• Sat, March 14, 2026
  • Ramaḍān 24 1447
  • KHI - PAKISTAN 22.3°C

کٹا ہوا بازو دوگھنٹے بعدجوڑ دیا گیا - سرجن محمد علی شاہ کا بے مثال کارنامہ

انٹرویو: رضی الدین خاں شائع شدہ اپریل ۰۱, ۱۹۹۶

سائنس ڈائجسٹ کے مدیر احمد سعید قریشی ۱۹۷۵میں ایک ٹریفک حادثے میں شدید زخمی اور بے ہوش ہو گئے تھے۔۳۲ دن تک ہسپتال میں رہنے کے بعد جب انہیں ہوش آیا تو معلوم ہوا کہ ایک ٹانگ کی ہڈی میں بھی فریکچر تھا جو بے ہوش رہنے کے نتیجے میں غفلت کی نظر ہو گیا۔ ڈاکٹروں نے بس ساری توجہ انہیں ہوش میں لانے کی طرف مبذول رکھی جب کہ قاعدے سے ان کے پورے جسم کا معائنہ کیا جانا چاہیے تھا اس لیے کہ جو مریض خود بے ہوش ہے وہ کیسے بتا سکتا ہے کہ اس کے جسم میں اور کہاں کہاں چوٹ لگی ہوئی ہے۔ احمد سعید قریشی۲۳ دن کی بے ہوشی کے بعد ہوش میں تو آگئے لیکن ٹانگ سے معذور ہو گئے۔ اپنی طبیعت اور پیشہ صحافت سے تعلق کی بناء پر حلقہ احباب خاصا وسیع تھا۔ کراچی پریس کلب کے ممبر تھے اور وہاں با قاعدگی سے جاتے تھے۔ اس زمانے میں پاکستان میں بھٹو اور پیپلز پارٹی کی حکومت تھی جس سے ان کا شدید سیاسی اختلاف تھا۔ دوست احباب نے بہت سمجھایا کہ ایک صحافی ہونے کے تعلق سے مملکت کے خرچ سے ان کا بیرون ملک آسانی سے علاج ہو سکتا ہے لیکن حد درجہ خوددار اور اصول پسند ہونے کی وجہ سے پیپلز پارٹی کا احسان لینا گوارا نہ کیا۔ جب ۷۷۹۱ میں جنرل ضیاء الحق بر سراقتدار آئے تو پھر ایک دوسرا اصول پیش نظر آگیا۔ ایک غیر منتخب، غیر جمہوری اور آمرانہ طرز حکومت کا شرمندہ احسان ہونے پر تیار نہ ہوئے چنانچہ معاملہ اسی طرح ٹلتا رہا۔ والد محترم جناب محمد سعید قریشی کی مالی حالت اتنی مستحکم نہیں تھی کہ بیرون ملک علاج کا بھاری خرچ برداشت کر سکتے۔ ان ہی دنوں ۱۹۸۰ میں معلوم ہوا کہ ایک پاکستانی نوجوان ڈاکٹر و سرجن محمد علی شاہ بیرون ملک سے آرتھو پیڈکس میں اعلیٰ تعلیم و تربیت حاصل کر کے پاکستان آئے ہوئے ہیں جو ہڈیوں اور جوڑوں کے ایسے پیچیدہ اور نازک آپریشن کرسکتے ہیں جو صرف بیرون ملک ہی میں ممکن ہوتے ہیں۔ گویا ہڈیوں اور جوڑوں کے مشکل اور پیچیدہ ترین آپریشن کے لیے اب پاکستان سے باہر جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ چنانچہ سرجن شاہ نے ان کا علاج کیا اور وہ تقریبا بغیر سہارے کے چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔ البتہ ایک طویل عرصہ گزرنے اور ذہنی طور پر اپنے آپ کو معذور خیال کرنے کے نتیجے میں احمد سعید قریشی کا اعتماد ۱۹۹۴ میں ان کے انتقال تک۱۰۰ فی صد بحال نہ ہو سکا تھا۔

۱۹۸۰سے اب تک گزشتہ سولہ سالوں کے دوران سرجن شاہ ہڈیوں اور جوڑوں کے لاتعداد آپریشن اور علاج کر چکے ہیں اور آج پاکستان میں آرتھو پیڈک سرجری میں سرجن محمد علی شاہ اور اے او کلینک کا نام لازم و ملزوم ہوچکا ہے۔ پچھلے دنوں جب سارا پاکستان ورلڈ کپ کے بخار میں مبتلا تھا سرجن شاہ نے دو تین حیرت انگیز آپریشن کر کے ساری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ سائنس ڈائجسٹ میں سرجن شاہ کا یہ دوسرا انٹرویو اسی پس منظر میں شائع کیا جا رہا ہے۔ پہلا انٹرویو مئی۔ جون ۱۹۸۹ کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔

سوال: اسپورٹس سے وابستہ افراد اور کھلاڑیوں کے لیے آپ کی خدمات کا سلسلہ کتنے عرصے سے جاری ہے اور ان کی نوعیت کیا ہے؟

جواب :جیسا کہ آپ کو معلوم ہے میں ۱۹۸۰ میں انگلینڈ سے پاکستان واپس آیا تھا۔ تقریباً اسی وقت سے میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے وابستہ ہوں اور پاکستان کے نامور کھلاڑیوں اور اسپورٹس مین کو جو چوٹیں (انجریز) آتی ہیں ان سب کا علاج میں ہی کرتا رہا ہوں۔ پاکستان کے علاوہ غیر ملکی کھلاڑیوں اور دوسرے کھیلوں سے متعلق کھلاڑیوں کا بھی میں علاج اور دیکھ بھال کرتا ہوں۔ خاص طور پر جو ٹیسٹ یا ون ڈے انٹر نیشنل میچز کراچی میں ہوتے ہیں یا ہوتے رہے ہیں ان کے میڈیکل بورڈ کا ہمیشہ میں ہی چیئر مین ہوتا ہوں۔ چنانچہ یہ سلسلہ گزشتہ پندرہ سولہ سالوں سے جاری ہے۔ میری خدمات کرکٹ کے علاوہ فٹ بال، ہاکی، اسکواش اور ٹیبل ٹینس کے کھلاڑیوں کے لیے بھی یکساں ہوتی ہیں۔

سوال: اسپورٹس میڈیسن اور اسپورٹس انجینئرنگ بین الاقوامی سطح پر ایک علیحدہ اور منفرد میدان ہے اور اس شعبے سے وابستہ افراد خصوصی مہارت کے حامل ہوتے ہیں ان کے بارے میں تفصیل سے بتائیے۔

جواب :اسپورٹس میڈیسن یا اسپورٹ انجینئرنگ میڈیکل کا ایک بالکل علیحدہ شعبہ ہے اس میں ان کھلاڑیوں کا علاج اور دیکھ بھال کی جاتی ہے جنہیں دوران کھیل چوٹیں وغیرہ لگی ہوں یا ان کے فٹنس کے مسائل ہوں۔ دراصل اسپورٹس مین یا کھلاڑی عام انسانوں سے ذرا مختلف جسمانی طور پر مضبوط اور اعصابی و عضلاتی طور پر مضبوط شخصیت کے مالک ہوتے ہیں ان کے(پٹھے) اور گوشت ایک نارمل انسان کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور سخت ہوتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ایک کھلاڑی فعلیاتی طور سے خاصا مختلف ہوتا ہے اس لیے بھی کہ اسے عام آدمی کے مقابلے میں پرفارمنس کہیں مشکل اور بہتر کرنا ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس کی ڈیمانڈز اور ضروریات بھی مختلف ہوتی ہیں۔ ان وجوہات کی بناء پر اس کی فٹنس کا معیار بھی خاصا سخت اور اونچا ہوتا ہے۔ جب کسی کھلاڑی کو معمولی سی چوٹ بھی لگتی ہے تو ہم کوشش کرتے ہیں کہ اسے سو فی صد سے بھی زیادہ درست اور صحیح کریں تاکہ اس کی پچھلی پرفار منس میں کوئی فرق نہ آنے پائے۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ اہمیت دراصل وقت کی ہے اس لیے کہ ہمیں اس کھلاڑی کو کم سے کم وقت میں مکمل صحت یاب کرنا ہوتا ہے اور بسا اوقات تو کسی خاص موقع اور میچ سے پہلے اس کو فٹنس کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام فہم زبان میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسپورٹس میڈیسن میڈیکل سائنس کا وہ شعبہ ہے جس میں کھلاڑیوں اور کھیلوں سے وابستہ تمام افراد کا علاج معالجہ کیا جاتا ہے۔

سوال: آپ اور آپ کے ساتھی اس خصوصی میدان میں جو خدمات انجام دے رہے ہیں ترقی یافتہ ممالک کے نقطہ نظر سے ان کا معیار اور کار کردگی کیسی ہے؟

جواب :اسپورٹس میڈیسن کے شعبے سے جو افراد وابستہ ہوتے ہیں ان میں دو شخصیات کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ ایک ڈاکٹر اور دوسرا ایسوسی ایٹ فزیو تھیراپسٹ۔ جہاں تک ڈاکٹر کی حیثیت سے صلاحیت، قابلیت اور مہارت کا تعلق ہے تو اس میں ہمارے ہاں کے ڈاکٹروں کی قابلیت ٹیسٹ کرکٹر ظہیر عباس میرے مریض رہے ہیں۔ کرکٹ کے علاوہ اسکواش کے جہانگیر خان جب کھیلا کرتے تھے اور انہیں جب بھی فٹنس کا مسئلہ ہوتا تھا وہ ہمیشہ میرے اے او کلینک ہی آیا کرتے تھے۔ انہیں میں نے کئی مرتبہ انجکشن لگائے ہیں۔ اسی طرح ٹیبل ٹینس کے عارف ناخدا، ناز و شکور، سیما شکور، روبینہ شکور پھر ہاکی کے سمیع اللہ، کلیم اللہ، منور الزماں اور قاضی محب اللہ میرے مریضوں میں شامل ہیں۔

سوال: اسپورٹس میڈیسن کے تعلق سے آپ کچھ تجاویز دیناچاہیں گے؟

جواب :اسپورٹس میڈیسن کا شعبہ پاکستان کے ہر بڑے شہر ہر بڑے ہسپتال میں ہونا چاہیے اور ہمیں یہاں اسپورٹس میڈیسن کے کورسز کرانا چاہئیں۔ اگرچہ ہمارے یہاں تھوڑے بہت کو رسز ہوتے ہیں لیکن بہت منظم اور اعلیٰ معیار کے کورسز نہیں ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ اہم چیز اسپورٹس میڈیسن کے حوالے سے یہ ہے کہ ہمیں اپنے فزیو تھیراپسٹس کو اعلیٰ تربیت اور مہارت کے لیے باہر بھجوانا چاہیے۔ وہ انگلینڈ اور جرمنی سے مناسب ٹریننگ لے کر آئیں اور ہمارے ملک میں ہمارے اپنے تجربہ کار اور ماہر فزیو تھیراپسٹس موجود ہوں اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ اس وقت ہمیں باہر کے فزیو تھیراپسٹس بلانے کے لیے جو فارن ایکسچینج خرچ کرنا پڑتا ہے وہ بچ جائے گا۔ کرکٹ ٹیم کے لیے اس وقت ہم نے جرمنی سے ایک فزیو تھیراپسٹ بلایا ہوا ہے اسی طرح ہاکی کے لیے ہالینڈ سے فزیو تھیراپسٹ آتا ہے اگر ہمارے اپنے افراد تربیت یافتہ ہوں تو ہم ان کے محتاج نہ رہیں۔ پھر یہ غیر ملکی ایکسپرٹ تھوڑی مدت کے معاہدے کے تحت آتے ہیں جب ہمارے اپنے فزیو تھیراپسٹس باہر سے اعلیٰ تربیت اور ٹریننگ لے کر آئیں گے اور یہاں ان کے لیے وہی آلات اور سازوسامان موجود ہو گا جس پر انہوں نے وہاں تربیت حاصل کی ہوگی تو ہم اس معاملے میں دوسرے ممالک کے رحم و کرم پر نہیں رہیں گے۔ ہمارے کھلاڑیوں کو ضروری اور مناسب ٹریننگ بھی دی جاسکے گی کہ انہیں کتنی خوراک لینی ہے اور انہیں کتنی کیلوریز کی ضرورت ہے وغیرہ وغیرہ اس طرح انہیں گائیڈینس بھی دی جاسکے گی یہ کام ایک اسپورٹس فزیو تھیراپسٹ کا ہے اور ڈاکٹریا سرجن کا اس میں عمل دخل نہیں ہے۔

سوال: بینک اور مالیاتی ادارے کرکٹ اور اسپورٹس کے لیے جس قسم کی سرپرستی کرتے ہیں انہیں تھوڑی سی توجہ فزیو تھیراپی اور فزیکل فٹنس سینٹر قائم کرنے کی طرف بھی دینا چاہیے۔

جواب :اسپورٹس کے لیے بینکوں، مالیاتی اداروں اور پی آئی اے وغیرہ کے اپنے علیحدہ بجٹ ہوتے ہیں لیکن ان میں اسپورٹس میڈیسن اور فٹنس سینٹرز کے لیے کوئی علیحدہ رقم مختص نہیں ہوتی اگر وہ اس طرف تھوڑی توجہ مبذول کریں تو پاکستان کی ایک بہت بڑی کمی پوری ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا کہ ہمارے ڈاکٹروں اور سرجنوں کی مہارت تو بین الاقوامی معیار کی ہے لیکن فزیو تھیراپی کے میدان میں تربیت اور مہارت کا فقدان ہے۔ جب ایک پاکستانی فزیو تھیراپسٹ باہر سے ٹریننگ لے کر آئے گا تو وہ ایک عرصے تک یہاں رہ کر پنے لوگوں کی خدمت کرتا رہے گا اور دوسرے افراد کو ٹریننگ بھی دے سکے گا۔ جہاں تک ورلڈ کپ کے میچوں کا تعلق ہے تو یہ ایک بہت اچھا موقع تھا اور امید ہے کہ آئندہ بھی پاکستان کو اس قسم کے مواقع ملتے رہیں گے۔ اس مرتبہ سری لنکا کے حالات کی وجہ سے ٹورنامنٹ بہت اچھا آرگنا ئز نہیں ہو پا رہا تھا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کا اختتام بہت اچھا ہوا۔ پاکستان، سری لنکا اور انڈیا والے بہت منظم اور قاعدے قرینے والے لوگ تو نہیں ہیں لیکن محنتی لوگ ہیں اس لیے یہ باوجود مشکلات اوردشواریوں کے آخری لمحات میں تقاریب اور پروگرام کوبہت اچھا اور کامیاب بنا دیتے ہیں۔ اس مرتبہ ورلڈ کپ میں پیسہ کچھ زیادہ شامل ہو گیا تھا اور یہ کچھ زیادہ کمرشل ہو گیا تھا اس لیے امید تھی کہ آخری دنوں میں یہ تقریبات بہت دلچسپ اور اس کے میچز سنسنی خیز ہوں گے۔

جہاں تک فیلڈنگ کا تعلق ہے توجنوبی افریقہ کی فیلڈنگ بہت اچھی اور مضبوط تھی۔ ان کی اسپورٹس میڈیسن کے تعلق سے بہت اچھی پوزیشن تھی۔ ان کے فزیو تھیراپسٹ جو کہ ایک انگریز ہیں اور میرے دوست ہیں یہاں اے او کلینک آچکے ہیں۔ انہوں نے اپنے کھلاڑیوں کو بڑا فٹ رکھا ہوا ہے۔ فٹنس کی وجہ سے ہی وہ فیلڈنگ میں آگے ہیں، بیٹنگ اچھی کرتے ہیں اورباؤلنگ بہت عمدہ کرتے ہیں۔

سچّی بات تو یہ ہے کہ ون ڈے کرکٹ کا سارا دارو مدار فیلڈنگ اور فزیکل فٹنس پر ہے۔ ون ڈے کرکٹ کی فاتح ٹیم وہی ہوتی جس کی فیلڈنگ مضبوط ہے یا دوسرے الفاظ میں جن کی فزیکل فٹنس سب سے بہترہے۔

سوال:ورلڈ کپ سے ہٹ کر اب کچھ باتیں آپ کے مخصوص شعبے اور آرتھو پیڈ کس کے بارے میں ہو جائیں۔ یوں تو آپ عام طور سے منفرد اور پیچیدہ کیسوں کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کرتے ہیں لیکن معلوم ہوا کہ پچھلے دنوں آپ نے چند ایسے عجیب و غریب کیسز کیے ہیں جنہیں میڈیکل سائنس کی دنیا میں عجوبہ اور نا قابل یقین کہا جاسکتا ہے۔

جواب :آرتھو پیڈک سرجری کی جو دنیا ہے وہ ایک عجیب و غریب اور الگ دنیا ہے۔ اس میں ہمارا واسطہ ایسے انسانوں سے پڑتا ہے جو چند لمحات یا سیکنڈ پہلے بالکل نارمل اور عام سے انسان ہوتے ہیں لیکن اس ایک منٹ بعد وہ کسی اور ہی کیفیت سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ایک موٹر سائیکل سوار موٹر سائیکل چلاتا ہوا جا رہا ہے اب اس کا ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے۔ ایک منٹ پہلے وہ ایک نارمل اور عام سا انسان تھا لیکن ایک منٹ بعد دیکھا تو معلوم ہوا کہ لاش رکھی ہے۔ گویا ایک نارمل انسان اور لاش کے درمیان صرف ایک منٹ کا وقفہ رہ گیا۔ یہ ایک ایسی ڈرامائی صورت حال ہوتی ہے جو ڈاکٹر اور مریض دونوں کے لیے عجیب و غریب ہوتی ہے۔ اسی طرح بعض چوٹیں لگتی ہیں اور بہت بڑے بڑے کمپاؤنڈ فریکچر ہو جاتے ہیں چنانچہ یہ ڈاکٹر مریض اور ان لوگوں کے لیے جو آس پاس کھڑے ہوتے ہیں بڑی سنسنی خیز صورت حال ہوتی ہے۔ کبھی کبھار ہمارے پاس ایسے مریض بھی آتے ہیں جن کا ہاتھ یا پاؤں ان کے جسم سے کٹ کر بالکل الگ ہو جاتا ہے اور اس حصے کا جسم سے کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔ ساری دنیا میں صرف آٹھ ڈاکٹر ایسے ہیں جو اس قسم کے کیسوں کا علاج کر سکتے ہیں یعنی ایسا کیس جس میں جسم کا کوئی حصہ کٹ کر بالکل الگ ہو جائے اور اسے دوبارہ اسی طرح جوڑ دیا جائے۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا اور مشرق وسطی کے تمام ممالک سمیت اس پورے خطے میں کوئی ایسا ڈاکٹر نہیں ہے جو اس قسم کے کیس کر سکتا ہو۔ ان آٹھ ڈاکٹروں میں سے دو امریکہ میں ہیں، دو انگلینڈ میں ایک یا دو جرمنی میں اور ایک جاپان میں ہے۔ یہ ایک بہت ہی خاص الخاص قسم کی سرجری یاجراحی ہوتی ہے جسے ری امپلانٹیشن سرجری کہا جاتا ہے گویا آپ نے جسم کے کٹے ہوئے یا علیحدہ ہو جانے والے عضو کو پھر سے جسم کے ساتھ امپلانٹ کر دیا۔ یہ محض ایک سرجری نہیں ہے بلکہ اس میں کئی قسم کی سرجریاں شامل ہیں۔ اس کا اصل راز یہ ہے کہ اسے ایک خاص وقت کے اندر اندر انجام دینا ہوتا ہے۔ جسم کے کٹے ہوئے حصے کو اگر ایک یا ڈیڑھ گھنٹے کے اندر اندر جوڑ دیا جائے تب تو وہ جڑ سکتا ہے ورنہ نہیں اس میں اصل مشکل کٹے ہوئے دونوں سروں کے درمیان دوران خون کو اسی طرح جاری اور رواں کرنا ہوتا ہے یعنی جو حصہ کٹ کر مردہ ہو چکا ہے اور اس کا دوران خون ختم ہو چکا ہے اسے دوبارہ جاری کرنا آسان کام نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حکمت رکھی ہے کہ اگر کٹے ہوئے اور مردہ ہو جانے والے حصے کا دوران خون دو یا تین گھنٹے کے اندر بحال ہو جائے تو وہ مردہ حصہ دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ آپریشن کی تیاری ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ہی شروع کر دی جائے اس لیے کہ دوران خون کا تین گھنٹے کے اندر اندر بحال ہونا لازمی ہے۔ اس سرجری کی پیچیدگی کا اندازہ اس سے لگائیے کہ جب جسم کا کوئی حصہ کٹ کر علیحدہ ہو گیا تو اس کی ہڈی، گوشت، کھال، شریانیں اور وریدیں حتیٰ کہ اعصابی ریشے بھی کچھ علیحدہ ہو گئے۔ اس طرح اب ایک سرجری کی جگہ پانچ قسم کی سرجریاں آگئیں۔ اب اس میں جنرل سرجری ہے ویسکولر(خون کی نالیوں کی) سرجری ہے، اعصابی(نیورو) سرجری ہے یعنی اعصابی نالیوں کو جوڑنے کی ہڈیوں کی (آرتھو پیڈک) سرجری ہے اور پلاسٹک سرجری بھی ہے اس لیے کہ کھال اور جلد کو بھی ٹھیک کرتا ہے گویا اس قسم کے آپریشن کرنے والے سرجن کو بیک وقت پانچ سرجریوں کا ماہر ہونا ضروری ہے اور نہ صرف ماہر بلکہ مکمل اور کامل (پر فیکٹ) ماہر اس لیے کہ اس میں کہیں بھی ذرا سی غلطی یا کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ چنانچہ ان تمام شعبوں کی مہارت کو یکجا کرنے کی وجہ سے دنیا میں ا یسے سرجنوں کی بہت کمی ہے جو نہ صرف ان تمام سرجریوں کو اعتماد اور مہارت کے ساتھ کر سکیں بلکہ کسی خفیف سے خفیف غلطی کے بغیر کر سکیں۔

سوال:جن چار ملکوں کا آپ نے نام لیا وہ تو انتہائی ترقی یافتہ ممالک ہیں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کسی ملک میں اس قسم کے سرجن کیوں نہیں؟

جواب :در اصل جب کوئی شخص سرجری کے کسی خاص شعبے میں بڑا ماہر بنتا ہے تو اسے مہارت حاصل کرنے کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہوتا ہے اور وہ اس مخصوص سرجری میں پڑھ پڑھ کر اتنا تھک چکا ہوتا ہے کہ اس میں مزید ہمت یا خواہش نہیں رہتی کہ وہ پھر سے نیورو سرجری بھی سیکھے یا آرتھو پیڈک سرجری میں ہاتھ ڈالے یا پلاسٹک سرجری میں اپنا سرکھپائے۔ عام طور پر سرجن اپنی مخصوص سرجری کے میدان میں ہی مہارت حاصل کرتے رہتے ہیں اور دوسری برانچوں کی طرف نہیں آتے۔ ایسے لوگ بہت ہی کم ہوتے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ یہ بھی کرلیں اور وہ بھی سیکھ لیں اور فلاں میدان میں بھی مہارت حاصل کرلیں۔ دوسرے الفاظ میں ری امپلانٹیشن سرجری میں دسترس کے بعد کسی سرجن یا ڈاکٹر کے لیے پھر کچھ بچتا نہیں ہے، آپ اسے سرجری کا پی ایچ ڈی بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ سرجری کی معراج ہے جو اسے حاصل ہو چکی ہوتی ہے۔ ری امپلانٹیشن سرجری دراصل تمام سرجریوں کا نچوڑ ہے۔

سوال:میرے علم کے مطابق آپ روزانہ نو یا دس آپریشن کرتے ہیں اور عام طور سے مشکل اور پیچیدہ کیسز کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ آخر آپ بھی گوشت پوست کے انسان ہیں کبھی تو تھکتے اور بور بھی ہوتے ہوں گے کہ کس مصیبت میں پڑ گئے اور جی کا جنجال پال لیا کیا کبھی آپ کو تھکن کا احساس نہیں ہوتا؟

جواب :آپریشن کے دوران یا آپریشن سے پہلے تو اس قسم کا احساس نہیں ہو تا۔ تھکتا تو میں بھی ہوں میں بھی آپ ہی کی طرح گوشت پوست کا انسان ہوں۔ میں سرجری کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کرتا ہوں۔ ہر کیس میرے لیے ایک چیلنج ہوتا ہے چنانچہ میں اس میں اتنا منہمک ہو جاتا ہوں کہ اس دوران تھکن کا بالکل احساس نہیں ہو تا البتہ چونکہ بہر حال میں بھی انسان ہوں اور آپ ہی کی طرح ہوں اس لیے جب کام ختم کر کے گھر پہنچ جاتا ہوں تب تھکن کا احساس ہوتا ہے۔ جس وقت میں کوئی چیلنجنگ کام یا آپریشن کر رہا ہوتا ہوں تو مجھے اس وقت کچھ پتہ نہیں ہو تاکہ میں کون ہوں، کہاں ہوں اور کیا کر رہا ہوں یا گھر پر کون میرا انتظار کر رہا ہے۔ اس وقت صرف اور صرف کیس اور مریض کی طرف دھیان ہوتا ہے۔ کام میں کامل انہماک یا ڈوب جانے کی مثال میں آپ کو پاکستانی فوجیوں سے دے سکتا ہوں۔ میں ایسے فوجیوں سے ملا ہوں اور انہیں دیکھا ہے جنہوں نے ۵۶۹۱ کی سترہ روزہ جنگ کے دوران ایک مرتبہ بھی جوتے نہیں اتارے تھے۔ انہیں اس کا بھی ہوش نہیں تھا کہ انہوں نے جوتے پہن رکھے ہیں یا نہیں۔ جب سترہ دن کے بعد جنگ ختم ہوئی تو انہیں اپنے پاؤں کا خیال آیا۔ جب انہوں نے جوتے اور موزے اتارے تو ان کے پاؤں کی کھال بھی اس کے ساتھ اتر آئی۔ سترہ دنوں میں پاؤں کی کھال جوتے کے ساتھ چپک گئی تھی چونکہ وہ حالت جنگ میں تھے اور ایک چیلنج قبول کیئے ہوئے تھے اس لیے انہیں اس کا ہوش ہی نہیں تھا کہ انہوں نے جوتے پہن رکھے ہیں یا نہیں اسی طرح میں جب کوئی چیلنج قبول کرتا ہوں تو جہاد کی طرح اس میں لگ جاتا ہوں ایسی صورت میں تھکن کیا چیز ہے اس کا احساس کیسے ہو سکتا ہے۔ انسانیت کی اس سے بڑی خدمت کیا ہو سکتی ہے کہ ایک ایسے انسان کو مصیبت اور تکلیف سے نجات دلائی جائے جو کسی حادثے یا واقعے کی وجہ سے اس میں مبتلا ہو چکا ہے۔

سوال: وہ کیا کیس تھا جس میں کسی کا ہاتھ کٹ کر جسم سے الگ ہو گیا تھا اور آپ نے کچھ دیر کے بعد اسے دوبارہ جوڑ دیا۔

جواب :جی ہاں وہ ایک بچہ تھا جس کا نام انس افتخار ہے۔ آپ نے نو بجے ٹی وی کے خبرنامے میں دیکھا ہوگا اور جنگ اخبار نے اس پر اداریہ بھی لکھا تھا۔ وہ بچہ ایک سوزو کی وین میں شادی میں جا رہا تھا کہ اس گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا اور اس بچے کا ہاتھ کندھے کے پاس سے کٹ کر الگ ہو گیا۔ رات کا وقت تھا لوگوں کو اندھیرے میں صرف بچہ نظر آیا کٹا ہوا ہاتھ نظر نہیں آیا۔ لوگ بچے کو اے او ہسپتال لے آئے۔ ہسپتال میں آنے کے بعد غور کیا تو معلوم ہوا کہ بچے کا ہاتھ موجود نہیں ہے۔ ادھر جائے حادثے پر بچے کے جو رشتہ دار تھے انہیں ہاتھ نظر آیا تو وہ اسے لے کر ضیاء الدین ہسپتال چلے گئے۔ ضیاء الدین کے ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ کس کا ہاتھ ہے؟ یہاں تو اس قسم کا کوئی مریض ہی نہیں آیا۔ اس کے بعد وہ عباسی گئے تو انہوں نے کہا کہ اے او ہسپتال چیک کریں شاید وہاں وہ مریض موجود ہو۔ چنانچہ جب وہ لوگ یہاں آئے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب انہیں یہاں بچہ مل گیا۔ چنانچہ اس بچے کا فوراً آپریشن کیا گیا اور اب وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہے اور اس کا ہاتھ بالکل صحیح کام کرتا ہے۔ اسی طرح ایک اور بچہ محمد الیاس تھا جو ایک کارخانے میں کام کرتا تھا اس کا ہاتھ مشین سے کٹ کر بالکل الگ ہو گیا تھا۔ میں نے۵۳ منٹ کے اندر اندر اس کا آپریشن کیا اور اب وہ بالکل صحت یاب ہے۔ اس قسم کے میں نے اب تک آٹھ کیس کیئے ہیں جن میں سے پانچ بالکل کامیاب رہے ہیں جو تین کیس بھی کامیاب نہیں رہے اس کی وجہ ٹیکنیکل یا طبی نہیں ہے بلکہ وہ اتنی تاخیر اور دیر سے آئے کہ ان کا وقت گزر چکا تھا۔ حادثے اور ہم تک پہنچنے کے درمیان چار پانچ گھنٹے کا وقفہ تھا۔ ان میں سے ایک صاحب کوٹری سے آئے تھے۔ ایک مریض ٹھٹھہ کا تھا اور اسی طرح ایک صاحب کراچی کے کسی دور دراز حصے سے آئے تھے۔ اس قسم کے حادثات میں اصل اہمیت وقت کی ہوتی ہے اگر ایک مقررہ وقت سے زیادہ تاخیر ہو جائے تو پھر آپریشن کامیاب نہیں ہوتا۔ اس لیے میں آپ کے رسالے کے ذریعے قارئین سے یہی کہوں گا کہ خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو جائے تو جلد سے جلد ہسپتال پہنچنا چاہیے اور کوشش کی جائے کہ ایک ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ تاخیر نہ ہو اس لیے کہ آپریشن کی تیاری کرنے اور دوران خون جاری کرنے کے لیے بھی تو وقت درکار ہوتا ہے اگر یہ وقت دو گھنٹے سے زیادہ ہو گیا تو پھر ہماری زبان میں وہ ہاتھ یا پاؤں کار آمد نہیں رہتا یعنی اس میں زندگی واپس آنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ اگر کوئی مریض ہمارے پاس دو گھنٹے کے بعد بھی آتا ہے تب بھی ہم اپنی پوری کوشش کرتے ہیں لیکن اس میں کامیابی کا امکان کم ہی ہوتا ہے کبھی کبھار بعض کیسز ڈھائی گھنٹے کے بعد بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ آرتھو پیڈک سرجن کو عام طور سے بہت کم آرام ملتا ہے۔ آپ کو سن کر حیرت ہوگی کہ پاکستان میں جتنے سینئر آرتھو پیڈک سرجن ہیں ان میں سے (۸۰) فی صد سے زائد کی خود اپنی بائی پاس سرجری ہو چکی ہے میں ان کے نام لینا مناسب نہیں سمجھتا۔

سوال:جس قسم کی سرجری آپ یہاں انجام دیتے ہیں اس معاملے میں انڈیا والے ہم سے کتنا آگے یا پیچھے ہیں؟

جواب :جہاں تک جنرل سرجری کا تعلق ہے تو اس میں انڈیا والے ہم سے آگے ہیں لیکن آرتھو پیڈک سرجری میں وہ یقیناً ہم سے پیچھے ہیں، البتہ دل کی جراحی (کارڈیک سرجری) میں وہ ہم سے آگے ہیں۔ ہمارے ہاں سائنس و ٹیکنالوجی کی طرف سے جو لا تعلقی ہے اور میڈیکل سائنس سہولتوں کا جو فقدان ہے اس کے پیش نظر میڈیکل سائنس کے کسی خاص شعبے میں ہمارا انڈیا سے آگے ہونا کم فخر کی بات نہیں ہے۔۱۹۸۰ میں جب میں پاکستان آیا تھا تو اس وقت آرتھو پیڈک سرجری میں ہمارا معیار بھی بنگلہ دیش جیسا ہی تھا لیکن گزشتہ پندرہ سولہ سالوں میں ہم نے آرتھو پیڈک سرجری میں اپنا ایک مقام بنا لیا ہے۔ اب میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ آرتھو پیڈک سرجری میں ہم انگلینڈ، امریکہ، جرمنی یا یورپ کے کسی بھی ملک سے پیچھے نہیں ہیں بلکہ جن مشکل حالات میں ہم یہاں پیچیدہ کیسیزکرتے ہیں دیکھا جائے تو ہم ان سے آگے ہیں۔ یہ بات امریکہ یا مغربی یورپ کے ڈاکٹروں کو چکرانے کے لیے کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پاکستان کا واحد پرائیویٹ کلینک ہے جو انگلینڈ کے رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز سے ایف آر سی ایس ٹرینگ کے لیے تسلیم شدہ ہے۔ یہ اعزاز پاکستان میں کسی اور پرائیویٹ انسٹیٹیوٹ کو حاصل نہیں ہے حتیٰ کہ آغا خان ہسپتال کا آرتھو پیڈک شعبہ بھی ایف آر سی ایس ٹریننگ کے لیے تسلیم شدہ نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب را ئل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کی ٹیم یہاں معائنے کے لیے آئی اور انہوں نے ہمارے کام اور معیار کو دیکھا تو بغیر کسی تکلف اور پس و پیش کے ہمیں تسلیم کر لیا۔ انہوں نے اپنی دو صفحوں کی رپورٹ میں لکھا کہ اس ہسپتال میں آرتھو پیڈکس میں جو سرجیکل ٹریننگ ہوتی ہے اس کا معیار امریکہ اور انگلینڈ کے معیار کے یا تو برا بر ہے یا اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا اسٹاف اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ ہے۔ ہمارے پاس جدید ترین آلات اور سہولتیں ہیں۔ جیسا کہ آپ خود دیکھ رہے ہیں ہسپتال بالکل صاف ستھرا رہتا ہے۔ ہمارا اسٹاف بڑا فرض شناس اور مستعد ہے چنانچہ ہم نے یہاں سرجری۔ کا ایک بہت ہی اعلیٰ معیار برقرار رکھا ہے اور ان چیزوں سے بہت فرق پڑتا ہے۔

سوال:پاکستان کے مختلف شہروں کے درمیان طویل فاصلے ہیں۔ کیا آپ محسوس نہیں کرتے کہ اسی بین الاقوامی معیار کا ایک ہسپتال شمالی علاقے جیسے اسلام آباد یا پشاور کے قریب کہیں ہو تاکہ وہاں کے شہریوں کو بھی یہ سہولت میسر آجائے؟

جواب :میں چار سال تک پاکستان آرتھو پیڈک ایسوسی ایشن کا سیکرٹری جنرل رہ چکا ہوں اور آپ کو معلوم ہے کہ سیکرٹری جنرل کسی بھی تنظیم کا سب سے فعال عہدیدار ہوتا ہے۔ میں نے اکثر اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ سرکاری سطح پر اسلام آباد، پشاور یا لاہور میں ایک انسٹیٹیوٹ آف آرتھو پیڈک سرجری ہونا چاہیے۔ جس میں تمام ضروری تربیت یافتہ عملہ، سرجن، جدید ترین آلات اور ضروری سہولتیں موجود ہونی چاہئیں۔مجھے پاکستان کے آرتھو پیڈک سرجنوں پر بڑا فخر اور اعتماد ہے۔ لاہور میں بڑے اچھے اچھے ڈاکٹر ہیں اگر حکومت دلچسپی لے اورارادہ کرے تو شمالی علاقے میں بھی ایک بہت اچھا اور بین الاقوامی معیار کا انسٹیٹیوٹ آف آرتھو پیڈک سرجری قائم کیا جا سکتا ہے۔ میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش اور خواب یہی ہے کہ ہمارے ملک کے کسی باشندے اور شہری کو جب کسی قسم کی کوئی چوٹ یا زخم آجائے تو اسے یہ اطمینان ہو کہ اس قسم کے انسٹیٹیوٹ میں آجانے کے بعد اس کا صحیح علاج ہو جائے گا اور اس کی تشویش ختم ہو جائے گی جس طرح کراچی میں لوگوں کو یہ اطمینان اور اعتماد ہو گیا ہے کہ انہیں کسی قسم کی چوٹ لگے یا ہڈی ٹوٹ جائے اور اگر وہ اے او کلینک چلے جائیں تو ان کا کام صحیح ہو جاتا ہے۔

سوال:اگر حکومتی سطح پر اس قسم کا کوئی انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کا فیصلہ ہو جائے تو کیا اس کے لیے آپ اپنی مشاورتی خدمات اور تعاون پیش کر سکیں گے یا بحیثیت وزیٹنگ پروفیسر وقت نکال سکیں گے۔

جواب :اس قسم کے مجوزہ انسٹیٹیوٹ کے لیے میں ہر طرح کی خدمات کے لیے تیار ہوں۔ نہ صرف آلات سازو سامان اور عملے کی تربیت بلکہ انسٹیٹیوٹ کی عمارت کی تعمیر کے سلسلے میں بھی مشاورتی خدمات پیش کر سکتا ہوں اس لیے کہ ایک ہسپتال کی عمارت اور ہوٹل کی عمارت کی تعمیر میں بڑا بنیادی فرق ہوتا ہے۔ ہسپتال یا انسٹیٹیوٹ کی عمارت میں محض کمرے تعمیر کرنے نہیں ہوتے بلکہ ان کا ایک خاص ڈیزائن ضروریات اور پلانگ ہوتی ہے مثلاً او پی ڈی کی جگہ کہاں ہو؟ مریضوں کے کمرے کس جگہ ہوں؟ اور آپریشن تھیٹر کون سے فلور پر اور کتنا بڑا تعمیر کیا جائے؟ اگر میری خدمات کسی قابل ہوئیں تو میرے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات کیا ہو سکتی ہے۔

سوال:آپ کی زندگی کی سب سے بڑی اور واحد اعلیٰ خواہش کیا ہے؟

جواب :میرے والد صاحب جسٹس اصغر علی شاہ مرحوم کہاکرتے تھے اور میری بھی سب سے بڑی خواہش اور تمنا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دین اور دنیا میں سرخرو کرے۔ اس ایک خواہش میں تمام خواہشیں آجاتی ہیں اگر دین اور دنیا دونوں اچھے ہو جائیں تو پھر ایک انسان کے لیے اور کیا باقی رہ جاتا ہے۔

سوال:آپ نے اپنے والد محترم کی یاد میں جو جسٹس اصغر علی شاہ کرکٹ اسٹیڈیم تعمیر کرایا ہے کچھ اس کے بارے میں تفصیل بتائیے؟

جواب :یہ اسٹیڈیم کراچی میں نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں ہے۔ اس کی تعمیر۱۹۹۲ میں ہوئی ہے اور اسے کے ایم سی سے لیز پر حاصل کیا گیا ہے۔ بلاشبہ اسے پاکستان کا سب سے خوب صورت صاف ستھرا اور تمام ضروری سہولتوں سے آراستہ کرکٹ اسٹیڈیم قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس قسم کا کوئی کرکٹ اسٹیڈیم پاکستان میں نہیں ہے۔ یورپ سے آئی ہوئی(اینا) نامی خاتون صحافی نے اس کے بارے میں تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے پاکستان میں اس سے زیادہ خوب صورت اسٹیڈیم نہیں دیکھا ہے۔ اس اسٹیڈیم میں فرسٹ کلاس، قائد اعظم ٹرافی اور چیمپئنز ٹرافی کے گریڈ ون اور گریڈ ٹو کے میچز ہوتے ہیں۔ عام طور پر کسی گراؤنڈ میں میچ کھیلنے والی ٹیموں کو خاصی بڑی فیس ادا کرنا پڑتی ہے لیکن اس گراؤنڈ میں میچ کھیلنے والی ٹیموں سے کسی قسم کا کوئی معاوضہ یا فیس نہیں لی جاتی اور پاکستان کے کسی علاقے کی ٹیم کے لیے یہ گراؤنڈ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سائنس ڈائجسٹ نیوز لیٹر

اپنے ان باکس میں پہنچائی جانے والی اہم ترین خبروں کی جھلکیاں حاصل کریں۔