
پاکستان میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کو صرف مقامی مسئلہ یا حکومت کی ناکامی سمجھنا حقیقت کو نظر انداز کرنا ہے۔ یہ ایک پیچیدہ اور عالمی مسئلہ ہے جس کا براہ راست تعلق موسمیاتی تبدیلیوں اور بین الاقوامی سیاست سے ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان، جو عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ دار ہے، ان تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ اس تباہی کی وجوہات اور ذمہ داریوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایک وسیع تناظر میں دیکھنا ہوگا۔
موسمیاتی تبدیلی اور اس کے بڑھتے ہوئے اثرات
موسمیاتی تبدیلی، جو کہ صنعتی ممالک کے بھاری کاربن اخراج کا نتیجہ ہے، اب اپنے سنگین نتائج دکھا رہی ہے۔
غیر معمولی بارشیں: دنیا بھر میں بارشوں کا نظام غیر مستحکم ہو چکا ہے اور پاکستان میں مون سون کی بارشیں معمول سے کہیں زیادہ شدید اور غیر متوقع ہو چکی ہیں۔ یہ وہ بارشیں ہیں جو نہ تو پاکستان کا موسمیاتی انفراسٹرکچر برداشت کر سکتا ہے اور نہ ہی مقامی دریا اور نہریں۔
گلیشیئرز کا پگھلنا: شمالی پاکستان میں موجود گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ یہ عمل عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا براہ راست نتیجہ ہے۔ اس سے دریائی نظام میں پانی کا بہاؤ اچانک بڑھ جاتا ہے اور تباہ کن سیلاب کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
عالمی غیر منصفانہ رویہ: پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فنڈنگ کی سخت ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی وعدے، جیسے کہ “گرین کلائمیٹ فنڈ”، اکثر پورے نہیں ہو پاتے۔ یہ صورتحال عالمی برادری کی غیر منصفانہ اور غیر ذمہ دارانہ رویے کو ظاہر کرتی ہے۔
بین الاقوامی سیاست اور دریائی پانی کی تقسیم
پاکستان میں سیلاب کی ایک اہم وجہ وہ بین الاقوامی سیاست بھی ہے جو دریاؤں اور پانی کے انتظام کے گرد گھومتی ہے۔
بھارت سے آنے والے دریا: پاکستان میں بہنے والے زیادہ تر دریا جیسے کہ ستلج اور چناب بھارت سے ہو کر آتے ہیں۔ سندھ طاس معاہدہ کے باوجود، پانی کے بہاؤ اور ڈیموں سے پانی چھوڑنے کے بارے میں بروقت معلومات کا فقدان ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ جب بھارت اپنے ڈیموں سے زیادہ پانی چھوڑتا ہے تو پاکستان میں نچلے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
عالمی آبی حقوق: پانی کے انتظام اور اس کے حقوق پر بین الاقوامی سطح پر کوئی واضح اور قابل عمل ضابطہ موجود نہیں ہے۔ اس وجہ سے ایک ملک کا عمل دوسرے ملک کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
حالیہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور متاثرہ علاقے
حالیہ سیلاب نے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصانات کیے ہیں۔ یہ تباہی ملک کے کئی حصوں میں پھیلی ہے اور اس سے ہزاروں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔
جانی نقصان: حالیہ سیلاب اور بارشوں سے اب تک 400 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 240 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
مالی نقصان: سیلاب نے بڑے پیمانے پر مالی نقصان پہنچایا ہے۔ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، جس سے کسانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ، سڑکوں، پلوں اور مواصلاتی نظام کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ہزاروں گھر مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔
سیلاب سے متاثرہ اور خطرہ والے صوبے
خیبر پختونخوا: یہ صوبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ اور بٹگرام جیسے بالائی علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
سندھ اور بلوچستان: ماہرین کے مطابق 2022 کے تباہ کن سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان انہی صوبوں میں ہوا تھا، جس میں تقریباً 1500 سے زائد افراد کی اموات ہوئیں اور 3 کروڑ سے زیادہ آبادی متاثر ہوئی۔
پنجاب: لاہور، شیخوپورہ، قصور، اوکاڑہ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ملتان، مظفرگڑھ اور بہاولپور جیسے اضلاع بھی سیلاب سے متاثر ہیں۔
مستقبل میں خطرہ والے علاقے
موجودہ صورتحال کے پیش نظر، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) اور محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ آنے والے دنوں میں پنجاب اور بلوچستان کے کچھ علاقے شدید بارشوں اور سیلاب کی زد میں آ سکتے ہیں۔ دریائے ستلج، بیاس، راوی اور چناب میں پانی کی سطح میں اضافے کا خدشہ ہے، جس سے دریائی علاقوں کے قریب رہائش پذیر آبادیوں کے لیے جانی و مالی نقصان کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
نتیجہ: ایک مشترکہ عالمی ذمہ داری
پاکستان میں حالیہ سیلاب صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ایک انسان ساختہ تباہی ہے۔ یہ تباہی دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کے صنعتی اخراج اور عالمی سیاست کی غیر منصفانہ تقسیم کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کو اس تباہی سے نکالنے اور مستقبل میں اس طرح کے خطرات سے بچانے کے لیے عالمی برادری کو اپنی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔
مالی معاونت: ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور انفراسٹرکچر کی مضبوطی کے لیے فوری مالی امداد فراہم کی جائے۔
عالمی پالیسیاں: عالمی سطح پر ایسے قوانین اور معاہدے بنائے جائیں جو آبی وسائل کے منصفانہ استعمال اور ڈیموں سے پانی چھوڑنے کے حوالے سے واضح اصول طے کریں۔
جب تک ہم اس مسئلے کو ایک عالمی بحران کے طور پر نہیں دیکھیں گے، یہ تباہی بار بار آتی رہے گی۔
اپنے ان باکس میں پہنچائی جانے والی اہم ترین خبروں کی جھلکیاں حاصل کریں۔