
مریخ کیا ہے، اور یہ انسانوں کی تخیلاتی دنیا کو کیوں مسحور کرتا ہے؟
سرخ سیارے کے نام سے معروف مریخ، زمین کا قریبی سیارہ ہے اور خلا میں موجود زندگی کی تلاش میں سب سے موزوں امیدوار سمجھا جاتا ہے۔ کئی دہائیوں سے سائنس دان مریخ کو انسانی تحقیق کا اگلا سنگ میل قرار دے رہے ہیں — ایک ایسی جگہ جہاں ہم مستقبل میں اپنا دوسرا گھر بسا سکتے ہیں۔
سن 1960 کی دہائی سے اب تک مریخ کی تحقیق کے لیے 50 سے زائد مشنز بھیجے جا چکے ہیں، جن میں آربٹرز، لینڈرز اور روورز شامل ہیں۔ ناسا کے پرسیورینس(NASA’s Perseverance) اور کیوریوسٹی (Curiosity)روورز Rovers نے مریخ پر قدیم پانی اور ممکنہ طور پر قابلِ رہائش حالات کے شواہد دریافت کیے ہیں۔ تاہم، ان تمام سائنسی ترقیوں کے باوجود روبوٹک مشنز کی کچھ حدود ہیں وہ آہستہ حرکت کرتے ہیں، ان کی نقل و حرکت محدود ہوتی ہے، اور وہ صرف پہلے سے طے شدہ کام انجام دے سکتے ہیں۔ انسانی موجودگی کی بدولت فوری سائنسی فیصلے، گہرائی میں جا کر نمونہ جات حاصل کرنا، اور تیز رفتار دریافتیں ممکن ہوں گی، جو مریخ کی تاریخ اور اس کی رہائش پذیری کو سمجھنے کے عمل کو تیز کرے گی۔
آج، ہمارے ساتھ موجود ہیں ایلیسا کارسن Alyssa Carson ایک باہمت اور باصلاحیت نوجوان خلائی شوقین خاتون جنہیں پہلے انسان کے طور پر مریخ پر قدم رکھنے کی ممکنہ امیدوار کے طور پر عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ “ناسا بلو بیری”NASA Blueberry کے کال سائن سے معروف ایلیسا نے بچپن سے ہی خلا کی تربیت کا آغاز کیا اور ناسا کے تمام بین الاقوامی اسپیس کیمپس میں شرکت کی۔ وہ اپلائیڈ ایسٹروناؤٹکس، واٹر سروائیول، جی فورس ٹریننگ، اور ایڈوانس روبوٹکس کی سند یافتہ ہیں۔ اس وقت وہ اسپیس اینڈ پلانیٹری سائنس میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں، اور ان کی تحقیق کا مرکز ایسٹرو بایولوجی (Astrobiology)ہے یعنی کائنات میں زندگی اور مریخ پر زندگی کے امکانات کا مطالعہ۔
آیئے سنتے ہیں اس نوجوان ایسٹروناؤٹ کی زبانی جو ستاروں کو چھونے اور مریخ پر تاریخ رقم کرنے کے سفر پر گامزن ہے۔
آپ کے کال سائن ’ناسا بلو بیری‘ کے بارے میں اکثر لوگ پوچھتے ہیں۔ کیا آپ اس کی کہانی شیئر کر سکتی ہیں کہ آپ کو یہ نام کیسے ملا؟ عموماً کال سائنز کا تعلق فوج یا فضائیہ سے ہوتا ہے، تو آپ کے لیے یہ کچھ غیرمعمولی لگتا ہے، خاص طور پر چونکہ آپ کا کوئی فوجی پس منظر نہیں ہے۔
ایلیسا:
جب میں نے خلا میں دلچسپی لینا شروع کی، تو مجھے اسپیس کیمپ جانے کا بہت شوق تھا۔ وہیں پر میں نے پہلی بار کال سائنز کے بارے میں سنا، خاص طور پر جب میں نے کچھ خلابازوں سے ملاقات کی، جو کہتے تھے: “میرا کال سائن یہ ہے۔” مجھے یہ بہت دلچسپ لگا۔
ایک بار جب میں گئی، تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم سب کو کال سائنز دیے جائیں گے۔ میں نیلے رنگ کا فلائٹ سوٹ پہننا چاہتی تھی، جیسے سب نے پہنا ہوتا ہے، لیکن میری جسامت کے مطابق کوئی بھی سوٹ فِٹ نہیں آتا تھا۔ آخرکار، میرے والد نے ایک نقلی سوٹ ڈھونڈا، جو رنگ میں دوسروں سے بالکل مختلف اور بہت گہرا نیلا تھا۔ میں سب سے الگ دکھائی دیتی تھی، اور وہ سب مجھے ’بلیوبیری‘ کہنے لگے۔
جب میں اگلی بار اسپیس کیمپ گئی، تو سب نے کہا: “دیکھو، بلیوبیری واپس آ گئی!” یہ نام وہیں سے میرے ساتھ جُڑ گیا۔ جب میں نے پہلی بار اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائے، جو اصل میں صرف فیملی کے لیے تھے، تو میں نے سوچا کہ چونکہ سب مجھے بلیوبیری کہتے ہیں، تو یہی نام رکھ لیتی ہوں۔
ابتدائی دنوں میں زیادہ تر خلاباز فوج سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے کال سائنز کا رواج اسپیس انڈسٹری میں بھی آ گیا۔ جو فوجی پائلٹ خلاباز بنے، وہ یہ روایت اپنے ساتھ لائے۔ اب تقریباً ہر خلاباز کو کسی مشن کی تیاری کے دوران ایک کال سائن دیا ۔
کیا آپ ہمیں ابتدا میں لے جا سکتی ہیں؟ آپ نے مریخ پر جانے کا خواب کب دیکھنا شروع کیا، اور اس کا محرک کیا تھا؟ آپ نے کیسے فیصلہ کیا کہ آپ کو وہیں جانا ہے؟
ایلیسا:
مجھے ہمیشہ سے خلا میں دلچسپی رہی ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ کبھی ایسی کوئی حالت ہو جب مجھے اس میں دلچسپی نہ ہو۔ میں نے خلا سے متعلق کتابیں، ویڈیوز اور دیگر چیزیں مانگنی شروع کر دی تھیں۔ میرے والد اور میں جو کچھ یاد کر سکتے ہیں، وہ ایک کارٹون ہے جو میں بچپن میں دیکھا کرتی تھی۔ اس کا ایک قسط ’مشن ٹو مارس‘ کے عنوان سے تھا، اور میرے پاس اس قسط کا ایک پوسٹر بھی تھا۔ غالباً وہی پہلا موقع تھا جب میں نے مریخ یا خلا کے بارے میں سنا۔
میں نے اپنے والد سے خلا سے متعلق کئی سوالات پوچھنے شروع کر دیے کیونکہ، آپ جانتے ہیں، بچے سمجھتے ہیں کہ والدین سب کچھ جانتے ہیں۔ لیکن انہیں خلا کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ انہوں نے صرف چاند پر جانے والی بات کی، اور کہا کہ مزید چیزیں بھی ممکنہ طور پر ہوں گی، مگر زیادہ تفصیل نہ بتا سکے۔ شاید وہی لمحہ میرے تجسس کا آغاز تھا۔ اس کے بعد جتنا کچھ میں نے سیکھا، میری دلچسپی بڑھتی گئی، اور میں مزید جاننے کی خواہش رکھتی تھی۔
جہاں تک میری عمر کی بات ہے، جب میں نے وہ کارٹون دیکھا، تو وہ ’دی بیکیارڈیگنز‘ (The Backyardigans)تھا جو نکلوڈیئن(Nickelodeon) پر آتا تھا۔ ہمیں بعد میں یہ سب یاد آیا، اس لیے درست عمر نہیں معلوم، لیکن شاید میں تین سے پانچ سال کے درمیان رہی ہوں گی۔ یہ سب بہت شروع سے تھا۔

آپ کے خلائی سفر یا سائنس میں کن شخصیات نے آپ کو متاثر کیا، اور ان کے اثرات آپ کے سفر پر کیسےاثرانداز ہوئے؟
ایلیسا:
مجھے ہمیشہ خاص طور پر خواتین خلابازوں سے بہت تحریک ملی ہے۔ ان کی کہانیاں سننا اور انہیں رول ماڈل کے طور پر دیکھنا بہت متاثرکن رہا ہے۔ جب میں نو سال کی تھی، تو میری ملاقات سینڈرا میگنس (Sandra Magnus)سے ہوئی، جو ایک شٹل ایسٹروناؤٹ تھیں۔ وہ پہلی خاتون خلاباز تھیں جنہوں نے بیٹھ کر مجھے بتایا کہ وہ نو سال کی عمر میں کیسے متاثر ہوئیں۔ ان کی کہانی اور سفر نے مجھے بے حد متاثر کیا۔
میری کوشش ہوتی ہے کہ جب بھی کسی سے ملاقات کا موقع ملے، میں ان سے یہ ضرور پوچھوں کہ انہوں نے کیسے اپنا خواب پورا کیا اور کیا مراحل طے کیے۔ جیسے جیسے میں بڑی ہوتی گئی، اور بھی کئی متاثر کن شخصیات سے ملاقات ہوئی۔ ڈوٹی میٹکالف لنڈن برگر (Dottie Metcalf-Lindenburger)سے میری کئی بار ملاقات ہوئی، اور وہ ہمیشہ بے حد مہربان اور حوصلہ افزا رہی ہیں۔
اب صورتحال کچھ عجیب سی لگتی ہے، کیونکہ ان میں سے کچھ اب کمرشل ایسٹروناؤٹ بن چکی ہیں۔ میں انہیں ذاتی طور پر جانتی ہوں، اور یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ لوگ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل رہے ہیں اور خلا زیادہ قابلِ رسائی بنتا جا رہا ہے۔
آئیے آپ کی تعلیم اور سائنسی پس منظر پر بات کرتے ہیں۔ آپ ایسٹرو بایولوجی میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ ایسٹرو بایولوجی کیا ہے؟
ایلیسا:
میری پی ایچ ڈی مجموعی طور پر خلائی اور سیاروی سائنس (Space & Planetary Science) میں ہے، لیکن میری ساری تحقیق کا تعلق ایسٹرو بایولوجی سے ہے۔ میرے تمام تحقیقی موضوعات کا تعلق اس شعبے سے ہے، خاص طور پر مریخ پر ماضی میں زندگی کے امکانات کے حوالے سے۔
میں مائیکرو بایولوجی اور ایسٹرو بایولوجی کے امتزاج میں کام کر رہی ہوں، جہاں ہم مختلف ٹیسٹ کرتے ہیں کہ کیا کوئی خرد حیاتیات مریخ کے حالات میں زندہ رہ سکتی ہے؟ ان حالات میں دباؤ، درجہ حرارت، خشکی وغیرہ شامل ہوتے ہیں — اور ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا زندگی کے لیے ممکنہ مواقع تھے۔
ظاہر ہے، ہمیں یقین ہے کہ مریخ پر کبھی پانی زیادہ مقدار میں موجود تھا، اور ہو سکتا ہے کہ کسی جاندار نے اس پانی سے فائدہ اٹھایا ہو۔ ہم اسی خیال کے تحت تجربات کرتے ہیں، اور یہی میری تحقیق کا بنیادی مرکز ہے۔
آپ نے اپنی تربیت کے دوران کون سی جدید یا دلچسپ ٹیکنالوجیز استعمال کیں؟ اور آپ کے خیال میں کون سی ٹیکنالوجی مستقبل کے خلائی مشنز پر سب سے زیادہ اثر ڈالے گی؟
ایلیسا:
ہاں، یہ واقعی بہت دلچسپ سوال ہے۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ مجھے ایک حد تک سٹیزن سائنس (Citizen Science) کے تحت اسپیس سوٹ کے متعلق کام کرنے کا موقع ملا، خاص طور پر اسکول سے ہٹ کر۔ مجھے یہ حصہ بہت دلچسپ لگا کیونکہ اسپیس سوٹ بہت پیچیدہ ہوتے ہیں، اور یہ حیرت انگیز بات ہے کہ ہم ایسے لباس تیار کر چکے ہیں جو ہمیں خلا میں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
مجھے ان پر کام کرنے کا موقع ملا، خاص طور پر فائنل فرنٹیئر (Final Frontier) کے اسپیس سوٹ ڈیزائن ٹیم کے ساتھ۔ ہم ان سوٹس کی ابتدائی ٹیسٹنگ کر رہے تھے مثلاً کیا اس میں یہ حرکت ممکن ہے، کہاں بہتری درکار ہے؟ یہ سب کچھ بہت حیرت انگیز تھا، اور ان کے خیالات اور ڈیزائن سوچ کے بارے میں بات چیت کر کے بہت کچھ سیکھا۔
یہ ان بہترین تجربات میں سے ایک تھا، جس میں مجھے گہرائی سے دیکھنے اور سیکھنے کا موقع ملا کہ اس قسم کی ٹیکنالوجی کے پیچھے سوچ کیا ہے۔
آپ کئی زبانیں سیکھ رہی ہیں۔ اس کے پیچھے کیا محرک ہے؟ آپ اتنی زبانیں کیوں سیکھ رہی ہیں؟ کیا یہ آپ کا ذاتی انتخاب ہے یا آپ کے مشن کا حصہ؟ آپ چینی، فرانسیسی اور عربی سیکھ رہی ہیں۔ کیا آپ اس کے علاوہ بھی کوئی زبان سیکھ رہی ہیں؟
ایلیسا:
شروع میں اس کا تعلق میرے ذاتی خواب یا مشن سے نہیں تھا۔ بس خوش قسمتی سے میرے گھر کے قریب ایک بین الاقوامی اسکول موجود تھا، اور میرے والد کے ایک قریبی دوست کی بیٹی وہاں پڑھتی تھی۔ جب میں اسکول جانے کی عمر کو پہنچ رہی تھی، یہ اسکول صرف چند سال پہلے ہی کھلا تھا۔
میرے والد نوجوانی میں فری لانس ویڈیوگرافر کے طور پر کام کرتے تھے اور دنیا کے کئی ممالک میں سفر کر چکے تھے۔ لیکن اکثر اوقات زبان نہ جاننے کی وجہ سے لوگوں سے رابطہ مشکل ہو جاتا تھا۔ اس لیے وہ زبان سیکھنے کے جذبے سے بہت متاثر تھے اور چاہتے تھے کہ میں بھی یہ تجربہ حاصل کروں۔
میں نے کنڈرگارٹن سے وہاں تعلیم حاصل کرنا شروع کی، اور وہ اسکول مکمل طور پر انگریزی، فرانسیسی، ہسپانوی جیسی زبانوں میں تدریس فراہم کرتا تھا۔ کچھ عرصہ تک مجھے مختلف مضامین مختلف زبانوں میں پڑھائے جاتے تھے جیسے انگریزی ریاضی، فرانسیسی ریاضی، اور ہسپانوی ریاضی۔ بعد میں یہ صرف زبانوں کے کورسز تک محدود ہو گئے، لیکن یہ پورا تجربہ بہت علمی اور دلچسپ تھا۔
اساتذہ مختلف ملکوں سے ہوتے تھے اور اکثر ذاتی کہانیاں سناتے تھے جیسے “جب میں چھوٹی تھی، تو ناشتہ میں یہ کھاتی تھی۔” ثقافت کو سیکھنا زبان سیکھنے کو مزید دلچسپ بنا دیتا تھا۔ ان کے بچپن کی کہانیاں اور تجربات سن کر سیکھنے کا جذبہ مزید بڑھ جاتا تھا۔
اس اسکول کے ذریعے میں نے انگریزی، فرانسیسی اور ہسپانوی زبانیں باقاعدہ سیکھیں، اور کچھ عرصہ کے لیے مینڈرن چینی زبان بھی پڑھی۔ فی الحال میں کسی نئی زبان پر تو کام نہیں کر رہی، لیکن ذاتی سفر کے دوران مختلف زبانوں کے کچھ جملے اور الفاظ ضرور سیکھ لیتی ہوں۔ مثلاً، جب میں ترکی میں تھی، تو کچھ مقامی لڑکیوں سے بات چیت کے دوران ہم نے ایک دوسرے کو مختلف الفاظ سکھانے کی کوشش کی۔ تو اس طرح کے چھوٹے تجربات تو ہوتے رہے، لیکن اس وقت کوئی باقاعدہ مطالعہ جاری نہیں ہے۔

آپ نے خلائی تربیت کا آغاز کس عمر میں کیا، خاص طور پر ناسا یا کسی متعلقہ ادارے کے ساتھ؟
ایلیسا:
جب میں چھوٹی تھی تو میں مختلف خلائی کیمپس میں شرکت کر رہی تھی تاکہ مختلف تجربات حاصل کر سکوں۔ مجھے خلا سے دلچسپی تو تھی، لیکن اس وقت یہ معلوم نہیں تھا کہ کس شعبے میں جانا ہے — کیا میں پائلٹ بنوں، سائنسدان، یا کچھ اور؟ اس لیے میں نے مختلف امکانات کو دریافت کیا۔
جب میں 13 سال کی ہوئی، تو میں نے زیادہ سنجیدگی سے شامل ہونا شروع کیا۔ کیمپس تو مزے کے لیے تھے، لیکن میں سائنسی پہلو کا حصہ بننا چاہتی تھی۔ میں کم عمری سے تحقیق میں دلچسپی رکھتی تھی اور سائنسی دنیا میں حقیقی کردار ادا کرنا چاہتی تھی۔
آخرکار میں نے “پراجیکٹ پاسم” Project PoSSUM کے بارے میں جانا، جو اب “انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار آسٹروناٹیکل سائنسز” (IIAS) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک سٹیزن سائنس تنظیم ہے، جس میں میں نے کم عمر میں شرکت شروع کی۔ ان کا رویہ بہت تعاون پر مبنی تھا اور مجھے جلدی سے شامل ہونے کا موقع ملا۔
جب میں 15 سال کی ہوئی، تو میں سائنسی سرگرمیوں میں زیادہ ملوث ہو گئی۔ ابتدا نوکٹیلیوسینٹ بادلوں پر تحقیق سے ہوئی، جو زمین کی بالائی فضا میں پائے جاتے ہیں، اور بعد میں یہ کام اسپیس سوٹ اور دیگر خلائی نظاموں تک بڑھا۔ ان کی ریسرچ پروجیکٹس وقتاً فوقتاً بدلتے رہتے تھے، اور ان کے ساتھ کام کرنا میرے لیے بہت اہم تجربہ تھا کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ میں حقیقی سائنس میں اپنا حصہ ڈال رہی ہوں۔
جہاں تک ناسا کا تعلق ہے، تو میں نے کبھی باضابطہ طور پر ان کے لیے کام نہیں کیا۔ البتہ میں نے کچھ ایسے منصوبوں پر کام ضرور کیا ہے جو ناسا کے ساتھ منسلک تھے۔
اب تک آپ نے کس قسم کی تربیت حاصل کی ہے؟ کیا کوئی ایسا مرحلہ آیا جو بہت مشکل یا خوفناک ہو؟ کیا آپ کوئی ایسا تجربہ شیئر کرنا چاہیں گی جو آپ کے لیے خاص طور پر چیلنجنگ رہا ہو؟
ایلیسا:
میں نے اپنی پوری تیاری اس طرح کی کہ میں کسی نہ کسی صورت میں خلائی صنعت کا حصہ بننا چاہتی تھی۔ میں نے مختلف خلابازوں سے بات کی اور سیکھا کہ ان کے لیے کون سے تجربات مفید رہے۔ پھر میں نے ویسا ہی کچھ کرنے کی کوشش کی، یا وہ کیا جو مجھے لگا کہ اس سے فائدہ ہو گا۔
میں نے اسکوبا ڈائیونگ کا لائسنس حاصل کیا، پرائیویٹ پائلٹ بنی، اور اسکائی ڈائیونگ بھی کی — یہ سب سرگرمیاں کسی نہ کسی حد تک مائیکرو گریوٹی یعنی خلائی وزن کی نقل کرتی ہیں۔
سٹیزن سائنس پروگرام کے تحت مجھے واٹر سروائیول ٹریننگ میں بھی حصہ لینے کا موقع ملا۔ مثال کے طور پر، جب کوئی کیپسول خلا سے واپس آتا ہے، تو آپ سیکھتے ہیں کہ اسپیس سوٹ پہن کر کیسے تیرنا ہے اور ان حالات میں کیسے زندہ رہنا ہے۔ یہ خاصا جسمانی طور پر مشکل تجربہ تھا۔ ہم یہ بھی جانچ رہے تھے کہ آپ ٹیم کے طور پر اور انفرادی طور پر یہ سب کچھ سنبھال سکتے ہیں یا نہیں۔
مائیکرو گریوٹی پروازیں بھی شاندار تجربات تھیں۔ میں نے ایک پرواز تحقیق کے لیے کی، اور ایک تفریحی مقصد کے لیے۔ یہ جاننا بہت زبردست تھا کہ خلا میں وزن نہ ہونے کا احساس کیسا ہوتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سیکھا کہ کیسے ہم اس ٹیکنالوجی کو زمین پر استعمال کر کے سائنسی منصوبے تشکیل دے سکتے ہیں۔

آپ اتنی کم عمری میں ایک انتہائی مشکل ہدف کے تعاقب میں ہیں۔ اس راستے میں آپ کو ذاتی طور پر کن قربانیوں کا سامنا کرنا پڑا؟
ایلیسا:
میرے خیال میں سب سے بڑی قربانی وقت کا تقاضا تھا، اور بعض اوقات ایک عام یا “نارمل” زندگی سے ایک خاص دوری بھی۔ ظاہر ہے یہ وہ راستہ تھا جسے میں خود اپنانا چاہتی تھی، لیکن اس کے لیے بہت زیادہ وقت دینا پڑا۔
میرے والد نے مجھے وقت کی تقسیم کا ہنر بہت اچھے طریقے سے سکھایا۔ میری زندگی کا ہر لمحہ خلا سے متعلق نہیں تھا — ایسا نہیں تھا کہ میں 24 گھنٹے خلا کے بارے میں ہی بات کرتی رہتی۔ کچھ خاص مواقع یا گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران ہم خلا سے متعلق سرگرمیوں پر زیادہ توجہ دیتے۔ ان مخصوص اوقات میں میں پوری طرح خلا پر مرکوز ہو جاتی۔
لیکن روزمرہ زندگی اور اسکول میں سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہا۔ میرا خیال ہے کہ اسی توازن نے مجھے مدد دی۔ اکثر مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ میں تھکن یا بیزاری سے کیسے بچتی ہوں، یا سالوں بعد بھی خلا سے دلچسپی کیسے برقرار رکھتی ہوں — تو اس کی بنیادی وجہ یہی توازن ہے۔ جب بھی میں خلا سے متعلق کوئی کام کرتی، تو وہ ایک مخصوص اور پرجوش وقت ہوتا، بوجھ نہیں۔ یہی تقسیم میرے لیے سب کچھ پائیدار بنانے میں بہت اہم رہی۔
کیا آپ کی تربیت خاص طور پر مریخ پر موجود ماحولیاتی اور نفسیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ترتیب دی گئی ہے؟
ایلیسا:
میرے خیال میں مریخ مشن کے لیے جو کچھ درکار ہے، وہ اب بھی خاصا غیر یقینی ہے۔ ابھی بھی بہت کچھ ایسا ہے جسے ہم جانتے نہیں۔ نفسیاتی پہلو پر خاصی تحقیق ہوئی ہے، جیسا کہ اسکاٹ کیلی کا ایک سال خلا میں گزارنے کا تجربہ — جبکہ ان کا جڑواں بھائی زمین پر موجود تھا — جس سے براہِ راست تقابلی جائزہ لیا گیا۔
ہم مریخ پر زندگی کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں۔ مریخ مشن کے حوالے سے بہت سے سوالات ابھی تک حل طلب ہیں۔ اسی وجہ سے مجھے خلا سے متعلق تحقیق اور سائنسی شعبے میں کام کرنا دلچسپ لگتا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ مریخ مشن کے انتظامات میں اب بھی چیلنجز موجود ہیں، اور ایسی تحقیق دیکھ کر خوشی ہوتی ہے جو مستقبل میں انسانی خلائی پروازوں میں مدد دے سکتی ہے۔
میرا ماننا ہے کہ جب چاند کی جانب طویل المدتی مشن شروع ہوں گے، تو کچھ غیر یقینی پہلو مزید واضح ہو جائیں گے۔
کیا مریخ مشن کے لیے کوئی متوقع وقت دیا گیا ہے یا کوئی حتمی تاریخ طے کی گئی ہے؟
ایلیسا:
کافی عرصے سے منصوبہ یہی تھا کہ مریخ مشن 2030 کی دہائی میں کسی وقت ممکن ہو۔ لیکن موجودہ صورتحال دیکھیں تو ناسا کی توجہ اس وقت آرٹیمس پروگرام پر ہے، جس کا مقصد چاند پر دوبارہ جانا ہے۔ ان کا ارادہ ہے کہ 2028 تک چاند پر مستقل موجودگی قائم کی جائے — یعنی کسی قسم کا بیس کیمپ یا رہائشی نظام۔
آرٹیمس مشن 2، جو پہلا انسانی مشن ہو گا، میں کچھ تاخیر ہوئی ہے، لہٰذا ہمیں دیکھنا ہو گا کہ اس کے بعد شیڈول میں کیا تبدیلی آتی ہے۔ جب وہ کامیاب ہو گا، تو مریخ مشن کے لیے بھی ایک واضح ٹائم لائن سامنے آ سکتی ہے۔
یقیناً یہ صرف ناسا کے بیانات پر مبنی بات ہے۔ اسپیس ایکس جیسی کمپنیاں بھی اپنے مشنز پر کام کر رہی ہیں، اور ان کے مقاصد مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ کافی حد تک اس بات پر منحصر ہے کہ کون اس مشن کی قیادت کر رہا ہے اور کس رفتار سے کام کر رہا ہے۔ اسپیس ایکس کئی مرتبہ مریخ مشن کی خواہش کا اظہار کر چکی ہے۔
یہ ایک تیزی سے بدلتا ہوا میدان ہے، خاص طور پر حالیہ برسوں میں۔ خلا میں دلچسپی بڑھی ہے اور کئی نئی کمپنیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ میرے خیال میں ہم ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ اتنے زیادہ کھلاڑیوں کے شامل ہونے سے مستقبل کیا شکل اختیار کرتا ہے۔

آپ نے ذکر کیا کہ 2028 تک چاند پر ایک بیس کیمپ قائم ہو سکتا ہے۔ تو کیا مریخ کے لیے سفر براہ راست زمین سے ہو گا یا چاند سے؟ یہ منصوبہ کس طرح سے ترتیب دیا گیا ہے؟ میں اس عمل کو بہتر سمجھنا چاہوں گی۔
ایلیسا:
چاند پر موجودگی کا منصوبہ مریخ مشن سے بالکل الگ ہے۔ یہ ایک مختلف ہدف ہو گا، لیکن مقصد یہ ہو گا کہ پہلے چاند پر طویل المدتی مشن کیے جائیں تاکہ مریخ مشن کے لیے تیاری ممکن ہو کیونکہ مریخ بہت زیادہ دور ہے۔
یہ مشن دراصل ایک سلسلہ ہو گا، جو کہ آزمائشی مشنز کی طرح کام کریں گے۔ مزید یہ کہ چاند، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے علاوہ ایک نیا تحقیقاتی پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔ چاند وہ اگلا مقام ہو گا جہاں ہم طویل مدتی تحقیق اور تجربات انجام دے سکیں گے۔
آپ کو مریخ پر لے جانے کے لیے اس وقت کون سا خلائی جہاز یا راکٹ سسٹم متوقع ہے؟ کیا یہ اسپیس ایکس ہو سکتا ہے، لاک ہیڈ مارٹن کا اوریون، یا ناسا کا اپنا تیار کردہ خلائی نظام؟ چونکہ وقت ایک اہم عنصر ہے اور سفر کی مدت بھی طویل ہے، کیا اس پر پہلے ہی غور کیا جا رہا ہے؟
ایلیسا:
کافی عرصے سے یہ تصور موجود ہے کہ ناسا کا نیا اسپیس لانچ سسٹم (SLS) ہی وہ راکٹ ہو گا جو انسان کو دوبارہ چاند پر لے جائے گا اور پھر مریخ کی جانب بھیجنے کے لیے استعمال ہو گا۔ جب یہ پروگرام شروع ہوا تھا تو انہوں نے پرانے شٹل انجنوں کو دوبارہ استعمال کے قابل بنا کر اس مشن کا حصہ بنایا۔ اس وقت یہ بحث چل رہی تھی کہ مریخ کا سفر تقریباً چھ ماہ میں مکمل ہو سکتا ہے۔
اب بہت سی گفتگو اس بات پر ہو رہی ہے کہ بہتر انجن اور جدید ٹیکنالوجی تیار کی جائے۔ میرا خیال ہے کہ مقصد یہی ہے کہ اسی راکٹ پر نئے انجن نصب کیے جائیں تاکہ چھ ماہ کا سفر چھ ہفتوں میں مکمل کیا جا سکے۔ یہ مریخ مشن کو حقیقت کے قریب لے آئے گا۔
چھ ماہ کا سفر مشن کو بہت طویل اور چیلنجنگ بنا دیتا ہے کیونکہ وہاں قیام اور واپسی میں کافی وقت درکار ہو گا۔ میری رائے میں ہمیں انتظار کرنا ہو گا جب تک کہ ایسے نئے انجن تیار نہ ہو جائیں جو اس ٹائم لائن کو کم اور قابلِ عمل بنا سکیں۔

کیا یہ مشن تنہا ہو گا یا آپ ایک ٹیم کا حصہ ہوں گی؟ اور یہ کس انداز میں ہو گا؟ کیا خلائی جہاز خودکار طریقے سے کام کرے گا یا آپ خود اسے کنٹرول کریں گی؟ کیا آپ اس حوالے سے خصوصی تربیت حاصل کر رہی ہیں؟
ایلیسا:
میرے خیال میں مریخ مشن کے لیے عمومی منصوبہ یہ ہی رہا ہے کہ ایک نسبتاً بڑی ٹیم ہو، شاید چھ سے سات افراد پر مشتمل۔ جب ہم پہلی بار چاند پر گئے تھے تو وہ تین افراد کا مشن تھا، مگر مریخ مشن کی پیچیدگی کے پیشِ نظر ٹیم کا بڑا ہونا ضروری ہے۔ اس ٹیم میں ایک پائلٹ، ایک میڈیکل ماہر، اور دیگر ضروری مہارتوں کے افراد شامل ہونے چاہییں۔
میرے لیے، خلا ہمیشہ ایک دلچسپ چیز رہی ہے، اور مریخ وہ اگلا قدم تھا جس کا میں نے بچپن میں تصور کیا۔ میں جانتی ہوں کہ کون سے مشن ہوں گے، کن لوگوں کا انتخاب ہو گا یہ سب میرے اختیار میں نہیں، مگر میں کسی بھی حیثیت سے اس مشن کا حصہ بننے پر خوش ہوں گی۔
جیسے جیسے میں بڑی ہوئی ہوں، میری خلا کی صنعت سے وابستگی میں گہرائی آئی ہے، اور میں کسی بھی شکل میں اس کا حصہ بننا چاہتی ہوں۔ آگے کیا ہوتا ہے، یہ وقت بتائے گا۔
مریخ کے ماحول میں 95.3 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے جبکہ آکسیجن صرف 0.13 فیصد۔ تو مریخ پر لینڈنگ کے بعد آپ وہاں کیسے قیام کریں گی؟ مشن کی مدت اور ساخت کیا ہو گی؟
ایلیسا:
جی ہاں، مشن کی منصوبہ بندی میں ایک بڑی بات مریخ اور زمین کے مداروں کی پوزیشن ہے۔ جب مریخ زمین کے قریب ترین ہو، تب مشن کا آغاز ہو تاکہ سفر کم سے کم وقت میں مکمل ہو اور واپسی آسان ہو۔ اگر لانچ کا وقت غلط ہو، تو سفر بہت طویل ہو سکتا ہے، اس لیے وقت کا تعین بہت اہم ہے۔
جہاں تک آکسیجن اور زندگی کے لیے ضروری سہولیات کا تعلق ہے، تو ہم بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز جیسے آکسیجن سکربرز اور CO₂ کو آکسیجن میں تبدیل کرنے والے نظام استعمال کریں گے۔ وسائل کا بار بار استعمال کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور ISS اس حوالے سے بہترین ماڈل فراہم کرتا ہے۔ ان ہی تصورات کو مریخ مشن کے لیے ڈھالا جائے گا۔
جب آپ مریخ پر اتریں گی، تو کیا باقی ٹیم مدار میں موجود رہے گی یا سب نیچے آئیں گے؟ مشن مکمل ہونے کے بعد واپس خلائی جہاز میں کیسے واپسی ہو گی؟ مریخ پر لینڈنگ اور واپسی کا عمل خاصا مشکل معلوم ہوتا ہے — کیا آپ وضاحت کر سکتی ہیں؟
ایلیسا:
جی ہاں، یہ ترتیب چاند مشنز سے ملتی جلتی ہو سکتی ہے، جہاں ایک خلائی جہاز مدار میں رہتا تھا اور دو خلا باز لینڈر کے ذریعے سطح پر اترتے تھے۔ مریخ مشن کے لیے یہ اس بات پر منحصر ہو گا کہ مشن کی مدت اور مقاصد کیا ہوں۔
کچھ سائنسی سرگرمیاں ایسی ہیں جو مدار میں موجود رہ کر کی جا سکتی ہیں جیسے موسم کا مطالعہ یا فضائی تجزیہ، جبکہ سطح پر اترنے والے خلا باز چٹانوں کے نمونے اکٹھا کریں گے، مٹی کی ساخت کا جائزہ لیں گے، اور دیگر ارضیاتی تحقیقات کریں گے۔
یہ دونوں الگ سائنسی مقاصد ہوں گے، اور مشن کی منصوبہ بندی ان مقاصد کی بنیاد پر کی جائے گی۔ اگر مدار اور سطح کے درمیان تقسیم رکھی گئی تو یہ طریقہ چاند مشن جیسا ہو گا — جہاں ایک لینڈر علیحدہ ہو کر سطح پر جاتا ہے اور بعد میں دوبارہ مرکزی جہاز سے جڑتا ہے۔
مریخ پر لینڈنگ کے بعد آپ کا بنیادی مشن کیا ہو گا؟ کیا صرف نمونے جمع کرنا ہو گا، یا آپ کوئی تجربہ گاہ یا ماحول بھی قائم کریں گی؟ چونکہ آپ کی تعلیم کا تعلق ایسٹرو بایولوجی سے ہے، تو کیا آپ کا مقصد مریخ پر ماضی میں زندگی کے آثار تلاش کرنا ہو گا؟
ایلیسا:
جی ہاں، میری ذاتی دلچسپی کا سب سے اہم شعبہ ایسٹرو بایولوجی ہی ہے مریخ کے مختلف ماحول کا مشاہدہ کرنا۔ مریخ کی مختلف جگہوں پر CO₂ کی برف، خشک علاقوں، اور مختلف مٹی کی ترکیب جیسے عوامل موجود ہیں، جو زندگی کے امکانات کو متاثر کرتے ہیں۔ مختلف علاقوں کا مطالعہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ کیا کبھی وہاں زندگی موجود رہی ہے۔
یہ میرا بنیادی مقصد ہو گا کیونکہ میری تعلیم اسی سے جڑی ہے۔ اس سے ہٹ کر مریخ کے مجموعی ماحول کو سمجھنا بھی اہم ہے۔ اس وقت ہمارے پاس صرف نظریات ہیں روورز اور سیٹلائٹس کی مدد سے تحقیق سست رفتار ہے، جبکہ انسانی موجودگی تحقیق کو بہت تیز کر سکتی ہے۔ یہ سب اس پر بھی منحصر ہو گا کہ مشن کے وقت کون سے تحقیقی اہداف طے کیے گئے ہیں۔

اگر مثال کے طور پر، مریخ پر ماضی میں زندگی کے آثار مل جاتے ہیں، یا یہ ثابت ہو جائے کہ وہاں کبھی پانی موجود تھا — یا اب بھی زیرِ زمین موجود ہے تو ناسا کی اگلی حکمت عملی کیا ہو گی؟ کیا وہاں موجود پانی کا استعمال یا مریخ کو زمین جیسا ماحول دینے کی کوئی منصوبہ بندی موجود ہے؟
ایلیسا:
میرا نہیں خیال کہ ناسا کے پاس اس بارے میں کوئی حتمی یا واضح منصوبہ موجود ہے کہ اگر ماضی کی زندگی یا زیر زمین پانی کے شواہد مل جائیں تو فوری طور پر کیا کیا جائے گا۔ لیکن میری رائے میں، ایسٹرو بایولوجی میں دلچسپی کی بنیاد ہی وہ بنیادی سوالات ہیں جو انسانیت ہمیشہ سے پوچھتی آئی ہے جیسے کہ: کیا ہم کائنات میں اکیلے ہیں؟
یہ سوالات فلسفیانہ بھی ہیں، لیکن تحقیق کی اصل تحریک یہی ہے۔ ہم صرف مریخ ہی نہیں، بلکہ ٹائٹن یا یوروپا جیسے دیگر سیاروں پر بھی تحقیق کرنا چاہتے ہیں جہاں حالات زمین سے یکسر مختلف ہیں۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کیا زندگی انتہائی ماحول میں پنپ سکتی ہے — برفانی یا میتھین سے بھرے ماحول میں؟ کیا زندگی ان حالات سے مطابقت اختیار کر سکتی ہے؟
یہ جستجو انسان کی فطرت میں ہے — جاننے، سیکھنے اور سمجھنے کی۔ اور یہی ہمیں مریخ جیسے مقامات کی گہرائی میں جانے پر مجبور کرتی ہے۔
کیا ناسا نے آپ کو آپ کے مریخ مشن اور واپسی کے حوالے سے کوئی واضح ہدایت دی ہے؟ کیونکہ یہ تاثر موجود ہے کہ یہ مشن صرف ایک طرفہ ہو سکتا ہے۔ کیا ناسا نے اس بارے میں وضاحت کی ہے کہ واپسی کا عمل بھی مشن کا حصہ ہو گا؟
ایلیسا:
جی ہاں، ناسا نے بالکل واضح طور پر کہا ہے کہ وہ کبھی بھی یک طرفہ مشن نہیں بھیجے گا۔ ان کا مقصد ہمیشہ سائنسی تحقیق اور دریافت رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ واپسی بھی ہمیشہ ان کے منصوبوں کا حصہ رہی ہے۔
ماضی میں کچھ کمپنیوں نے یک طرفہ مشن کا تصور پیش کیا، لیکن ناسا نے کبھی اس کی حمایت نہیں کی۔ وہ ہمیشہ مکمل مشن کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، جس میں واپسی کا پہلو شامل ہو۔
میری ذاتی خواہش ہے کہ میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کر کے ناسا کے خلابازوں کے انتخابی عمل میں شامل ہوں اور اس سفر کو جاری رکھوں۔
اپنے ان باکس میں پہنچائی جانے والی اہم ترین خبروں کی جھلکیاں حاصل کریں۔