے کی مصروفیات کے بارے میں خبریں صرف محکمہ اطلاعات کے پریس ریلیز کے توسط ہی سے مل سکیں گی ہم نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کیا سپار کو میں شہزادے کو سننے کا موقع مل سکتا ہے تو بھنڈاری صاحب نے کہا کہ یہ مناسب بات نہیں ہو گی۔ بھنڈاری صاحب نے اتنا ضرور بتایا کہ شہزادہ سلطان کے ساتھ وزارت اطلاعات کی طرف سے جو رابطہ افسر ہیں ان کا نام اختر علی خان ہیں۔ اگر آپ ان سے انٹرویو کرنا چاہتے ہیں تو یہ اختر صاحب کے توسط ہی سے ممکن ہو سکے گا۔ اختر صاحب کو تلاش کرنے کے لئے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس اور پولیس انفارمیشن کے دفتر فون کئے گئے تو معلوم ہوا کہ ان سے ملاقات صرف صبح ساڑھے سات اور آٹھ بجے کے درمیان ہو سکتی ہے۔ صبح اختر صاحب سے ہم نے مدعا بیان کیا کہ ہم قارمین سائنس ڈائجسٹ تک پہلے مسلمان خلاء نورد کے تاثرات و خیالات پہنچانا چاہتے ہیں۔ اختر صاحب نے کہا کہ شہزادہ سلطان کی آج کی مصروفیات بہت زیادہ ہیں۔ سپارکو کے دور سے اور خطاب کے بعد انہیں دوپہر کے وقت وزیرا علیٰ سندھ کے ظہرانے میں شرکت کرنی ہے ۔ ظہرانے سے واپسی کے بعد انہیں ادارہ فروغ برآمدات) ایکسپورٹ پروموشن بیورو) کی ایک نمائش کا افتتاح کرنا ہے اور پھر شام کو ایک تقریب اور ہے۔ میں وعدہ تو نہیں کرتا البتہ پوری کوشش کروں گا کہ انٹرویو کی کوئی صورت نکل سکے۔ ہم نے ان سے ذکر کیا کہ روزنامہ جنگ کے عارف الحق عارف بھی شہزادہ سے انٹرویو کرنا چاہتے ہیں۔ اختر صاحب نے کہا کہ میں دو پہر سے پہلے کسی وقت شہزادہ سلطان سے اجازت لینے کی کوشش کروں گا، اگر انہوں نے آمادگی ظاہر کی تو پھر آپ دونوں حضرات دوپہر کے بعد آرام کے وقفے کے دوران مشترکہ انٹر و یو کر سکیں گے۔ اختر صاحب نے ہدایت کی کہ آپ میرے ٹیلی فون سے رابطے کے لئے مسلسل دفتر میں موجود رہیں ۔ ایک بجے اختر صاحب کا فون آیا کہ شدید مصروفیات کے باوجود شہزادہ سلطان نے پاکستان کے سب سے بَڑے اخبار اور ایک منفرد سائنسی جریدے کو انٹرویو دینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے لیکن چونکہ شہزادے کے پاس وقت بہت کم ہے اس لئے آپ لوگ سوالات تیار کر کے چار بجے تک انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ آجائیں تاکہ انٹرویو کے لئے ہم فوری طور پر اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس پہنچ سکیں ۔ چار بجے انفارمیشن پہنچے تو وہاں ڈیوٹی پر نسپل انفارمیشن آفیسر سرمسز رضوان احسان اور فاروق ابدانی جناب اختر علی خان ہمارے منتظر تھے۔ یہاں سے ٹھیک ساڑھے چار بجے اختر صاحب کے ساتھ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس کے لئے روانہ ہو گئے ۔ یہاں معلوم ہوا کہ ہمیں ملاقات اور انٹرویو کے لئے کل آدھے گھنٹے کا وقت مل سکے گا تھوڑی دیر انتظار کے بعد شہزادہ سلطان تشریف لائے اور چند منٹ تک غیر رسمی گفتگو ہوتی رہی۔ ہم نے شہزادہ سلطان سے کہا کہ ہمیں آپ کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہوئے انتہائی مسرت ہے اور یہ پاکستان اور اہل پاکستان کے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ پہلے مسلمان خلاء نورد نے اسلامی دنیا کا اتنا بڑا اعزاز حاصل کرنے کے بعد یہاں کا دورہ کیا۔
تعارف اور خیر مقدمی کلمات کے بعد باقاعدہ انٹرویو کا آغاز اس سوال سے ہوا۔
سوال :- جب آپ کو یہ اعزاز حاصل ہوا تو آپ کے فوری اور ابتدائی تاثرات کیا تھے؟
جواب:- آپ نے میرے لئے جن جذبات کا اظہار کیا ہے میں ان کی قدر کرتا ہوں حقیقت یہ ہے کہ یہ میرے لئے نہ صرف ایک اعزاز کی بات ہے بلکہ اس کی حیثیت ایک فرض کی سی تھی۔ میں ایک اہم اور خاص مشن پر گیا تھا۔ یہ مشن میرے ملک اور عرب دنیا کے لئے بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ اسی لئے میں اس کامیاب میشن کی تکمیل پر اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرتا ہوں ۔
سوال :- اس خلائی مشن پر جانے سے پہلے آب نے کیا کیا تیاریاں کی تھیں؟
جواب:- میں نے امریکہ میں علم مواصلات (communication sciences) کی خصوصی تعلیم اور سند حاصل کی ہے۔ میرے اس مشن کا اصل مقصد ایک مواصلاتی سیارے عرب سیٹ دوم“ کو خلاء میں چھوڑنا تھا۔ جس کی مدد سے عرب ممالک کے درمیان ٹیلی مواصلات کے بہتر اور موثر رابطے قائم ہو سکیں گے۔ اس مشن پر جانے سے پہلے امیدوار کے طور پر انتخاب کے لئے سعودی عرب اور ناسا (NASA)میں دوماہ کی مدت صرف ہوئی بعد ازاں مجھے ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں ابتدائی ٹریننگ دی گئی۔ وہاں میں نے مصنوعی سیارہ چھوڑنے کی خصوصی تربیت حاصل کی ۔
سوال :۔ کس واقعہ یا جذبے سے متاثر ہوکر آپ نے اس پُر خطر خلائی مشن پر خلاء باز کی حیثیت سے جانے کا ارادہ کیا ؟
جواب:- اصل وجہ یہ تھی کہ عرب سیٹلائٹ کمیونی کیشن آرگنائزیشن نے سعودی عرب کی حکومت سے درخواست کی کہ عرب دنیا عرب لیگ کے ممبر ملکوں کے لئے ایک مواصلاتی سیارہ چھوڑنے کے سلسلے میں مدد کی جائے سعودی عرب نہ صرف عرب لیگ کا ایک اہم ممبر ہے بلکہ عرب سیٹلائٹ کمیونی کیشن آرگنائزیشن کا سب سے بڑا حصص کننده (شیئر ہولڈر) بھی ہے علاوہ از یں سعودی عرب بعض عالمی اداروں اور تنظیموں جیسے ناسا اور یورپین اسپیس ایجنسی وغیرہ سے مواصلاتی روابط بھی رکھتا ہے مشن پر جانے کے لئے مختلف امیدواروں سے درخواستیں طلب کی گئیں چنانچہ سعودی عرب کے مختلف سرکاری و نیم سرکاری محکموں، اداروں فضائیہ اور محکمہ مواصلات سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد نے اس مشن کے لئے اپنی خدمات پیش کیں میں بھی ان امیداروں میں شامل تھا ۔
سوال :۔ آپ نے اپنے خلائی سفر کے دوران نماز ادا کی اور قرآن پاک کی تلاوت کی جس وقت آپ فریضہ کی ادائیگی کرتے تھے تو آپ کیا محسوس کرتے تھے اور اس سلسلے میں آپ کے خلائی شٹل کے ساتھیوں کا رویہ آپ کے ساتھ کیسا رہا ؟
جواب:- میں اور میرے دوسرے ساتھی جو نا سا میں کام کرتے ہیں، اپنے مذہبی فرائض کی بجا آوری کا بڑا خیال رکھتے تھے۔ چنانچہ ناسا میں اپنی تربیت کے دوران میں ان فرائض کی پوری پابندی کرتا تھا۔ اس لئے کہ ایک انسان کے لئے سب سے بڑھ کر اس کا مذہب اور عقیدہ ہے جس دن ڈسکوری کو پرواز پر روانہ ہونا تھا یعنی صبح کے وقت تو وہ فجر کی نماز کا وقت تھا۔ پندرہ منٹ بعد شٹل کو پرواز کرنا تھی ۔ چنانچہ میں نے اپنا رومال سنبھالا، اور لانچنگ پیڈ کی چوتھی منزل پر چڑھ کر نماز فجر ادا کی۔ ہمارے ساتھی اس سے بہت متاثر ہوئے۔ دراصل جب انسان اپنے خدا اور مذہب کے قریب ہوتا ہے تو اسے سب سے زیادہ اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے۔
سوال :۔ : جناب شہزادہ سلطان ! آپ کے خیال میں مسلم ممالک کو اپنی ترجیحات کا تعین کس طرح کرنا چاہیے کہ وہ سائنسی و تکنیکی ترقی کے میدان میں تیزی سے قدم بڑھا سکیں ؟
جواب:- میں اس موقع پر ناسا کے سابق سربراہ جیم بگیس کا ایک قول دُہراؤں گا جو انہوں نے واشنگٹن میں سعودی حکام کی طرف سے دیئے گئے استقبالیہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا۔ انہوں نے کہا لوگ اپنی سائنسی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے لئے امریکہ آتے ہیں ۔ اور ان میں سے ایک بڑی تعداد مسلمان سائنسدانوں کی ہوتی ہے۔ بعض پورے کے پورے منصوبوں میں مسلمان سائنس داں کام کر رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سائنس اور ٹیکنا لوجی کی طرف راغب ہو رہی ہے۔ خاص طور سے اب ریاضی اور انجینئرنگ کی طرف بھی توجہ دی جا رہی ہے ہم مسلمانوں کے آبا و اجدادان علوم میں اچھی خاصی دسترس رکھتے تھے۔ انہوں نے نہ صرف بعض بنیادی علوم کو ترقی دی بلکہ موجودہ ترقی کے لئے بنیادیں فراہم کیں مسلمانوں کو نہ صرف اپنے شاندار ماضی اور سائنسی ورثہ پر فخر کرنا چاہیئے بلکہ اس حقیقت کو صاف صاف اور کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے کہ پچھلی کئی صدیوں سے ہم دنیا کی دوسری اقوام سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور ہمیں سائنس و ٹیکنا لوجی کے میدان میں آگے آنے کے لئے سخت جدوجہد کرنی ہے سائنسی و تکنیکی ترقی کا راستہ اتنا سہل نہیں جتنا کہ خیال کیا جاتا ہے ایسا نہیں ہوا کرتا کہ ہم آج سے یہ طے کر لیں کہ آئیے ہمیں اس شعبے میں بھی ترقی کرنی ہے اور پھر ہم اس مقصد کو حاصل کر لیں ۔ دراصل اس کے لئے سب سے پہلے مقاصد کا تعین کرنے، ضروری وسائل مہیا کرنے اور پھر مسلسل اور نہ ختم ہونے والی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ۔ ہم مسلمانوں کو نہ صرف سائنس کے ہر میدان میں ترقی کرنا چاہیے بلکہ سائنس و ٹیکنا لوجی کی ترقی کے لئے ہر قوم سے علم اور تجربہ حاصل کرنے کی طرف بھر پور توجہ دینا چاہیے۔ ہمیں اس سلسلے میں تاریخ سے بھی سبق حاصل کرنا چاہیے جب دوسری اقوام سائنس اور ٹیکنا لوجی کے میدان میں ہم مسلمانوں سے بہت پیچھے تھیں لیکن انہوں نے علم اور سائنس کے میدان میں قدم آگے بڑھا کہ باعزت مقام حاصل کیا۔ چنانچہ ہمیں اس معاملے میں دوسری قوموں اور تہذیبوں سے تعاون حاصل کرنے میں کسی جھجک کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی ، جادو گرانہ انداز سے حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے لئے مسلسل اور ہمہ گیر جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے جو سخت محنت سے ہی ممکن ہے جیسا کہ ان ممالک نے کیا جو ایک زمانے میں پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ تھے۔ اسلام امن کا دین ہے۔ یہ مفاہمت اور رواداری کا سبق دیتا ہے۔ چنانچہ علم اور سائنس کے میدان میں ہمیں ہر ملک اور ہر قوم سے تعاون حاصل کرنا چاہیئے مسلمان ممالک کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے وسائل سے مالا مال کیا ہے۔ ہمارے پاس تربیت یافتہ افرادی طاقت ہے ، مادی وسائل ہیں، قدرتی و معدنی دولت ہے اور ہم سب مل کر انہیں بہترین طریقے پر استعمال کر سکتے ہیں چنانچہ مسلم ممالک کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ترقی یافتہ دنیا کا تعاون بھی حاصل کرنا چاہیئے ۔مسلمان ملکوں کے لئے ایک اہم مسئلہ ان کی اپنی سلامتی کا بھی ہے۔ مسلم ممالک کے درمیان جو قدر سے مشترک ہے وہ مذہب ہے۔ چنانچہ ہم اپنے مذہبی اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے سائنس وٹیکنا لوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ سکتےہیں۔
سوال :۔ : تیسری دنیا کے ممالک جن کی بڑی تعداد مسلم ممالک پر مشتمل ہے مشرق اور مغرب کے استحصال کا شکار ہے اور ان دونوں کیمپوں میں بٹی ہوئی ہے. آپ کے خیال میں اس صورت حال سے کس طرح چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے ؟
جواب:- میرا خیال ہے کہ ہم استحصال کا خاتمہ کئی طرح سے کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے ہمیں اپنی بنیادی حکمت عملی کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ پہلی ضرورت تو یہ ہے کہ ہم اپنے بنیادی نظریے اور عقیدے پر سختی سے کاربند ہوں۔ اس نقطہ نظر سے جہاں تک میرا خیال ہے پاکستان ایک صحیح سمت اور صحیح پالیسی پر گامزن ہے۔ ایک طرف تو وہ اپنے مذہبی اصولوں اور اقدار کا پابند ہے اور دوسری طرف جدید ترین علوم اور وسائل کے ذریعے اپنے معاشرے کو ترقی دے رہا ہے ۔ چنانچہ پاکستان اس لحاظ سے ایک مثبت پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے کہ ترقی اور علم کی جو بات جہاں سے بھی مل سکتی ہے، حاصل کرتا ہے اور اس طرح صحیح اسلامی خطوط پر اپنے معاشرے کو تشکیل دے رہا ہے۔
سوال :۔ عالی جناب آپ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ سائنس وٹیکنا لوجی کی ترقی سائنسی شعور اورفہم کو عام کئے بغیر حاصل نہیں ہوا کرتی اور سائنسی فہم کو فروغ دینے اور عام کرنے کے لئے سائنسی لٹریچر کی اشاعت ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ کیا گرامی قدر ! اسلامی ممالک میں تیار ہونے والے سائنسی لٹریچر کی مقدار اور معیار سے مطمئن ہیں؟
جواب:- آپ کے سوال کا بنیادی تعلق ترقی پذیر دنیا کے درمیان ابلاغ کے مسئلے سے ہے۔ جدید علوم کی ترسیل اور مستقل رابطے ہی کے مقصد سے عرب سیٹ سیارے اوّل دوم خلاء میں چھوڑے گئے ہیں ۔ یہ سیارے دنیا کے ۲۲ عرب اقوام کے درمیان ٹیلی ویژن ، ٹیلی پرنٹر، ٹیلیکس اور صنعتی و تجارتی روابط کے فرائض انجام دیں گے مسلم ممالک میں سائنسی تحقیقی مواد کی تیاری و ترسیل ، چاہے وہ تحریری شکل میں ہو یا سمعی وبصری صورت میں ابھی تک ایک بڑا مسئلہ ہے یہ دنیا کے تمام مسلم ممالک کا واقعی ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ آپ کے صدر مملکت جنرل محمد ضیا الحق صاحب بھی جو مسلم ممالک کی سائنس و ٹیکنالوجی سب کمیٹی کے چیر مین میں ابلاغ کے ان مسائل کے لئے سرگرمی سے جدو جہد کر رہے ہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلم ممالک کے سائنس دانوں کے درمیان رابطے کی کوئی مشکل موجو د نہیں ہے مسلم ممالک کی سائنسی افرادی طاقت ہی ان کا اصل سرمایہ ہے۔ مسلم ممالک کو نہ صرف طبیعی علوم بلکہ معاشرتی علوم اور دوسرےمسائل کے بارے میں ایک دوسرے سے موثر رابطہ رکھنا ضروری ہے۔
سوال :۔ صیہونی لابی جسے امریکہ کے اندرو با ہراسرائیلی سر پرستوں کی زبردست حمایت و تائید حاصل ہے، اس بات کی مسلسل کوشش میں ہے کہ مسلم دنیا سائنسی و تکنیکی معلومات حاصل نہ کر سکے اور اس میدان میں پیچھے رہے تاکہ انہیں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو پورا کرنے کا موقع مل جائے آپ کے خیال میں مسلم امہ کو صیہونی عزائم کا مقابلہ کرنے اور جوہری توانائی کے پرامن استعمال اور اقتصادی خوش حالی کے لیے کیا اقدامات کرنا چاہئیں ؟
جواب:- میں اس بات کو پھر دہراؤں گا کہ سب سے پہلی ضرورت تو یہ ہے کہ ہم اپنے بنیادی عقیدے کو درست کریں اور یہ دیکھیں کہ خرابی کا اصل سبب کیا ہے اس کے بعد ہم اپنے پرامن مقاصد کے حصول کے لئے جد و جہد کریں۔ ہمارے سامنے ایسے کئی ممالک کی مثالیں ہیں کہ ان کے پاس وسائل کم تھے اور مشکلات زیادہ تھیں لیکن انہوں نے مسلسل اور منظم کوششوں کے ذریعے ترقی و خوشحالی کے میدان میں قدم بڑھائے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے اپنے سامنے جو مقاصد ہیں ان کے حصول کے لئے مسلسل جد و جہد کریں ۔ اگر ہمارا مقصد نیک اور پرامن ہو گا تو یقیناً ہمارے مخالفین بھی ایک نہ ایک دن اسے تسلیم کریں گے۔
سوال :۔جناب عالی! آپ نے پاکستان کے کئی سائنسی اداروں اور تجربہ گاہوں کا دورہ کیا ہے ۔ آپ کی رائے میں پاکستان کا سائنسی و فنیاتی ترقی میں کیا مقام ہے؟
جواب:- پاکستان نے سائنسی میدان میں خاصی ترقی کی ہے لیکن پھر بھی یہاں کے بہت سے حلقوں کا خیال ہے کہ ابھی بہت سے میدانوں میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ دراصل پاکستان کو کئی قسم کے بحرانوں کے ساتھ ساتھ اقتصادی مسائل سے بھی دوچار ہونا پڑا ہے۔ ان تمام دشواریوں کے باوجود پاکستان نے سائنس کے میدان میں بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ پاکستان کے لوگوں میں نہ صرف یہ کہ سائنسی میدان میں آگے بڑھنے کا جوش و جذبہ اور خواہش موجود ہے کہ بلکہ ان میں معقول اور قابل قدر صلاحیتیں بھی ہیں۔ میرا اس موضوع پر پاکستان کے صدر جناب ضیاء الحق صاحب اور وزیراعظم جناب محمد خاں جونیجو صاحب سے بھی مفید تبادلۂ خیال ہوا ہے اور میں اس بات سے بہت خوش ہوں کہ دونوں رہنماؤں کے ذہن میں پاکستان کی سائنسی و فنیانی ترقی کا ایک واضح اور مثبت خاکہ موجود ہے۔ آج ہی مجھے دو مقامات پر سائنس دانوں اور ماہرین سے تبادلۂ خیالات اور خطاب کا موقع ملا تھا۔ میں نے ان سے بھی یہ کہا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ بھر پور تعاون کرنا چاہیئے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سائنسی اور فنی تعاون کے وسیع امکانات اور بنیادیں موجود ہیں ہم اس میدان میں پاکستانیوں سے خصوصی تعاون اور دلچسپی کی توقع رکھتے ہیں۔ پاکستان کا استحکام اور ترقی سعودی عرب کا اپنا استحکام اور ترقی ہے ۔
سوال :۔مسلم ممالک سے نوجوانوں کے لئے کوئی خاص پیغام جو آپ دینا چاہتے ہیں ؟
جواب:- اس انٹرویو کے ذریعے میں ان سے کہیں کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے دین اور اپنے بارے میں زیادہ سے زیادہ غور و فکر سے کام لیں اپنے مذہبی فرائض کو باقاعدگی اور خشوع و خضوع سے ادا کریں اور اسے اپنے لئے بارخیال نہ کریں۔ آپ کو اس کی ایک چھوٹی سی مثال دوں گا ہمارے مشن پائلٹ جان کریٹن نے جو مشن واپسی کے بعدکے بعد ایک پریس کانفرنس میں میرے ساتھ تھے، مجھ سے سوال کیا کہ اس خلائی مشن کی مسلم نوجوانوں کے لئے کیا اہمیت ہے۔ میں نے جواب دیا کہ اسی کروڑ مسلم عوام اس خاص مشن کے ایک ایک لمحے کو توجہ اور دلچسپی سے دیکھ رہے تھے اور اس مشن کی کامیابی ان کی دعاؤں کا نتیجہ ہے اس پیر میشن کے پائلٹ جان کر بیٹن نے انٹرویو لینے والوں سے کہا کہ اسی کروڑ مسلمان اس مشن کی کامیابی کے لئے نمازوں میں دعا کر رہے تھے چنانچہ یہ مشن خیر و خوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچا میں مسلم نو جوانوں سے نہیں کہوں گا کہ اپنے مذہب اور مذہبی فرائض کی ادائیگی کسی شرمندگی یا خجالت کی بات نہیں بلکہ فخر کی بات ہے میں نا سا میں چار ماہ کی تربیت کے دوران ہر روز نماز ادا کرتا اور قرآن پاک کی تلاوت کرتا تھا۔ روزوں کے باوجود صبح کی نماز کے بعد صبح ۵ سے ۷ بچے تک معمول کی ورزش اور تربیتی بشن میں حصہ لیتا تھا اور اس میں مجھے کوئی مشکل نہیں ہوتی تھی۔ چنانچہ مجھے اپنے خلائی مشن کے دوران اپنے معمول کی وجہ سے بہت آسانی محسوس ہوئی۔ چنانچہ نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی ان فرائض کی ادائیگی کے سبب میری بڑی عزت کرتے تھے مسلم نوجوانوں کے لئے میرا یہی پیغام ہے کہ ان کے لئے بہت کچھ کرنے کے مواقع ہیں ۔ وہ جدید ترین علوم کی دسترس حاصل کریں اور سخت محنت کر کے ایک با عزت قوم کے فرد بننے کی کوشش کریں ۔
سوال :۔ اسرائیل اور مغربی ذرائع ابلاغ کچھ عرصے سے مسلسل پروپیگینڈہ کر رہے ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب اسلامی بم کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کیا آپ یہ بتا سکیں گے کہ ہمارے انکار اور وضاحتوں کے بعد بھی یہ پروپیگینڈہ کیوں جاری ہے؟
جواب:- میرے خیال میں یہ مسئلہ اتنا اہم نہیں ہے اس لئے کہ یہ پروپیگنڈہ ایک خاص حلقے کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ یہ بات بالکل واضح اور روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوستانہ اور اقتصادی تعلقات میں اس قسم کا کوئی معاملہ سرے سے نہیں ہے۔ دراصل اس قسم کا پروپیگینڈہ بعض مخصوص مقاصد کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے وہ ہمیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنے دفاع کے لئے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ اسرائیل مشرق وسطی کے لئے ایک ناسور کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔
سوال :۔ آپ اس امر سے واقف ہیں کہ کئی پاکستانی اور مسلمان سائنس دان ناسا(Nasa) میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ کیا آپ کسی ایسے ممتاز سعودی سائنس داں یا ماہر کا نام بتانا پسند کریں گے جونا سا میں کسی امتیازی حیثیت میں کام کر رہا ہو؟
جواب:- جہاں تک کسی خاص تحقیقی شعبے یا خاص شعبے کا تعلق ہے یہ بتانا بڑا مشکل ہے۔ دراصل ناسا ایک بہت ہی بڑا ادارہ ہے اور یہاں بے شمار سائنسدان اور ماہرین لاتعداد شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جہاں تک میرے اس مشن کا تعلق ہے جو خاص مشکل مشن تھا اس میں بہت سارے سعودی ائنسدانوں کی خدمات شامل ہیں ، جیسا کہ میں نے آپ سے بتایا میرے مشن کا اصل تعلق عرب سیٹلائٹ کو خلاء میں چھوڑنا تھا لیکن اس ایک مشن کے سلسلے میں سائنس دانوں اور ماہرین کی ایک پوری ٹیم کا ذہن اور مہارت کام کر رہی تھی ناسا میں متعد د قوموں اور ملکوں کے سائنس داں خدمات انجام دے رہے ہیں اور وہ سب ایک دوسرے سے اس طرح مربوط انداز میں کام کرتے ہیں کہ کسی ایک کے کام کو دوسرے پر فوقیت نہیں دی جاسکتی ہیں کسی سعودی سائنس داں کا نام تو نہیں بتا سکتا جس کا اسپیس شٹل سے کوئی نمایاں تعلق ہو۔ البتہ بعید حسیت (remote sensing) جیسے اداروں میں کئی ممتاز سعودی سائنس داں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
آخر میں ہم نے شہزادہ سلطان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے چند لمحات نکال کر ہمیں انٹرویو دینے کی زحمت فرمائی۔ شہزاد سلطان کو سائنس ڈائجسٹ کے چند خاص خاص شمارے پیش کئے گئے اور معذرت کا اظہار کیا گیا کہ یہ عربی اور انگریزی میں نہیں بلکہ پاکستان کی قومی زبان اردو میں ہیں۔ اس پر شہزادے نے ہنستے ہوئے کہا کوئی بات نہیں ان کا سیکریٹری اردو جانتا ہے وہ ان میں سے خاص خاص حصوں کا ترجمہ کر دے گا شہزادہ سلطان نے اس بات کی تعریف کی کہ پاکستان میں سائنس وٹیکنا لوجی پر اس قسم کا لٹریچر شائع کیا جارہا ہے شہزادہ سلطان کو بتایا گیا کہ اسلامی فاؤنڈیشن برائے سائنس ٹیکنالوجی اینڈ ڈویلپمنٹ کے ڈائرکٹر جنرل جناب ڈاکٹر علی قطائی کو بھی سائنس ڈائجسٹ کے شمارے بھیجے گئے ہیں اور انہوں نے اس کوشش کو بہت سراہا ہے۔ انٹرویو کے آخر میں شہزاد سے سے درخواست کی گئی کہ ایک مشترکہ فوٹو گراف میں شریک ہو جائیں اور پھر شکریہ کے ساتھ اجازت لے کر اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس سے روانہ ہو گئے۔
شهزاده سلطان کا خلائی سفر

شهزاده سلطان ابن سلمان ابن عبدالعزیز ال سعود فرانسیسی سائنسدان پیٹ بوڈری (Pat Baudry) اور امریکی ڈینیل برینڈسٹین (Daniel Brandestein)
( کمانڈر)، جان کریٹن (John Creighton)
(ہوا باز) اسٹیون مینگل (Steven Nagel)
جان ف فابیان (John Fabian)
اور شینان لوسڈ(Shannon Lucid)
امریکی خلائی شٹل ڈسکوری میں شہزادہ سلطان کے سفر سے متعلق یہ رپورٹ آرامکو ورلڈ میگزین ماہ جنوری سے فروری سے ۱۹۸۶ ء کے شمارے کے شکریہ کے ساتھ شائع کیے جارہی ہے۔ شہزادہ سلطان نے نے یہ شمارہ بطور خاص سے انٹرویو کے موقع پر عنایت کیا تھا۔
تلخيص و ترجمه: ناصر معين
میں امریکہ کی چھٹی خاتون نے مشن ۵۱ جی کی کامیابی کے لئے سردھڑ کی بازی لگادی۔ انہوں نے تین سیارے چھوڑے جن میں ایک عرب سیٹ سیارہ بھی شامل تھا۔ ملکی وے کہکشاں کے مشاہدے کے لئے ایک تفتیشیہ (پروب) بھی چھوڑا اور بعد میں اسے قابو کیا ان کا خلائی جہاز امریکی اسٹار وار پروگرام کے لئے بحیثیت ایک ہدف استعمال ہوا ہے۔
شہزادہ سلطان نے سعودی سائنسدانوں کے تجویز کردہ خلائی تجربات کیے اپنے چچا اور سعودی عرب کے فرماں روا شاہ فہد سے ٹیلی فون پر خلاء سے گفتگو کی ، زمین پر لاکھوں عرب ٹی وی ناظرین کو عربی میں شٹل کی سیر کرائی اور اپنی مصروفیات میں سے نماز اور قرآن کی تلاوت کے لئے بھی وقت نکالا۔
پرواز سے قبل کئی ناساز گار لمحات بھی آئے جب پرواز سے قبل رات کو آسمان گرج اور چمک کے ساتھ برس پڑا اور پھر اچانک سائنسی آلات نے خبردی کہ عرب سیٹ عرب سیٹلائٹ کمیونیکیشن آرگنا زیشن سیارے کے شمسی پر کھل گئے ہیں لیکن طوفان اور آلات کی یہ خبریں کوئی نقصان پہنچائے بغیر گزر گئیں اور ۱۷ جون کی صبح تالیوں اور نعروں کی گونج میں خلائی شٹل ڈسکوری فلوریڈا کی فضاؤں کو عبور کرتی ہوئی فلک کی وسعتوں کو چھونے کے لئے محو پرواز ہوگئی۔ اس خوبصورت اور تاریخی منظر کو دیکھنے اور اپنے نور نظر کو الوداع کہنے کے لئے ۲۳۰ عرب مہمانان بھی موجود تھے۔ ان میں شہزادہ سلطان کے بھائی ، عرب سیٹ کے ڈائریکٹر جنرل اور مراکش کے وزیر مواصلات شامل تھے۔ ایک دن بعد کیمروں اور آلات سے اطمینان کر چکنے پر مصنوعی سیارے عرب سیٹ بی کو خلاء کے حوالے کر دیا گیا۔ زمین سے ۳۶ ہزار کلو میٹر کی بلندی یر گردش کرنے والا یہ سیارہ عرب سیٹ اے“ سیارے کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ یاد رہے کہ عرب سیٹ اے کو فروری ۱۹۸۵ء میں فرانسیسی راکٹ ایرین” Ariane نے خلاء میں چھوڑا تھا۔
شہزادہ سلطان نے جو سعودی وزارت مواصلات سے بھی وابستہ ہیں، ایک انٹرویو میں کہا “میرا کام اب ان سیاروں کی صلاحیتوں سے پورا پورا فائدہ اٹھانا ہے” ان صلاحیتوں میں عرب ممالک کے درمیان ٹیلی فون اور ٹیلیکس کی سہولتیں، خبروں اور ٹی وی پروگراموں کا تبادلہ سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔
۲۸ ساله شهزاده سلطان ہوا بانہ ہونے کے ساتھ ساتھ علم مواصلات میں یونیورسٹی آف ڈینور سے گریجویٹ بھی ہیں۔ ان کا انتخاب خاص تلاش اور چھان بین کے بعد کیا گیا۔ اس مقصد کے لئے ۲۲ ممبر ممالک میں سے کسی موزوں شخص کی تلاش کا کام شروع ہوا جو بحیثیت پے لوڈ اسپیشلسٹ ڈسکوری میں محو سفر ہو کر یہ کام کر سکے ۔ عام طور پر شٹل کے علاوہ خلاء نورد کو کم از کم ایک سال کی ٹرینینگ دی جاتی ہے ۔ کیونکہ اس مرتبہ وقت کی کمی کا مسئلہ در پیش تھا اس لئے ایسے امیدواروں کو فوقیت دی گئی جو تربیت یافتہ ہوا باز بھی ہوں، انگریزی فر فر بولتے ہوں اور خوب صحت مند ہوں ، چنانچہ ایک طویل فہرست میں سے کاٹ چھانٹ کر کے ۲۰ افراد چنے گئے۔ ان میں سے پہلے چار اور پھر تین۔ ادھرنا سا کو صرف دو افراد کی ضرورت تھی ۔ ایک پے لوڈ اسپیشلسٹ اور دوسرا اس کا نمبر دو یعنی اگر منتخب اول کسی وجہ سے مشن پر نہ جا سکے تو نمبر دو کو بھیج دیا جائے۔ شہزادہ سلطان کا انتخاب ابتدائی پے لوڈ اسپیشلسٹ کے لئے اور ۳۶ سالہ میجر عبدالمحسن حماد البسام (Abdul Hammad Al Bassam) کو جو شاہی سعودی فضائیہ میں استاد ہیں نمبر دو کے لئے چنا گیا۔
شہزادہ سلطان کی خلائی مشن کی تربیت

پے لوڈ اسپیشلسٹ کا شٹل کی پرواز وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ اس کا اصل کام خلاء میں پہنچ کر شروع ہوتا ہے. مثلاً سیارے چھوڑنا یا تجربات کرنا وغیرہ لیکن پھر بھی اسے اسی قدر سخت ترتیب دی جاتی ہے جتنی شٹل کے باتی عملے کو ۔
شہزادہ سلطان اور میجر البسام یکم اپریل ۱۹۸۵ء کو مشن کی خصوصی تربیت کے لئے امریکہ پہنچے اور اپنی ۱۴ گھنٹوں پر مشتمل ٹرینینگ کا آغاز کیا۔ اس تربیت کا مقصد انہیں خلاء کی زندگی کے شب و روز کا عادی بنانا تھا ۔
جانسن اسپیس سینٹر ہیوسٹن میں تربیت کا آغاز کپڑوں اور کھانوں کے انتخاب سے ہوا یعنی خلاء میں کیا پہنا اور کیا کھایا جائے۔ خلائی جہاز کی روانگی (لانچ ، اور واپسی لینڈنگ) کے وقت نیلے رنگ کا جمپ سوٹ پہننا لازمی ہوتا ہے لیکن خلاء میں پہنچ جانے کےبعد آپ اپنی مرضی کے کپڑے پہن سکتے ہیں۔ صفر قوت ثقل کے لئے روایتی سعودی لباس تو موزوں نہیں پایا گیا البتہ شہزادے کے لئے روایتی عربی کھانوں کے ساتھ ساتھ آب زم زم اور مدینے کی کھجوریں ساتھ کر دی گئی تھیں۔
سب سے اہم تربیت شہزادہ کو تین سائنسی تجربات اور دو مشاہدات کی دی گئی جو ان کا اصل مشن تھا۔ ان تجربات کو سعودی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ڈیزائن کیا تھا جس کے سربراہ ڈاکٹرعبد الله دباغ (Dr. Abdullah Dabbagh) تھے۔ ڈاکٹر عبداللہ یونیورسٹی برائے پٹرولیم اور معادن(MAADEN) کے تحقیقی ادارے کے ڈائریکٹر ہیں اسی ٹیم نے شہزادے اور البسام کو خاصے عرصے تربیت بھی دی۔
ان کے مشن کا نازک ترین اور مشکل ترین تجربه روانی گیس کا تجربہ (lonized Gas Experiment) تھا۔ سعودی شاہی خاندان کے ایک فرد شہزادہ ترکی ابن سعود ابن محمد ال سعود کا ڈیزائن کرد یہ تجربہ ان کے پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالہ) Thesis) کا حصہ تھا اس کا مقصد زمین کے کرہ ہوا اور راکٹ کے انجنوں سے خارج شدہ گیسوں کے ملاپ کا مشاہدہ اور پیمائش کرنا تھا۔ زیادہ تر سائنسدانوں کا خیال ہے کہ خارج شدہ گیسیں کرہ ہوا پر بالکل اثر انداز نہیں ہوتیں۔ شہزادہ سلطان نے شٹل کے ایک اندرونی اور چھ بیرونی کیمروں کے ذریعہ ان گیسوں کا بغور مطالعہ کرنے کے لِئےتحقیقی مواد اکٹھا کر لیا. جس کا آج کل جدید ترین کمپیوٹروں کی مدد سے تجزیہ کر کے سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یوں خلاء میں گیسی نفوذ)گیس وفیوژن) کے عمل پیر روشنی ڈالی جا سکے گی۔
زمینی مشاہدے میں شہزادہ کو ۵۰۰ ای ایل ایم کیمرے اور انتہائی حساس ۷۰ایم ایم (Ektachrome) فلم کے ذریعہ سعودی عرب کے جنوب مغربی حصے کی تصاویر لینا تھی لیکن گرد کا طوفان بھی شہزادے کے عزم کے راستے میں حائل نہ ہو سکا اور وہ بہترین تصاویر لینے میں کامیاب ہو گئے۔ چھپے ہوئے آبی ذخائر اور معدنی وسائل کا پتہ بتانے کے ساتھ ساتھ تصاویر صحرائی ریت کی نقل و حرکت کے راز بھی افشاں کریں گی ۔
تیل بردار بحری جہازوں کے ڈوبنے سے تیل بہہ کر پانی کی سطح پر پھیل جاتا ہے۔ یوں جہاں ایک طرف آبی حیات کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو دوسری طرف ساحلی آبادی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے. شہزادہ سلطان کا دوسرا تجربہ تیل اور پانی کے ملاپ کا مشاہدہ تھا زوم لینس (zoom lens) استعمال کرتے ہوئے شہزادے نے سعودی، کویتی اور الجزائری تیل کے بارے میں یہ تجربات کئے اس طرح حاصل شدہ نتائج کا زمینی تجربات کے نتائج سے موازنہ کر کے شاید تیل بہنے کے مضر اثرات پر قابو پایا جاسکے۔
ایک مسلمان کی زندگی میں ہلال کی بہت اہمیت ہے اور اس معاملے میں، شہزادے کو ایک اور اعزاز حاصل ہے ۔ وہ پہلے مسلمان ہیں جنہوں نے ہلال کو اہل زمین سے پہلے دیکھا اور نہ صرف دیکھا بلکہ اس کی تصاویر بھی کھینچیں۔
شہزادہ سلطان کے خلائی مشن کا آخری تجربہ اور اس کی میراث

خلائی مشن کا آخری تجربہ انتہائی دلچسپ رہا۔ شہزادہ سلطان اور پیٹ بوڈری نے انتہائی حساس آلات کی مدد سے ایک دوسرے کے دل کی دھڑکن muscle tone ,reflexes یادداشت وغیرہ کو ریکارڈ کیا۔ خلاء کا آنا جانا انسانی جسم پر بری طرح اثر اندازہ ہوتا ہے اور بہت سے خلا نورد واپسی پر چکر، سر درد اور متلی کی شکایت کرتے ہیں. یوں اس تجربے کا مقصد خلائی سفر کے انسانی جسم پر اثرات کا تعین کرنا تھا جس سے طبی محققین کے لئے بیش بہا تحقیقی مواد اکٹھا ہوا :- مسلم دنیا کے لئے جہاں شہزادہ سلطان اور ان کا سفر قابل فخر ہیں وہاں یہ امر بھی قابلِ ستائش ہے کہ ان حساس اور مشکل خلائی تجربات سائنسدانوں نے ہی وضع کیا تھا شہزادے اور میجر البسام کی خلائی تربیت میں سعودی سائنس دانوں کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ چنانچہ بین الاقوامی سطح پر سعودی سائنسدانوں کی بڑی تعریف ہوئی ہے اور ان کی اعلیٰ صلاحیتوں کا اعتراف کیا گیا ہے ۔

سعودی تجربہ گا ہیں انتہائی جدید اور حساس آلات سے لیس ہیں۔ اس کا منہ بولتا ثبوت یو نیورسٹی برائے پیٹرولیم و معادن کا امیج پروسیسنگ سینٹر ہے جو دنیا کے بہترین تحقیقی اداروں میں شمار کیا جاتا ہے ، مصنوعی سیاروں اور خلائی شٹل سے حاصل شدہ زمین کی تصاویر سے معادن اور پانی وغیرہ کا پتہ لگانا اس کی اہم ترین صلاحیت ہے۔ یونیورسٹی برائے پیٹرولیم و معادن جو ظہران سعودی عرب میں واقع ہے کے سائنسدان طبیعیات، کیمیا، زراعت اور آبی حیاتیات کے شعبوں میں بھی مصروف تحقیق ہیں۔
خود شہزادہ سلطان کے الفاظ میں “عرب دنیا آج ایک تاریخی موڑ پر کھڑی ہے ۔ ہم تیل، دولت اور تیکنیکی ترقی کے مراحل سے گزر چکے ہیں اب ہماری نئی نسل باقی دنیا کو دوانتہائی اہم شعبوں میں جالینے والی ہے، سائنس اور تعلیم یہی دراصل وہ چابیاں ہیں جن سے روشن مستقبل کا دروازہ کھولا جا سکتا ہے اور میرے خلائی سفر نے محض اس دروازے پر دستک دی ہے”۔ جب شہزادہ سلطان زمین کے (ایک سو گیارہ) چکر لگانے کے بعد واپس آئے تو ان کا پر تپاک خیر مقدم کیا گیا۔ شٹل سے اترنے کے فوراً بعد ان کا طبی معائنہ ہوا، ناسا نے انہیں مشن کے دوران اعلی کارکردگی پر اسپیس پایونیرنگ میڈل اور میرٹ سرٹیفکیٹ سے نوازا۔ اخباری رپورٹروں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے اپنے سفر کا سب سے خوشگوار لمحہ اس وقت کو قرار دیا جب زمین کے گرد پہلے چکر میں انہوں نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے کی روشنیاں دیکھیں، لیکن نا قابل بیان خوشی انہیں زمین کے کرہ ہوا سے نکلتے اور واپس آتے وقت ہوئی۔ جاتے وقت اس لئے کہ وہ واقعی خلاء میں پہنچ گئے تھے اور باقاعدہ خلاء نورد کہلانے کے مستحق تھے اور واپسی میں اس لئے کہ بقول شہزادے ” ہم زمین سے چاہیں جتنا دور نکل جائیں ، انسان ہمیشہ یہ محسوس کرتا ہے کہ یہی اس کا اصلی گھر ہے نہ کہ خلاء یا کوئی اور جگہ۔
ایک ہیرو کا استقبال اور عالمی خراجِ تحسین: شہزادہ سلطان کا خلاء کے بعد کا سفر

سعودی عرب پہنچنے پر جس طرح شہزادہ سلطان کا استقبال ہوا اس کی نظیر انسانی تاریخ میں کم ملتی ہے طائف کے ہوائی اڈے پر اپنے بھتیجے کے استقبال کے لئے شاہ فہد خود بنفس نفیس موجود تھے۔ سعودی عرب کے اعلیٰ اعزاز آرڈرآف کنگ عبد العزیز اور شاہی فضائیہ میں میجر کے عہدے پر ترقی دے کر شاہ فہد نے مسلم دنیا کے اس پہلے خلاء نورد کے کارناموں کا اعتراف کیا ۔
طائف کے بعد شہزادہ فوراً مدینہ منورہ روانہ ہوگئے تاکہ سرور کائنات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس پر حاضری دی جاسکے۔ مدینہ کے بعد شہزادے نے ملک کے تمام بڑے بڑے شہروں کا دورہ کیا۔ ہر شہر میں یوں لگتا تھا جیسے پورا شہر امنڈ آیا ہو، گاڑیوں کے تاحد نگاہ جلوسوں اور نا قابل بیان جوش و ولولے سے سعودی عوام نے اپنے ہیرو کا خیر مقدم کیا۔ استقبالیوں انعاموں اور اعزازوں کے علاوہ سعودی حکومت نے اس تاریخی واقعے کے سلسلے میں دو ٹکٹ بھی جاری کئے۔ ۲۰ حلالہ کے ٹکٹ پر شٹل، سیارہ، مسجد کا مینارہ اور سعودی حکومت کے سرکاری نشان ثبت ہیں جب کہ ۱۱۵ حلالہ کے ٹکٹ کے ایک جانب خلائی شکل محو پرواز نظر آتی ہے اور دوسری طرف ناسا کا نشان اور مشن ۵۱ جی کے خلاء نوردوں کے نام لکھے گئے ہیں ۔

اول اول پوری دنیا اس اعلان سے چونک پڑی تھی کہ سعودی شاہی خاندان کے ایک فرد کو خلاء میں پہلے مسلمان کا اعزاز حاصل ہونے والا ہے۔ ۷ ا جون سے ۲۴ جون تک تقریباً دس ملین عرب ناظرین اپنے ٹی وی سیٹوں سے چمٹے شہزادے کی حرکت پر نظر رکھتے رہے۔ اُدھر اس لمبے تڑنگے خوش شکل اور پرکشش ہوابازکو دیکھنے کے لئے یورپ، ایشیاء، افریقہ اور جنوبی امریکہ میں کروڑوں نگاہیں ٹی وی اور اخبارات پر مرکو نہ رہیں۔
خود امریکہ میں جہاں شٹل کا آنا جانا زندگی کا معمول ہو گیا ہے ، اس مشن میں لوگوں نے خوب دلچسپی لی۔ اور شہزادے نے دنیا کو یہ کہہ کر مسحور کر دیا “زمین کو اتنی بلندی سے دیکھتے ہوئے دنیا اور خصوصاً مشرق وسطیٰ کے جھگڑے بہت عجیب لگتے ہیں جب آپ کو تمام حدیں اور سرحدیں نظروں سے اوجھل ہوتی نظر آر ہی ہوں” ۔
نیویارک میں عرب لیگ کے سفیر کلووس مقصود (Clovis Maksoud) نے شہزادہ سلطان کے خلائی سفر پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ عرب اب سائنسی دنیا میں تہلکہ مچا دیں گے۔ ڈاکٹر فاروق الباز کے خیال میں عرب نوجوانوں کی سوچ میں انقلاب بر پا ہو چکا ہے ۔ ڈاکٹر فاروق کا تعلق مصر سے ہے اور وہ پہلے عرب ہیں جنہوں نے ناسا کے تحت امریکی خلائی پروگرام میں حصہ لیا۔ چاند پر اپالو (Apollo)خلائی جہانہ کے اترنے کی جگہ کا تعین کرنے کا اعزازبھی انہیں حاصل ہے اور وہ ایک عرصہ تک خلاء نوردوں کو تربیت بھی دیتے رہے ہیں۔
ستمبر ۱۹۸۵ ء میں شہزادہ نے یورپ کا خیر سگالی کا دورہ کیا اس دورے میں سب سے زیادہ مصروف وقت انہوں نے فرانس میں گزارا پیرس، کینز اور کئی دوسرے بڑے شہروں کو شہزاد سے کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا لیکن پیرس کی ایک رنگارنگ تقریب سب پر بازی لے گئی۔ فرانس کے اعلیٰ حکام کی موجودگی میں شہزادہ سلطان اور باقی خلاء نوردوں کو فرانس کے اعلیٰ ترین اعزاز لیجن آف آنر (Legion of Honour) نوازا گیا۔ یاد رہے کہ اس اعزانہ کی ابتداء مشہور فاتح و جرنیل نپولین بونا پارٹ نے کی تھی فرانس کے وزیر اعظم نے اس موقع پر خلاء کے پرا من استعمال پر زور دیا۔
فرانس میں کچھ روز قیام کے بعد شہزادہ سلطان امریکہ کی طرف روانہ ہوئے اس مرتبہ وہ عرب تنظیم این اے اے اے نیشنل الیسوسی ایشن آف امریکن عربس کے مہمان تھے سعودی ائیر لائن “ سعودیہ” نے اپنا ایک گلف اسٹریم جیٹ طیارہ شہزادے کے لئے مخصوص کیا تھا۔ اس طیارے میں محو پرواز ہو کر وہ اپنے دورے کی پہلی منزل بوسٹن پہنچے بوسٹن میں اخباروں اور رسالوں کو انٹرویو دیتے استقبالئے اور دعوتیں کھاتے وقت گزرا۔ مشہو ر ا خبار بوسٹن گلوب کو انٹرویو دیتے ہوئے شہزادہ سلطان نے کہا “میں خلاء میں اکیلا نہیں گیا تھا بلکہ ایک بلین مسلمان میرے ساتھ گئے تھے”۔
واشنگٹن پہنچنے پر شہزادے نے صدر ریگن کو وہائٹ ہاؤس میں اپنا منتظر پایا: شہزادے نے صدر کو کئی تحفے دیئے اور کچھ وقت ان کے ساتھ گزارا۔ وہائٹ ہاؤس سے فارغ ہو کر شہزادے نے سینیٹر جیک گارن سے ملاقات کی سینیٹر گارن اپریل ۱۹۸۵ء میں ڈسکوری ہی سے خلاء میں گئے تھے یوں انہیں خلاء میں پہلے امریکی سینیٹر ہونے کا اعزانہ حاصل ہے۔ اس موقع پر خلاء میں پہلے امریکی جنہوں نے زمین کا چکر لگایا تھا اور اب سینیٹر ہیں یعنی جان گلین وہ بھی موجود تھے۔ اسی رات شہزادے کے اعزاز میں سعودی سفارتخانے نے ضیافت کا اہتمام کیا جس میں امریکہ کی اعلیٰ اور ممتاز شخصیات نے بھی شرکت کی۔ اگلے دن شہزادے کا گلف اسٹریم طیارہ ڈلاس کے ہوائی اڈے پر اترتا نظر آیا۔ دورہ ڈلاس کا اہم ترین پہلو سائنس انجنیئرنگ میگنٹ اسکول کے بچوں سے ملاقات تھی۔ ڈلاس میں بھی اخباری رپورٹروں نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا اور کئی صحافی شہزادے سے انٹرویو لینے میں کامیاب ہو گئے۔ دورہ امریکہ کا اختتام شہزادے کے ان میں این اے اے اے کے عشائیہ سے ہوا۔
شہزادہ سلطان کے اعلیٰ اخلاق، تحمل اور منکسر المزاجی نے امریکی پریس کو بے حد متاثر کیا۔ شہزادہ جہاں بھی گئے رپورٹروں کی لمبی قطاروں اور فوٹو گرافروں کی روشنیوں نے آنکھوں کو خیرہ کئے رکھا اپنے چند روزہ قیام کے دوران انہوں نے ان گنت انٹرویو دیئے اور ہر انٹرویو کو نمایاں ترین مقام دیا گیا ایک اخبار نے انہیں انتہائی مہذب، تمیزدار اور پر اعتماد کہا تو کسی اور کو وہ “اسلامی نشاۃ ثانیہ کے علمبردار” نظر آئے۔ خود شہزادے کو بھی اپنی اہمیت کا احساس تھا۔ جیسا کہ انہوں نے سی بی ایس (کو لمبیا براڈ کاسٹنگ سسٹم (کی ماریہ شریور کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا میرے خلائی سفر سے ماضی کی شاندار اسلامی تہذیب کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔
ایک ماہ بعد استنبول میں شہزادہ سلطان کا موضوع سخن پھر مسلم دنیا اور سائنس تھا۔ انہوں نے مسلم ممالک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ “اب وقت آگیا ہے کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچا دیں۔ جو ان کے شاندار ماضی کے شایان شان ہے”۔

سلطان بن سلمان سے ذہین بچوں کا انٹرویو
شہزادہ سلطان کے دورہ امریکہ کا اہم ترین پہلو سائنس انجنیئرنگ میگنٹ اسکول ڈلاس کے بچوں سے ملاقات تھی یہ ایک خاص اسکول ہے جہاں ۱۳۶ انتہائی ذہین بچے تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ جدید سائنس انجنیئرنگ اور کمپیوٹر وغیرہ کے شعبوں میں ماہر اور مشتاق اساتذہ کی زیر نگرانی یہ بچے تقریباً آدھا دن صرف کرتے ہیں۔
اسکول پہنچنے پر پرنسپل ہیلن شیفر اور بچوں نے شہزادے کا استقبال کیا۔ اسکول کی سیر کے بعد شہزادے نے اپنی زندگی کے بارے میں بتایا پروگرام کے مطابق پہلے مشن ۵۱- جی کے متعلق فلم دکھائی گئی لیکن شہزادے کی ہدایت پر ساؤنڈ ٹریک بند کر دیا گیا تا کہ وہ ہر لمحے اور ہر موڑہ کو اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں بیان کر سکیں۔ مثلاً انہوں نے بتایا کہ روانگی (لانچ) کے دوران انہوں نے ایک کیسٹ ریکار ڈراپنے ساتھ رکھا تھا تا کہ اس لمحے اپنے جذبات ریکار ڈ کر سکیں لیکن قوت ثقل اتنی زیادہ تھی کہ ان کی آواز تک نہ نکل سکی. اگر چہ قوت ثقل سے ہوا بازی میں ان کا سابقہ پڑ چکا تھا لیکن محض چند سیکنڈ کے لئے اور یہاں تین منٹ تک اسے جھیلنا پڑا۔ انہوں نے خلاء میں تین سیارے بھی چھوڑے تھے۔ “سیارہ چھوٹتے وقت شٹل ہل جاتی ہے۔ اس وقت ڈر تو نہیں لگتا مگر جھٹکا ضرور محسوس ہوتا ہے”شہزادے نے ہمہ تن گوش بچوں کو بتایا۔
فلم کے بعد جب شہزادے نے چند سوالات کے جواب دینے پر رضامندی ظاہر کی تو ان پر سوالوں کی بوچھاڑ ہو گئی لیکن انہوں نے بڑے تحمل سے ہر سوال کا جواب دیا اور یہ سلسلہ ایک گھنٹہ سے بھی زیادہ چلا۔ اس کے بعد شہزادے نے آٹو گراف بُکس اور اپنی تصاویر پر دستخط بھی کئے۔ شہزادہ سلطان سے پوچھے گئے بعض دلچسپ سوال اور ان کے دلچسپ جواب پیش کئے جارہے
ہیں ۔
سوال:- خلاء نور دکتنی قسم کے ہوتے ہیں؟ اور آپ کس قسم کے ہیں؟
شہزادہ : ۔ خلائی شٹل میں آپ کے پاس چار پوزیشنیں ہوتی ہیں۔ سب سے پہلا کمانڈر ہے۔ اس کے بعد ہوا باز ، مشن اسپیشلسٹ، اور پے لوڈ اسپیشلسٹ ہوتے ہیں، پھر خاص مبصّر
(آبزرور ) بھی ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ سینیٹر گارن تھے۔ میں اور فرانسیسی خلاء نورد پیٹ بوڈری پے لوڈ اسپیشلسٹ تھے. ہر پے لوڈاسپیشلسٹ کا انتخاب پرواز سے چھ مہینے پہلے ہوتا ہے اور وہ تربیت کے لئے ” ناسا آتا ہے لیکن ” نا سا آنے سے پہلے اس کی تربیت اس کے اپنے ملک میں بھی ہوتی ہے. میرا انتخاب پرواز سے تین مہینے قبل ہوا تھا اور جب میں ناسا پہنچا تو میرے پاس صرف ڈھائی مہینے بچے تھے۔ یوں مجھے ڈبل شفٹ میں کام کرنا پڑا۔ میرے ساتھ بہت سے سائنسدانوں نے بھی کام کیا۔ میں نے ڈھائی مہینے تک ہر روز سولہ گھنٹے تک تربیت حاصل کی۔ عموماً پے لوڈ اسپیشلسٹ کو چھ ماہ کی ٹریننگ درکار ہوتی ہے۔ لیکن ہوا باز اور کمانڈر کو اس سے بھی زیادہ عرصہ درکار ہوتا ہے یعنی کم از کم دو سال اور کبھی اس سے بھی زیادہ جب مشن کے لئے باری کا انتظار بھی کرنا پڑے لیکن ظاہر ہے کہ شٹل کی پروازیں اب روز مرہ کا معمول بن گئی ہیں اور یوں وہ جلد ہی محو پرواز ہو جاتے ہیں۔
سوال:- ٹیک آف کے وقت آپ کیا محسوس کر رہے تھے ؟
شہزادہ ۔ وہ تو میری توقعات سے بہت بڑھ کر تھا۔ گو میں نے بہت سخت تربیت حاصل کی تھی لیکن جب آپ میک ۱۳ یا ۱۴ )دس ہزار میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے اڑے جا رہے ہوں تو آپ کا وزن بڑھ کر تین گنا ہو جاتا ہے۔ ایک ہواباز اس کا مزا چکھ چکا ہوتا ہے لیکن جب آپ اوندھے لیٹ کر جارہے ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ وزن بڑھ کر ساڑھے چھ گنا ہو گیا ہے۔ طیارہ اڑتے ہوئے میرا وزن کبھی کبھی نو گنا ہو جاتا تھا لیکن وہاں تو یہ حالت تین منٹ تک برقرار رہتی ہے۔
سوال: کیا آپ کا پھر سے خلاء میں جانے کا ارادہ ہے ؟
شہزادہ : – امید تو ہے۔
سوال:۔ واپسی پر کتنے عرصہ بعد آپ زمین کی کشش نقل کے عادی ہو جاتے ہیں ؟
شہزادہ ۔ بہت اچھا سوال ہے اس میں تقریباً ڈیڑھ دن لگتا ہے۔ واپسی پر ہمارے طبی معائنے کی رپورٹ تمام عملوں کی رپورٹ سے بہتر تھی۔ لیکن زمین کا عادی ہو نا پھر بھی مشکل ہوتا ہے کیونکہ خلاء میں آپ “تیرتے” ہیں۔ اپنے طبی معائنے کے دوران میں بہت سے تاروں میں جکڑا ہوا تھا۔ میرے ہاتھ میں ایک گلاس تھا۔ شکر ہے کہ وہ کاغذ کا تھا فون پر اپنے والد سے بات کرتے کرتے میں نے گلاس ہاتھ سے چھوڑ دیا جیسا کہ خلاء میں عادت ہو گئی تھی اور ظاہر ہے کہ وہ زمین پر گر پڑا ۔
سوال – کیا خلاء میں بے وزن ہو کر آپ کو مزا آیا ؟
شہزادہ :- بہت مزا آیا ۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ خلاء میں بچوں کو بھی بھیجا جائے تاکہ وہ نت نئی شرارتیں سیکھ کر آئیں۔ لیکن یہ سب کھیل بھی نہیں ہے ۔ خاص کر شروع کے دو تین دن تو بہت مشکل ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جسم کے سارے مائع ( Fluids ) سینے اور سر میں جمع ہو رہے ہوں آپ کی کمر دکھتی ہے اور سر درد کرتا ہے۔ مجھے دوائیں کھانے کا کوئی شوق نہیں ہے اس لئے مجھے یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑا۔

سوال: خلاء میں سب سے خراب چیز کیا محسوس ہوئی؟
شہزادہ خلاء میں سب سے خراب چیز ہے سونا ! ہم سوئے اور آٹھ گھنٹے کی نیند پوری کی لیکن خلاء میں آپ جس طرح بھی سوئیں آرام نہیں ملتا یہاں بس آپ بستر پر لیٹے اور آرام کر لیا۔ وہاں بے وزن ہو کر آپ کوئی بھی پوزیشن اختیار کر لیں بات وہی ہے۔ بہترین یہ ہے کہ آپ کوئی اچھا سا کونا تلاش کر لیں اور کسی چیز سے اپنے آپ کو باندھ کر سو جائیں۔ لیکن دو تین دن کے بعد تو عادت ہو ہی جاتی ہے ۔
سوال:۔ آپ نے کتنے طلوع و غروب آفتاب دیکھے ؟
شہزادہ ۔ جب آپ ہر نوے منٹ کے بعد نہ مین کا چکر لگائیں گے تو ایک دن ( زمینی دن) میں سولہ مرتبہ سورج کو طلوع اور غروب ہوتا دیکھیں گے لیکن یہ بھی خلائی سفر کا حصہ ہے۔ صبح اٹھ کر آپ ناشتہ کے لئے حکم صادر نہیں کرتے. بس اٹھ کر کام شروع۔ آپ نے اپنے کاغذات سنبھالے اور کام میں لگ گئے اس لئے اٹھتے ہی دماغی طور پر چاق و چوبند ہونا پڑتا ہے اور ابھی آپ سوکر اٹھے اور آدھے گھنٹے بعد اندھیرا ہو گیا۔ پھر آپ کہتے ہیں؟ “میں تو ابھی اٹھا ہوں یہ کیا ہو گیا ؟”
سوال : – خلاء میں کس چیز کی کمی آپ کوشدت سے محسوس ہوئی ۔
شہزادہ ۔ خلاء میں خلاء کی کمی آپ کو شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ شٹل میں سات افراد سوار ہوتے ہیں ان کیمروں سے دھوکہ مت کھائیے جو ہر چیز کو بڑا کر کے دکھاتے ہیں۔ ناسا والے کہتے ہیں کہ بہت جگہ ہوتی ہے۔ کیونکہ آپ تیر سکتے ہیں لیکن جناب پھر بھی بہت ہجوم ہوتا ہے۔ واپسی پر میرا بس یہ دل چاہتا تھا کہ ایک بڑی سی سٹرک کے بیج پڑ کر سو جاؤں۔
سوال:۔ میں نے دیکھا کہ آپ دو گھڑیاں پہنے ہوئے تھے کیوں ؟
شہزادہ : بہت اچھے۔ شاید ہی کسی نے دیکھا ہو۔ میں نے دو گھڑیاں اس لئے پہنی تھیں کہ ایک فلوریڈا کا وقت بتارہی تھی جس سے میں نماز پڑھتا تھا اور دوسرا مشن کا وقت بتا رہی تھی۔
سوال: کیا یہاں تربیت کے دوران آپ کی بہت سے لوگوں سے دوستی ہو گئی تھی ؟
شہزادہ :- آپ کو شاید یہ معلوم ہو کہ میں نے امریکہ میں ہی ابتدائی تعلیم پائی ہے۔ میں بہت گھوما پھرا ہوں اور میں آپ کی تاریخ کے بارے میں بھی خاصا کچھ جانتا ہوں لیکن اس میں آپ میرا امتحان لینے مت بیٹھ جائے گا. خلاء میں آپ ایک چیز دیکھتے ہیں ۔ پہلے دو دن ہر خلاء نورد خوشی خوشی کہتا ہے وہ رہا میرا ملک ۔ وہ رہا میرا ملک تیسری دفعہ آپ کی توجہ صرف براعظموں پر مرکوز ہوتی ہے اور اب ملک نظر نہیں آتے اور پانچویں دن آپ کو کچھ بھی نظر نہیں آتا ! کم از کم ذہنی طور پر ۔ آپ صرف زمین کو دیکھتے ہیں۔ وہ محض ایک جگہ ایک گیند بن جاتی ہے اور اب میں کہیں بھی ہوں میں اس جگہ کو اپنا گھر سمجھتا ہوں صرف سعودی عرب ہی کو نہیں آپ کو معلوم ہے کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ رہنے کے لئے دوسری جگہیں ڈھونڈھی جائیں یعنی مریخ وغیرہ یہ سب فضول ہے ۔ میرا خیال ہے کہ رہنے کے لئے بہترین جگہ یہی ہے۔ خدا نے ہمیں یہ بہترین جگہ دی ہے کسی اور جگہ کی تلاش میں وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت۔ میرا خیال ہے کہ اس کی بہتری کے لئے وقت صرف کرنا چاہیے کیونکہ یہ راز مین ) واقعی بہت خوبصورت جگہ ہے ۔
اپنے ان باکس میں پہنچائی جانے والی اہم ترین خبروں کی جھلکیاں حاصل کریں۔