• Sat, March 14, 2026
  • Ramaḍān 24 1447
  • KHI - PAKISTAN 22.3°C

سائنس / میڈیکل

سفید زہر

تحریر: پروفیسر اسرار احمد شائع شدہ فروری ۰۱, ۱۹۹۹



کہنے کو تو ذیا بطیس اب ایک عوامی بیماری ہے اور ہر ایک کے ملنے جلنے والوں میں اس کے پرانے مریض مل جاتے ہیں مگر کبھی یہ بیماری بھی لوگوں کو اسی طرح خوفزدہ کر دیتی تھی جس طرح آج کل فلموں میں کینسر! اس زمانے میں یہ معلوم کرنا کہ ذیا بطیس کا مرض انسولین کی کمی یا نہ ھونے سے ہوتا ہے ایک بڑا مشکل کام تھا جسے سرانجام دینے والے ڈاکٹروں کی انتھک محنت کی داستان سے معلوم ہوتا ہے کہ محض عزم و حوصلہ ہی ہر مشکل کام کروا سکتا ہے۔

کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے جب خیالات کی رو بہک اٹھے تو کہیں سے کہیں جا پہنچتی ہے۔ خاص طور پر جب آپ کسی کا انتظار کر رہے ہوں اور انتظار کا وقفہ طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا ہو تو ایسا محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ اس وقت انسان کے پاس کوئی مخصوص کام تو ہوتا نہیں کہ وہ اس جانب توجہ کرے اور اس پر ارتکاز کرے۔ ذہن ایک کھلے میدان کی مانند ہوتا ہے جس میں خیالات کے گھوڑے بے لگام ادھر سے ادھر دوڑتے پھرتے ہیں۔ اس وقت ہمارا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔ انتظار کے لمحات میں کچھ اور اضافہ ہوا تو انتظار کی تکلیف نے اذیت کا روپ دھار لیا۔ جب اذیت کا احساس ہوا تو سالوں قبل پڑھے ہوئے عبید اللہ علیم کے مجموعہ کلام ”چاند چہرہ ستارہ آنکھیں” کی طرف ذہن نکل گیا اور بے ساختہ ایک شعر یاد آنے لگا جو تقریبا بیس بائیس سال قبل پڑھا تھا۔ اچھی طرح تو یاد نہیں، شعر چونکہ بے حد پسند آیا تھا لہذا ابھی تک یاد داشت کے خانے میں کسی نہ کسی طرح اٹکا ہوا ہے۔

دن کو مہر اچھا نہ رات کو ماہ ہی اچھا
ہم پر گزر رہی ہیں یہ ضیافتیں کیسی

شعر میں کچھ غلطی ہے تو یہ سوچ کر در گزر فرمائیے گا کہ اس پر بیس سال سے زیادہ گزرے ہوئے وقت کی گرد جمی ہوئی ہے۔ اگر اس معذرت سے آپ کی تسلی نہیں ہوتی تو اس وقت ہمیں مصطفیٰ زیدی کی ایک نظم کے کچھ اشعار یاد آرہے ہیں۔ ان میں یقیناً آپ کوئی غلطی نہیں پائیں گے۔

آخری بار ملو اس طرح کہ جلتے ہوئے دل
راکھ ہو جائیں کوئی اور تقاضہ نہ کریں

چاک داماں نہ سلے، زخم تمنا نہ بھرے
سانس ہموار رہے شمع کی لو تک نہ ہلے


باتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آکر گن جائیں
آنکھ اٹھائے کوئی امید تو آنکھیں چھن جائیں

.
اس ملاقات کا اس بار کوئی ذکر نہیں ہے جس سے ایک اور ملاقات کی صورت نکلے اس نظم میں آخری ملاقات کا ذکر ہے ہمارے ساتھ آخری ملاقات کا معاملہ یقیناً نہیں تھا لیکن سلیم صاحب سے ایک نہایت ہی اہم معاملے میں ملاقات کا معاملہ ضرور در پیش تھا جو گزرتے ہوئے لمحات کے ساتھ معدوم سے معدوم تر ہوتا نظر آرہا تھا۔ اب تین گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد یوں محسوس ہو رہا تھا کہ سلیم صاحب کے ساتھ آج جو ملاقات طے پائی ہے وہ شاید عمل پذیر نہ ہوسکے۔ اب جب کہ ہماری مایوسی اپنی آخری حدوں کو چھو رہی تھی اس وقت گھنٹی بجی اور چند لمحے بعد بچے نے آکر اطلاع دی کہ سلیم صاحب تشریف لا چکے ہیں۔ سلیم صاحب آتے ہی صوفے پر ڈھیر ہو گئے۔ ہمیں اس لمحے طویل انتظار کی وجہ سے غصہ تو بہت آرہا تھا لیکن ان کی کیفیت دیکھ کر ہم خود ہی چھینپ گئے۔ ان کا چہرہ لال ہو رہا تھا اور وہ بالکل نڈھال نظر آ رہے تھے۔ اس سے پیشتر کہ ہم ان کا حال پوچھتے وہ خود ہی کہنے لگے، یار آج طبیعت کچھ زیادہ ہی خراب ہے نقاہت اس قدر محسوس ہو رہی ہے کہ بستر سے اٹھنے کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا چونکہ وعدہ کر لیا تھا اس لئیے آنا پڑا۔ ان کی یہ بات سن کر ذہن اچانک چند سال پہلے کے سلیم صاحب کی طرف دوڑ گیا۔ کیا صحت تھی، قد بھی اچھا تھا، رنگ بھی صاف تھا جسم پر چڑھا ہوا گوشت بہت اچھا لگتا تھا۔ پھر اچانک ایسا ہوا کہ وہ جیسے گھلنے لگے کچھ عرصے بعد ایسا لگا جیسے کسی نے انہیں نچوڑ دیا ہے۔ ابھی میں ماضی کے دریچے سے جھانک ہی رہا تھا کہ سلیم صاحب نے کہا یار سخت پیاس لگ رہی ہے لگتا ہے زبان نہیں چمڑے کا ٹکڑا ہے۔ ذرا جلدی سے پانی پلاؤ۔ پانی کے دو گلاس چڑھائے پھر اپنی عینک کے شیشوں کو صاف کرنے لگے اس سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے یا ر ہاتھ روم جانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ انہیں ہاتھ روم تک چھوڑ کر آیا اور یہ سوچنے لگا کہ کیسے کیسے امراض ہیں اور وہ اچھے بھلے انسان کا کیا حال کر دیتے ہیں۔ آپ بھی سوچنے کہ کمزوری، شدید پیاس ، نظر کی خرابی اور بار بار پیشاب کا لگنا کس مرض کی طرف اشارہ کرتے ہیں آپ ٹھیک سمجھے یہ بلڈ پریشر کی طرح آج کل کا ایک عام مرض ذیا بطیس ہے۔

پچھلی صدی میں اگر کوئی ڈاکٹر مریض سے یہ کہہ دیتا کہ تمہیں ذیا بیطس (شوگر) ہے، تو یہ بات اس کے لئیے سزائے موت سے زیادہ خوفناک ثابت ہوتی تھی۔ سوائے اس کے کہ کوئی معجزہ ہی مریض کو تندرست کرتا۔ آج کی دنیا میں ذیا بیطس محدود ہو گئی ہے اور اس کے علاج کی دریافت کے بعد اب یہ ملک بھی نہیں رہی۔ امریکہ میں ٹینس کے دو کھلاڑی جن میں سے ایک کا نام ہیملٹن رچرڈ سن (Hamilton Richardson) اور دوسرے کا ولیم ٹالبرٹ (William Talbert) ہے دونوں ذیا بیطس کے مریض تھے لیکن انہوں نے غذا اور انسولین کے ذریعے خود کو فٹ رکھا۔

ذیا بیطس کی قسمیں

دو طرح کی ذیا بیطس مریضوں میں پائی جاتی ہے۔

۱ ۔ ڈائی بٹیز انسی پیڈس (Diabetes Insipidus) یہ بے ذائقہ ہوتی ہے اور بہت کم پائی جاتی ہے۔ اس میں بہت زیادہ پیاس لگتی ہے۔ اس بیماری کی خاص علامت نہ ختم ہونے والی پیاس ہے۔

۲۔ ڈائی بٹیز میلا ئٹس (Diabetes Mellitus) اس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے لیکن یہ تفریق ۱۹۲۰ء تک تھی بعد میں کیمیائی تجزیہ سے دونوں کا فرق معلوم کیا جانے لگا۔

“Diabetes” ایک یونانی لفظ ہے جس کا مطب بہنا ہے۔ کیونکہ اس مرض میں مریض بڑی مقدار میں پیشاب کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جب آپ زیادہ پیشاب کریں تو آپ ذیا بیطس کے مریض ہیں، بلکہ اس کی اور دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔

ذیا بیطس کی علامات

۱ ۔ پولی یوریا (Poly Uria): مریض کو بہت زیادہ پیشاب آتا ہے وہ ۲۴ گھنٹے میں تقریبا Pints۔۱۷ پیشاب خارج کرتا ہے جس میں تقریبا دو پونڈ شوگر ہوتی ہے۔ اس وجہ سے مثانے پر اثر پڑتا ہے اور اس کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے پیشاب آہستہ آہستہ خارج ہوتا رہتا ہے اور جہاں جہاں لگتا ہے وہاں پر کپڑے سخت ہو جاتے ہیں جوتوں پر بھی سفید نشانات آجاتے ہیں۔

۲۔ پانی کے ضائع ہونے کی وجہ سے پیاس بڑھ جاتی ہے۔

۳۔ بھوک بہت زیادہ لگتی ہے کیونکہ شکر کی بڑی مقدار ضائع ہو جاتی ہے۔ پیشاب کے ذریعے خارج ہونے والی شکر کو (Glycosuria) کہتے ہیں۔

ذیا بیطس کے مریض کی زبان خشک، سرخ اور چمکدار ہوتی ہے۔ مسوڑھے پھول جاتے ہیں۔ منہ میں تھوک کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ ذیا بیطس کا مریض جس کا علاج نہ ہو رہا ہو اس کی بھوک تو بڑھے گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ تھکن بھی محسوس ہوگی۔ اگر بیماری کو بڑھنے دیا جائے تو جسم پر خارش اور بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ کافی عرضے نظر انداز کرنے کی وجہ سے مریض بے ہوشی (Coma) میں بھی جاسکتا ہے اور اگر اس کا فوری علاج نہ کیا جائے تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ یہ حالت مریض میں اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اس کے خون میں کیٹونز (Ketones) کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ کوما میں جانے سے پہلے مریض کی آواز بھاری ہو جاتی ہے، سر میں شدید درد ہوتا ہے۔ ہاتھ پیر بے جان ہونے لگتے ہیں اور وہ آہستہ آہستہ غشی میں چلا جاتا ہے۔

ذیا بیطس کا ٹیسٹ

پیشاب کے چند قطرے ٹیسٹ ٹیوب میں لیں اور آدھا چائے کا چمچہ (Benedicts Solution) کا ڈالیں اور اس مکسچر کو اچھی طرح ہلائیں۔ اب اسے کھولتے ہوئے پانی میں ۵ منٹ تک رکھیں۔ اگر ٹیوب میں موجود مائع کا رنگ نیلا (Blue) رہتا ہے تو پیشاب میں شکر نہیں ہے، اگر رنگ ہرا ہو جاتا ہے تو معمولی مقدار میں شکر ہے۔ اگر رنگ پیلا ہے تو درمیانی درجہ کی شکر ہے لیکن اگر زرد یا سرخ رنگ ہے تو شکر کی زیادہ مقدار موجود ہے۔

ذیا بیطس کی تاریخ

ذیا بیطس کوئی نئی بیماری نہیں ہے لیکن یہ پچھلے ۵۰ سالوں میں تیزی سے پھیلی ہے۔ ماضی کا ہندو اور رومن اس کے بارے میں جانتے تھے۔ پیرا سیلسس (Paracelsus) نے مریض کے پیشاب میں چار اونس کے قریب نمک کو معلوم کیا تھا۔ پیشاب میں موجود شکر نمک کی طرح لگتی ہے اور اس زمانے میں سفید شکر کے بارے میں لوگ نہیں جانتے تھے۔ ولیز نے جو آکسفورڈ میں پڑھاتے تھے پہلی دفعہ اس بیماری میں مبتلا لوگوں کے خون اور پیشاب کو چیک کیا۔ تجربہ سے پتہ چلا کہ مریض کا پیشاب حیرت انگیز طور پر میٹھا ہوتا ہے۔ یہاں تک یہ شہد کی مانند ہوتا ہے۔ میتھیو ڈوبو (Matthew Doboos) نے ۱۷۷۵ء میں پیشاب کو تخمیر کے عمل سے گزارا اور ثابت کیا کہ یہ مٹھاس شکر کی وجہ سے ہے۔ اکیس سال بعد جان رولو John Rollo)) نے شکر کا علاج غذا کے ذریعہ کیا۔ مریضوں کو گوشت اور ایسی سبزیاں استعمال کرائیں جن میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار کم تھی۔ زیا بیطس کی وجہ ہم سب جانتے ہیں کہ ذیا بیطس بعض غدودوں کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ ماضی میں ان غدودوں کی موجودگی کا علم تو تھا لیکن ان کے کام کے بارے میں کسی کو علم نہیں تھا۔ ۱۹۴۵ء میں بو کار دے (Bouchardet) پہلا محقق تھا جس نے پتے یا لبلبے (Pancreas) کا تعلق ذیا بیطس سے جوڑا تھا۔

۱۸۸۶ء میں جوہان کونراڈ برونر (Johan Conrad Brunner) نے بتایا کہ لبلبہ چربی اور شکر کو استعمال کرنے میں مدد کرتا ہے۔

۱۸۸۹ء میں آسکر منکو وسکی (Oscar Minkowski) اور جوزف نے اس بات کو کتوں پر تجربہ کر کے ثابت کیا۔ انہوں نے بہت سے کتوں کو بے ہوش کر کے ان کے لبلبوں کو نکال لیا۔ آپریشن کے بعد تمام کتے زندہ رہے۔ لیکن ۴ سے چھ ۶ گھنٹے بعد انہوں نے ذیا بیطس کی علامات ظاہر کرنا شروع کردیں یعنی بڑی مقدار میں پیشاب کرنے لگے جس میں شکر بھی موجود تھی۔ ایک جانور ایک دن میں تقریبا دو اونس شکر خارج کرنے
لگا۔ اس دوران کتوں کے خون میں شکر کی مقدار بڑھ گئی۔

کتوں پر تجربات

لبلبه (Pancreas) سے سے نکلنے والی نالی جو چھوٹی آنت سے ملتی ہے اسے بند کردیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود کتے صحت مند رہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوا کہ لبلبےسے نکلنے والا عرق جو اس نالی کے ذریعہ چھوٹی آنت میں داخل ہوتا ہے، اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہے جو شکر کو استعمال کرتی ہے۔

منکو وسکی (Minkowski)کے تجربات

اس شخص نے کتے کا لبلبہ نکالا لیکن جلد ہی اس کے ٹکڑوں کو جلد کے نیچے لگا دیا۔ اس طرح کتے نارمل زندگی گزارتے رہے اور انہیں شکر کی بیماری بھی نہیں ہوئی حالانکہ پتے سے کوئی بھی خامرہ (Enzyme) چھوٹی آنت میں داخل نہ ہو سکا۔ اس تجربے سے معلوم ہوا کہ لبلبے میں کوئی ایسی چیز بن رہی ہے جو خون میں براہ راست داخل ہو رہی ہے۔ مختلف جانوروں پر تجربات کے بعد ایک ہارمون کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں جسے انسولین (Insulin) کا نام دیا گیا۔

راحین یا ہارمون (Hormones)

یہ نام پہلی دفعہ ۱۹۰۵ء میں استعمال ہوا یہ انڈوکرائن غدود (Endocrine Glands) میں بنتے ہیں اور خون میں براہ راست داخل ہوتے ہیں۔

آئی لینڈز آف لینگر پینس (Islands Of Langerhans) نے اپنے تجربات کے دوران یہ بتایا کہ لبلبوں میں دو طرح کے خلیات ہوتے ہیں۔ ایک قسم کے خلیات انگور کے خوشوں کی مانند ہوتے ہیں۔ دوسری طرح کے خلیات چھوٹے چھوٹے جزیروں کی شکل میں ملتے ہیں۔ یہ شکل میں بھی مختلف ہوتے ہیں۔ ۱۸۹۳ء میں اس نے کہا کہ دوسری طرح کے خلیات شکر کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اسی تھیوری کی وجہ سے ان خلیات کا نام “Islands Of Langerhans” رکھا گیا۔ اس نے اپنے تجربات سے یہ بتایا کہ ذیا بیطس کے پرانے مریض میں یہ آئی لینڈ ختم ہو جاتے ہیں یا ان کی شکل بگڑ جاتی ہے۔

ماضی میں طبیبوں کے یہاں یہ رواج تھا کہ جو کوئی مریض جس عضو کی بیماری میں مبتلا ہو تا تھا اسے وہی چیز تندرست جانور کی کھلائی جاتی تھی۔ مثلاً اگر کوئی شخص جگر کی بیماری میں مبتلا ہے تو اسے گائے یا بکری کا جگر کھلایا جاتا ہے۔ منکو وسکی نے ذیا بیطس کے مرض میں مبتلا کتوں کو صحت مند جانوروں کے لبلبے کو کھلایا لیکن اس سے کوئی اچھا نتیجہ ظاہر نہیں ہوا۔

لبلبے کے افعال

اس کے دو اہم کام ہیں۔

ا۔ یہ اہم ہضمی رس (Digestive Juice) کااخراج کرتا ہے۔

۲۔ انسولین بناتا ہے جو خون میں داخل ہو کر غذا میں موجود شکر کو استعمال کرتی ہے۔

بینٹنگ کا احسان

فریڈرک گرانٹ بینٹنگ(Frederick Grant Banting) کینیڈا کے ایک ہسپتال میں کام کرتا تھا۔ اس نے ایف آر سی ایس کرنے کا ارادہ کیا تو اس کی تحقیق کا موضع لبلبےتھا۔ کیونکہ اس کا تعلق ذیا بیطس سے تھا۔ اس نے اس کے بارے میں بہت کچھ پڑھا تھا۔ اس نے یہ بھی پڑھا تھا کہ زو کلر (Zueler) نے شکر کے چھ مریضوں کا علاج ۱۹۰۸ء میں لیلے کے عرق سے کیا تھا۔ اس سے مریضوں کو کافی فرق ہوا لیکن وہ سخت سردی اور بخار میں مبتلا ہو گئے۔ ۳۰ اکتوبر ۱۹۲۰ء اس کی زندگی کا اہم دن تھا۔ وہ لبلبے کے بارے میں ایک لیکچر تیار کر رہا تھا جو اسے آنے والے دن دینا تھا۔ اس سلسلے میں اس نے مختلف کتابوں کا مطالعہ کیا۔ جن میں سرجری‘ گائینو کالوجی اور زچگی جیسے موضوعات شامل تھے۔ اس دوران اس کی نظر موسس بیرن (Moses Baron) کے مضمون پر پڑی جس سے اسے نئی راہیں نظر آئیں۔

بیرن کہتا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق جو لوگ پتے کی پتھری کی وجہ سے مرگئے تھے ان کے لبلبےکی نالی پتھری کی وجہ سے بند ہو گئی تھی اور وہ خلیے جو ہاضمی خامرے بناتے تھے وہ سکڑ گئے یا مر گئے۔ لیکن آئی لینڈرز آف لینگر ہینس غیر معمولی طور پرصحت مند تھے بیرن یہ بھی کہا کہ ایسے لوگوں میں خون شکر کی مقدار ہمیشہ نارمل رہی۔

بینٹنگ کافی سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ لبلبےمیں کسی چیز کی کمی اور ذیابیطس میں کوئی تعلق ضرور ہے۔ یہ سوچتے سوچتے اسے نیند آگئی۔ نیند کے دوران وہ اچانک دو بجے اٹھا لائٹ روشن کی اور لکھنا شروع کیا۔ کتوں کی لمبائی نالی کو “Ligate” کیا جائے۔ چھ ہفتوں تک انتظار کیا جائے۔ پھر اسے نکال کر استخراج Extract) (تیار کیا جائے۔ پھر اس نے لائٹ آف کی اور سو گیا۔

Ligate”” ایک میڈیکل اصطلاح (Term) ہے۔ اس کا مطلب سختی سے باندھنا ہے۔ یہ اصطلاح عموما” شریانوں ، وریدوں اور نالیوں کے لئیے استعمال ہوتی ہے۔

بینٹنگ یہ سوچتا تھا کہ لبلبےکے عرق میں کوئی نہ کوئی ایسی چیز ضرور موجود ہے جو شکر کو روکتی ہے۔ اگر وہ اس عرق کو نکالنے میں کامیاب ہو گیا تو ذیا بیطس کے علاج کے قابل ہو جائے گا۔ دوسری صبح وہ اپنے سربراہ کے پاس پہنچے اور اپنے اس خیال کی وضاحت کی۔ پروفیسر نے باتیں سن کر اندازہ لگایا کہ جو کچھ یہ کہہ رہا ہے اس میں کچھ نہ کچھ حقیقت ہے۔ لیکن ان کے پاس وہ تمام آلات جن کی ضرورت بینٹنگ کو تھی وہ نہ تھے۔ اس کے پروفیسر نے مشورہ دیا کہ وہ پروفیسر جے جے آرمیکلوڈ (J.J.R. Macleod)سے ملے جو کہ ٹورنٹو یونیورسٹی میں فزیالوجی کے سربراہ تھے۔ بینٹنگ پروفیسر میکلوڈ کے پاس پہنچے اور ان سے آٹھ ہفتوں کے لیے دس کتوں اور ایک اسٹنٹ کی درخواست کی۔ میکلوڈ نے بے شمار فضول نظریات سے تھے لیکن اسے بینٹنگ کے نظریے نے متاثر کیا اور وہ بینٹنگ کی مدد کے لئیے تیار ہو گیا۔

کتوں پر تجربہ

مئی ۱۹۲۱ء میں بینٹنگ ٹورنٹو گیا تاکہ میکلوڈ کے ساتھ کام کر سکے۔ میکلوڈ نے اسے دو مدد گار دیئے جن میں سے ہر ایک چار ہفتے اس کی مدد کرتا۔ انہوںنے ٹاس کے ذریعے چارلس ہربرٹ بیسٹ (Charles Herbert Best) کو پہلے چار ہفتوں کے لئیے چنا یہ فزیالوجی کا گریجویٹ تھا۔ چار ہفتے گزرنے کے بعد نوبل کی باری تھی لیکن وہ نہ آسکا۔ اس طرح اس نے مقبولیت کا ایک موقع کھو دیا۔ دس کتوں پر تجربہ کیا گیا۔ ان کے لبلبوں کی نالی کو باندھ کر اسے کاٹ کر باہر نکال لیا۔ تمام کتوں کے لبلبےاپنے سائز سے سکڑ کر کم ہوگئے۔ ایکی نس (Acinus) خلیے جو ہاضمی رس یا عرق بناتے ہیں انہوں نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا ۔

بینٹنگ اور بیسٹ نے لبلبوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کئے انہیں ریت کے ساتھ پیسا پھر اس میں سمندر کا پانی ملایا جس کی طاقت خون میں اور بافت (Tissue) میں موجود مائع کے برابر ہوتی ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ سمندری پانی اور انسانی خون کی کیمیائی ترکیب (Chemical Composition) تقریباً یکساں ہوتی ہے۔ اس محلول کو فلٹر کرنے کے بعد انہیں جانوروں میں انجکشن کے ذریعہ داخل کیا جاسکتا ہے۔

جن کتوں میں سے لبلبوں کو نکال لیا گیا تھا وہ تمام ذیا بیطس میں مبتلا ہو گئے۔ انہیں یہ محلول انجکشن کے ذریعہ دیا گیا۔ خون میں شکر کی مقدار بہت زیادہ ہو گئی۔ انجکشن کے بعد بہت تیزی سے کم ہوئی اور پیشاب میں بھی اس کا اخراج ختم ہو گیا اور زخم بھر گئے۔ انہوں نے اپنی کھوئی ہوئی توانائی حاصل کرلی اور کافی عرصہ زندہ رہے۔ میکلوڈ اس تجربے سے مکمل طور پر مطمئن نہ تھے انہوں نے بینٹنگ کو اس تجربے کو دوبارہ کرنے کے لئے ہدایت کی ناکہ یکساں نتائج حاصل ہو سکیں۔

شوگر پر فتح حاصل نہیں ہوئی

بینٹنگ کے تجربات سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ بس یہی کامیابی ہے بلکہ اس میدان میں دور تک جاتا ہے۔ درمیان میں بے شمار رکاوٹیں آئیں گی جنہیں عبور کرنا ہے۔ استخراج کو تیزی سے حاصل کرنے کے لئیے بینٹنگ نے اپنے جانوروں کو کئی گھنٹوں تک سیکریٹن کے انجکشن دیئے جب تک کہ ایکی نس خلیات مر نہیں گئے۔ اس کے بعد لبلبوں کو پیسا اور فلٹر کیا۔ اب بہت اچھے نتائج حاصل ہوئے، لیکن بینٹنگ نے دیکھا کہ ایکی نس مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے جس کی وجہ سے کتوں میں زہر پھیل گیا۔

ان تجربوں کے دوران بینٹنگ کو خیال آیا کہ گائے کے پیدا ہونے والے بچے میں بھی انسولین ہو سکتا ہے لیکن اس میں ٹریسن (Trypsin) جو کہ لبلبےکے رس کا ایک حصہ ہے اور جو انسولین کو ضائع کرتا ہے ممکن ہے کہ اس بچے میں نہ ہو۔ اس خیال کی تصدیق اس طرح بھی ہوتی ہے کہ ہاضمی رسوں کی ضرورت پیدائش سے پہلے نہیں ہوتی۔ پیدائش سے پہلے بچہ ماں سے غذا حاصل کرتا ہے اور اسے ہاضمی رسوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔

بیسٹ اور بینٹنگ نے گائے کے پیدا ہونے والے بچوں کے لبلبوں سے انسولین حاصل کی۔ اس مقصد کے لئے الکوحل استعمال کیا گیا۔ اس حاصل شدہ انسولین کو ان کتوں کو استعمال کرایا گیا جنہیں شکر تھی۔ یہ کتے تقریبا دس ہفتوں تک صحت مند رہے جب کہ وہ کتے جنہیں انجکشن نہیں دیا گیا وہ چند دنوں میں مرگئے۔

بینٹنگ اور ٹیسٹ نے ایک دوسرے کو انجکشن لگائے تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ انسولین انسانوں کے نقصان پہنچانے والا نہیں ہے۔

لیکن موجودہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر ضروری طور پر انسولین لینا انتہائی خطرناک ہے اور اس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے چند رضا کارون کے لئیے درخواست کی۔ تین مریضوں کو انجکشن دیا گیا۔ جس سے شکر کی سطح تیزی سے گر گئی اور وہ صحت مند ہو گئے۔ لیکن ہر مریض میں انجکشن کی جگہ پس (Abscess) ہو گیا جو کہ ایک خطرناک علامت تھی۔

میکلوڈ کو اب بینٹنگ کے کام کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ اس نے ۱۹۲۲ء میں اپنے پورے اسٹاف کو انسولین کے خواص اور اسے انسانوں کے استعمال کے قابل بنانے پر لگا دیا۔ ڈاکٹر جے بی کولپ کو اس کام کی نگرانی پر معمور کیا۔ انہوں نے بیسٹ اور اسکاٹ کے ساتھ مل کر بڑی مقدار میں انسولین تیار کی۔ اس وقت سے انسولین کا کام جاری ہے اور اس میں بہتری آرہی ہے۔ بیسٹ نے “زنگ پروٹامین انسولین” تیار کی جو کہ بلڈ شوگر کو دوگنے عرصے تک کنٹرول کرتی ہے۔ اس انسولین کے مقابلے میں جو لبلبوں سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس طرح دو کے بجائے صرف ایک انجکشن ہی کافی ہو تا تھا۔ پروٹامین انسولین ڈاکٹر پیگینڈورن نے بنائی لیکن زنک کے ساتھ اس کا مرکب بیسٹ کا نظریہ تھا۔

بینٹنگ اور بیسٹ کو نوبل انعام ملا ، جس کے وہ حق دار تھے۔ بینٹنگ کو بے شمار ڈگریاں اور تمغات مختلف یونیورسٹیوں اور سائنسی اداروں سے ملے۔ بیسٹ کو بھی بہت عزت افزائی ملی۔

سائنس ڈائجسٹ نیوز لیٹر

اپنے ان باکس میں پہنچائی جانے والی اہم ترین خبروں کی جھلکیاں حاصل کریں۔