• Sat, March 14, 2026
  • Ramaḍān 24 1447
  • KHI - PAKISTAN 22.3°C

آئن اسٹائن کے شاگرد ، چار یونیورسٹیوں کے وائس چانسلراوربیسویں صدی کے عظیم ریاضی داں ڈاکٹر محمد رضی الدین صدیقی سے ملاقات

انٹرویو: رضی الدین خاں شائع شدہ فروری ۰۲, ۱۹۹۸

موت العالم موت العالم

۲ جنوری ۱۹۹۸ء کو پاکستان کے نامور فرزند، علم و دانش و سائنس کے پیکر اور دور حاضر کے عظیم ریاضی داں پروفیسر ڈاکٹر محمد رضی الدین صدیقی نے اس دار فانی کو خیرباد کہا اور مملکت پاکستان ایک بحر بے کراں کے فیض عام سے محروم ہوگئی۔ ڈاکٹر رضی الدین صدیقی جیسی نابغہ روزگار شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ بلا شبہ پاکستان کے لیے وہ ایک گراں بہا اور بیش قیمت سرمایہ تھے۔ اپنی بے شمار خدمات کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس مملکت میں تعلیم و سائنس کے فروغ اور توسیع کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ وہ چار یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر رہے جن میں سے دو یونیورسٹیوں کے بانی وائس چانسلر تھے۔ ڈاکٹر رضی الدین صدیقی کے سانحہ ارتحال پر ادارہ سائنس ڈائجسٹ ان کے اہل خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ حق تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے، آمین۔ ڈاکٹر صاحب کا ایک انٹرویو سائنس ڈائجسٹ کے تیسرے شمارے (مئی ۱۹۸۱ء) میں شائع ہوا تھا اس موقع پر ہم اپنے قارئین کے لیے اسے دوبارہ شائع کر رہے ہیں۔

مقدور ہو تو خاک پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے

نام تو ایک عرصے سے سن رکھا تھا اور یوں بھی ہم نام ہونے کی وجہ سے ملاقات کرنے اور خیالات سننے کا بڑا اشتیاق تھا لیکن کوئی موقع ہاتھ نہیں آتا تھا۔ ہمارے ہاں طالب علمی کے زمانے میں بڑے اور معروف لوگوں سے ملنا آسان نہیں ہوتا چنانچہ جب زمانہ طالب علمی ختم ہوا تو سال ڈیڑھ سال بعد ۱۹۷۲ء کے اوائل میں تیرہویں سالانہ سائنس کانفرنس کراچی میں منعقد ہوئی اس کانفرنس کے صدر تھے جناب ڈاکٹر رضی الدین صدیقی۔ سائنس کانفرنس کا ماحول قدرے بجھا بجھا اور خاموش تھا اس لیے کہ صرف تین ماہ قبل قوم ایک عظیم سیاسی و نظریاتی سانحے سے دو چار ہو چکی تھی اور اس نے قوم کے ہر فرد کے اعصاب شکستہ کر دئیے تھے ایسے نازک اور ہمت شکن ماحول میں اہل علم و دانش کی ایک بڑی تقریب سے خطاب کرنا اور کوئی نکتے کی بات پیش کرنا آزمائش کی بات تھی۔ پھر بدلی ہوئی فضاء کا خیال رکھنا تھا۔ ڈاکٹر صدیقی نے اپنے خطبہ صدارت میں کہا(افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جو اہل علم سائنس اور طبیعی علوم میں حقائق سے بحث کرتے ہیں اور اپنے مشاہدات و نتائج سے سو فیصد مطمئن ہوتے ہیں وہ بھی اس میں غلطی کے قدرے امکان (زیر وایر ر) کی گنجائش رکھتے ہیں لیکن عجیب بات ہے کہ جب یہی حضرات عمرانی و معاشرتی علوم اور سیاسی معاملات میں جو سائنسی علوم کے مقابلے میں کہیں زیادہ نازک اور پیچیدہ ہوتے ہیں، اپنے نقطء نظر کو منوانے کے لیے ایسے مصر ہوتے ہیں کہ گویا وہ انہیں عین الیقین اور حق الیقین کی حد تک حاصل ہے۔)یہ پہلا موقع تھا جب مجھے ڈاکٹر صدیقی کو سننے کا موقع ملا۔

اس کانفرنس کے بعد بھی ڈاکٹر صاحب کے چند بار نیاز ضرور حاصل ہوئے لیکن سرسری اور دور ہے۔ البتہ ۱۹۷۹ء کے آخر میں مجھے تفصیلی ملاقات اور گفتگو کا موقع مل گیا اور خود ڈاکٹر صاحب کے بقول ان کی زندگی میں میں پہلا فرد ہوں جس سے انہوں نے ایک نشست میں طویل ترین (تقریباچھ گھنٹے) گفتگو کی ہے۔ پاکستان کا یہ قابل فخر اور مایہ ناز سائنس داں جس نے آئن سٹائن جیسے عظیم سائنس داں کے ساتھ کام کیا ہے ایک بیش بہا سرمایہ ہے اور آج یہ سائنسی نابغہ ہمارے قارئین کے سامنے ہے۔

سوال: ڈاکٹر صاحب اپنے خاندانی پس منظر اور حالات کے بارے میں کچھ تفصیل بتائیے؟

جواب: ہمارا خاندان حیدر آباد دکن میں قاضیوں اور منصفوں کا خاندان تھا۔ ان میں ابتدائی تعلیم اسلامی علوم کی دی جاتی تھی۔ اس طرح میں نے فارسی اور عربی سے حصول علم کا آغاز کیا۔ ہمارے مدرسے یعنی مدرسہ دار العلوم میں عربی فارسی کی تعلیم تو ہوتی ہی تھی لیکن ساتھ ساتھ تاریخ، جغرافیہ، علوم ریاضی اور سائنس بھی پڑھائی جاتی تھی۔ خود میرے علاوہ اساتذہ بھی محسوس کرتے تھے کہ دوسرے علوم اور لسانیات کے ساتھ مجھے ریاضی اور سائنس سے کچھ زیادہ ہی شغف ہے اسی وجہ سے میرا نتیجہ ان مضامین میں ہمیشہ اچھا رہتا تھا۔ دراصل میرا ذہن تجزیاتی (انالیٹیکل) ہے اسی وجہ سے میں نے ان مضامین یعنی ریاضی اور سائنس کا انتخاب کیا تھا۔

سوال: آپ کا دور طالب علمی کس قسم کا تھا اور آپ آج اسے کیسا محسوس کرتے ہیں؟

جواب: ہمارے زمانے میں تعلیم انفرادی اور شخصی ہوتی تھی۔ طالب علموں کی تعداد کم ہوتی تھی۔ استاد بڑے شوق و ذوق اور شفقت کے ساتھ طالب علموں کو پڑھایا کرتے تھے۔ چونکہ میں ایک اچھا طالب علم سمجھا جاتا تھا اس لیے اساتذہ مجھ پر بہت شفیق اور مہربان تھے چنانچہ جب کبھی وہ مصروف ہوتے یا موجود نہ ہوتے تو مجھ سے کہا جاتا کہ اپنی کلاس کے لڑکوں کو بھی پڑھاؤں، چنانچہ یہ سلسلہ یونیورسٹی تک جاری رہا۔ میں خود پڑھتابھی تھا اور اپنے ساتھ کے طلبہ کو پڑھاتا بھی تھا۔ میں جب یونیورسٹی میں آیا تو میرے ہر مضمون یعنی سائنس، ریاضی، عربی اور فارسی میں بہت اچھے نمبر تھے اس سے ہمارے لسانیات اور سائنس کے اساتذہ کے درمیان ایک تنازعہ اور مسئلہ پیدا ہو گیا کہ آخر مجھے کیا پڑھایا جائے۔ عربی، اردو اور فارسی کے اساتذہ کہتے تھے کہ یہ ان مضامین میں تیز ہے، لہذا لسانیات پڑھائیں گے۔ سائنس کے اساتذہ کا کہنا تھا کہ سائنس کے مضامین کے لیے میں بہت موزوں ہوں۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر دونوں طرف کے اساتذہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو پھر میں اپنی خواہش کا اظہار کردوں گا لیکن اس کی نوبت نہیں آئی۔

طے یہ پایا کہ چونکہ سائنسی مضامین کے لیے تجربہ گاہ کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے وہ تو صرف کالج میں ہو سکتے ہیں البتہ عربی، فارسی اور اردو کی تعلیم گھر پر بھی جاری رہ سکتی ہے۔ اس کے یہ باوجود عربی و فارسی کے اساتذہ نے یونیورسٹی میں اپنی کلاسوں کا ٹائم ٹیبل ایسا بنایا کہ جب ہماری سائنس کی کلاسیں اور پریکٹیکل ختم ہو جاتے تھے تو وہ عربی فارسی کی کلاسیں شروع کرتے تھے اس طرح وہ ہماری خاطر صبح سے شام تک یونیورسٹی میں موجود رہتے تھے انہیں اس کی شدید خواہش تھی کہ میں عربی فارسی سے محروم نہ رہوں، چنانچہ عربی اور فارسی پڑھنے والے جو ہمارے دوست ہوتے تھے وہ کہتے تھے کہ میاں رضی الدین شکر کرو کہ اساتذہ تمہاری اتنی فکر رکھتے ہیں۔

سوال: کن اساتذہ کے آپ کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے؟

جواب: ہماری ابتدائی تعلیم کے زمانے میں ریاضی کے ایک استاد تھے مولوی غلام احمد۔ ان کے پڑھانے کا انداز بہت ہی دلچسپ تھا۔ ریاضی کا مضمون عام طور پر لوگوں کو اسی لیے مشکل معلوم ہوتا ہے کہ پڑھانے والے اساتذہ اسے دلچسپ انداز سے نہیں پڑھاتے۔ وہ ریاضی کے بہت اچھے استاد اور عالم تھے لیکن مثالیں ایسی دلچسپ اور عام فہم دیتے تھے کہ مضمون سے رغبت ہوتی تھی۔ ہمارے عربی کے استاد اور دارلعلوم کے پرنسپل مولوی غلام نبی صاحب بھی بڑے اصول کے پابند، صاف ستھرے رہن سہن والے اور وقت کے پابند آدمی تھے وہ بھی مجھے اکثر یاد آتے ہیں۔ کالج اور عثمانیہ یونیورسٹی کے تو تین اساتذہ خاص طور سے یاد رہنے والے ہیں۔ ایک مولوی (علامہ) مناظر احسن گیلانی جو ہمیں فلسفہ دین و دانش پڑھاتے تھے۔ ان کا طرز تعلیم اور تدریس ایسا تھا کہ اسلامیات کے مضمون میں ہندو بھی شریک ہو جاتے تھے۔ دینیات ہمارے لیے لازمی مضمون تھا اس کے ساتھ ساتھ ہر فقہ کے طالب علم کو یہ اجازت تھی کہ وہ اپنے تھے کی تعلیم الگ سے حاصل کر سکتا تھا۔ علامہ اتنی عمدگی سے پڑھاتے تھے کہ ہر فقے اور مذہب کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ وہ ہم سب کے فائدے کی بات بتاتے ہیں۔ ہمارے ریاضی کے پروفیسر قاضی محمد حسین صاحب کیمبرج سے تعلیم حاصل کر کے آئے تھے۔

ان کا پڑھانے کا طریقہ یہ تھا کہ گویا اب ریاضی کا کوئی انکشاف ہونے والا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ آپ یہ سمجھ لیں گویا دنیا سے ریاضی کی ساری کتابیں ختم ہو چکی ہیں اور اب ہمیں یہ سوچنا ہے کہ اس مضمون کو کیسے شروع کیا جائے اور لوگوں کو سمجھایا جائے۔ چنانچہ باتوں ہی باتوں میں وہ ریاضی کے بڑے بڑے مشکل مسائل حل کر دیتے تھے اور طالب علم حیران رہ جاتے تھے۔ ان کے لیکچر میں طالب علم بڑی دلچسپی اور پابندی سے شرکت کرتے تھے۔ میں ان کا لیکچر سن کر اپنی طرف سے بھی ریاضی کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتا تھا اور بہت سارا کام گھر پر بھی کرتا تھا۔ ایک دفعہ یہ ہوا کہ پروفیسر محمد حسین کلاس میں ریاضی کا ایک مسئلہ حل کر رہے تھے۔ وہ مسئلہ (سوال) بہت طویل ہو گیا انہوں نے کہا کہ بھئی یہ مسئلہ (سوال) بہت طویل ہو رہا ہے اور خود مجھے بھی اچھا معلوم نہیں ہو رہا ہے لیکن اس کے سوا کوئی دوسرا حل نظر نہیں آتا۔ اس وقت انہیں کلاس لیتے ہوئے چند ہی دن ہوئے تھے اور نیا نیا معاملہ تھا۔ ان کی بات سن کر میں کلاس میں کھڑا ہو گیا اور کہا(میں نے اپنے طور پر اسے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔) اس پر انہوں نے کہا کہ بورڈ پر آجاؤ۔ اس پر سارے طالب علم حیران کہ اتنے بڑے پروفیسر کے سامنے یہ لڑکا کہہ رہا ہے کہ اس نے ایک دوسرے طریقے سے حل کیا ہے۔ یہ ۱۹۲۱ء کا واقعہ ہے اور اس وقت میری عمر صرف ۱۴ سال تھی۔ میں میٹرک پاس کر کے انٹر میں آیا تھا۔ جب پروفیسر صاحب نے مجھے بورڈ پر بلایا تو میں نے اسے آسان اور راست (ڈائریکٹ) طریقے سے حل کر دیا۔ انہوں نے مجھے بڑی شاباش دی اور کہا کہ جب کبھی فرصت ملے میرے یہاں آجایا کرو، ہم مل کر ریاضی کے مسائل حل کیاکریں گے۔

سوال: اتنی کم عمری میں بھی آپ مشکل کتابیں پڑھ لیا کرتے تھے اور وہ بھی انگریزی کی؟

جواب: مجھے پڑھنے لکھنے سے شروع سے دلچسپی رہی ہے اس لیے مجھے کوئی چیز مشکل معلوم نہیں ہوتی تھی۔ میں نے اکثر اپنی تعلیم خود پڑھ کر حاصل کی ہے۔ اساتذہ سے تو میں صرف رہنمائی (گائیڈنیس) حاصل کرتا تھا لیکن پڑھتا میں خود تھا، یعنی ہاتھ پکڑ کر چلانے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ ہمارے طبیعیات کے ایک استاد پروفیسر عبدالرحمن خان تھے جو بڑی دلچسپ مثالیں دے کر مشکل مضمون کو آسان کر دیتے تھے۔

وہ ایک مضمون فلکی طبیعیات (آسٹرو فزکس) بھی پڑھاتے تھے۔ ایک دن ایک طالب علم نے سوال کیا کہ جناب آسمان میں اتنے لاکھوں ستارے ہیں اور سب ایک جیسے ہیں یعنی ہمیں تو ایک ہی جیسے نظر آتے ہیں لیکن آپ کہتے ہیں کہ وہ فلاں ستارہ ہے اور یہ فلاں ستارہ ہے، یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ آپ انہیں کیسے پہچان لیتے ہیں اور اتنے یقین سے کیسے کہہ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا دیکھو بھئی ہر انسان کے چہرے پر وہی دو آنکھیں ایک ناک اور دوکان ہوتے ہیں لیکن اگر تم ہزاروں لوگوں میں بھی کھڑے ہو تو تمہیں والدین کیسے پہچان لیتے ہیں اسی طرح جو لوگ اس فن کے عالم ہیں وہ جانتے ہیں کہ فلاں ستارہ فلاں ہے اور اس کی خصوصیات یہ ہیں۔ اس موقع پر قاضی محمد حسین صاحب بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ عبدالرحمٰن صاحب ٹھیک کہتے ہیں۔ دراصل بڑے بڑے چند ستارے جو ہیں وہ تو سب جانتے ہیں لیکن کسی ستارے کا محل وقوع کیا ہے، کون سا کس کے شمال میں ہے، کس کے جنوب میں ہے، کس کے مغرب میں یا مشرق میں ہے، کون سا ایک قسم کا دائرہ بناتا ہے اور کون سا دوسری قسم کا، اس طرح ان چیزوں سے بھی ستاروں کی پہچان کی جاتی ہے۔

سوال: عام طور پر پہلے زمانے میں بچے اساتذہ سے بہت خوف کھاتے تھے اور مشہور بھی تھا کہ چمڑی استاد کی ہڈی ماں باپ کی کیا آپ کے تجربے میں ایسی کوئی بات آئی؟

جواب: لوگ اسے مبالغہ سمجھیں گے لیکن میری اپنی تعلیم اور مشاہدہ میں ایسی کوئی بات نہیں آئی۔ نہ صرف میں بلکہ میرے ساتھوں نے بھی کبھی یہ نہیں دیکھا کہ کسی استاد نے کسی لڑکے کو لکڑی یا ہاتھ سے مارا پیٹا ہو۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ اس وقت اتفاق سے جہاں میں پڑھتا تھا کچھ ایسے طالب علم جمع ہو گئے ہوں جنہیں مارنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی یا ہمارے اساتذہ ہی ایسے تھے جو مارنے کے قائل نہیں تھے۔ بہر حال میرے مشاہدے کے مطابق مار پیٹ تو کجا اساتذہ اتنی شفقت اور محبت سے سمجھاتے تھے جس کی کوئی مثال نہیں اسی طرح طالب علم بھی بڑی دلچسپی اور توجہ سے پڑھتے تھے۔ بہرحال کند ذہن لڑکے تو ہر زمانے میں ہوتے ہیں اور ہم بھی سنتے تھے کہ بعض لڑکوں کی سمجھ میں نہیں آتا۔ فارسی کا ایک شعر ہے۔

پاد شاہ ی پر پسر بہ مکتب داد
لوح سیمیں درکنار نہاد
بر سر لوح او نوشتہ بہ زر
جو ر استاد بہ زمر پدر

اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے شہزادے کو مکتب میں بھجوایا اور اس کے پڑھنے کے لیے اس کے ساتھ چاندی کی تختی بنوا کر دی۔ اس تختی پر سونے کی روشنائی سے لکھا ہوا تھا،(استاد کا جور (سختی) باپ کی مہربانی سے زیادہ بہتر ہے اس لیے کہ اس سے مستقبل بنتا ہے۔) لیکن ہمیں خدا کے فضل سے وہ جور استاد دیکھنے کی نوبت نہیں آئی۔ رہا کسی طالب علم کا کند ذہن ہونا تو یہ اللہ کی طرف سے اس کا پیدائشی معاملہ ہے یہ کوئی اس کا ایسا قصور نہیں ہے کہ جس کی اسے سزا دی جائے۔

سوال: عثمانیہ یونیورسٹی سے آپ کی وابستگی کی کون سی خوشگوار یادیں ہیں؟

جواب: میں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے ریاضی اور طبیعیات میں بی اے کیا۔ میں ہر مضمون میں ہر مرحلے پر اور ہر جماعت میں اول آتا رہا۔ اس زمانے میں گورنمنٹ آف حیدر آباد کی طرف سے ایک میرٹ اسکالرشپ ملتا تھا وہ اسکالر شپ مجھے بھی مل گیا اس طرح کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا تو وہاں سے میں نے ریاضی میں ٹرائی پاس کیا۔ پھر جرمنی سے ریاضی اور ریاضیاتی طبیعیات میں پی ایچ ڈی کیا۔ اس کے بعد آیا تو یونیورسٹی میں پروفیسر ہو گیا۔ اسکالر شپ پانے والوں کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ ایک مقررہ مدت تک یونیورسٹی میں خدمات انجام دیں۔ عام طور پر لوگ کہتے ہیں کہ اردو میں تعلیم حاصل کرنے سے طالب علم کی قابلیت کم رہ جاتی ہے، اب دیکھئے کہ میں نے عثمانیہ سے اردو ذریعہ تعلیم سے بی اے کیا تھا اور آپ کو معلوم ہے کہ کیمبرج میں ذریعہ تعلیم انگریزی زبان ہے اور اس زمانے کی انگریزی زبان تو بہت ہی معیاری ہوتی تھی۔

ریاضی یا کسی بھی مضمون کے ٹرائی پاس کے عام طور تین سال ہوتے ہیں میرے دو سرے ساتھی جو بمبئی، مدراس یا پنجاب سے ایم اے یا بی اے کر کے آئے تھے انگلستان کے سفر میں ہمارے ساتھ تھے۔ جب ہم لوگ وہاں پہنچے تو وہاں داخلے کے لیے ایک امتحان ہوا جس میں، میں اول آیا۔ پھر میرا یہاں کی تعلیم کا کیرئیر بھی اچھا تھا چنانچہ یونیورسٹی کی سینیٹ نے ایک خاص قانون کے ذریعے مجھے ایک سال کی تعلیم سے مستثنیٰ قرار دے دیا یعنی میں سال اول کے بجائے براہ راست سال دوم میں پڑھنے لگا۔ جس وقت میں اور میرے ساتھی پانی کے جہاز سے انگلستان کے لیے روانہ ہوئے تھے تو راستے میں مشورے کرتے تھے کہ ہم سب لوگ کیمبرج میں ایک ساتھ پڑھا کریں گے اور یوں اچھا ماحول رہے گا۔ لیکن جب چند دنوں تک میں انہیں نظر نہیں آیا تو میرے ساتھیوں نے مجھ سے پوچھا بھئی تم کیوں نظر نہیں آتے؟ کہاں رہتے ہو اور کیا پڑھتے نہیں ہو؟ میں نے کہا کہ میں تو پڑھ رہا ہوں، اس پر انہوں نے کہا کہ ہم ان مضامین کے لیے فلاں فلاں استادوں کے پاس جاتے ہیں، تم وہاں نہیں آتے۔ اس پر میں نے کہا کہ میں دو سرے استادوں کے پاس جاتا ہوں۔ وہ کہنے لگے جن استادوں کے نام تم بتارہے ہو وہ تو دوسرے سال کے ہیں تم ان سے کیسے پڑھ سکتے ہو۔ اس طرح انہیں معلوم ہوا کہ میں ان کے ساتھ سال اول میں نہیں بلکہ سال دوم میں ہوں۔ اب ہمارے ساتھیوں میں اس پر چہ مگوئیاں شروع ہوئیں۔ ایک خاتون کہنے لگیں کہ میں بھی تمہارے ساتھ ان کلاسوں میں چل کر دیکھتی ہوں۔ چنانچہ ایک دو دن کلاس میں بیٹھنے کے بعد وہ کہنے لگیں کہ بھئی میرے بس کا نہیں ہے۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا۔ البتہ ایک صاحب جو مدراس سے آنرز تھے انہوں نے کہا کہ یہ یونیورسٹی والوں کی بڑی زیادتی ہے کہ تم عثمانیہ سے صرف بی اے پاس ہو اور وہ بھی اردو میڈیم سے جب کہ میں مدراس سے آنرز کورس کر کے آیا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے یونیورسٹی والوں سے شکایت کی کہ یہ تو بڑی نا انصافی ہے۔ اس پر یونیورسٹی والوں نے جواب دیا کہ ہم نے اس کا کیس دیکھا ہے اور ہمارے خیال میں ہم نے صحیح فیصلہ کیا ہے اب چونکہ تمہیں ہمارا طریقہ اور انصاف پسند نہیں ہے اس لیے تمہارا داخلہ منسوخ کیا جاتا ہے اب تم کہیں اور جاکر پڑھو اور انصاف والی جگہ چلے جاؤ۔

اس پر وہ صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اب کیا کیا جائے میں نے انہیں مشورہ دیا کہ بھئی تم معافی مانگو اور کہو کہ مجھے اپنے کیے پر شرمندگی ہے۔ جب وہ معافی مانگنے کے لیے گئے تو یونیورسٹی والوں نے بتایا کہ انہوں نے ان صاحب کی جگہ جو طالب علم امیدواروں کی فہرست (ویٹنگ لسٹ) میں تھا اسے ٹیلیگرام دے کر بلا لیا ہے اور وہ آ بھی گیا ہے۔ بہر حال جیسے تیسے یہ معاملہ ہوا مقصد یہ ہے کہ مجھے عثمانیہ کی اردو کی تعلیم کی وجہ سے کبھی کوئی دقت نہیں ہوئی۔ عثمانیہ میں اردو کے ساتھ انگریزی بھی پڑھائی جاتی تھی اس لیے میں نے کسی تکلیف و تکلف کے بغیر انگریزی میں تعلیم حاصل کی۔ میں ۱۹۳۱ء میں واپس آکر عثمانیہ میں پروفیسر ہو گیا تھا اور ۱۹۴۲ء تک ریاضی کا پروفیسر رہا۔ اس کے بعد ۱۹۴۷ء تک ڈائریکٹر ریسرچ رہا اور ۱۹۴۸۔۴۹ء میں وائس چانسلر ہوا اس کے بعد پاکستان آ گیا۔

سوال: اس زمانے کی کوئی اور خاص قابل ذکر بات جو آپ بتانا چاہتے ہوں؟

جواب: عثمانیہ کے فارغ التحصیل لوگوں نے پاکستان کے تعلیمی نظام کو ترقی دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جب پاکستان بنا تو غیر مسلم اساتذہ ترک وطن کر کے چلے گئے اور یہاں ان کی بڑی کمی ہو گئی۔ جنگ عظیم دوم ختم ہونے کے بعد پوسٹ وار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ پلان کے تحت عثمانیہ یونیورسٹی کی طرف سے ڈھائی سو طالب علموں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ اور امریکہ بھیجا گیا تھا۔ جب ۱۹۴۷ء میں پاکستان بن گیا تو ان میں سے بہت سے لوگوں نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت حیدر آباد تعلیم کے معاملے میں بڑی فراخ دل اور فیاض تھی چنانچہ ۱۹۴۸۔۴۹ء میں جب میں وائس چانسلر تھا تو عثمانیہ کا بجٹ ساڑھے باسٹھ لاکھ روپے تھا جب کہ پنجاب یونیورسٹی کو کوئی چار لاکھ بھی نہیں ملتے تھے۔ اسی طرح اس زمانے میں حکومت حیدر آباد نے اردو زبان میں کتابیں چھاپنے کے لیے دو کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔ اب آپ اس وقت کے دو کروڑ روپوں کا آج کے دو کروڑ سے مقابلہ کر لیجئے۔ آج لوگ کہتے ہیں کہ ہم تعلیم کے لیے یہ کریں گے اور وہ کریں گے۔

سوال: اس زمانے کی چند ہم عصر شخصیات جن سے آپ کی ملاقات ہوئی ہو؟

جواب: سب سے پہلے تو نواب بہادر یار جنگ وہ میرے ساتھ کے پڑھے ہوئے تھے۔ میرے ان سے ذاتی و شخصی سطح پر تعلقات تھے اور بڑی محبت تھی۔افسوس یہ ہے کہ میرے ساتھ بیٹھے بیٹھے اور میری آنکھوں کے سامنے ان کا انتقال ہوا تھا۔ حیدر آباد کی ایک ضیافت میں ہم دونوں ایک دوسرے سے اسی طرح باتیں کر رہے تھے جیسے کہ اس وقت ہم اور آپ کر رہے ہیں۔ اچانک ان پر دل کا دورہ پڑا اور وہ فوت ہو گئے۔ ان ہی کی فرمائش پر ہم نے ہر جمعرات کو ان کے گھر درس اقبال کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ دوسری شخصیت بلبل ہند مسز سروجنی نائیڈو کی ہے۔ وہ بڑی بزرگ اور قابل احترام شخصیت تھیں۔ اس زمانے میں ہندوستان میں خاص طور سے حیدر آباد میں ہندو مسلمانوں میں تعصب شروع نہیں ہوا تھا۔ وہ مجھے اور بہادر یار جنگ کو بیٹا کہتی تھیں اور ہم بھی انہیں اماں جان کہا کرتے تھے۔ اگرچہ ہمارے درمیان سیاسی بحث و مباحثہ بڑے زوروں پر ہوتا تھا لیکن جب باہر نکلتے تو پھر وہی اماں جان اور بیٹا بھتیجا والی بات شروع ہو جاتی تھی۔ سیاسی خیالات اپنی جگہ لیکن انسانی تعلقات اور رواداری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹتا تھا۔ جب میں استاد بنا اور تحقیق سے وابستہ ہوا تو مجھے سارے ہندوستان کی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے دوروں پر جانا ہوتا تھا۔ یوں اکثر بڑی شخصیتوں سے ملاقات کا موقع ملتا تھا۔ سرسی وی رامن جو نوبیل لارئیٹ تھے اور جنہوں نے انڈین اکیڈمی آف سائنسز کی بنیاد رکھی، میں ان کا فاؤنڈیشن فیلو اور اکیڈمی کا نائب صدر تھا جب کہ ڈاکٹر رامن اکیڈمی کے صدر تھے۔ یہ ۱۹۳۴ء کی بات ہے اور میری عمر اس وقت کوئی ۲۶۔۲۷ سال کی تھی۔ وہ میرے گھر آکر ٹھرتے تھے اور میں جب وہاں جاتا تو ان کے ہاں ٹھرتا تھا۔ علاوہ ازیں انڈین کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایس بھٹناگر سے بھی ملاقات تھی۔ قائد اعظم سے بھی میری ایک دو مرتبہ ملاقات ہوئی تھی۔ ایک بار قائد اعظم، نواب بہادر یار جنگ اور میں نے دہلی میں ایک جگہ ساتھ کھانا بھی کھایا تھا۔ وہ مسلم لیگ کے جلسے میں دہلی آئے تھے۔ اتفاق سے میں بھی دہلی میں تھا اور مولوی عبدالحق صاحب کے پاس ٹھہرا ہوا تھا۔

سوال: ہندوستان میں جنگ آزادی کے کسی اور اہم لیڈر سے آپ کی ملاقات ہوئی ہے؟

جواب: ہندوستان کی اہم سیاسی شخصیت پنڈت جواہر لال نہرو سے ملاقات رہی ہے۔ انہوں نے ۱۹۳۸ء میں اکیڈمی آف سائنسز کی طرف سے مجھے سائنس میں بہترین ریسرچ پر طلائی تمغہ (گولڈ میڈل) دیا تھا۔ میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے کورٹ کا کوئی پندرہ سال ممبر رہا ہوں۔ وہاں سال میں ایک دوبار میٹنگ ہوا کرتی تھی نواب زادہ لیاقت علی خان بھی اس میں آیا کرتے تھے۔ علی گڑھ مسلمانوں کی سیاسی تحریک کے علاوہ علمی مرکز بھی تھا اگرچہ میں ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد کا شاگرد نہیں رہا لیکن وہ بھی مجھ پر بڑے مہربان اور شفیق تھے چونکہ وہ ریاضی کے استاد تھے اور میرا مضمون بھی ریاضی تھا اس لیے وہ مجھ سے اکثر ریاضی کے معاملات میں مشورے کیا کرتے تھے۔ وہ اپنے پی ایچ ڈی کے بعض طالب علم حیدر آباد بھیجا کرتے تھے ان لوگوں کے علاوہ نواب محمد اسلم خان اور مولوی عبدالحق صاحب سے بھی میرے بڑے اچھے مراسم تھے۔ مولوی عبدالحق صاحب انجمن ترقی اردو کوجب حیدر آباد سے دہلی لے گئے تو انہوں نے پورے حیدر آباد کے لیے مجھے انجمن کا معتمد بنا دیا۔

سوال: پاکستان آنے کے بعد آپ کا تعلق کن کن اداروں سے رہا؟

جواب: پاکستان آنے کے بعد میں سب سے پہلے پشاور یونیورسٹی سے وابستہ ہوا۔ ہوا یوں کہ ۱۹۵۰ء میں انجمن ترقی سائنس پاکستان کے زیر اہتمام کراچی میں پہلی سائنس کانفرنس ہو رہی تھی۔ میں حکومت ہند کی طرف سے اس کا نفرنس میں مندوب کے طور پر شرکت کے لیے آیا۔ اس زمانے میں فضل الرحمٰن صاحب وزیر تعلیم تھے اور سردار عبدالرب نشتر پنجاب کے گورز تھے۔ جب میری نشتر صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ عمر حیات ملک جرمنی میں پاکستان کے سفیر ہو کر چلے گئے ہیں اور پنجاب یونیورسٹی میں کوئی وائس چانسلر نہیں ہے۔ اس لیے آپ یہاں آجائیں میں نے کہا کہ ابھی تو میں محض کا نفرنس میں شرکت کے لیے آیا ہوں اس سلسلے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ جب کراچی پہنچا تو فضل الرحمٰن صاحب نے بھی یہی بات کسی کہ ہم کراچی یونیورسٹی بنا رہے ہیں اس لیے اس کی وائس چانسلری قبول کرلو۔

میں نے کہا کہ میں ایک مرتبہ وائس چانسلری کر چکا ہوں اب میری خواہش ہے کہ کچھ لکھنے پڑھنے کا کام کروں چنانچہ میں نے معذرت کرلی۔ کراچی میں زاہد حسین صاحب گورنراسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس ٹھرا ہوا تھا۔ وہاں خان قیوم صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے درہ خیبر دیکھنے کی دعوت دی۔ خان قیوم صاحب نے مزید کہا کہ میں نے اسی مہینے قائد اعظم کی خواہش پر پشاور یونیورسٹی کابل پاس کرایا ہے اور ہم لوگوں کی تلاش میں ہیں۔ خان قیوم نے کہا کہ زاہد حسین نے انہیں بتا دیا ہے کہ آپ وائس چانسلر بننا نہیں چاہتے اس لیے ہم نے آپ کو ڈائریکٹر ریسرچ رکھا ہے اگر آپ تیار نہ ہوئے تو کسی اور کو وائس چانسلری کے لیے ڈھونڈ لیں گے۔ خان قیوم نے کہا کہ انہوں نے گورنمنٹ آف انڈیا کو لکھ دیا ہے کہ میں اب واپس نہیں جاؤں گا اور پاکستان کا پاسپورٹ لا کر دے دیا چنانچہ میرے علم میں لائے بغیر اس عجلت کا نتیجہ یہ ہوا کہ انڈین گورنمنٹ نے میری جائیداد اور زمین کے ساتھ ساتھ اس ذاتی کتب خانے کو بھی ضبط کر لیا جس میں فرانسیسی جرمن اور انگریزی زبانوں میں سائنس کی کتابوں کا بڑا اچھا ذخیرہ تھا اگر وہ کتب خانہ مل جاتا تو پاکستان کے لوگوں کو اس سے بڑی مدد مل سکتی تھی۔

سوال: کیمبرج میں قیام کے دوران جو یادیں وابستہ ہیں ان کا حال بتائیے؟

جواب: میں کیمبرج ۱۹۲۵ء میں گیا تھا۔ یہ ریاضی اور طبیعیات کے لیے بڑا معرکتہ الآرا زمانہ تھا اس وقت ساری طبیعیات (فزکس) ایک نئے دور سے گزر رہی تھی۔ چونکہ مجھے ریاضی سے دلچسپی تھی اور طبیعیات بھی اطلاقی ریاضی جیسی ہوتی ہے۔ کیمبرج، نیوٹن کے زمانے سے ریاضی کے لیے بہت مشہور چلی آرہی ہے۔ چونکہ ہندوستان انگریزوں کے زیر اثر تھا اس لیے یہاں کے طالب علم انگلستان ہی جاتے تھے حالانکہ اس زمانے کی جرمن یونیورسٹیاں ان کے مقابلے میں بہت بہتر تھیں۔ جب میں وہاں پہنچا تو اس وقت وہاں تین بہت مشہور طبیعیات داں اور ریاضی داں کام کر رہے تھے ان میں سب سے پہلے ارنسٹ رتھر فورڈ تھے، جے جے تھامسن بھی اس وقت زندہ تھے۔ ہم پروفیسر ڈیراک کےسب سے پہلے طالب علم تھے۔ وہ ریاضیاتی طبیعیات (میتھمیٹکل فزکس) پڑھاتے تھے۔

اس وقت تین یونیورسٹیوں میں زبردست سائنسی تحقیقات ہو رہی تھیں، مثلاً جرمنی میں ہائزن برگ، برلن میں شروڈنگر اور کیمبرج میں ڈیراک نت نئے انکشاف کرنے میں مصروف تھے۔ ان تینوں سائنس دانوں کا ایک مثلث تھا جو نئے نئے نظریات پیش کر رہا تھا۔ اگر میں نے تھوڑا بہت کوئی کام کیا بھی ہے تو وہ انہی اساتذہ کی بدولت کیا ہے۔ جب میں نے پروفیسر ڈیراک کی شاگردی میں ٹرائی پاس کر لیا تو آئن اسٹائن کے ساتھ کام کرنے کے لیے برلن پہنچا ابھی میں نے ان کے ساتھ کام شروع بھی نہیں کیا تھا کہ وہ سخت بیمار ہو گئے اور یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ وہ ۱۹۲۸ء میں سخت بیمار ہوگئے تھے۔ ان کے بیمار ہونے کے بعد میں جرمنی میں ریاضی کے سب سے بڑے ادارے گٹن برگ چلا گیا۔ وہاں پروفیسر ہائزن برگ موجود تھے جنہیں سب سے کم عمری میں نوبل انعام ملا تھا۔ اتفاق سے چند دنوں کے بعد ان کا بھی تبادلہ ہو گیا۔ گٹن برگ میں مجھے ہل برگ، لنڈاؤ اور تو مان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ جب ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کے لیے ایک سال پیرس میں رہا تو وہاں فلیمنگ، پی کاک اور لیبگ جیسے مشہور لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ بڑے استادوں میں سے تھے۔

سوال: آپ کو البرٹ آئن اسٹائن کے ساتھ کتنے عرصے کام کرنے کا موقع ملا؟

جواب: صرف تین چار ماہ کے قریب وہ سیمینار لیکچر دیتے تھے اور ہم ان میں شرکت کرتے تھے۔ دراصل مجھے ان کی بیماری کی وجہ سے وہ موقع نہیں مل سکا جو تحقیق اور تھیسس کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

سوال: اس زمانے کی کوئی اور دلچسپ بات؟

جواب: آئن ا سٹائن کے متعلق ہی ہے۔ ان کا معمول تھا کہ وہ ہفتے میں ایک دو مرتبہ شام کے وقت سات بجے سے نو بجے تک دو گھنٹے لیکچر دیا کرتے تھے۔ ان کی شہرت کی وجہ سے عام لوگ بھی یہ لیکچر سننے کے لیے جمع ہو جاتے تھے۔ ایک دن لیکچر کے بعد ایک خاتون کہنے لگیں (پروفیسر صاحب آج کا لیکچر بالکل سمجھ میں نہیں آیا۔)

اس پر آئن اسٹائن کہنے لگے کہ جب امریکہ والوں نے مجھے لیکچر کے لیے دعوت دی تو میں اپنی بیوی کے ساتھ پانی کے جہاز میں ہیمبرگ سے روانہ ہوا۔ میری بیوی کو بھی اس نظریے سے بڑی دلچسپی تھی چنانچہ اس نے کہا کہ میں اسے اپنا نظریہ سمجھاؤں۔ میں اسے ایک ہفتے تک سمجھاتا رہا لیکن اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ خاتون ابھی تو صرف دو گھنٹے ہوئے ہیں اور آپ تو میری بیوی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ذہین ہیں اس لیے فکر نہ کریں جلد سمجھ جائیں گی۔

سوال: کیا آٹو ہان اور نیلس بوہر سے بھی کبھی ملاقات ہوئی؟

جواب: آٹو ہان سے میری ملاقات نہیں ہوئی انہوں نے میری واپسی کے کئی سال بعد کام شروع کیا۔ نیلس بوہر،ہائزن برگ شروڈنگر اور ڈیراک وغیرہ کے روحانی استاد سمجھے جاتے ہیں، پروفیسر بوہر نے ڈنمارک میں نظری طبیعیات کا ایک انسٹیٹیوٹ قائم کیا تھا جہاں سال میں ایک بار دنیا کے تمام مشہور طبیعیات داں جمع ہوتے تھے چنانچہ پروفیسر نیلس بوہر سے میں نے بھی ملاقات کی ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ یہ لوگ بڑے پائے کے اہل علم اور سائنس دان تھے اور ہم ٹھہرے ایک عام طالب علم، چنانچہ ہم انہیں ایک استاد کی حیثیت سے احتراما دور سے دیکھ لیتے تھے، ہماری ملاقات ایسی نہیں تھی جیسے کوئی برابر کا آدمی ملتا ہے۔

سوال: ریاضی میں آپ کا کام زیادہ تر کس نوعیت کاہے؟

جواب: میں نے زیادہ تر خالص ریاضی میں کام کیا ہے۔ اس کے ساتھ اطلاقی ریاضی(ایپلائڈ میتھمیٹکس) میں ایک تھیوری آف آپر یٹرز ہوتی ہے میں نے اسے ترقی دی ہے۔ اگرچہ میرا تعلق اطلاقی ریاضی سے زیادہ نہیں ہے۔ جس زمانے میں میں کیمبرج میں تھا تو ایک مضمون قدری میکانیات(کوانٹم میکانکس) بہت ترقی کر رہا تھا۔ چنانچہ ایک تو ہائز برگ کے ساتھ رہنے اور پھر پروفیسر ڈیراک کا شاگرد ہونے کی وجہ سے جب میں حصول علم کے بعد ہندوستان واپس آیا تو ان نظریات کے بارے میں جاننے کے لیے لوگوں میں بڑا تجسس پایا جاتا تھا۔

چنانچہ مجھ سے بہت سے لوگوں نے کہا کہ ان موضوعات پر لیکچر دو۔ اگر چہ میں نے اپنا تحقیقی کام تفرقی مساوات(ڈ فرینشیل ایکویشنز) اور تکملی مساوات (انٹیگرل ایکویشنز) پر کیا تھا۔ بات یہ ہے کہ یہ جو خالص ریاضی ہوتی ہے یہ دنیا میں عام طور پر اتنی دلچسپ اور مشہور نہیں ہوتی جتنا کہ طبیعیات کا ایک نظریہ ہوتا ہے۔ اگر میں اپنے مضمون تفرقی مساوات کے بارے میں کچھ بتاتا تو بہت کم لوگوں کو اس سے دلچسپی ہوتی۔ گو میں نے طبیعیات پر کام نہیں کیا تھا لیکن قدری میکانیات اور نظریہ اضافیت کا خاصا مطالعہ کیا تھا اور یوں ان سے خاص واقفیت تھی چنانچہ لوگوں کی فرمائش ہوتی تھی کہ ان مضامین کے بارے میں بتایا جائے۔ چنانچہ مجھ پر اکثر اس قسم کا دباؤ رہتا تھا کہ کہیں لیکچر دو یا کوئی کتاب لکھو وغیرہ۔ اس سلسلے میں بیرون ملک سے بھی طلبہ آیا کرتے تھے۔ مجھے ان نظریات کو سمجھانے کے لیے بہت اعلیٰ درجے کی ریاضی سے کام لینا پڑتا تھا جو ہمارے ہاں ایم اے میں بھی نہیں پڑھائی جاتی۔ اس زمانے میں ہندوستان میں بہت کم لوگ تھے جو اعلیٰ درجے کی ریاضی جانتے تھے۔ البتہ ایک بات یہ کہ اس وقت تک اضافیت اور قدری میکانیات میں بہت گہرا تعلق ہو گیا تھا۔ نظریہ اضافیت پر میں نے جو کتاب لکھی ہے وہ ایک طرح سے علامہ اقبال کی فرمائش پر لکھی گئی ہے لیکن میری بد قسمتی یہ رہی کہ علامہ اقبالؒ سے ذاتی ملاقات نہیں ہو سکی۔ دراصل میں یہ چاہتا تھا کہ علامہ سے ملاقات کے لیے اپنے آپ کو کسی قابل بناؤں۔ جب ایک مرتبہ میں یونیورسٹی کے معاملات کے سلسلے میں لاہور آیا تو علامہ کے ایک بہت قریبی دوست ڈاکٹر عبداللہ چغتائی نے مجھ سے کہا کہ تمہیں نظریہ اضافیت سے خاصی واقفیت ہے اور علامہ چاہتے ہیں کہ اردو زبان مین اس پر کوئی کتاب لکھی جائے۔ چنانچہ محض ملاقات کی خاطر میں نے نظریہ اضافیت پر اردو میں کتاب لکھنا شروع کر دی اور اس کا خاصا حصہ لکھ چکا تھا کہ اس دوران علامہ رحلت فرما گئے۔ اس سانحے کے نتیجے میں میں نے کتاب نامکمل چھوڑ دی بعد میں مولوی عبدالحق صاحب کو معلوم ہوا توانہوں نے مجھ پر زور دے کر اسے مکمل کروایا۔ اگرچہ میں علامہ سے ملاقات کی سعادت سے محروم رہا لیکن طالب علمی کے زمانے سے ان کے کلام کو اتنا پڑھتا تھا کہ سب کا سب حفظ ہو جاتا تھا بس ایک دفعہ پڑھ لینے سے ہی یاد ہو جاتا تھا۔ ہو سکتا ہے خود علامہ کو بھی اتنا یاد نہ رہتا ہو جتنا مجھے یاد تھا اور اب بھی ہے اگرچہ کافی عرصہ ہو چکا ہے۔

سوال: آپ کی تصانیف کی تعداد کتنی ہے؟

جواب: کتابیں تو دس کے قریب ہیں اور تین چار کے مسودے بھی تیار ہیں ان کے علاوہ میرے تقریباً تیس کے قریب تحقیقی مقالے (ریسرچ پیپر) ہوئے تھے۔ البتہ سائنس اور تعلیم کے بارے میں میں نے بے شمار مضامین لکھے ہیں جو مختلف رسالوں اور مقامات پر شائع ہوئے ہیں انہیں کبھی شمار کرنے کا کوئی موقع نہیں ملا۔

سوال: ریاضی میں آپ کا تحقیقی کام انتہائی دقیق اور اعلیٰ علمی معیار کا ہے اس کی اہمیت اپنی جگہ سہی لیکن عام آدمی کے نقطہ نظر سے اس کا عملی فائدہ کیاہے؟

جواب: علم ریاضی کے اصل فائدے علم طبیعیات میں ہوتے ہیں۔ میں نے ریاضی کے جو مسائل منتخب کیے تھے۔ وہ اسی قسم کے تھے۔ مثلاً ہم جسے ایصال حرارت یا کنڈکشن کا عمل کہتے ہیں اگر وہ قلم (کرسٹل) میں ہو تو کس قسم کا ہوگا اور اگر غیر خطی(نون لینئیر) قسم کا ہو تو کس قسم کا، اس عمل کو ریاضی کی ایک مساوات سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ہم نے اس کا ایک حل دریافت کیا اور اس کی ایک مساوات تیار کی۔ گویا ریاضی اور طبیعیات کے اس قسم کی مسئلے تھے جن پر میں نے کام کیا ہے۔ یہ تمام مسائل عملی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اب آپریٹرز قدری میکانیات(کوانٹم میکانکس) میں استعمال ہوتے ہیں۔ چنانچہ جب ابتداء میں اس کا نظریہ بنا تھا تو میں نے اس کا نظریہ تیار کیا۔ اسی طرح تکملی مساوات اور خطی مساوات کا طبیعیات اور دوسرے مضامین میں اطلاق ہوتا ہے۔ دراصل ہوتا یہ ہے کہ ریاضی داں جو تحقیقی کام کرتے ہیں انہیں کچھ عرصہ کے بعد مختلف مضامین والے بالخصوص طبیعیات داں استعمال کرتے ہیں۔ اب تو ریاضی کا استعمال حیاتیات اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی شروع ہو گیا ہے اسی لیے جب میں نے اسلام آباد یونیورسٹی قائم کی تو وہاں ایک شعبہ ریاضیاتی معاشیات(میتھمیٹیکل اکنامکس) کا بھی رکھا تھا۔ دراصل ریاضی کا عمل دخل ہر علم میں ہے بلکہ کوئی علم اس وقت تک سائنس نہیں کہلا سکتا جب تک وہ ریاضی کے مسلمہ اصولوں کے تحت نہ آجائے۔

طبیعیات کی اصل ترقی و توسیع بھی ریاضی ہی کی مرہون منت ہے اور طبیعیات کی تشریح و توضیح بھی ریاضی کے ذریعے کی جاتی ہے یعنی فلاں فلاں اصول یا قانون کیوں اور کن وجوہات کی بناء پر ہوتا ہے اس کے لیے ریاضی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ چنانچہ ریاضی یا تو پہلے سے موجود حقائق بیان کرنے کے کام آتی ہے یا اس کے ذریعے دوسرے نئے خیالات پیش کیے جاتے ہیں اب ظاہر ہے کہ یہ معاملات عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آسکتے۔ ایک عام آدمی نے ریاضی اور طبیعیات کہاں پڑھی ہوتی ہے پھر طبیعیات بھی وہ نہیں جو میٹرک بی اے یا ایم اے میں ہوتی ہے۔ بلکہ بہت اعلیٰ سطح کی ہوتی ہے۔

سوال: کیا آپ کے علم میں ہے کہ آپ کے کلیوں کا اطلاق کسی نمایاں جگہ پر ہوا ہے؟

جواب: میرے اپنے علم میں نہیں ہے کہ میرے وضع کردہ کلیات و نظریات کا اطلاق ہوا ہے یا نہیں اور ہوا ہے تو کہاں ہوا ہے؟ دراصل یہ نمایاں کا لفظ خود وضاحت طلب ہے۔ ہر شخص کے ذہن میں نمایاں کا تصور الگ الگ ہو سکتا ہے اور میں تو اپنی زبان سے اس قسم کا اظہار نہیں کر سکتا۔ البتہ جو کچھ میں نے کیا ہے اس میدان اور مضمون سے تعلق رکھنے والے اہل علم اس کی قدرو قیمت کا تعین خود کر سکتے ہیں۔

سوال: آپ کی کتاب نظریہ اضافیت میں آئن اسٹائن کے کام کی تشریح کی گئی ہے یا اس میں کچھ اوربھی ہے؟

جواب: آئن اسٹائن کے علاوہ نظریہ اضافیت پر اور دوسرے لوگوں نے بھی خاصا کام کیا ہے ان سب کا ذکر ہے۔ کتاب لکھنے کے بعد میں نے خود بھی تھوڑا بہت اس نظریے پر کام کیا ہے مثلاً آپریٹرز کی تھیوری ہے جو میں نے خود پیش کی تھی۔

سوال: آپ ریاضی کے بجائے کسی اور مضمون میں تحقیق کرتے تو کیا زیادہ معروف کارنامے انجام دے سکتےتھے؟

جواب: مجھے اب تک اس قسم کا کوئی خیال نہیں آیا کہ میں ریاضی میں کام نہ کرتا تو کوئی اور کام بہتر طریقے پر کر سکتا تھا۔ ہر آدمی کی ایک ذہنیت، خیال، سوچنے کا انداز اور ساخت ہوتی ہے۔ میرے جیسے ذہن والے آدمی کے لیے لا محالہ یہ ضروری تھا کہ میں ریاضی کو اپنا میدان بناتا پھر مجھے دلچسپی بھی ریاضی ہی سے تھی۔

سوال: ایسی کیا صورت کی جائے کہ اہل علم اور سائنس داں معاشرہ میں تبدیلی کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں اور پھر انہیں بھی توجہ و اہمیت حاصل ہو سکے؟

جواب: یہ بہت اچھا سوال ہے لیکن اس کا دائرہ صرف سائنس تک محدود نہیں رہنا چاہیئے۔ یہ علم ہی تو ہے جس کے ذریعے انسان اللہ کو پہچانتا ہے، اس کی مخلوق کو پہچانتا ہے اور کائنات کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے۔ اب سائنس کی مدد سے ٹیکنالوجی کی ترقی ہو اور ٹیکنالوجی کی مدد سے انسانوں کے طرز زندگی اور معیار زندگی میں بہتری اور اضافہ ہویہی کام اہل علم اور سائنس دانوں کے کرنے کا ہے اور اہل علم کے بغیر انسانی معاشرہ میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آتی، سائنس داں ان لوگوں کی بہ نسبت جنہوں نے کوئی تعلیم و تربیت حاصل نہ کی ہو، معاشرے کو بہت بہتر بنا سکتے ہیں۔

سوال: ترقی کے لیے ترجیحات کا تعین کیا ہوناچاہیے؟

جواب: میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔ جب کبھی کوئی خارجی طاقت یا بیرونی دشمن ملک پر حملہ آور ہوتا ہے تو وہ اس وقت یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے پاس کتنی قوت اور پیسہ ہے بلکہ اس وقت جو کچھ بھی قوت اور اثاثہ میسر ہوتا ہے وہ سارا دفاع پر لگا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ جہالت کے دشمن کے خلاف جس کے نتیجے میں بھوک، افلاس، بیماری اور تنگ دستی جیسے بے شمار مسائل پیدا ہوتے ہیں، مدافعت بھی اسی طرح ہونی چاہیے جس طرح دشمن کے خلاف ہوتی ہے اور جہالت کا مقابلہ بھی اسی طرح کیا جانا چاہیے۔

جس طرح بیرونی دشمن کا کیا جاتا ہے۔ اور ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ اسی مقابلے پر نثار کر دینا چاہیئے۔ تمام مسلمان ملکوں کو چاہیے کہ وہ ایک کریش پروگرام تیار کریں، جہالت کے خلاف ایک عشرہ منائیں اور اس کے خاتمے کے لیے جہاد کریں۔ اس کے بعد آپ کو ترجیحات کا تعین کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ گویاسب سے پہلی ترجیح علم کا عام کرنا ہے۔

سوال: سنا ہے آپ کو فکر اقبال اور اقبالیات پر ایک اتھارٹی کی حیثیت حاصل ہے؟

جواب: مجھے شروع سے ادب سے دلچسپی رہی ہے۔ میری تعلیم عربی اور فارسی سے شروع ہوئی میں نے فارسی کا بھی خاصا مطالعہ کیا ہے۔ جب استاد نصاب کی ایک کتاب پڑھاتے تھے تو میں خود اپنی طرف سے دو چار کتابیں پڑھ لیا کرتا تھا۔ چنانچہ جب اقبال کی نظمیں شائع ہوئیں تو وہ میرے دل پر بہت اثر کرتی تھیں اقبال کا بڑا کارنامہ یہی ہے کہ نہ صرف اس نے لوگوں کو اپنا کلام دیا ہے بلکہ دوسرے بڑے بڑے ادبیوں اور عالموں کا کلام بھی ان کے ذریعے پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ اسی لیے مجھے علامہ اقبال سے خصوصی دلچسپی ہے۔ادب نہ میرا مضمون ہے اور نہ میں کوئی ادیب ہوں لیکن جب لوگ خواہش کرتے تھے کہ میں ان کے کلام کے بارے میں کچھ کہوں تو میں ان کے اصرار پر لکھ دیتاتھا۔ علامہ کی زندگی میں بھی میں نے کلام اقبال کی تشریح و توضیح کی ہے اور ان کے انتقال کے بعد بھی۔ میں نے سوچا کہ اگر میری وجہ سے ان کے کلام کو سمجھنے میں کوئی مدد مل سکتی ہے تو اس سے اچھی اور کیا بات ہے۔ اگرچہ مجھے اس قسم کا گمان کبھی نہیں رہا کہ میں علامہ اقبال کو سمجھتا ہوں یا ان کے کلام کو سمجھنے اور سمجھانے کی مجھ میں صلاحیت ہے لیکن جب لوگوں کو یہ خوش فہمی، حسن زن اور اعتقاد ہے ہی اور ان کی فرمائش ہے تو چلیں یوں ہی سہی۔

سوال: نظم کے ساتھ کبھی غزلیات سے بھی آپ کودلچسپی رہی ہے؟

جواب: میں نے فارسی غزلوں کا خاصا مطالعہ کیا ہے اور اب بھی بے شمار غزلیں یاد ہیں۔ غالب بھی مجھے تقریباً حفظ ہے۔ فارسی میں صائب، حافظ،عرفی، نظیری کے کلام یاد ہیں۔ پھر مثنوی روم اور سعدی کا کلام بھی بہت پڑھا ہے۔

سوال: فرانسیسی ادب میں کس سے زیادہ متاثرہوئے ہیں؟

جواب: فرانسیسی ادب تو میں نے زیادہ نہیں پڑھا البتہ فرانسیسی فلسفیوں اور ریاضی دانوں کی کتابیں دیکھی ہیں۔ انگریزی کا ادب عالیہ (کلاسکس) میں نے تقریباً سارے کا سارا پڑھا ہے جو سر سے لے کر جان گالزو ردی تک گویا شکسپیئر سے لے کر وکٹوریہ کے عہد تک کے تقریباً تمام ادیبوں کو پڑھا ہے۔

سوال: موجودہ دور کی نوجوان نسل میں علمی لگن پیدا کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں؟ جواب: نوجوان تین مقامات سے متاثر ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے گھر کا ماحول پھر مکتب (اسکول) کا ماحول اور اس کے بعد معاشرے (سوسائٹی) کا ماحول جب تک ان تینوں میں کوئی اصلاح نہیں ہوگی اس وقت نوجوانوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ خود بخود غیب سے ٹھیک ہو جائیں گے، عبث ہے۔ نوجوان آج کل اس راجہ سے بھی بغاوت کی کیفیت لیے ہوئے ہیں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جو عمر رسیدہ لوگ ہیں انہوں نے ہمارے لیے اس دنیا کو جہنم بنا دیا ہے۔ بعض لوگ نوجوانوں کو الزام دیتے ہیں۔ در حقیقت ہم لوگوں (پرانی نسل) نے دنیا میں کون سا ایسا کام کیا ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں کو آئندہ پچاس سالوں کی زندگی میں کوئی خوش آئند یا امید افزا حالات نظر آتے ہوں۔ وہ یوں ہی بیٹھے بٹھائے بدظن نہیں ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں کی وجہ سے یہ دنیا جہنم بن گئی ہے اس لیے ان سے کسی بہتری کی توقع کرنا غلط ہے چنانچہ ہمیں خود ہی آ گے بڑھنا چاہیے۔ اگرچہ یہ طرز عمل ایک رد عمل کے طور پر ہوا ہے لیکن یہ بھی بہر حال غلط ہے۔

انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ لوگ جنہیں تجربہ اور علم تھا جب وہ کچھ نہیں کر سکے تو وہ جنہیں نہ ہی علم ہے اور نہ ہی تجربہ وہ دنیا میں کیا کر سکیں گے۔ اس کی مثال کچھ ایسی ہے کہ جس شخص کو تھوڑا بہت تیرنا آتا ہے وہ پھر بھی کچھ نہ کچھ ہاتھ پاؤں مار کر دریا پار کرلے گا لیکن اگر کسی نے تیرنا بالکل نہیں سیکھا ہے اور چاہتا ہے کہ بس یونہی دریا پار کرجائے تو اس کا انجام یہ ہوگا کہ خود بھی ڈوبے گا اور دوسروں کو بھی لے ڈوبے گا۔ پرانی نسل کا یہ کہنا بھی کہ ساری غلطی اور ذمہ داری نوجوانوں کی ہے صحیح نہیں ہے بہر حال دونوں طرف اصلاح کی ضرورت ہے۔

سوال: سائنس دانوں اور اہل علم کو جو انعامات و ایوارڈ دیئے جاتے ہیں ان کی جو تشہیر ہونی چاہینے وہ کیوں نہیں ہوتی؟

جواب: ہم اپنا یہ قصور مانتے ہیں کہ تشہیر نہیں کرتے اور چرچا نہیں کرتے لیکن ذرائع ابلاغ کو بھی یہ چاہیئے کہ احساس تناسب کا خیال رکھیں۔ ایسا کام یا تقریب جس میں بڑے بڑے سائنس داں اور اہل علم شریک ہوں اور علم کی باتیں ہو رہی ہوں ان میں یہ لوگ اتنی دلچسپی نہیں لیتے جتنی کہ کسی ایسی تقریب میں جس میں کسی محکمے کے ڈائریکٹر صاحب یا کوئی بڑی سیاسی شخصیت آتی ہے۔ آپ یوں دیکھیں اگر ہمارے یہاں یہ اعلان کیا جائے کہ فلاں جلسے میں ایک بڑے عالم تقریر کریں گے تو اس تقریر کو سننے کے لیے اس وقت تک لوگ بڑی تعداد میں نہیں آتے جب تک یہ اعلان نہ کیا جائے کہ اس کی صدارت فلاں وزیر صاحب کریں گے۔ اب ان وزیر صاحب نے دو چار ادھر ادھر کی باتیں کیں اور ان کے مقابلے میں اس عالم نے بڑی سخت اور توجہ سے ایک گھنٹے تک تقریر کی تو اس بچارے عالم کی گھنٹے بھر کی تقریر تو دو سطروں میں ہو جاتی ہے اور ان وزیر صاحب کی دو چار لمحوں کی باتیں پورے کالم بھر میں آتی ہیں۔ جس معاشرے میں علم اور عالموں کی یہ حالت ہو اس میں اپنی اہمیت منوانا بڑا مشکل کام ہے۔

سائنس دانوں اور عالموں کو بھی چاہیے کہ اچھی باتوں کی تشہیر کو اہمیت دیں اگرچہ میں ذاتی طور پر اس سے بچتا رہا ہوں اس لیے کہ عطرآنست کہ خود بوئید نہ کہ عطار بگوید۔لیکن اگر یہ کام ہوتا ہی ہے تو جن کے ذریعے سے یہ ہوتا ہے انہیں خود بھی کچھ نہ کچھ اس کا احساس ہونا چاہیے۔

سوال: اپنی زندگی کا کوئی ایک واقعہ ایسا سنائیں جو ساری زندگی کا نچوڑ ہو اور جسے آپ کبھی فراموش نہیں کر سکتے؟

جواب: ایک واقعہ ایسا ہے جس کا میری زندگی پر گہرا اثر بھی ہے۔ علامہ مناظر احسن گیلانی جو ہمارے مشفق اور محبوب استاد تھے ہمیں فلسفہ دین و دانش پڑھایا کرتے تھے۔ میری ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے کہ نصاب کے ساتھ ساتھ ہٹ کر دوسری کتابوں کا بھی مطالعہ کرتا ہوں۔ یونیورسٹی کے امتحان میں علامہ کا پرچہ تھا اور اسے میں نے اپنی دانست میں اچھا حل کیا تھا۔ بعد میں مجھے یونیورسٹی والوں نے بتایا کہ تمہاری وجہ سے یونیورسٹی میں چند دنوں تک خاصا ہنگامہ رہا۔ ہوا یوں کہ ایک سو نمبر کے پرچے میں علامہ نے مجھے ایک سو پانچ نمبر دے دیئے۔ اس پر رجسٹرار صاحب نے بڑا اعتراض کیا اور کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک سو میں سے ایک سو پانچ نمبر دیے جائیں ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی لڑکے نے کوئی غیر معمولی اچھا پرچہ حل کیا ہے تو زیادہ سے زیادہ سو میں سے سو نمبر دئیے جاسکتے ہیں۔ چنانچہ کئی دنوں تک اس پر بحث چلتی رہی آخر علامہ نے اس کا تصفیہ اپنی تشریح سے کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی طالب علم کسی مضمون یا سوال کو حل کرتے وقت وہ سب کچھ لکھ دے جو اس کے استاد نے اسے بتا یا ہے تو آپ اسے کتنے نمبر دیں گے۔ اس پر رجسٹرارصاحب نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ سو نمبر اس پر علامہ نے کہا اگر کوئی طالب علم اسی پرچے کو حل کرتے وقت وہ باتیں جو میں نے اسے بتائی ہیں ان سے کہیں زیادہ لکھ دے تو پھر آپ کیا کریں گے۔ اس پر رجسٹرار صاحب لاجواب ہو گئے اور پھر کہا کہ علامہ آپ نے تو اپنی دانست میں نمبر ٹھیک ہی دیئے ہیں لیکن ہم یونیورسٹی کے ریکارڈ میں اسے سو میں سو ہی لکھیں گے۔

اس واقعے کے بعد میں ہمیشہ یہ سوچتا رہا کہ میرے شفیق استاد کی میرے بارے میں جو رائے ہے اسے ثابت کرنے کے لیے اپنے آپ کو اہل بناؤں زندگی کے اس واقعے کو میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔

سائنس ڈائجسٹ نیوز لیٹر

اپنے ان باکس میں پہنچائی جانے والی اہم ترین خبروں کی جھلکیاں حاصل کریں۔