رضی الدین خاں – پاکستان میں سائنسی صحافت کے بانیوں میں سے ایک
رضی الدین خاں نے پاکستان میں سائنسی صحافت کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا۔ فروری ۱۹۸۰ میں انہوں نے معروف اور باوقار جریدہ سائنس ڈائجسٹ کا آغاز کیا، جو محدود وسائل اور ادارہ جاتی معاونت کی کمی کے باوجود مسلسل ۲۱ سال تک شائع ہوتا رہا۔ اس سے قبل وہ روزنامہ جنگ میں ہفتہ وار سائنسی صفحے “سائنس کی دنیا“ کے مدیر مقرر ہوئے، جو جلد ہی قومی سطح پر مقبول ہوگیا اور عام قارئین میں سائنسی شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بنا۔
ان کی ادارت میں سائنس ڈائجسٹ نے مستقبل بین موضوعات متعارف کروائے جیسے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ، خلائی تحقیق، روبوٹکس، جینیات اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز—جو اس وقت مقامی علمی حلقوں میں بہت کم زیرِ بحث تھیں۔ اس جریدے کی ایک نمایاں خصوصیت معروف سائنسی شخصیات سے کیے گئے خصوصی انٹرویوز تھے، جن میں ڈاکٹر رضی الدین صدیقی، ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی، ڈاکٹر عطاالرحمان اور پہلے مسلمان خلا نورد شہزادہ سلطان بن سلمان شامل ہیں۔
رضی الدین خان کا وژن محض اشاعت تک محدود نہیں تھا۔ وہ پاکستان اور مسلم دنیا کی دیرپا ترقی کے لیے سائنسی استعداد کو لازمی سمجھتے تھے، اور انہوں نے اپنی زندگی سائنسی شعور کو عام کرنے اور نئی نسل کے سائنسی مفکرین اور قلمکاروں کو اُبھارنے کے لیے وقف کر دی۔