Monthly Archives: June 2025

سفید زہر



کہنے کو تو ذیا بطیس اب ایک عوامی بیماری ہے اور ہر ایک کے ملنے جلنے والوں میں اس کے پرانے مریض مل جاتے ہیں مگر کبھی یہ بیماری بھی لوگوں کو اسی طرح خوفزدہ کر دیتی تھی جس طرح آج کل فلموں میں کینسر! اس زمانے میں یہ معلوم کرنا کہ ذیا بطیس کا مرض انسولین کی کمی یا نہ ھونے سے ہوتا ہے ایک بڑا مشکل کام تھا جسے سرانجام دینے والے ڈاکٹروں کی انتھک محنت کی داستان سے معلوم ہوتا ہے کہ محض عزم و حوصلہ ہی ہر مشکل کام کروا سکتا ہے۔

کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے جب خیالات کی رو بہک اٹھے تو کہیں سے کہیں جا پہنچتی ہے۔ خاص طور پر جب آپ کسی کا انتظار کر رہے ہوں اور انتظار کا وقفہ طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا ہو تو ایسا محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ اس وقت انسان کے پاس کوئی مخصوص کام تو ہوتا نہیں کہ وہ اس جانب توجہ کرے اور اس پر ارتکاز کرے۔ ذہن ایک کھلے میدان کی مانند ہوتا ہے جس میں خیالات کے گھوڑے بے لگام ادھر سے ادھر دوڑتے پھرتے ہیں۔ اس وقت ہمارا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔ انتظار کے لمحات میں کچھ اور اضافہ ہوا تو انتظار کی تکلیف نے اذیت کا روپ دھار لیا۔ جب اذیت کا احساس ہوا تو سالوں قبل پڑھے ہوئے عبید اللہ علیم کے مجموعہ کلام ”چاند چہرہ ستارہ آنکھیں” کی طرف ذہن نکل گیا اور بے ساختہ ایک شعر یاد آنے لگا جو تقریبا بیس بائیس سال قبل پڑھا تھا۔ اچھی طرح تو یاد نہیں، شعر چونکہ بے حد پسند آیا تھا لہذا ابھی تک یاد داشت کے خانے میں کسی نہ کسی طرح اٹکا ہوا ہے۔

دن کو مہر اچھا نہ رات کو ماہ ہی اچھا
ہم پر گزر رہی ہیں یہ ضیافتیں کیسی

شعر میں کچھ غلطی ہے تو یہ سوچ کر در گزر فرمائیے گا کہ اس پر بیس سال سے زیادہ گزرے ہوئے وقت کی گرد جمی ہوئی ہے۔ اگر اس معذرت سے آپ کی تسلی نہیں ہوتی تو اس وقت ہمیں مصطفیٰ زیدی کی ایک نظم کے کچھ اشعار یاد آرہے ہیں۔ ان میں یقیناً آپ کوئی غلطی نہیں پائیں گے۔

آخری بار ملو اس طرح کہ جلتے ہوئے دل
راکھ ہو جائیں کوئی اور تقاضہ نہ کریں

چاک داماں نہ سلے، زخم تمنا نہ بھرے
سانس ہموار رہے شمع کی لو تک نہ ہلے


باتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آکر گن جائیں
آنکھ اٹھائے کوئی امید تو آنکھیں چھن جائیں

.
اس ملاقات کا اس بار کوئی ذکر نہیں ہے جس سے ایک اور ملاقات کی صورت نکلے اس نظم میں آخری ملاقات کا ذکر ہے ہمارے ساتھ آخری ملاقات کا معاملہ یقیناً نہیں تھا لیکن سلیم صاحب سے ایک نہایت ہی اہم معاملے میں ملاقات کا معاملہ ضرور در پیش تھا جو گزرتے ہوئے لمحات کے ساتھ معدوم سے معدوم تر ہوتا نظر آرہا تھا۔ اب تین گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد یوں محسوس ہو رہا تھا کہ سلیم صاحب کے ساتھ آج جو ملاقات طے پائی ہے وہ شاید عمل پذیر نہ ہوسکے۔ اب جب کہ ہماری مایوسی اپنی آخری حدوں کو چھو رہی تھی اس وقت گھنٹی بجی اور چند لمحے بعد بچے نے آکر اطلاع دی کہ سلیم صاحب تشریف لا چکے ہیں۔ سلیم صاحب آتے ہی صوفے پر ڈھیر ہو گئے۔ ہمیں اس لمحے طویل انتظار کی وجہ سے غصہ تو بہت آرہا تھا لیکن ان کی کیفیت دیکھ کر ہم خود ہی چھینپ گئے۔ ان کا چہرہ لال ہو رہا تھا اور وہ بالکل نڈھال نظر آ رہے تھے۔ اس سے پیشتر کہ ہم ان کا حال پوچھتے وہ خود ہی کہنے لگے، یار آج طبیعت کچھ زیادہ ہی خراب ہے نقاہت اس قدر محسوس ہو رہی ہے کہ بستر سے اٹھنے کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا چونکہ وعدہ کر لیا تھا اس لئیے آنا پڑا۔ ان کی یہ بات سن کر ذہن اچانک چند سال پہلے کے سلیم صاحب کی طرف دوڑ گیا۔ کیا صحت تھی، قد بھی اچھا تھا، رنگ بھی صاف تھا جسم پر چڑھا ہوا گوشت بہت اچھا لگتا تھا۔ پھر اچانک ایسا ہوا کہ وہ جیسے گھلنے لگے کچھ عرصے بعد ایسا لگا جیسے کسی نے انہیں نچوڑ دیا ہے۔ ابھی میں ماضی کے دریچے سے جھانک ہی رہا تھا کہ سلیم صاحب نے کہا یار سخت پیاس لگ رہی ہے لگتا ہے زبان نہیں چمڑے کا ٹکڑا ہے۔ ذرا جلدی سے پانی پلاؤ۔ پانی کے دو گلاس چڑھائے پھر اپنی عینک کے شیشوں کو صاف کرنے لگے اس سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے یا ر ہاتھ روم جانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ انہیں ہاتھ روم تک چھوڑ کر آیا اور یہ سوچنے لگا کہ کیسے کیسے امراض ہیں اور وہ اچھے بھلے انسان کا کیا حال کر دیتے ہیں۔ آپ بھی سوچنے کہ کمزوری، شدید پیاس ، نظر کی خرابی اور بار بار پیشاب کا لگنا کس مرض کی طرف اشارہ کرتے ہیں آپ ٹھیک سمجھے یہ بلڈ پریشر کی طرح آج کل کا ایک عام مرض ذیا بطیس ہے۔

پچھلی صدی میں اگر کوئی ڈاکٹر مریض سے یہ کہہ دیتا کہ تمہیں ذیا بیطس (شوگر) ہے، تو یہ بات اس کے لئیے سزائے موت سے زیادہ خوفناک ثابت ہوتی تھی۔ سوائے اس کے کہ کوئی معجزہ ہی مریض کو تندرست کرتا۔ آج کی دنیا میں ذیا بیطس محدود ہو گئی ہے اور اس کے علاج کی دریافت کے بعد اب یہ ملک بھی نہیں رہی۔ امریکہ میں ٹینس کے دو کھلاڑی جن میں سے ایک کا نام ہیملٹن رچرڈ سن (Hamilton Richardson) اور دوسرے کا ولیم ٹالبرٹ (William Talbert) ہے دونوں ذیا بیطس کے مریض تھے لیکن انہوں نے غذا اور انسولین کے ذریعے خود کو فٹ رکھا۔

ذیا بیطس کی قسمیں

دو طرح کی ذیا بیطس مریضوں میں پائی جاتی ہے۔

۱ ۔ ڈائی بٹیز انسی پیڈس (Diabetes Insipidus) یہ بے ذائقہ ہوتی ہے اور بہت کم پائی جاتی ہے۔ اس میں بہت زیادہ پیاس لگتی ہے۔ اس بیماری کی خاص علامت نہ ختم ہونے والی پیاس ہے۔

۲۔ ڈائی بٹیز میلا ئٹس (Diabetes Mellitus) اس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے لیکن یہ تفریق ۱۹۲۰ء تک تھی بعد میں کیمیائی تجزیہ سے دونوں کا فرق معلوم کیا جانے لگا۔

“Diabetes” ایک یونانی لفظ ہے جس کا مطب بہنا ہے۔ کیونکہ اس مرض میں مریض بڑی مقدار میں پیشاب کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جب آپ زیادہ پیشاب کریں تو آپ ذیا بیطس کے مریض ہیں، بلکہ اس کی اور دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔

ذیا بیطس کی علامات

۱ ۔ پولی یوریا (Poly Uria): مریض کو بہت زیادہ پیشاب آتا ہے وہ ۲۴ گھنٹے میں تقریبا Pints۔۱۷ پیشاب خارج کرتا ہے جس میں تقریبا دو پونڈ شوگر ہوتی ہے۔ اس وجہ سے مثانے پر اثر پڑتا ہے اور اس کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے پیشاب آہستہ آہستہ خارج ہوتا رہتا ہے اور جہاں جہاں لگتا ہے وہاں پر کپڑے سخت ہو جاتے ہیں جوتوں پر بھی سفید نشانات آجاتے ہیں۔

۲۔ پانی کے ضائع ہونے کی وجہ سے پیاس بڑھ جاتی ہے۔

۳۔ بھوک بہت زیادہ لگتی ہے کیونکہ شکر کی بڑی مقدار ضائع ہو جاتی ہے۔ پیشاب کے ذریعے خارج ہونے والی شکر کو (Glycosuria) کہتے ہیں۔

ذیا بیطس کے مریض کی زبان خشک، سرخ اور چمکدار ہوتی ہے۔ مسوڑھے پھول جاتے ہیں۔ منہ میں تھوک کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ ذیا بیطس کا مریض جس کا علاج نہ ہو رہا ہو اس کی بھوک تو بڑھے گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ تھکن بھی محسوس ہوگی۔ اگر بیماری کو بڑھنے دیا جائے تو جسم پر خارش اور بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ کافی عرضے نظر انداز کرنے کی وجہ سے مریض بے ہوشی (Coma) میں بھی جاسکتا ہے اور اگر اس کا فوری علاج نہ کیا جائے تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ یہ حالت مریض میں اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اس کے خون میں کیٹونز (Ketones) کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ کوما میں جانے سے پہلے مریض کی آواز بھاری ہو جاتی ہے، سر میں شدید درد ہوتا ہے۔ ہاتھ پیر بے جان ہونے لگتے ہیں اور وہ آہستہ آہستہ غشی میں چلا جاتا ہے۔

ذیا بیطس کا ٹیسٹ

پیشاب کے چند قطرے ٹیسٹ ٹیوب میں لیں اور آدھا چائے کا چمچہ (Benedicts Solution) کا ڈالیں اور اس مکسچر کو اچھی طرح ہلائیں۔ اب اسے کھولتے ہوئے پانی میں ۵ منٹ تک رکھیں۔ اگر ٹیوب میں موجود مائع کا رنگ نیلا (Blue) رہتا ہے تو پیشاب میں شکر نہیں ہے، اگر رنگ ہرا ہو جاتا ہے تو معمولی مقدار میں شکر ہے۔ اگر رنگ پیلا ہے تو درمیانی درجہ کی شکر ہے لیکن اگر زرد یا سرخ رنگ ہے تو شکر کی زیادہ مقدار موجود ہے۔

ذیا بیطس کی تاریخ

ذیا بیطس کوئی نئی بیماری نہیں ہے لیکن یہ پچھلے ۵۰ سالوں میں تیزی سے پھیلی ہے۔ ماضی کا ہندو اور رومن اس کے بارے میں جانتے تھے۔ پیرا سیلسس (Paracelsus) نے مریض کے پیشاب میں چار اونس کے قریب نمک کو معلوم کیا تھا۔ پیشاب میں موجود شکر نمک کی طرح لگتی ہے اور اس زمانے میں سفید شکر کے بارے میں لوگ نہیں جانتے تھے۔ ولیز نے جو آکسفورڈ میں پڑھاتے تھے پہلی دفعہ اس بیماری میں مبتلا لوگوں کے خون اور پیشاب کو چیک کیا۔ تجربہ سے پتہ چلا کہ مریض کا پیشاب حیرت انگیز طور پر میٹھا ہوتا ہے۔ یہاں تک یہ شہد کی مانند ہوتا ہے۔ میتھیو ڈوبو (Matthew Doboos) نے ۱۷۷۵ء میں پیشاب کو تخمیر کے عمل سے گزارا اور ثابت کیا کہ یہ مٹھاس شکر کی وجہ سے ہے۔ اکیس سال بعد جان رولو John Rollo)) نے شکر کا علاج غذا کے ذریعہ کیا۔ مریضوں کو گوشت اور ایسی سبزیاں استعمال کرائیں جن میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار کم تھی۔ زیا بیطس کی وجہ ہم سب جانتے ہیں کہ ذیا بیطس بعض غدودوں کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ ماضی میں ان غدودوں کی موجودگی کا علم تو تھا لیکن ان کے کام کے بارے میں کسی کو علم نہیں تھا۔ ۱۹۴۵ء میں بو کار دے (Bouchardet) پہلا محقق تھا جس نے پتے یا لبلبے (Pancreas) کا تعلق ذیا بیطس سے جوڑا تھا۔

۱۸۸۶ء میں جوہان کونراڈ برونر (Johan Conrad Brunner) نے بتایا کہ لبلبہ چربی اور شکر کو استعمال کرنے میں مدد کرتا ہے۔

۱۸۸۹ء میں آسکر منکو وسکی (Oscar Minkowski) اور جوزف نے اس بات کو کتوں پر تجربہ کر کے ثابت کیا۔ انہوں نے بہت سے کتوں کو بے ہوش کر کے ان کے لبلبوں کو نکال لیا۔ آپریشن کے بعد تمام کتے زندہ رہے۔ لیکن ۴ سے چھ ۶ گھنٹے بعد انہوں نے ذیا بیطس کی علامات ظاہر کرنا شروع کردیں یعنی بڑی مقدار میں پیشاب کرنے لگے جس میں شکر بھی موجود تھی۔ ایک جانور ایک دن میں تقریبا دو اونس شکر خارج کرنے
لگا۔ اس دوران کتوں کے خون میں شکر کی مقدار بڑھ گئی۔

کتوں پر تجربات

لبلبه (Pancreas) سے سے نکلنے والی نالی جو چھوٹی آنت سے ملتی ہے اسے بند کردیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود کتے صحت مند رہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوا کہ لبلبےسے نکلنے والا عرق جو اس نالی کے ذریعہ چھوٹی آنت میں داخل ہوتا ہے، اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہے جو شکر کو استعمال کرتی ہے۔

منکو وسکی (Minkowski)کے تجربات

اس شخص نے کتے کا لبلبہ نکالا لیکن جلد ہی اس کے ٹکڑوں کو جلد کے نیچے لگا دیا۔ اس طرح کتے نارمل زندگی گزارتے رہے اور انہیں شکر کی بیماری بھی نہیں ہوئی حالانکہ پتے سے کوئی بھی خامرہ (Enzyme) چھوٹی آنت میں داخل نہ ہو سکا۔ اس تجربے سے معلوم ہوا کہ لبلبے میں کوئی ایسی چیز بن رہی ہے جو خون میں براہ راست داخل ہو رہی ہے۔ مختلف جانوروں پر تجربات کے بعد ایک ہارمون کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں جسے انسولین (Insulin) کا نام دیا گیا۔

راحین یا ہارمون (Hormones)

یہ نام پہلی دفعہ ۱۹۰۵ء میں استعمال ہوا یہ انڈوکرائن غدود (Endocrine Glands) میں بنتے ہیں اور خون میں براہ راست داخل ہوتے ہیں۔

آئی لینڈز آف لینگر پینس (Islands Of Langerhans) نے اپنے تجربات کے دوران یہ بتایا کہ لبلبوں میں دو طرح کے خلیات ہوتے ہیں۔ ایک قسم کے خلیات انگور کے خوشوں کی مانند ہوتے ہیں۔ دوسری طرح کے خلیات چھوٹے چھوٹے جزیروں کی شکل میں ملتے ہیں۔ یہ شکل میں بھی مختلف ہوتے ہیں۔ ۱۸۹۳ء میں اس نے کہا کہ دوسری طرح کے خلیات شکر کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اسی تھیوری کی وجہ سے ان خلیات کا نام “Islands Of Langerhans” رکھا گیا۔ اس نے اپنے تجربات سے یہ بتایا کہ ذیا بیطس کے پرانے مریض میں یہ آئی لینڈ ختم ہو جاتے ہیں یا ان کی شکل بگڑ جاتی ہے۔

ماضی میں طبیبوں کے یہاں یہ رواج تھا کہ جو کوئی مریض جس عضو کی بیماری میں مبتلا ہو تا تھا اسے وہی چیز تندرست جانور کی کھلائی جاتی تھی۔ مثلاً اگر کوئی شخص جگر کی بیماری میں مبتلا ہے تو اسے گائے یا بکری کا جگر کھلایا جاتا ہے۔ منکو وسکی نے ذیا بیطس کے مرض میں مبتلا کتوں کو صحت مند جانوروں کے لبلبے کو کھلایا لیکن اس سے کوئی اچھا نتیجہ ظاہر نہیں ہوا۔

لبلبے کے افعال

اس کے دو اہم کام ہیں۔

ا۔ یہ اہم ہضمی رس (Digestive Juice) کااخراج کرتا ہے۔

۲۔ انسولین بناتا ہے جو خون میں داخل ہو کر غذا میں موجود شکر کو استعمال کرتی ہے۔

بینٹنگ کا احسان

فریڈرک گرانٹ بینٹنگ(Frederick Grant Banting) کینیڈا کے ایک ہسپتال میں کام کرتا تھا۔ اس نے ایف آر سی ایس کرنے کا ارادہ کیا تو اس کی تحقیق کا موضع لبلبےتھا۔ کیونکہ اس کا تعلق ذیا بیطس سے تھا۔ اس نے اس کے بارے میں بہت کچھ پڑھا تھا۔ اس نے یہ بھی پڑھا تھا کہ زو کلر (Zueler) نے شکر کے چھ مریضوں کا علاج ۱۹۰۸ء میں لیلے کے عرق سے کیا تھا۔ اس سے مریضوں کو کافی فرق ہوا لیکن وہ سخت سردی اور بخار میں مبتلا ہو گئے۔ ۳۰ اکتوبر ۱۹۲۰ء اس کی زندگی کا اہم دن تھا۔ وہ لبلبے کے بارے میں ایک لیکچر تیار کر رہا تھا جو اسے آنے والے دن دینا تھا۔ اس سلسلے میں اس نے مختلف کتابوں کا مطالعہ کیا۔ جن میں سرجری‘ گائینو کالوجی اور زچگی جیسے موضوعات شامل تھے۔ اس دوران اس کی نظر موسس بیرن (Moses Baron) کے مضمون پر پڑی جس سے اسے نئی راہیں نظر آئیں۔

بیرن کہتا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق جو لوگ پتے کی پتھری کی وجہ سے مرگئے تھے ان کے لبلبےکی نالی پتھری کی وجہ سے بند ہو گئی تھی اور وہ خلیے جو ہاضمی خامرے بناتے تھے وہ سکڑ گئے یا مر گئے۔ لیکن آئی لینڈرز آف لینگر ہینس غیر معمولی طور پرصحت مند تھے بیرن یہ بھی کہا کہ ایسے لوگوں میں خون شکر کی مقدار ہمیشہ نارمل رہی۔

بینٹنگ کافی سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ لبلبےمیں کسی چیز کی کمی اور ذیابیطس میں کوئی تعلق ضرور ہے۔ یہ سوچتے سوچتے اسے نیند آگئی۔ نیند کے دوران وہ اچانک دو بجے اٹھا لائٹ روشن کی اور لکھنا شروع کیا۔ کتوں کی لمبائی نالی کو “Ligate” کیا جائے۔ چھ ہفتوں تک انتظار کیا جائے۔ پھر اسے نکال کر استخراج Extract) (تیار کیا جائے۔ پھر اس نے لائٹ آف کی اور سو گیا۔

Ligate”” ایک میڈیکل اصطلاح (Term) ہے۔ اس کا مطلب سختی سے باندھنا ہے۔ یہ اصطلاح عموما” شریانوں ، وریدوں اور نالیوں کے لئیے استعمال ہوتی ہے۔

بینٹنگ یہ سوچتا تھا کہ لبلبےکے عرق میں کوئی نہ کوئی ایسی چیز ضرور موجود ہے جو شکر کو روکتی ہے۔ اگر وہ اس عرق کو نکالنے میں کامیاب ہو گیا تو ذیا بیطس کے علاج کے قابل ہو جائے گا۔ دوسری صبح وہ اپنے سربراہ کے پاس پہنچے اور اپنے اس خیال کی وضاحت کی۔ پروفیسر نے باتیں سن کر اندازہ لگایا کہ جو کچھ یہ کہہ رہا ہے اس میں کچھ نہ کچھ حقیقت ہے۔ لیکن ان کے پاس وہ تمام آلات جن کی ضرورت بینٹنگ کو تھی وہ نہ تھے۔ اس کے پروفیسر نے مشورہ دیا کہ وہ پروفیسر جے جے آرمیکلوڈ (J.J.R. Macleod)سے ملے جو کہ ٹورنٹو یونیورسٹی میں فزیالوجی کے سربراہ تھے۔ بینٹنگ پروفیسر میکلوڈ کے پاس پہنچے اور ان سے آٹھ ہفتوں کے لیے دس کتوں اور ایک اسٹنٹ کی درخواست کی۔ میکلوڈ نے بے شمار فضول نظریات سے تھے لیکن اسے بینٹنگ کے نظریے نے متاثر کیا اور وہ بینٹنگ کی مدد کے لئیے تیار ہو گیا۔

کتوں پر تجربہ

مئی ۱۹۲۱ء میں بینٹنگ ٹورنٹو گیا تاکہ میکلوڈ کے ساتھ کام کر سکے۔ میکلوڈ نے اسے دو مدد گار دیئے جن میں سے ہر ایک چار ہفتے اس کی مدد کرتا۔ انہوںنے ٹاس کے ذریعے چارلس ہربرٹ بیسٹ (Charles Herbert Best) کو پہلے چار ہفتوں کے لئیے چنا یہ فزیالوجی کا گریجویٹ تھا۔ چار ہفتے گزرنے کے بعد نوبل کی باری تھی لیکن وہ نہ آسکا۔ اس طرح اس نے مقبولیت کا ایک موقع کھو دیا۔ دس کتوں پر تجربہ کیا گیا۔ ان کے لبلبوں کی نالی کو باندھ کر اسے کاٹ کر باہر نکال لیا۔ تمام کتوں کے لبلبےاپنے سائز سے سکڑ کر کم ہوگئے۔ ایکی نس (Acinus) خلیے جو ہاضمی رس یا عرق بناتے ہیں انہوں نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا ۔

بینٹنگ اور بیسٹ نے لبلبوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کئے انہیں ریت کے ساتھ پیسا پھر اس میں سمندر کا پانی ملایا جس کی طاقت خون میں اور بافت (Tissue) میں موجود مائع کے برابر ہوتی ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ سمندری پانی اور انسانی خون کی کیمیائی ترکیب (Chemical Composition) تقریباً یکساں ہوتی ہے۔ اس محلول کو فلٹر کرنے کے بعد انہیں جانوروں میں انجکشن کے ذریعہ داخل کیا جاسکتا ہے۔

جن کتوں میں سے لبلبوں کو نکال لیا گیا تھا وہ تمام ذیا بیطس میں مبتلا ہو گئے۔ انہیں یہ محلول انجکشن کے ذریعہ دیا گیا۔ خون میں شکر کی مقدار بہت زیادہ ہو گئی۔ انجکشن کے بعد بہت تیزی سے کم ہوئی اور پیشاب میں بھی اس کا اخراج ختم ہو گیا اور زخم بھر گئے۔ انہوں نے اپنی کھوئی ہوئی توانائی حاصل کرلی اور کافی عرصہ زندہ رہے۔ میکلوڈ اس تجربے سے مکمل طور پر مطمئن نہ تھے انہوں نے بینٹنگ کو اس تجربے کو دوبارہ کرنے کے لئے ہدایت کی ناکہ یکساں نتائج حاصل ہو سکیں۔

شوگر پر فتح حاصل نہیں ہوئی

بینٹنگ کے تجربات سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ بس یہی کامیابی ہے بلکہ اس میدان میں دور تک جاتا ہے۔ درمیان میں بے شمار رکاوٹیں آئیں گی جنہیں عبور کرنا ہے۔ استخراج کو تیزی سے حاصل کرنے کے لئیے بینٹنگ نے اپنے جانوروں کو کئی گھنٹوں تک سیکریٹن کے انجکشن دیئے جب تک کہ ایکی نس خلیات مر نہیں گئے۔ اس کے بعد لبلبوں کو پیسا اور فلٹر کیا۔ اب بہت اچھے نتائج حاصل ہوئے، لیکن بینٹنگ نے دیکھا کہ ایکی نس مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے جس کی وجہ سے کتوں میں زہر پھیل گیا۔

ان تجربوں کے دوران بینٹنگ کو خیال آیا کہ گائے کے پیدا ہونے والے بچے میں بھی انسولین ہو سکتا ہے لیکن اس میں ٹریسن (Trypsin) جو کہ لبلبےکے رس کا ایک حصہ ہے اور جو انسولین کو ضائع کرتا ہے ممکن ہے کہ اس بچے میں نہ ہو۔ اس خیال کی تصدیق اس طرح بھی ہوتی ہے کہ ہاضمی رسوں کی ضرورت پیدائش سے پہلے نہیں ہوتی۔ پیدائش سے پہلے بچہ ماں سے غذا حاصل کرتا ہے اور اسے ہاضمی رسوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔

بیسٹ اور بینٹنگ نے گائے کے پیدا ہونے والے بچوں کے لبلبوں سے انسولین حاصل کی۔ اس مقصد کے لئے الکوحل استعمال کیا گیا۔ اس حاصل شدہ انسولین کو ان کتوں کو استعمال کرایا گیا جنہیں شکر تھی۔ یہ کتے تقریبا دس ہفتوں تک صحت مند رہے جب کہ وہ کتے جنہیں انجکشن نہیں دیا گیا وہ چند دنوں میں مرگئے۔

بینٹنگ اور ٹیسٹ نے ایک دوسرے کو انجکشن لگائے تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ انسولین انسانوں کے نقصان پہنچانے والا نہیں ہے۔

لیکن موجودہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر ضروری طور پر انسولین لینا انتہائی خطرناک ہے اور اس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے چند رضا کارون کے لئیے درخواست کی۔ تین مریضوں کو انجکشن دیا گیا۔ جس سے شکر کی سطح تیزی سے گر گئی اور وہ صحت مند ہو گئے۔ لیکن ہر مریض میں انجکشن کی جگہ پس (Abscess) ہو گیا جو کہ ایک خطرناک علامت تھی۔

میکلوڈ کو اب بینٹنگ کے کام کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ اس نے ۱۹۲۲ء میں اپنے پورے اسٹاف کو انسولین کے خواص اور اسے انسانوں کے استعمال کے قابل بنانے پر لگا دیا۔ ڈاکٹر جے بی کولپ کو اس کام کی نگرانی پر معمور کیا۔ انہوں نے بیسٹ اور اسکاٹ کے ساتھ مل کر بڑی مقدار میں انسولین تیار کی۔ اس وقت سے انسولین کا کام جاری ہے اور اس میں بہتری آرہی ہے۔ بیسٹ نے “زنگ پروٹامین انسولین” تیار کی جو کہ بلڈ شوگر کو دوگنے عرصے تک کنٹرول کرتی ہے۔ اس انسولین کے مقابلے میں جو لبلبوں سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس طرح دو کے بجائے صرف ایک انجکشن ہی کافی ہو تا تھا۔ پروٹامین انسولین ڈاکٹر پیگینڈورن نے بنائی لیکن زنک کے ساتھ اس کا مرکب بیسٹ کا نظریہ تھا۔

بینٹنگ اور بیسٹ کو نوبل انعام ملا ، جس کے وہ حق دار تھے۔ بینٹنگ کو بے شمار ڈگریاں اور تمغات مختلف یونیورسٹیوں اور سائنسی اداروں سے ملے۔ بیسٹ کو بھی بہت عزت افزائی ملی۔

کلوننگ کا کارنامہ

“ڈولی” بھیڑ کی کلوننگ کو غیر جنسی پیدائش کے سلسلے میں بہت ہی غیر معمولی کارنامہ قرار دیا جارہا ہے۔ حالاں کہ اس میں جین یا جین بردار کرو مموسیز کا کوئی غیر معمولی کردار نظر ہی نہیں آرہا۔ حقیقت یہ ہےکہ حاملہ بھیڑ نمبر ایک جس کے پستانی غدود سے بافت حاصل کی گئی وہ بافت پہلے ہی سے 2n یا مکمل سیٹ والے کروموسومز کی حامل تھی اور یہ بھیڑ عام بھیڑوں کی طرح امشاجی طریقہ ( فیوژن آف گیمیٹس) سے اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوئی ۔ با الفاظ دیگر نر اور ماده خلیوں کے کروموسوم اپنی حسب معمول جینیاتی خصوصیات کے ساتھ 2n کی تعداد میں اس پستانی بافت سے حاصل کردہ خلیے میں پہلے ہی موجود تھے مختصر یوں یوں کہا جاسکتا هے کہ ہنی مون پہلے منالیا گیا اور سہرا بعد میں باندھا گیا۔

کلون کیا ہے؟

A Group of animals or plants produced artificially by the cells (or cuttings) of an ancestor which is exactly like it.(i.e.the ancestor)

یعنی حیوانات اور پودوں کا ایک ایسا گروپ جسے مصنوعی طور سے اپنے جد کے خلیوں یا تراشیدہ حصوں سے تیار کیا جائے۔ ایسا گروپ اپنے جد کی جسمانی خاصیتوں اور شباہت سے ہو بہو ملتا ہے۔

کلون کی مذکورہ بالا تعریف میں (راقم کے نزدیک) ایک خامی یہ رہ گئی ہے کہ اس میں مصنوعی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے (Bryophyllum) جسے عام انگریزی زبان میں (Sprout leaf plant) اردو میں پتھر چٹ کہا جاتا ہے۔ اس کے پتے کٹاؤ دار ہوتے ہیں (شکل نمبرا) اکثر پتا پرانا ہو کر گملے کی مٹی پر گر پڑتا ہے یا پودے میں لگے ہوئے پتے کو کسی چیز سے دبا کر مٹی سے چھوا دیا جائے تب بھی پتے کے ہر کٹاؤ سے نباتاتی کلیاں (Vegetative buds) اگنے لگتی ہیں

جن میں اوپر کی طرف پتیاں اور نچلی طرف جڑیں بن جاتی ہیں۔ اس طرح ایک پتے سے بہت سے نئے پودے پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ کلونگ کا قدرتی طریقہ ہے۔ اس قسم کی پیدائش کو غیر جنسی پیدائش کہا جاتا ہے۔ اس طرح جانوروں کے نچلے درجات (Lower animals) میں مثلا پیرا میشئم (Paramecium) میں غیر جنسی پیدائش کا یہ عمل بہت تیزی سے قدرتی طور پر ہوتا رہتا ہے۔ اس کی کچھ تفصیل آگے بیان کی جائے گی۔ پیرا میشئیم کے علاوہ (Hydra) Vorticella پلے نیرئیم، اشار فش اور کینچوئے تک میں کلیوں (Budding) اور قلموں (Cuttings)کے ذریعہ غیر جنسی پیدائش (A sexual reproduction) قدرتی اور مصنوعی طرح سے ہوتی رہتی ہے۔ گنے کی فصل اور گلاب کی فصل ہمارے کھیتوں اور کیاریوں میں اس طرح اگائی جاتی ہیں لیکن اعلیٰ درجات کے جانوروں مثلا پرندوں اور ممالیہ وغیرہ میں پیدائش کا عمل صرف جنسی ہی ہوتا ہے۔ جنسی پیدائش کے طریقہ میں اکثر دو مختلف قسم کے خلیوں (Sperm) اور (Ovum) یعنی نر اور مادہ خلیوں اور ان کے مرکزوں کے باہم پیوست (Fuse) ہو جانے کے بعد ہی ایک نئی جان پیدا ہوتی ہے لیکن جنین (Embryo) کی بالکل ابتدائی حالت میں جب وہ کم از کم ۳۲ خلیوں کی ایک چھوٹی سی گولی (Morulla) کی حالت میں ہوتا ہے اگر اسے اتفاقیہ طور سے یا مصنوعی طور سے دو حصوں میں کٹ جانا پڑے یا کاٹ دیا جائے اور وہ بعد میں رحم مادر تن میں حسب معمول پرورش پاتے رہیں تو مدت حمل پوری ہونے کے بعد جڑواں بچے پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی کلون ہی کہلائیں گے۔ انہیں عام زبان میں ہم شکل مثنی(Identical Twins) بھی کہا جاتا ہے یا زیادہ اصطلاحی الفاظ میں یہ (Homozygous Twins) بھی کہلاتے ہیں یعنی ایک ہی امشاجی خلیہ (Zygote) سے پیدا شدہ جنین کے دو حصوں علیحدہ علیحدہ یا جڑواں حصوں سے بننے والے ایک دوسرے کی ہو بہو نقل۔ موجودہ ڈولی بھیڑ کی کلوننگ میں بھی ایک حاملہ بھیڑ کے لنبی غدود سے حاصل کردہ بافت کے ایک 2x خلیہ کو ایک خالی از مرکزه مادہ خلیہ (Ovum) میں پیوست کرنے کے بعد اسے کسی تیسری حاملہ بھیڑ کے رحم میں منتقل کر کے مرحلہ وار مشکلات پر قابو پاکر یہ کارنامہ سر انجام دیا گیا جو اپنی نوعیت کا پہلا کارنامہ کہلانے کا مستحق ہے جس نے حیاتیاتی سائنس کی دنیا میں ایک وقتی ہلچل ضرور پیدا کر دی ہے۔

مندرجہ ذیل مضمون میں پہلے پیرا میشنیم کی غیر جنسی پیدائش پر روشنی ڈالنے کے بعد کلوننگ کے طریقہ کار اور نتائج پر مزید روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔

پیرا میشنیم میں قدرتی کلوننگ:

اوپر کے بیان سے یہ تو معلوم ہو ہی گیا ہو گا کہ کلونگ کوئی نئی بات نہیں قدرتی طور پر بھی اس طریقہ پیدائش سے نسلوں کی نسلیں کروڑہا برس سے پیدا ہوتی رہی ہیں آئی این ولمٹ نے جو ڈولی بھیٹر تالیف کی ہے اس میں اور قدرتی طریقہ کار میں کیا فرق ہے اسے ہم چند مثالوں سے سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نچلے درجوں کے یک خلوی (Acellular organisms) عضویوں جیسے پیرا میشئیم میں عام پیدائشی طریقہ غیر جنسی (Asexual) ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اس عضویہ میں جب غیر جنسی پیدائش ہوتی ہے تو اس میں خورد مرکزہ (Micronucleus) عام تقسیمی عمل (Mitosis) سے گزر کر دو دختر مرکزے بناتا ہے اس کے بعد نخر ما یہ (یعنی سائٹو پلازم) کی تقسیم واقع ہوتی ہے۔ مرکزہ کے کروموسومل مواد اور ان کی تعداد میں کوئی فرق نہیں آتا یعنی مادر پیرا میشٗیم اور دونوں دختر پیرا میشئیم 2x یا دہرے کروموسوم ہی کے حامل ہوتے ہیں۔ اس طریقہ پیدائش میں نر اور مادہ مرکزے یعنی (Male and female pronucleii) میں نہیں آتے اس طرح اس خوردبینی عضویہ کی نسل بڑھتی رہتی ہے۔ پیرا میشئیم میں کلونگ کا یہ قدرتی طریقہ ہے۔ اگر پرورش والی ڈش (Culture) میں مقررہ وقت کے اندر پرانے غذائی جو شاندے (Hay Infusion) کو نئے جوشاندے سے بدلا جاتا رہے تو یہ سلسلہ کئی نسلوں تک جاری رہے گا حتی کہ (Senile decay) بعد پیدا ہونی شروع ہو جائے گی۔ اس کے بعد نئے طریقہ پیدائش سے رجوع کرنا پڑے گا جسے عمل (Conjugation) یا سنجوگ کہا جاتا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیر جنسی طریقہ پیدائش کے مقابلے میں جنسی پیدائش کے طریقہ کو برتری حاصل ہے۔ اس طرح سے خورد مرکزہ کو حیات تازه (Nuclear reorganization) حاصل ہو جائی ہے۔ اس کے بعد پھر وہی عام تقسیمی عمل شروع ہو جاتا ہے۔ پیرائی شیئیم کی مختلف انواع اس طرح سے پیدا شدہ نسلیں یا کلونز ہی بناتی رہتی ہیں شکل نمبر (۲)۔ ان میں کروموسومل مواد ان کی تعداد اور خاصیت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی جب تک کہ بعض طاقتور اسباب مثلاً تاب کاری یا کسی اور قدرتی یا مصنوعی طریقہ سے ان میں تبدیلی واقع نہ کی جائے۔

دوسری مثال گرین فلائیز (Aphids) یا سبز مکھیوں کی ہے جو ہماری فصلوں کو بے انتہا نقصان پہنچاتی ہیں۔ ان میں بھی کئی نسلیں کلونگ جیسے طریقہ سے وجود میں آتی ہیں۔ اگرچہ یہ طریقہ کہیں مختصر اور آسان ہوتا ہے۔ یہاں Stem mothers یا پہلی مائیں بغیر نر سے وصل کئے کئی بار تا بالغ مکھیاں (Nymphs) پیدا کرتی ہیں۔ یہ تمام کی تمام نابالغ مکھیاں مادہ ہوتے ہیں جو پہلی ماؤں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور یہ بھی بغیر کسی نر سے وصل کئے اس نیم جنسی پیدائشی عل کو دہراتے رہتے ہیں۔ اس طرح کی کئی نسلیں ایک ہی موسم میں پیدا ہوتی ہیں لیکن اس میں اور پیرا میشئیم والی مثال میں نمایاں فرق یہ ہے کہ ان میں کرد موسومل مواد نصف عددی (Haploid) ہوتا ہے یعنی صرف x۔ اس قسم کی پیدائش کو کنواری تولید Virgin birthیا (Parthenogenesis)بھی کہتے ہیں۔ اس میں صرف مادہ خلیہ (Ovum) کے ذریعہ یا غیر امشاجی (یعنی بغیر دو نطفوں کے ملاپ) کے پیدائشی طریقہ کہا جا سکتا ہے۔ کنواری ملکہ شہد کی مکھی بھی جب اسے نکھٹو(Drone) سے وصل نہیں ہوا ہوتا، غیر امشاجی طریقہ سے صرف نکھٹو ہی پیدا کرتی ہے۔ شہد کی مکھیوں میں مادہ 2x کروموسومز کی حامل ہوتی ہے کیوں کہ اس کی پیدائش میں دو مختلف جنسی خلیوں میں امشاج (Fusion) ہو چکا ہوتا ہے۔ ڈولی والے موجودہ کلوننگ اور پارتھینو جنیس میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ڈولی2xکروموسومز کی حامل ہوتی ہے جبکہ نکھٹو یا Drones جو کنواری تولید کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں صرف x یا نصف عددی (یعنی Haploid) کروموسومز کے حامل ہوتے ہیں۔ ہم نے اپنے کسی پہلے مضمون میں حضرت عیسی کی پیدائش کو بھی کنواری تولید (پارتھینو جنیسس) کے ذریعہ صرف حکم خدا سے انسان کی پیدائش کا معجزہ قرار دیا ہے کیونکہ اعلیٰ درجہ (Higher animals) مثلا ممالیہ وغیرہ میں طریق پیدائش صرف دو مختلف نطفوں (Sex Cells) کے امشاج کے ذریعہ ہی ہوتا ہے۔ پودوں اور نچلے درجات کے جانوروں میں قلم کاری (Fragmentation) کے ذریعہ بھی پیدائش ہوتی ہے لیکن ان تمام مثالوں میں کروموسومز کی تعداد مکمل یعنی 2x ہوتی ہے۔ پیپل کے درخت کو پورا اکھاڑ کر پھینک دو اگر ایک جڑ کا ٹکڑا بھی زمین یا دیوار میں باقی رہ جائے گا تو وہ پھر تناور درخت بن جائے گا۔ کلوننگ کی مندرجہ بالا تعریف یہاں بھی لاگو ہے۔

ڈولی بھیٹر کی کلوننگ یا جسے جینیاتی طریقہ سے جینیاتی برادری بنانے کا اعزاز بھی دیا جا رہا ہے اس میں جین یا جین بردار کروموسومز کا کوئی غیر معمولی کردار نظر ہی نہیں آرہا ہے) اور جس کے طریقہ پیدائش میں جو کمالات اور عجائب بتلائے گئے ہیں ان ہی میں سے ایک کمال یہ بھی ہے کہ اس میں بظاہر بغیر نر اور مادہ دونوں جنسی خلیوں کو خارج از عمل دکھلایا گیا ہے اگرچہ اخباری اطلاعات کے مطابق صرف نر خلیہ کو خارج از عمل دکھلایاگیا ہے) جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حاملہ بھیٹر نمبرا (1.Donar sheep no) جس کے لبنی غدود سے بافت حاصل کی گئی یہ بافت پہلے ہی سے 2X یا مکمل سیٹ والے کروموسومز کی حامل ہے اور یہ بھیٹر عام بھیڑوں کی طرح امشاجی طریقہ (Fusion of gametes) ہی سے اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوئی باالفاظ دیگر نر اور مادہ خلیوں کے کروموسومز اپنی حسب معمول جنیاتی خصوصیات کے ساتھ2X کی تعداد میں اس لبنی بافت سے حاصل کردہ خلیہ میں پہلے ہی موجود تھے۔ اگرچہ اسے کسی مصلحت کے تحت امشاجی خلیہ (Zygote) نہیں کہا گیا کیونکہ عملا یہ امشاجی خلیہ یا زانگوٹ کا بھر پور کردار ادا کر رہا ہے اس لیے کہ ان نر اور مادہ خلیوں کے پیوستگی) Fertilization) کے عمل کو کچھ عرصہ پہلے (1.D.S) کی شکل میں لایا جا چکا تھا یا اسے یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہنی مون پہلے منایا گیا لیکن سہرا بعد میں باندھا گیا اور ولیمہ کے نتائج کی تشیر فروری ۱۹۹۷ء کے”Nature” کے ذریعہ کرائی گئی۔

دراصل 2xبافت عطا کرنے والی ڈو نر شیپ ون جسے ہم D.S.1 کہیں گے کے لبنی غدود سے جو خلیے لئےگے ان میں سے ہر ایک کو (Preformed zygote) یا غیر مروجہ امشابی خلیہ کا مرتبہ حاصل تھا اسے ہم zygote یا عوضی امشاجی خلیہ کا نام دے سکتے ہیں اور یہ نام دیا جاتا ہر حالت میں صحیح ہی ہوگا۔ ڈولی بھیڑ والے معاملے میں دو ازواج کے علاوہ درمیانی میزبان خلیہ(Host cell) بھی نظر آرہا ہے یعنی وه ماده غیر امشاجی خلیہ اور (Unfertilized Ovum) جسے ایک اور درمیانی حاملہ بھیٹر کی بیضہ دانی سے حاصل کرنے کے بعد اس کا مرکزہ (جو x کروموسومز کا حامل تھا) خارج کر دیا گیا کیونکہ محقق نے پہلے ہی2x والے یعنی مصنوعی عوضی امشاجی خلیہ (سر رو گیٹ زانگوٹ) کے پورے کروموسومل مواد (ڈی این اے وغیرہ) کی خدمات مستعار لی ہیں۔

Udder سے حاصل کردہ غیر متشخص بافت (Undifferentiated tissue) خصوصیات:

تمام لنبی غدود ایک خاص ساخت کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کے غیر مختص خلیے کھال میں پائے جانے والے چکنائی پیدا کرنے والے غدود یعنی Sebaceous glands ہی کی طرح تبدیل ہو کر ایک نئی شکل اختیار کر کے (Alveolar glands) یا (Racemose gland) (انگور کے خوشہ نما غدود) بن کر بعض ہارمونز سے متاثر ہو کر دودھ تیار کرنے لگتے ہیں۔ راقم کے خیال میں میں کام کھال کی نچلی سطح یعنی (Oogonia) یا (Malpighean Layer) یا (Spermatogonia) کے خلیوں سے بھی لیا جاسکا ہے۔ ان Racemose glands کی ابتدائی شکل Blastula جیسی ہوتی ہے۔ دوئم یہ بھی کہ ان میں پچوٹری اور دیگر ہارمونز کے زیر اثر تقسیم در تقسیم کا عمل تیزی کے ساتھ جنین میں ہونے والے “Cleavage” کی طرح ہوتا ہے۔ خاص طور سے حاملہ بھیڑ میں بچہ پیدا ہونے سے عین قبل محقق نے بڑی ذہانت سے اس حصے کے غیر مختص یا نیم مختص خلیوں کا انتخاب اس مقصد کے لیے کیا۔ شروع میں اس بافت کے تقسیم در تقسیم ہونے کے عمل کو کم کرنے یا روکنے کے لیے ٹیسٹ ٹیوب بے بی والے طریقے سے منجمد کرکے اور ہائبر نیٹ (hibernate) کراکے محفوظ کر لیا گیا۔ اب درمیانی حاملہ بھیڑ11 (Intermediate donar sheep) ہے اب ID.SII کہا جائے گا کی بیضہ دانی سے غیر امشاجی بیضہ (Ovum) حاصل کرکے اس کے x کروموسوم والے مرکزہ کو خارج کر دیا گیا۔ (اخبارات کا یہ بیان کہ ڈاکٹر ولیٹ نے اس کلوننگ کے درمیان صرف نر خلیہ کو خارج از عمل کردیا۔ کتنا غلط ہے اور پھر عوضی امشاجی خلیے کو جو2xکروموسومل مواد کا حامل ہے، مہین خوردبینی سرجری کے عمل سے مرکزہ سے خالی بیضہ میں پیوند کاری کر کے پیوست کر دیا گیا (دیکھئے شکل نمبر2a,4 اور (3a) یہ سب کام قواریری ظرف (Invitro) میں کیا گیا اور پیوستگی کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیئے کمزور برقی لہروں سے ان دونوں خلیوں کو متاثر کیا گیا۔ اس طرح سے ایک مصنوعی امشاجی خلیہ (جسے ایک دوسرے میزبان مادہ 2x کا نخزمایہ’ (Cytoplasm) اغذیا وغیرہ کو جذب کرنے کے لیئے مہیا کر دیا گیا) بنایا گیا۔ یہاں یہ بات نہیں بتلائی گئی کہ بافت کا صرف 2 والا مرکزہ رکھا گیا یا اس کا پورا خلیہ جس کی بیرونی جھلی (Cell membrane)اتار دی گئی ہو۔ ٹیسٹ ٹیوب بے بی اور ڈولی کے درمیان ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ اول الذکر میں مکمل مادہ خلیہ صرف x کروموسوم کا حامل( اور مکمل نر خلیہ یا لا کروموسوم کے حامل خلیوں) میں قواریری ظرف ( Invitre) میں بیرونی طرح امشاج کرایا جاتا ہے جب کہ ڈولی میں محروم مرکزہ والے میزبان خلیہ میں 2x والے خلیہ کی پیوست کاری کردی جاتی ہے۔ دشوار ترین مرحلہ: یہ بھی خیال کرنا چاہنے کہ غیر مرکزی میزبان خلیہ ایسا ہونا چاہیئے کہ اس میں تردید (Rejection) (یعنی بیرونی اجزا کو رد کیئے جانے کا عمل) کم سے کم ہو۔ ایک ہی نسل کی بھیڑ اس مقصد کے لیئے ہی لی گئی ہوگی۔ دوئم یہ بات کہ ایک ایسے بیضے (Ovum) کا نخزمایہ بھی ضروری تھا جو اس عوضی ( امشاجی خلیہ کے لیے حسب ضرورت غذائیت اور افزائش (growth) کا سامان بخوبی مہیا کر سکے۔ اس عوضی امشاجی خلیہ کو میزبان خلیے کے ساتھ پیوست کرنے کے لیئے خوردبینی مین آلات کے ذریعہ مادہ میزبان خلیہ کے سرجری شدہ خلاء میں رکھ کر بہت ہی کمزور برقی لہروں کے ذریعہ مہمان مرکزہ اور میزبان خلیہ میں پیوست (Fuse) کیا گیا۔ میں اس پورے آپریشن کا دشوار ترین حصہ ہے۔ اس کے بعد اسی قواریری طرف ( In vitro) والے طریقے میں مناسب غذائی ماحول اور درجہ حرارت میں رکھ کر اور مزید برقی لہروں سے متاثر کرکے اسے تقسیم در تقسیم (Cleave) ہونے کے لیے آمادہ کیا گیا۔ محققین نے اس قسم کے ۲۷۷ تجربات کیئے جن میں سے صرف ۲۹ عوضی امشاہی خلیوں میں تقسیم در تقسیم (Cleavage) کا عمل کامیاب رہا لیکن ان میں بھی ۲۸ تلف ہو گئے اور صرف ایک ہی کامیابی کی منزلیں کرتا ہوا حاملہ عوضی ماں ۱۱۱ (Surrogate mother sh.no.III) کے رحم میں منتقل کر دیا گیا۔ یہاں بھی اس کی مستقل نگہداشت کی گئی ہوگی اور اس عوضی ماں کو ہارمونل ٹریٹ مینٹ کے زیر اثر رکھا گیا ہو گا اس میں ایک ماہر (Gynaecologist) کی خدمات بھی لی گئی ہوں گی۔ اس طرح بعد از دشواری بسیار انہیں “ڈولی” بھیٹر کا تحفہ حاصل ہوا یعنی کامیابی کا تناسب 277/1 رہا (یعنی %۰۰۰۰۳ جو کامیابی کا بہت ہی کم تناسب ہے )۔

یہاں بیسویں صدی کے اوائل کے ایک واقعہ کی طرف متوجہ کرنا بھی ضروری ہے جو اس طرح بتلایا گیا ہے کہ ایک روسی ماہر حیاتیات نے جو کتوں کی پر تحقیق کر رہے تھے(Conditional Reflex) چوہوں کو گھنٹی بجنے کی آواز پر لبیک کرتے ہوئے کھانے کی پلیٹوں پر پہنچنے کی تعلیم دینی شروع کی ابتداءً انہوں نے نوٹ کیا کہ اس طرح سے سو دفعہ سبق دینے کے بعد ۱۰۱ ویں میں گھنٹی کے سبق پر وہ چو ہے آواز سنتے ہیں کھانے کی (خالی) بلیٹوں پر بھی ٹوٹ پڑتے تھے۔ دوسری نسل نے ۹۹ ویں دفعہ میں، تیسری نسل نے اس سے کم چوتھی نے اس سے بھی کم اور پچاسویں نسل چند ہی بار گھنٹی بجنے کی آواز سن کر کھانے کی پلیٹوں پر لیکنے لگی یعنی انہوں نے (جن کا نام Pavlov تھا) یہ ثابت کیا کہ خاص قسم کا طرز عمل (Behavior) بھی of acqurid characters Lamarkian theory of inhetance کے مطابق حیوانات کی وراثت میں داخل کیا جاسکتا ہے۔ مغربی ممالک کے ماہرین نفسیات اور حیوانات نے اس تحقیق کو بڑی دلچسپی سے پڑھا اور اپنے اپنے تحقیقاتی مراکز میں اس تجربہ کو آزمائشی طور پر دہرایا لیکن نتیجہ ہر مرتبہ منفی نکلا۔ چنانچہ سائنسی حلقوں میں بڑی لے دے ہوئی۔ اس لیے ہمیں آئن ولمٹ صاحب کے کارنامے کو مزید تحقیقی آزمائشوں کے بعد ہی توثیقی سرٹیفکیٹ دینا چاہیئے۔ (ولمٹ صاحب سے معذرت کے ساتھ) جہاں تک جنین خلیوں (یعنی زیادہ خلیوں سے امشاج شدہ حاصل کیئے ہوئے ۳۲ خلیوں والے (Morulla) یا اس کے کسی حصہ ) کا تعلق ہے تو وہ کسی بھی دودھ پلانے والی مادہ (اسی نسل کی) کے رحم میں پیوند کاری کے ذریعہ تو کامیابی سے ہم کنار ہو سکا ہے اور اس قسم کی گائیں اور بکریاں پیدا بھی کی جاچکی ہیں۔ اس لیئے ڈاکٹر ولمٹ کے تجربے کو شک کی نظر سے دیکھنا کچھ غلط ہی ہو گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس سلسلے میں صرف ایک ہی بھیٹر کام میں نہیں لائی جاسکتی تھی یعنی ایک ہی حاملہ بھیٹر کے لبنی غدود سے حاصل کردہ خلیہ کو اس بھیڑ کے رحم میں (ڈاکٹر ولیٹ والے طریقہ سے) پیوند کر دیا جاتا۔ ان دونوں طریقوں سے صرف مادہ بھیڑ ہی کا کلون حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن اگر تجربہ نسلا بعد نسل جاری رکھا جائے تو اس میں یہ خدشہ ضرور موجود رہے گا کہ اس کا جینیاتی مادہ (DNA وغیرہ) ضعف پیری (Senile decay) کے سب مزید کار آمد نہ رہے۔ اس لیے اسے دوبارہ تازگی بخشنے یا (Rejuvinate) کرنے کے لیے کسی نے بھیڑ کی موزوں بافت سے خلیہ لینا پڑے گا۔ اس بافت کے ہر خلیہ میں xy جنسی کروموسومز کی موجودگی کے سبب جو بھی کلون بنے گا وہ نر بھیڑوں ہی پر مشتمل ہو گا۔ کیا یہ دلچسپ صورت حال بھی پیدا کی جاسکتی ہے کہ انسانی موزوں بافت سے خلیہ حاصل کرکے اس کی پیوند کاری گائے کے رحم میں کردی جائے؟ اس میں اولا” تردید (بیرونی بافت کے رد کرنے کے عمل پر قابو پانا ہوگا ۔ دوسری دشواری زمانہ حمل کے دورانیہ (Gestation period)کے فرق کو دور کرنے کے طریقے وضع کرنے پڑیں گے اور مصنوعی طور پر (Labour process) اور (Labour pains) شروع کرا کے وضع حمل (Delivery) کرانی پڑے گی ۔ کیا اس طرز سے انسانی کلون حاصل کر کے اس کے اعضاء کی پیوندکاری پر مذہبی رائے عامہ کو کچھ اعتراض ہوگا؟

ایک اور عجیب واقعہ:

ہمارے ملکی معاصر جریدے میں کلوننگ کے موضوع پر لکھے ہوئے ایک تبصرے میں ایک عجیب واقعہ بیان کیا گیا ہے (جو راقم کی ضعیف رائے میں قابل یقین معلوم نہیں ہوتا وہ یہ ہے: عورت کے بانجھ پن کو دور کرنے کے لیئے تجرباتی علاج کیا جا رہا تھا۔ ڈاکٹروں نے منجمد (Frozen) تولیدی خلیے (نوٹ: یہاں مصنف نے “تولیدی خلیے” کے الفاظ استعمال کیئے ہیں جبکہ ابتدائی جنینی خلیے مناسب الفاظ ہیں) یعنی ایک خلیہ کو لیباریٹری میں شیشے کی راڈ سے رگڑ دیا تاکہ رحم میں آسانی سے اسے رکھا جاسکے لیکن تین ہفتے بعد ڈاکٹر یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ محض اس رگڑنے کی وجہ سے تولیدی خلیے میں دو جنین پیدا ہو چکے ہیں۔ یوں ایک چار سالہ لڑکے کے روپ میں اپنے والدین اور جڑواں بھائی کے ساتھ جنوبی پیلجئیم میں زندگی گزار رہا ہے ۔ ” ہمارے خیال میں یہ صرف تو yکرو موسوم والا واحد خلیہ نہ تھا بلکہ یہ ایسا انسانی جنین کا بالکل ابتدائی مرحلہ تھا جو باروری(Fertilization) کے بعد تقسیم در تقسیم سے گزرتا ہوا ۳۲ خلیوں یا اس سے بھی کم ۱۶ خلیوں والا ابتدائی جنین (Early morulla stage) تھا جو رگڑنے سے دو حصوں میں الگ ہو گیا اور پھر ہر حصے سے ایک ایک (Identical twin = ہم شکل مثنی بھائی) پیدا ہو گئے۔ اس میں کوئی ایسی حیرانی یا حیرت کی بات بھی نہیں معلوم ہوتی کہ اسے عجیب واقعہ کہا جائے بلکہ اس سے زیادہ حیرت کی بات رحم میں اس جنین کو ٹرانسپلانٹ کرنے کے طریقے کو جس سادگی سے بتلایا گیا ہے وہ معلوم ہوتی ہے۔

اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ تولیدی مادے سے مراد صرف کسی مرد سے حاصل کیئے گئے (Sperms) یا نر خلیے ہی رحم میں داخل کیئے گئے جہاں پر دونوں کے مابین حسب معمول امشاج (Fusion) ہو کر زانکوٹ امشاجی خلیہ بنا جس میں تقسیم در تقسیم کا عمل (کلیویج) شروع ہو گیا تو ابتدائی درجہ کا یہ جنین شروع میں دوبارہ ہو گیا اور اس طرح دو دختر جنین وجود میں آئے جو بالآخر دو ہم شکل فنی برادرز یعنی Identical twins کی صورت میں پیدا ہوئے۔ جہاں تک راقم کے معمولی علم کا تعلق ہے تو ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی پیدائش میں ابتدائی جنین ہی کو ماں کے رحم میں منتقل کیا جاتا ہے (دونوں صورتوں میں حیرت اور تعجب کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔

ڈاکٹر ولمٹ کے پیش کردہ کارنامے میں کتنا سرمایہ خرچ ہوا؟ اس میں کتنا وقت لگا۔ شاید اس طریقہ کو آمیزہ صنعت بنا کر (یعنی Commercialize کرکے) جب پیش کیا جائے گا تو ان دشواریوں پر قابو پالیا جائے گا۔ فی الوقت تین مادہ بھیڑوں کے تعاون سے ایک ڈولی بھیر تیار ہوئی جبکہ عام طرح سے ایک بھیٹر ڈنر کے تعاون سے ) ۲،۱ اور تین بچے تک جن لیتی ہے۔ تصاویر کے ذریعہ پیر میشئیم اور Bryophyllum (پتھرچٹ) میں قدرتی کلوننگ ہوتی ہوئی دکھلائی گئی ہے۔ جو نچلے درجے کے حیوانات اور عام پودوں میں ہوتی رہتی ہے لیکن اعلیٰ درجات والے حیوانات (Higher animals) کے لیئے قدرت نے اس طریقہ کو مناسب نہ سمجھا۔ کیونکہ جنسی تولید کے ذریعہ حیات میں نوع واقع ہوتا ہے جو زندگی کے لیے ایک لازمہ ہے۔ انگریزی کا ایک مقولہ بھی ہے life اب ایک ایسا کارنامہ سر انجام دیا جانا چاہتے کہ نزر اور مادہ خلیوں کے مرکزوں کے تعاون کے بغیر صرف x کروموسوم والے خلیے یا صرف لا کروموسوم والے خلیے ہی سے نصف عددی (Haploid) نسل پیدا کر لی جائے۔ انسان کو اللہ نے اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے۔ کیا وہ یہ نہیں کر سکتا ۔ Polyploidy کے ذریعہ تو پودے وغیرہ بنا لیے گئے، کیا Haploidy کے ذریعہ ایسا ممکن نہیں؟ (Aphids) اور شہد مکھی کے کھو دست قدرت کے ذریعہ کب سے پیدا کیئے جا رہے ہیں۔ ایک “Nirally” بھیڑ اس طرح بھی !اگر چہ مندرجہ بالا بتلائے ہوئے طریقوں میں اخلاقی مذہبی اور سماجی اقدار کو کم ہی اعتراض ہو تا معلوم ہوتا ہے لیکن ایسی صورت میں کہ کلونگ سے پیدا شدہ افراد کے اعضاء مثلا گردے، مغز، قرنیہ اور دل وغیرہ کو اگر پیوند کاری کے ذریعہ کسی دوسرے سرمایہ دار کے سینے میں منتقل کیا گیا تو عطا کرنے والا کلون تو ” بیدل” اور بے مغز ہو جائے گا لیکن وہ حضرت بیدل کی طرح شاعری کر کے ایسے اشعار کہاں مرتب کر سکے گا حمد باری لکھ کے اور نعت رسول جو لکھے بیدل کرد دل سے قبول اور مثل مشہور ہے کہ کسی بہادری یا مشکل کام کو کرنے کے لیئے دل گردے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ بیچارہ تو شاعری بھی نہ کر پائے گا۔ اسی طرح اگر دماغ عطا کرنے والے کلون کے “بالا خانے ” میں اگر بھوسہ ہی بھر دیا جائے تو تصور کیجئے کہ کیا حشر برپا ہوگا۔ اس طرح ایک ایسی خاتون جو اپنے شوہر نامدار کے مادہ منویہ (Semen) میں نقص پائے جانے کے سبب بچوں کی محرومی سے تنگ آکر کسی دوسرے نا محرم کی کار آمد بافت سے خلیہ لے کر اپنے ہی بطن سے نرینہ اولاد پیدا کر ڈالے تو پھر اہل کتاب کے علما اور ہمارے مفتیان کرام بیچ اس مسئلہ کے کیا فرما ئیں گے؟ مندرجہ بالا سطور میں Tissue اور حمل کے دورانیہ (Gestation period) کے مسائل پر قابو پا جانے کی بات کی ہے جو ایک مفید پیش رفت ہو سکتی ہے اس طرح گائیوں اور بھینسوں اور ہتھنیوں کے رحم میں ایک سے زیادہ انسانی بافتوں کی بیک وقت پیوند کاری ممکن ہو سکے گی یعنی بیک وقت کئی کئی انسان ہتھنی کے بطن سے پیدا ہو سکیں گے۔ اس طرح ہتھنی کے بطن سے نصف درجن کے قریب بھیڑیں یا بکریاں بھی پیدا کرلی جائیں گی۔ بلکہ اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہوگی کہ ایک میں یونیورس یورپین مارکہ) کی کئی بافتوں کی افریقن ہتھنی کے رحم میں پیوند کاری کردی جائے تو اس نوع یعنی مس یونیورس کی کمیابی دور ہو جائے گی۔ایک اور سوال جو ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا انسان آئندہ اپنی نسل بڑھانے کے لیئے مرد اور عورت کی خدمات مخصوصہ سے بے نیاز ہو جائے گا۔ کیا دونوں اصناف لذت وصل سے محروم ہونا پسند فرمائیں گی؟ ایک تندرست بھو کا انسان صرف ڈرپ یا نالی کے ذریعہ پتلی یا مصنوعی غذا اپنے معدہ میں کب تک بھرتا رہے گا۔ کیا وہ اس طرح اپنی قدرتی اشتہا اور خوراک حاصل کرنے کی خواہش کو پورا کر سکے گا؟ بھوک کی خواہش کی تکمیل کے لیے کھانے کی خوشبو، انگلیوں کا لمس، کام و دہن کی لذت، پیٹ بھرنے کا احساس سوکھے ہوئے حلق میں ٹھنڈے پانی کی تراوٹ ، کھانوں کی نرم گرم حرارت یا ٹھنڈک کے احساس کے علاوہ برابر بیٹھنے والوں کی گفتگو کھانوں کی لذتوں پر خوشگوار تبصرے اور نہ معلوم کیا کیا دوسرے عوامل شامل ہیں۔ اسی طرح جنسی خواہش کی تکمیل اور تسکین بھی ایک نوجوان ادھیڑ عمر اور پیٹھ سالہ بوڑھے انسان کی جسمانی اور اعصابی صحت کے لیئے اہم ضرورت ہے۔ تقریبا ہر سماج اور مذہب نے انسان کی اس تسکین کی جائز طرح سے محفوظ ہونے کی اجازت دی ہے۔ چنانچہ شادی کرنا ایک اخلاقی اور سماجی ضرورت قرار دی گئی ہے اور مذہب اسلام نے ایک حدیث کے حوالے سے جس کا مفہوم کم و بیش یہ ہے کہ ”جو میری سنت نکاح کو مقدور ہونے کے باوجود پورا نہیں کرتا وہ ہم (یعنی مسلمانوں) میں سے نہیں۔ اسی طرح سورہ نور کی آیات نمبر ۳۱ اور ۳۲ میں بھی شادی کرنے پر زور دیا گیا کامیابی کی انتہائی قلیل مقدار ہے۔ پھر اس پر کتنا سرمایہ ہے چنانچہ ان دونوں حوالوں کو بنیاد بنا کر بعض فقہاء اور وقت لگا، سانتک معاملات میں ان چیزوں کو کم ہی نے شادی کرنے کو واجب تک قرار دے دیا ہے اور مارے شاعروں نے تو اس خواہش کی تکمیل یا عدم حمیل پر کیا کیا کچھ نہیں لکھ مارا مثلا مارے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال ہی کو لیجئے:اہمیت دی جاتی ہے۔ آئندہ کے تجربات اور ان میں موثر تبدیلیاں وقت اور خرچے میں ضرور کی پیدا (Semidifferentiated tissue) خلیوں کردیں کی ۔ مثال کے طور پر بھی نمرود کے یہ مستی سے بنی تھیلی شکل نمبر (1)3 ہی کو فریزنگ اور (Hibernation) کے مراحل سے گزار کر جو یقیناً . کیمیائی اور ہار مول آزمودہ طریقوں کی مدد سے کیا گیا ہوگا اگر اسی ابتدائی نبی تھیلی کو عرضی ماں کے رحم میں فقتل (Substitute mother) کر دیا جائے تو شاید تجربہ کو مختصر بنا لیا جائے۔ (یہ ایک عامیانہ کی رائے ہی ہے)۔ قدرتی طور سے کلونگ کب سے ہوتی رہی اگر چہ نچلے درجے کے یک خلوی اور (Acellular organisms) جسیموں پودوں وغیرہ ہی میں لیکن قدرت نے اعلیٰ درجوں کے ممالیہ وغیرہ میں اس طریقہ کو فائدہ مند نہیں گردانا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس طریقہ میں Variation یعنی جینیاتی تبدیلیوں کے قدرتی مواقع جو دو ازدواجی پیدائشی طریقہ کا لازمی حصہ ہیں اور جس کے ذریعہ زوجین کے کروموسومل مواد یعنی (ڈی این اے اور آر این اے) میں رد و بدل اور اختلاط ہوتا رہتا ہے اس کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔ دوسری بات جس کا ذکر اوپر بھی ہو چکا ہے یہ ہے کہ قدرت صرف نصف عددی تولیدی خلیه یعنی صرف x کروموسومل ماده خلیے (Ovum) کے ذریعہ شد لکھیوں میں لکھنو (Drones) اور ہر مکھیوں میں (Nymphs) پیدا کرتی رہی ہے کیا انسان بھی یہ کارنامہ (ممالیہ وغیرہ میں) کرکے اللہ تعالی کا خلقی کارنامہ دہرا سکتا ہے؟

کبھی میں ڈھونڈتا ہوں لذت وصل خوش آتا ہے کبھی سوز جدائی لذت وصل نہ صرف انسانوں کے نفیس احساسات اور جذبات کے ساتھ منسلک ہے بلکہ انسان سے کم عقل رکھنے والے جانوروں خاص طور سے پرندوں کو نجوں تازوں اور نسوں تک میں یہ جذبہ ان کی روح حیات کے ساتھ پیوست ہے اس لیئے اس ناقص کی رائے میں یہ طریقہ صرف جانوروں ہی کی حد تک بہت تھوڑے دائرے میں محدود رہے۔ انسان جانوروں کی بولی اور احساسات سے تقریبا ” نابلد ہے اور وہ ان کے ساتھ وہ تجربات کر ڈالتا ہے جنہیں وہ اپنے لیے روا نہیں سمجھتا سمجھتا ممکن ہے کہ انسانوں ہی میں سے کوئی حقوق حیوانات کا علم بردار پیدا ہو جائے اور وہ اس غیر فطری طریقہ پیدائش حیوانات کے خلاف قانون سازی کا بل پاس کرانے میں کامیابی حاصل کرلے۔ البتہ یہ بات بڑی خوش آئند معلوم ہوتی ہے کہ امریکہ اور یورپ کے بعض ممالک میں انسان میں اس طریقہ پیدائش (Cloning) پر پابندی لگا دی ہے۔ اس پوری بحث کا ماحصل یہ ہے کہ آئن ولعت صاحب کی کاوش یقینا غیر معمولی دلچسپی کا باعث ہی نہیں بنی بلکہ یہ ایک غیر معمولی پیش رفت بھی ہے لیکن اس کی آزمائش دوسری جگہوں پر بھی ہونی چاہئے کیونکہ ۲۷۷ تجربات میں سے ایک تجربہ ہی کامیاب بتلایا گیا ہے یعنی کامیابی صرف صفر اعشاریہ صفر صفر تین رہی جوسائل التجست و (Morulla) یا اسکے کسی حصہ کا تعلق ہے تو وہ کسی بھی دودھ پلانے والی مادہ (اسی نسل کی) کے رحم میں پیوند کاری کے ذریعہ تو کامیابی سے ہم کنار ہو سکا ہے اور اس قسم کی گائیں اور بکریاں پیدا بھی کی جاچکی ہیں۔ اس لیئے ڈاکٹر ولمٹ کے تجربے کو شک کی نظر سے دیکھنا کچھ غلط ہی ہو گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس سلسلے میں صرف ایک ہی بھیٹر کام میں نہیں لائی جاسکتی تھی یعنی ایک ہی حالمہ بھیٹر کے نبی غدود سے حاصل کردہ خلیہ کو اس بھیڑ کے رحم میں (ڈاکٹر ولیٹ والے طریقہ سے) پیوند کر دیا جاتا۔ ان دونوں طریقوں سے صرف مادہ بھیڑ ہی کا کلون حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن اگر تجربہ نسلا بعد نسل جاری رکھا جائے تو اس میں یہ خدشہ ضرور موجود رہے گا کہ اس کا جینیاتی مادہ (DNA وغیرہ) ضعف پیری (Senile decay) کے سب مزید کار آمد نہ رہے۔ اس لیے اسے دوبارہ تازگی بخشنے یا) (Rejuvinate کرنے کے لیے کسی نے بھیڑ کی موزوں بافت سے خلیہ لینا پڑے گا۔ اس بافت کے ہر خلیہ میں xy جنسی کروموسومز کی موجودگی کے سبب جو بھی کلون بنے گا وہ نر بھیڑوں ہی پر مشتمل ہو گا۔ کیا یہ چٹ) میں قدرتی کلوننگ ہوتی ہوئی دکھلائی گئی ہے۔ جو نچلے درجے کے حیوانات اور عام پودوں میں ہوتی رہتی ہے لیکن اعلیٰ درجات والے حیوانات (Higher animals) کے لیئے قدرت نے اس طریقہ کو مناسب نہ سمجھا۔ کیونکہ جنسی تولید کے ذریعہ حیات میں تنوع واقع ہوتا ہے جو زندگی کے لیے ایک لازمہ ہے۔ انگریزی کا ایک مقولہ بھی ہےVariety is the spice life اب ایک ایسا کارنامہ سر انجام دیا جانا چاہتے کہ نر اور مادہ خلیوں کے مرکزوں کے تعاون کے بغیر صرف x کروموسوم والے خلیے یا صرف لا کروموسوم والے خلیے ہی سے نصف عددی (Haploid) نسل پیدا کر لی جائے۔ انسان کو اللہ نے اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے۔ کیا وہ یہ نہیں کر سکتا ۔ (Polyploidy) کے ذریعہ تو پودے وغیرہ بنا لیے گئے، کیا (Haploidy) کے ذریعہ ایسا ممکن نہیں؟ (Aphids) اور شہد مکھی کے نکھٹودست قدرت کے ذریعہ کب سے پیدا کیئے جا رہے ہیں۔ ایک “Nirally” بھیڑ اس طرح بھی !

اگر چہ مندرجہ بالا بتلائے ہوئے طریقوں میں اخلاقی مذہبی اور سماجی اقدار کو کم ہی اعتراض ہو تا معلوم ہوتا ہے لیکن ایسی صورت میں کہ کلوننگ سے پیدا شدہ افراد کے اعضاء مثلا گردے، مغز، قرنیہ اور دل وغیرہ کو اگر پیوند کاری کے ذریعہ کسی دوسرے سرمایہ دار کے سینے میں منتقل کیا گیا تو عطا کرنے والا کلون تو ” بیدل” اور بے مغز ہو جائے گا لیکن وہ حضرت بیدل کی طرح شاعری کر کے ایسے اشعار کہاں مرتب کر سکے گا حمد باری لکھ کے اور نعت رسول جو لکھے بیدل کرو دل سے قبول اور مثل مشہور ہے کہ کسی بہادری یا مشکل کام کو کرنے کے لیئے دل گردے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ بیچارہ تو شاعری بھی نہ کر پائے گا۔ اسی طرح اگر دماغ عطا کرنے والے کلون کے “بالا خانے ” میں اگر بھوسہ ہی بھر دیا جائے تو تصور کیجئے کہ کیا حشر برپا ہوگا۔ اس طرح ایک ایسی خاتون جو اپنے شوہر نامدار کے مادہ منویہ (Semen) میں نقص پائے جانے کے سبب بچوں کی محرومی سے تنگ آکر کسی دوسرے نا محرم کی کار آمد بافت سے خلیہ لے کر اپنے ہی بطن سے نرینہ اولاد پیدا کر ڈالے تو پھر اہل کتاب کے علما اور ہمارے مفتیان کرام بیچ اس مسئلہ کے کیا فرما ئیں گے؟

مندرجہ بالا سطور میں (Rejection Tissue) اور حمل کے دورانیہ (Gestation period) کے مسائل پر قابو پا جانے کی بات کی ہے جو ایک مفید پیش رفت ہو سکتی ہے اس طرح گائیوں اور بھینسوں اور ہتھنیوں کے رحم میں ایک سے زیادہ انسانی بافتوں کی بیک وقت پیوند کاری ممکن ہو سکے گی یعنی بیک وقت کئی کئی انسان ہتھنی کے بطن سے پیدا ہو سکیں گے۔ اس طرح ہتھنی کے بطن سے نصف درجن کے قریب بھیڑیں یا بکریاں بھی پیدا کرلی جائیں گی۔ بلکہ اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہوگی کہ ایک مس یونیورس یورپین مارکہ) کی کئی بافتوں کی افریقن ہتھنی کے رحم میں پیوند کاری کردی جائے تو اس نوع یعنی مس یونیورس کی کمیابی دور ہو جائے گی۔

ایک اور سوال جو ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا انسان آئندہ اپنی نسل بڑھانے کے لیئے مرد اور عورت کی خدمات مخصوصہ سے بے نیاز ہو جائے گا۔ کیا دونوں اصناف لذت وصل سے محروم ہونا پسند فرمائیں گی؟ ایک تندرست بھو کا انسان صرف ڈرپ یا نالی کے ذریعہ پتلی یا مصنوعی غذا اپنے معدہ میں کب تک بھرتا رہے گا۔ کیا وہ اس طرح اپنی قدرتی اشتہا اور خوراک حاصل کرنے کی خواہش کو پورا کر سکے گا؟ بھوک کی خواہش کی تکمیل کے لیے کھانے کی خوشبو، انگلیوں کا لمس، کام و دہن کی لذت، پیٹ بھرنے کا احساس سوکھے ہوئے حلق میں ٹھنڈے پانی کی تراوٹ ، کھانوں کی نرم گرم حرارت یا ٹھنڈک کے احساس کے علاوہ برابر بیٹھنے والوں کی گفتگو کھانوں کی لذتوں پر خوشگوار تبصرے اور نہ معلوم کیا کیا دوسرے عوامل شامل ہیں۔ اسی طرح جنسی خواہش کی تکمیل اور تسکین بھی ایک نوجوان ادھیڑ عمر اور پیٹھ سالہ بوڑھے انسان کی جسمانی اور اعصابی صحت کے لیئے اہم ضرورت ہے۔ تقریبا ہر سماج اور مذہب نے انسان کی اس تسکین کی جائز طرح سے محفوظ ہونے کی اجازت دی ہے۔ چنانچہ شادی کرنا ایک اخلاقی اور سماجی ضرورت قرار دی گئی ہے اور مذہب اسلام نے ایک حدیث کے حوالے سے جس کا مفہوم کم و بیش یہ ہے کہ ”جو میری سنت نکاح کو مقدور ہونے کے باوجود پورا نہیں کرتا وہ ہم (یعنی مسلمانوں) میں سے نہیں۔ اسی طرح سورہ نور کی آیات نمبر ۳۱ اور ۳۲ میں بھی شادی کرنے پر زور دیا گیا کامیابی کی انتہائی قلیل مقدار ہے۔ پھر اس پر کتنا سرمایہ ہے چنانچہ ان دونوں حوالوں کو بنیاد بنا کر بعض فقہاء نے شادی کرنے واجب کرار دے دیا ہے اور ہمارے شعروں نے ان خواہش کی تکمیل یا عدم تکمیل پر کیا کیا کچھ نہیں لکھ مثلا ہمارے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کو لیجئے :

کبھی میں ڈھونڈتا ہوں لذت وصل
خوش آتا ہے کبھی سوز جدائی

لذت وصل نہ صرف انسانوں کے نفیس احساسات اور جذبات کے ساتھ منسلک ہے بلکہ انسان سے کم عقل رکھنے والے جانوروں خاص طور سے پرندوں کو نجوں قازوں اور نسوں تک میں یہ جذبہ ان کی روح حیات کے ساتھ پیوست ہے اس لیئے اس ناقص کی رائے میں یہ طریقہ صرف جانوروں ہی کی حد تک بہت تھوڑے دائرے میں محدود رہے۔ انسان جانوروں کی بولی اور احساسات سے تقریبا ” نابلد ہے اور وہ ان کے ساتھ وہ تجربات کر ڈالتا ہے جنہیں وہ اپنے لیے روا نہیں سمجھتا ممکن ہے کہ انسانوں ہی میں سے کوئی حقوق حیوانات کا علم بردار پیدا ہو جائے اور وہ اس غیر فطری طریقہ پیدائش حیوانات کے خلاف قانون سازی کا بل پاس کرانے میں کامیابی حاصل کرلے۔ البتہ یہ بات بڑی خوش آئند معلوم ہوتی ہے کہ امریکہ اور یورپ کے بعض ممالک میں انسان میں اس طریقہ پیدائش (Cloning) پر پابندی لگا دی ہے۔ اس پوری بحث کا ماحصل یہ ہے کہ آئن ولعت صاحب کی کاوش یقینا غیر معمولی دلچسپی کا باعث ہی نہیں بنی بلکہ یہ ایک غیر معمولی پیش رفت بھی ہے لیکن اس کی آزمائش دوسری جگہوں پر بھی ہونی چاہئے کیونکہ ۲۷۷ تجربات میں سے ایک تجربہ ہی کامیاب بتلایا گیا ہے یعنی کامیابی صرف صفر اعشاریہ صفر صفر تین رہی جو کامیابی کی انتہائی قلیل مقدار ہے۔ پھر اس پر کتنا سرمایہ اور وقت لگا سائنٹفک معاملات میں ان چیزوں کو کم ہی اہمیت دی جاتی ہے۔ آئندہ کے تجربات اور ان میں مو ثر تبدیلیاں وقت اور خرچے میں ضرور کی پیدا کردیں گی۔ مثال کے طور پر نبی غدود کے نیم مشخص (Semidifferentiated tissue) خلیوں سے بنی تھیلی شکل نمبر (1) ہی کو فریزنگ اور (Hibernation) کے مراحل سے گزار کر جو یقینا کیمیائی اور ہار موغل آزمودہ طریقوں کی مدد سے کیا گیا ہوگا اگر اسی ابتدائی نبی تھیلی کو عوضی ماں کے رحم میں حقل Substitute mother کر دیا جائے تو شاید تجربہ کو مختصر بنا لیا جائے۔ (یہ ایک عامیانہ کی رائے ہی ہے)۔ قدرتی طور سے کلوننگ کب سے ہوتی رہی اگرچہ نچلے درجے کے یک خلوی اور Acellular organisms جسممول پودوں وغیرہ ہی میں لیکن قدرت نے اعلیٰ درجوں کے ممالیہ وغیرہ میں اس طریقہ کو فائدہ مند نہیں گردانا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس طریقہ میں (Variation) یعنی جینیاتی تبدیلیوں کے قدرتی مواقع جو دو ازدواجی پیدائشی طریقہ کا لازمی حصہ ہیں اور جس کے ذریعہ زوجین کے کروموسومل مواد یعنی (ڈی این اے اور آر این اے) میں رد و بدل اور اختلاط ہوتا رہتا ہے اس کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔ دوسری بات جس کا ذکر اوپر بھی ہو چکا ہے یہ ہے کہ قدرت صرف نصف عددی تولیدی خلیہ یعنی صرف x کروموسومل ما خلیے (Ovum) کے ذریعہ شہد مکھیوں میں نکھٹو (Drones) اور سبز مکھیوں میں Nymphs) (پیدا کرتی رہی ہے کیا انسان بھی یہ کارنامہ (ممالیہ وغیرہ میں) کر کے اللہ تعالی کا تخلیقی کارنامہ دہرا سکتا ہے؟

میکپ اور سنگھارکی کیمیا



پر کشش جاذب نظر شخصیت ہونا حضرت انسان کی فطری کمزوری ہے اور اس میں مردو عورت کی کوئی تخصیص نہیں۔ چنانچہ اس کمزوری سے فائدو اٹھا کر صاحب نظر اور زیرک صنعت کاروں نے کا سمیٹکس اور سنگھاری مصنوعات کو جدید تہذیب کا ایک لازمی حصہ بنا دیا ہے اور یہ صنعت ساری دنیا میں بڑی تیزی سے ترقی کرتی جارہی ہے۔ میک اپ اور سنگھار کے ان ہی ساحرانہ اثرات کے پیشن نظر ۱۷۷۰ میں بر طانوی پارلیمنٹ میں : ایک بل پیش کیا گیا تھا جس کی رو سےہر عمر اور طبقہ کی عورتوں پر چاہے وہ کنواری ہوں طلاق شده و یاریا بیوہ پہ پابندی لگادی گئی تھی کہ اگر انہوں نے کسی مرد کو خوشبو کا سمیٹکس مصنوعی دانتوں بالوں یا اونچی ایڑھی کےجوتوں کی مدد سے شادی کے لئے راغب کرنے کی کو شش کی تو وہ شادی باطل سمجھی جائے گی۔

ہر مرد اور عورت کے دل میں حسین اور خوبصورت ہونے اور دوسروں کو ایسا نظر آنے کی خواہش ہلکے ہلکے چٹکیاں لیتی رہتی ہے۔ بلوغ کے قریب قدرت بھی ہمارے حسن کو دوبالا کرتی ہے۔ خود نمائی ایک ایسا جذبہ ہے جو بچپن سے ہم میں موجود ہوتا ہے اور عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتا ہے۔ خوبصورت اور حسین نظر آنے کا احساس صنف نازک میں مرد حضرات کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے لیکن اس خواہش سے مرد بھی عاری نہیں ہوتے۔ خواتین تو حسین نظر آنے کے لئے بڑے بڑے جتن کرتی ہیں اور پاپڑ بیلتی ہیں اور اس سلسلے میں جتنی محنت کرتی ہیں ایسی کوشش اگر دوسری مشکلات کے حل کرنے میں صرف کریں تو بڑی بڑی مہمات سر کرلیں۔

عورت کو قدرت نے حسن سے مالا مال کیا ہو یا نہ کیا ہو مگر وہ اپنے حسن کو بڑھانے کے لئے ہر حربہ وہتھیار استعمال کرتی ہے۔ اور ان ہتھیاروں میں لباس کے بعد سرفہرست حسن افروز سنگھار کی اشیاء سنگھار کا سامان ہیں جن کا استعمال عورتیں اپنے حسن کو بڑھانے میں ہزار ہا سال سے کر رہی ہیں لیکن مرد بھی ان سے کچھ زیادہ پیچھے نہیں ہیں اور تاریخ کے ہر دور میں مرد بھی حسن افروز اشیاء کا استعمال تھوڑا بہت ضرور کرتے نظر آتے ہیں۔

انسان نے حسن افروز اشیاء کا استعمال قبل از تاریخ شاید ہزار ہا سال پہلے اس وقت شروع کر دیا تھا جب کہ وہ لباس کی جگہ پتے باندھتا تھا۔ اس وقت سے ہی وہ رنگ برنگی قدرتی مٹیوں یا سفوف کا استعمال جسم پر سندور کی طرح مل کر اور چہرہ پر غازہ کی طرح لگا کر کرتا تھا کہ مقابلہ حسن میں ایک دوسرے سے بڑھتا ہوا ہو۔ اس کا ثبوت آج تک دنیا کے مختلف حصوں میں غیر ترقی یافتہ قبائل کی رسومات ہیں جو مختلف طریقوں سے اپنے جسم کی زیبائش و سنگھار کرتے ہیں۔ آج بھی امریکہ اور کینیڈا کے قدیمی باشندے (ریڈ انڈین ) برازیل میں دریائے ایمیزان کے قدیمی قبائل آسٹریلیا کے قدیمی باشندے (Aboriginals (گئی ،آسام و ہنددوستان کے قدیمی قبائل اپنے اجسام پر اورچہرہ پر مختلف رنگ و روغن سرخ یا پیلا گیرو(Ochre مل کر افزائش حسن کرتے ہیں۔ یہاں یہ بتانا خالی از دلچسپی نہیں ہو گا کہ انسان نہ صرف جسم پر مختلف رنگ و روغن مل کر افزائش حسن کرتا ہے بلکہ کھال کو گود کر (Tattoo) کر کے مختلف نقش و نگار بناتا ہے اگرچہ یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ جیسے تہذیب یافتہ ملک میں بھی ایسے لوگ ملتے ہیں جو بازؤں اور جسم کے دیگر حصوں پر بڑے بڑے ٹیٹو (Tattoo) بنواتے ہیں۔ کچھ قدیمی قبائل میں تو پورے چہرے یا جسم پر یا جسم کے بڑے حصہ کو گدوا کر خوبصورت نقش و نگار بنوانے کا رواج تھا۔ نیوزی لینڈ کے اندر بسنے والے ماوری (Maori) مرد ایک زمانہ میں فیشن میں پورے چہرہ کو گدوا کر خوبصورت نقش و نگار بنواتے تھے۔ اگرچہ اب یہ رواج ان لوگوں میں کم ہو گیا ہے لیکن اب بھی ماوری مرد اور عورتیں چہرہ پر ایک یا دو نقش ضرور گدوا تے ہیں۔

مختلف اقسام کی حسن افروز اشیاء کے آمیزہ کا استعمال زیادہ تر کھال کو صاف کرنے کھال کے داغ دھبوں کو دور کرنے یا چھپانے یا زیادہ خوبصورت بنانے کے لئے ہوتا ہے۔ تاریخ میں ایسی اشیاء کا استعمال سب سے پہلے مصری تہذیب میں ملتا ہے۔ ان اشیاء کے استعمال کا سراغ پہلی فراعنہ کی سلطنت تک میں (جو ساڑھے تین ہزار سے پانچ ہزار سال قبل مسیح میں گزری ہے) ملتا ہے۔ فراعنہ مصر کے مقابر جو ساڑھے تیرہ سو سے سولہ سو سال قبل مسیح کے دور کے ہیں، ان میں حسین افروز اشیاء رکھنے کے برتن جو سنگ سفید سنگ مرمر او ر سنگ سفید(Onyx) کے بنے ہوئے ہیں دریافت ہوئے ہیں۔ فراعنہ مصر کے دور کی خواتین اپنے حسن کو مختلف رنگوں کے استعمال سے بڑھاتی تھیں اور اس فن کو ملکہ قلوپطرہ نے انتہا تک پہنچا دیا جس نے اپنی خوبصورتی کاسمیٹکس (Cosmetics) اور خوشبویات (Perfumes) کے استعمال سے دو چند کی۔ اس دور کی عورتوں نے آنکھوں کے حسن بڑھانے پر بہت توجہ دی۔

مصری عورتوں کی آنکھیں ویسے بھی خوبصورت ہوتی ہیں اور مصر میں عرب عورتوں کے مقابلے میں قبطی عورتوں کی آنکھیں زیادہ بڑی اور خوبصورت ہوتی ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال پہلے فراعنہ مصر جو قبطی تھے ان کے زمانہ سے بھی عورتوں نے آنکھوں کے حسن کوبڑھانے کے لئے خصوصی توجہ دی ہے۔ آنکھوں آنکھوں کی پلکوں اور بھوؤں کو سرمہ کے ذریعے گری سیاہی دی جاتی ہے اور یہ سرمہ ہاتھی دانت یا لکڑی کی سلائی سے لگایا جاتا تھا۔ آئینہ کا استعمال فراعنہ مصر کی چھٹی سلطنت میں جو پندرہ سو سال قبل مسیح کے دور میں تھی سب سے پہلے پایا گیا اور اس دور کے بعد فراعنہ مصر کے دیگر ادوار میں عورتوں میں آئینہ کنگھی کے استعمال اور مہندی سے ہاتھوں اور پاؤں کو رنگنے کا رواج بھی ملتا ہے۔ اس طرح سے آج کحل جو ہند و پاکستان میں لڑکیاں مہندی انگلیوں، ہتھیلیوں اور پاؤں پر لگاتی ہیں اور مندی سے طرح طرح کے نقش و نگار بناتی ہیں یہ رواج کم از کم تین ہزار سال پرانا ہے۔

یہودی عورتوں میں بھی ہزاروں سال سے چہرہ پر حسن افروز اشیاء اور آنکھوں میں کحل (Kohl) یا سرمہ لگانے کا رواج ہے اور اس کا ذکر بائیل یا توریت (Old Testament) میں ملتا ہے۔ سرمہ اور خصاب کا استعمال عربوں میں بھی زمانہ قدیم سے ہے۔ رومی لوگوں میں کاسمیٹکس کے استعمال کا دو ہزار سال سے پتہ چلتا ہے۔ نیرو (Nero) ۵۴ ء مسیح میں روم کا حاکم ہوا۔ نیرو اور اس کی بیگم پاپی(Poppaea) حسن افروز اشیا کا بے دریغ استعمال کرتے تھے۔ یہ لوگ کھال سفید کرنے کے لئے چاک اور سفید سمیہ (White Lead) استعمال کرتے تھے۔ آنکھوں کو سیاہ کرنے کے لیے کھل یا سرمہ استعمال کیا جاتا تھا اور گالوں اور ہونٹوں پر لگانے کے لئے سرخی کا استعمال کیا جاتا تھا۔ کھال پر داغ دھبوں اور مہاسوں کو دور کرنے کے لئے جو کا آٹا اور لکھن کا آمیزه استعمال کیا جاتا تھا۔ رومن دربار کی حسینائیں اس دور میں بھی اپنے بالوں کا رنگ ہلکا کرنے کے لئے (Bleaching Of Hair) مختلف قسم کے صابن استعمال کرتی تھیں رومن لوگوں کی طرح برطانیہ کے انگریز بھی کاسمیٹکس کا استعمال کافی عرصے سے کر رہے ہیں۔ خوبصورتی بڑھانے کے لئے دودھ میں نہانے کا بھی رواج ہے اور اسکاٹ لینڈ کی ملکہ میری (Mary) کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنی کھال ترو تازہ رکھنے اور خوبصورت رکھنے کے لئے شراب سے بھرے حوض میں نہاتی تھی۔ شراب سے چہرہ کو دھونے کا تو عام رواج تھا تاکہ چہرہ ترو تازہ رہے۔ حسن افروز اشیاء کا استعمال صرف برطانیہ ہی میں نہیں بلکہ یورپ کے دیگر ملکوں میں بھی عام تھا۔ نپولین کی ملکہ جوزفین (Josephine) حسین رہنے کے لئے کاسمیٹکس اور پر فیوم کا بے تحاشہ استعمال کرتی تھی۔

سترھویں صدی تک برطانیہ میں حسن افروز اشیاء کا استعمال اتنا بڑھ گیا کہ ۱۷۷۰ء میں برطانیہ کی پارلیمینٹ میں ایک بل پیش کیا گیا جس میں ہر عمر طبقہ اور ہر قسم کی عورتوں پر چاہے وہ باکرہ ہوں، طلاق شدہ ہوں یا بیوہ یہ پابندی لگا دی گئی کہ وہ کسی مرد کو خوشبو، کاسمیٹکس اور مصنوعی دانتوں یا بالوں، اونچی ایڑھی کے جوتوں وغیرہ سے شادی کے لئے آمادہ نہیں کریں گی اور ان حربوں سے اگر یہ ثابت ہو گیا کہ شادی کی گئی ہے تو پھر یہ شادی باطل سمجھی جائے گی یعنی بناؤ سنگھار اور مصنوعی بالوں اور حسن افروز اشیاء کے استعمال سے کسی عورت کو مرد کو شادی کے لئے راغب کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔ زمانہ قدیم سے ہندوستان میں بھی کاسمیٹکس کا رواج ہے اور مغل بادشاہوں کے دور میں حسن افروز اشیا کا استعمال عام تھا۔ جہانگیر کی ملکہ نور جہاں کاسمیٹکس اور پرفیوم کا استعمال کرتی تھی اور مشہور ہے کہ گلاب کا عطر بھی ہندوستان میں ملکہ نور جہاں نے ہی ایجاد کیا تھا۔غرض بناؤ سنگھار کی اشیاء کا استعمال انسان میں زمانہ قدیم سے رائج ہے اور اب تو ان اشیاء کا استعمال اتنا بڑھ گیا ہے کہ ہر ملک اور معاشرہ میں یہ اشیاء کروڑوں و اربوں روپے کی استعمال ہوتی ہیں اور دنیا کی تجارت میں کاسمیٹکس کی تجارت بھی ایک منفعت بخش کاروبار ہے۔

پاکستان میں بھی ہم کروڑوں روپے کی حسن افروز اشیاء استعمال کرتے ہیں اور ملک کا اچھا خاصہ زر مبادلہ ان اشیاء کی درآمد یا یہاں بنائی ہوئی کاسمیٹکس کے خام اجزاء کی درآمد پر خرچ ہوتا ہے۔ کاسمیٹکس ایسے تو سینکڑوں قسم کے ہیں لیکن ان بہت سی اشیاء کی ہم چند خاص قسم کی کاسمیٹکس میں درجہ بندی کر سکتے ہیں جن میں مختلف قسم کے پاؤڈر کریم، غسل کے وقت پانی میں ڈال کر استعمال کرنے والے نمکیات (Bath Salts) بدبو دور کرنے اور بال صاف کرنے والی کریم، آنکھوں کو خوبصورت بنانے کے لئے) (Eye Shadows اور بھنویں بنانے کے لئے سلائیاں (Eye Brow Sticks))، لپ اسٹک(Lip Sticks)، مسکارا (Mascara) ناخنوں کی دیکھ بھال کے لئے اشیاء اور بالوں کی دیکھ بال کے لئے تیل، رنگنے کے لئے اشیاء (Hair Dyes) بالوں کو گھنگریالے بنانے کے لئے تضبیطات (Hair Curling Formulations) شیمپو ہیرٹانک (Hair Tonic) شامل ہیں مردوں کے استعمال میں شیونگ صابن (Shaving Soap) شیو بنانے کے بعد چہرے پر لگانے کے لئے لوشن کریم وغیرہ آتے) (After Shave Lotionsہیں۔ افزائش حسن کے لئے زیادہ تر اشیاء کا استعمال چہرہ ہاتھوں اور جسم کے دیگر حصوں کی کھال پر اور بالوں پر ہوتا ہے۔ اس لئے ان اشیاء کی افادیت اور حقیقت جاننے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ کھال اور بالوں کی ہیئت کو سمجھا جائے۔ انسانی جلد قدرت کی طرف سے حضرت انسان کو ملنے والا ایک حیرت انگیز تحفہ ہے۔ جلد انسان کے بڑے عضویات (Organs) میں سے ایک عضو ہے۔ ایک ساڑھے پانچ فٹ قد کے ستر کلو گرام وزنی انسان کی کھال کا رقبہ سولہ ہزار مربع سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا حجم دو ہزار چار سو ملی میٹر اور وزن تین کلو گرام ہوتا ہے۔ ہمارے جسم کا اپنے گرد ماحول سے تعلق کھال ہی کے ذریعہ ہوتا ہے۔ یعنی ہمارے جسم کی کیمیائی اور فعلیاتی (Physiological) کائنات کو گردو پیش کی کائنات سے کھال ہی جدا کرتی ہے۔ کھال کے مختلف افعال میں سے تین افعال خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

کھال پر پسینہ کے اخراج سے جسم کا درجہ حرارت بڑھنے نہیں پاتا۔ پسینہ کی جلدسےجسم ٹھنڈا رہتا ہے (Evaporation)پر تبخیر ورنہ اس تبخیر کے رکھنے سے جسم گرم ہو جائے گا اور انسان بہت بے چینی محسوس کرے گا۔ کھال گردوں کے فعل کی بھی معاونت کرتی ہے اس لئے کہ جسم سے پسینہ کے ساتھ ایسے کیمیائی مرکبات جیسے یوریا (Urea) وغیرہ کا بھی اخراج ہوتا ہے جو کہ پیشاب میں بھی پائے جاتے ہیں اس طرح کھال گردوں کی طرح ان غیر ضروری کیمیائی مرکبات کا اخراج کرکے جسم کی صفائی کرتی ہے۔ ان دو اہم افعال کے علاوہ(Bacteriostatic) کھال پر مختلف جراثیم کش اور پھپھوند کش(Fungistatic) شحی ترشی (Fatty Acids) اور کیمیائی مرکبات پائے جاتے ہیں جن سے ہماری جلد مختلف بیماریوں سے ہمارے جسم کا دفاع کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کھال پر موجود کچھ کیمیائی مرکبات جذباتی ترسیل اور کیمیائی پیغام رسانی کے ذریعے کے اہم (Chemical Communication) کام بھی انجام دیتے ہیں۔ انسانی کھال میں تین تہیں ہوتی ہیں۔ سب سے اوپر کی تہ ابھی ڈرمس (Epidermis) کہلاتی ہے۔ اس میں خون کی شریانیں نہیں ہوتیں اور یہ نیچے کی تہ ڈرمس (Dermis) کے ذریعہ غذا عمل نفوز (Diffusion) کے ذریعہ سے حاصل کرتی ہے۔ درمیانہ تبہ (ڈرمس) کے نیچے ایک تیسری تہ ہوتی ہے جس میں چربی کے خلیات ہوتے ہیں یا چربی کی تہہ ہوتی ہے اور یہ جسم کی نچلے حصوں کی حفاظت کرتی ہے۔ اور نسوں اور خون کی شریانوں کی حفاظت کرتی ہے۔ یہ حرارت کی خراب ترسیل (Bad Conduction) کرتی ہے۔ اس لئے جسم کو حرارت کے اخراج سے بچاتی ہے۔

جلد کی اوپری تہہ (Epidermis) ایک سے تین ملی میٹر تک موٹی ہوتی ہے لیکن ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلوؤں میں اس کی موٹائی کہیں زیادہ ہوتی ہے لیکن چہرہ کی کھال کم موٹی ہوتی ہے۔ اس اوپری تہہ میں بھی بہت سی تھیں (Layers) ہوتی ہیں اندورونی تہیں زندہ ہوتی ہیں لیکن باہر کی کھردری تہہ(Horny) یا (Stratum Corneum) مردہ ہوتی ہے۔ یہ سخت اور مضبوط مدافعت کرنے والی تہہ ایک ریشہ دار پروٹین (Keratin) سے بنی ہوئی ہوتی ہے۔ اس اوپری تہہ کی سب سے اندورونی تمہ میں نئے خلیات بنتے ہیں جیسے جیسے ان خلیات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے ویسے ویسے یہ خلیات نچلی تہوں سے ہوتے ہوئے اوپر کی طرف آتے ہیں اور ان میں کیراٹن کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے اور کھال کی سطح پر آتے آتے یہ مردہ ہو جاتے ہیں اور کھال سے چھوٹے چھوٹے چٹپے ٹکڑوں (Flakes) کی شکل میں الگ ہو جاتے ہیں۔ یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور اس طریقہ سے ایک آدمی کے جسم سے ایک دن میں تقریبا ایک گرام وزن کے یہ خلیات الگ ہو جاتے ہیں۔ کھال کی اوپری تہہ پر یہ مردہ خلیات اسکویم (Squames) بھی کہلائے جاتے ہیں اور اپنے اندر پانی، چربی اور دیگر مائعات کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے کھال کے اوپر بہت سے مادے نکلنے کے بعد کھال پر پھیل جاتے ہیں۔ یہی جلد کے وہ خلیات ہیں جو ہم نہاتے یا پسینہ آتے وقت جسم کو مل کر میل کی شکل میں الگ کرتے ہیں۔ ایک خلیہ کو نیچے کی تہہ سے کھال کے اوپر آتے آتے دو سے چار ہفتہ تک لگ جاتے ہیں۔ یعنی نیچے کی تہہ میں بنے والے خلیات دو سے چار ہفتوں میں اوپر آکر مردہ ہو کر الگ ہو جاتے ہیں اور اس سارے عمل سے ان جلد کی اوپری تہہ (Epidermis) ایک سے تین ملی میٹر تک موٹی ہوتی ہے لیکن ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلوؤں میں اس کی موٹائی کہیں زیادہ ہوتی ہے لیکن چہرہ کی کھال کم موٹی ہوتی ہے۔ اس اوپری تہ میں بھی بہت سی لہریں (Layers) ہوتی ہیں اندورونی تہیں زندہ ہوتی ہیں لیکن باہر کی کھردری (Stratum Corneum) (Horny) مردہ ہوتی ہے۔ یہ سخت اور مضبوط مدافعت کرنے والی تہہ ایک ریشہ دار پروٹین (Keratin) سے بنی ہوئی ہوتی ہے۔ اس اوپری تہہ کی سب سے اندورونی تہہ میں نئے خلیات بنتے ہیں جیسے جیسے ان خلیات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے ویسے ویسے یہ خلیات نچلی تہوں سے ہوتے ہوئے اوپر کی طرف آتے ہیں اور ان میں کیراٹن کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے اور کھال کی سطح پر آتے آتے یہ مردہ ہو جاتے ہیں اور کھال سے چھوٹے چھوٹے چٹپے ٹکڑوں (Flakes) کی شکل میں الگ ہو جاتے ہیں۔ یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور اس طریقہ سے ایک آدمی کے جسم سے ایک دن میں تقریباایک گرام وزن کے یہ خلیات الگ ہو جاتے ہیں۔ کھال کی اوپری تہہ پر یہ مردہ خلیات اسکویم (Squames) بھی کہلائے جاتے ہیں اور اپنے اندر پانی، چربی اور دیگر مائعات کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے کھال کے اوپر بہت سے مادے نکلنے کے بعد کھال پر پھیل جاتے ہیں۔ یہی جلد کے وہ خلیات ہیں جو ہم نہاتے یا پسینہ آتے وقت جسم کو مل کر میل کی شکل میں الگ کرتے ہیں۔ ایک خلیہ کو نیچے کی تہہ سے کھال کے اوپر آتے آتے دو سے چار ہفتہ تک لگ جاتے ہیں۔ یعنی نیچے کی تہہ میں بنے والے خلیات دو سے چار ہفتوں میں اوپر آکر مردہ ہو کر الگ ہو جاتے ہیں اور اس سارے عمل سے ان تم اپنا حلیہ بدل لود دیکھو بالکل فلمی ہیروئن کی طرح بال چھونے اور ناخن لیے ہیں۔ خلیات کے ساتھ ساتھ خلیات کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والے لحمیات (Lipids) بھی جسم کی سطح پر پھیل کر جسم کو چکنا کرتے ہیں۔ مختلف اعضاء میں و مثامنز (Vitamins) کی کمی کا اظہار بھی کھال کی اوپری تہہ پر ہوتا ہے۔ اوپری جلد کے نیچے زیریں جلد (Dermis) کی تہہ ہوتی ہے۔ جو ریشہ دار نسوں (fibrous Tissues) سے بنی ہوئی ہوتی ہے اور اس میں لچکدار نسوں کی لڑیاں (Strands) بھی ہوتی ہیں۔ اس تہہ میں خون کی نالیاں، اعصاب لمف (جسیمات (Corpuscles) اور بالوں کی تھیلیاں (Hair Follicles) بھی ہوتی ہیں۔ اس تمہ میں پائے جانے والے دو پروٹین زیریں نسوں کی حفاظت کے لئے ضروری ہوتے ہیں جب کہ ایک تیسرا پائے جانے والا پروٹین کولیجین (Collagen) زخموں کو بھرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔

کھال کی زیریں تہہ آسانی سے دو تہوں پیپلری (Papillary) اور ریٹی کیولر (Reticular) تہوں میں تقسیم کی جاسکتی ہے۔ پیپلری تہہ میں اعصاب (Nerves) کے اختتامی سرے(Terminal Endings) اورچھونے کے اعصاب ہوتے ہیں اور ان کی سب سے زیادہ تعداد انگلی کے سروں، انگوٹھوں، پستانی گھنڈیوں (Nipples) اور اعضائے تناسل میں پائی جاتی ہے جہاں احساس لمس سب سے شدید ہوتا ہے۔ یہ تہہ غیر محسوس طریقہ سے نچلی ریٹی کیولر تہہ میں مل جاتی ہے جس میں عصبیات نسیات (Vessels) بالوں کی تھیلیاں اور ریشہ دار نسوں کے کچھے ہوتے ہیں۔ جلد چار بنیادی احساسات کا ادراک کرتی ہے۔ یہ احساسات لمس یا چھونا ٹھنڈک گرمی اور درد ہیں۔ باقی احساسات جیسے ہموار یا چکنا پن، کھجلی گدگدی و غیرہ ایک یا بنیادی احساسات کے ایک ساتھ اعصابی نظام پر ملنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ جلد کا رنگ پانچ رنگین مرکبات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان رنگوں میں میلانن (Melanin) سب سے اہم ہے اور کھال کی نچلی تہہ میں بھورے رنگ کے ذرات میں پایا جاتا ہے۔ یہ مرکب انسانی کھال کو بالا بنفشی شعاعوں الٹرا وائلٹ ریز (Ultra Violet Rays) کے اثرات سے بچاتا ہے اور ایسی شعاعوں کے جلد پر پڑنے سے یہ جلد میں زیادہ مقدار میں بننے لگتا ہے۔ گرم ممالک میں لوگ سورج کی شعاعوں کے زیر اثر زیادہ رہتے ہیں۔ اس لئے ان شعاعوں سے بچنے کے لئے ان کی جلد میں میلانن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور وہ سانولے یا کالے رنگ کے ہوتے ہیں۔ حبشیوں کی سیاہ رنگت بھی میلانن کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن سیاہ ترین حبشی کی پوری کھال میں بھی اس کیمیائی مرکب کی مقدار دو گرام سے زیادہ نہیں ہوتی۔ جسم کے مختلف حصوں میں میلانن کی مختلف مقدار پائی جاتی ہے مثلاً یہ مرکب جسم پر اوسط مقدار سے زیادہ چہرہ پیشانیاعضائے تناسل کے اطراف، سرپستان (Areoles) اور پستانی گھنڈیوں پر پایا جاتا ہے۔ یعنی یہ حصے عام جلد کے مقابلے میں زیادہ گہرے رنگ کے ہوتے ہیں۔ میلان بنانے والے خلیات (Melanocytes) کھال میں کبھی غدود (Sebaceous Glands) کے ساتھ آنکھوں کی پلکوں، بھنوؤں (Eye Brows) اور بالغ خواتین کی پستانی گھنڈیوں پر پائے جاتے (Adult Female Nipples) ہیں۔ میلان کی مقدار کچھ بیماریوں میں اور حمل کے دوران بھی جسم کے کچھ حصوں میں بڑھ جاتی ہے۔ جس سے ان حصوں کا رنگ عام جلد کے مقابلے میں گھرا ہو جاتا ہے سرد ممالک میں گرمیوں کے موسم میں خواتین ساحل سمندر پر سورج کی شعاعوں سے غسل کرتی ہیں تاکہ ان کی رنگت بھی سانولی یا رنگ دار (Tanned) ہو جائے اور اس رنگت سے ان کا حسن گرمیوں میں دو بالا ہو سکے۔ ان گوری خواتین کی خواہش تو یہ ہوتی ہے کہ گرمیوں میں سارے دن ساحل سمندر پر لیٹ کر سورج کی کوئی شعاع ضائع نہ کریں تاکہ ان کا رنگ بھی ہم جیسا سانولا ہو جائے لیکن قباحت یہ ہے کہ سفید کھال کی اقوام کو قدرت نے ہماری طرح میلائن کی زیادہ مقدار نہیں دی ہے۔ جو جلد کی بالا بنفشی شعاعوں سے حفاظت کرتی ہے۔

اس مرکب کی کھال میں کمی کی وجہ سے جسم کو سورج کی زیادہ روشنی لگنے سے جلد کا سرطان ہو سکتا ہے اوریہی وجہ ہے کہ مغرب میں موسم گرما کے شروع ہوتے ہی وہاں کے اطباء لوگوں کو سورج کی شعاعوں میں کھلے جسم کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کو منع کرتے ہیں کہ اس طرح جلد کے سرطان ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ کاسمیٹکس بنانے والی کمپنیوں نے غسل آفتاب کے شائقین کے لئے تے نئے تضبیطات (Formulations) تیار کئے ہیں۔ ان میں سورج کی شعاعوں سے بچانے کی تضبیطات (Sunscreen Products) سرفہرست ہیں۔ یہ مرکبات روغن یا کریم کی صورت میں کھال پر لگائے جاتے ہیں۔ جن کا مقصد سورج کی بالا بنفشی شعاعوں کو ہے۔ جو جسم پر پہنچنے سے روکنا نہیں بلکہ ان کی شدت کو کم کر کے ان کے مقابلے میں جسم کے دفاع کو بڑھاتا ہوتا کہ کھال کی تہہ (Stratum Corneum) کو موٹا کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ مرکبات روغن یا کریم لگانے کے بعد جسم کی دو سے چار گھنٹے تک حفاظت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی تضبیطات بھی ہوتی ہیں جو جسم کو سورج کی روشنی کے چھلنے (Sun Burn) سے بچاتی ہیں اور ایسے روغنیات اور تیل و کریم بھی ملتے ہیں جن کو جسم پر لگانے سے کھال آسانی سے سورج کی روشنی میں سنولا ہو جاتی ہے او ریہ (Suntan) لوشن یا کریم کہلاتے ہیں ان میں زیادہ تر پیرا امینو زوئیک ایسڈ خاص (Aminobenzoic Acid) مرکب ہوتا ہے جس کو دیگر مرکبات سے ملا کر آمیزہ بناتے ہیں اور لوشن یا کریم کی طرح استعمال کرتے ہیں۔

جلد کے اوپر خاص کر انگلیوں کے نشانات ہر شخص پرمختلف ہوتے ہیں اور انگلیوں کے ان نشانات سے کسی خاص شخص کو پہچاننا ممکن ہوتا ہے اور اس طرح سے پولیس کافی عرصہ سے جرائم پیشہ اشخاص کی شناخت جرم کی جگہ پر ان کی انگلیوں کے نشانات سے کر سکتی ہے۔ ہماری جلد کے اوپر جو مائع یا پسینہ پایا جاتا ہے وہ تیزابی ہوتا ہے یا دوسرے لفظوں میں ہماری کھال ترش ہوتی ہے۔ مغربی ممالک میں تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ گورے مردوں کی کھال عورتوں کے مقابلے میں زیادہ ترش ہوتی ہے۔ گورے مردوں کی اوسط پی انچ قدر (PH Value) ۸۵ء ۴ ہوتی ہے جب کہ گوری عورتوں کی یہ اوسط قدر ۵ ء ۵ پائی گئی ہے۔ یہ قدریں مختلف لوگوں میں مختلف ہو سکتی ہیں اور یہ زیادہ تعجب خیز نہیں ہے اس لئے کہ کھال ایک انتہائی پیچیدہ عضو ہے جو وراثت اور ماحول سے اثر پذیر ہوتی ہے۔ تیزا بیت کھال کے اوپر پائے جانے والے بہت سے شحمی ترشوں (Fatty Acids) کی وجہ سے ہوتی ہے جو جراثیم کش و پھپوند کش ہوتے ہیں کھال کی مختلف انسانوں میں مختلف ترشی کی وجہ سے حسن افروز اشیاء (کا کاسمیٹکس) کے مختلف لوگوں میں استعمال سے مختلف اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ایک حسن افروز روغن کی مقدار اور کیفیت ایک عورت کی کھال پر دوسری عورت کی کھال کے مقابلے میں مختلف تاثیر پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حسن افروز اشیاء کا استعمال بھی ایک آرٹ ہے اور اس ہیں وجہ سے سنگھار کرنے والی خواتین (Beauty Parlours ) کا کاروبار خوب چمکتا ہے۔

کھال سخت سردی میں بھی آسانی سے منجمد نہیں ہوتی اور کھال پر موجود روغنیات کھال کو سردی سے بچانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور اس طرح کھال کی یہ خصوصیت سخت سردی میں بھی انسان کی حفاظت کرتی ہے۔ انسان میں پسینہ والے غدود کی تعداد تقریبا تئیس سے چالیس لاکھ ہوتی ہے اور ایک غدہ کا وزن تئیس سے چالیس مائیکرو گرام تک ہوتا ہے۔ یہ نکلی نما (Tubular ) ہوتے ہیں اور ان کا قطر ۳۰۰/۱ اینچ ہوتا ہے۔ یہ غدود تین قسم کے ہوتے ہیں اور یہ ایکرائن (Accrine) اپوکرائن (Apocrine) اور سیبی (Sebaceous) غدود ہوتے ہیں۔ ایکرائن غدود ہونٹوں اور اعضائے تناسل کی جلد کے علاوہ جسم پر ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ انسانی جسم سے ایک دن میں پسینہ کے ذریعے ایک لیٹر پانی کا اخراج ہوتا ہے اور پسینہ میں ننانوے فیصد سے زیادہ پانی ہوتا ہے اور پسینہ بے رنگ اور ہلکا ترش ہوتا ہے۔ تازہ پسینہ کی بو ناپسندیدہ نہیں ہوتی۔ ایکرائن غدود سے نکلے والا پسینہ کھال کے اوپر سیبی اور ایپوکرائن غدود کے ابرازات یا پسینہ سے مل جاتا ہے۔ جلد پر مناسب درجہ حرارت اور رطوبت کی وجہ سے پسینہ پر جراثیم کا عمل فورا ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اس عمل سے شحمی ترشوں (Fatty Acids) کی ٹوٹ پھوٹ اور خمیر سے بنے والے ذیلی مرکبات (By Products) کی وجہ سے پسینہ میں بو پیدا ہو جاتی ہے۔

سیبی غدود سب سے زیادہ سر اور پیشانی پر ہوتے اور ہونٹوں اور نتھنوں کے گرد پستانی گھنڈیوں اور اعضائے تناسل کے قریب بغیر بالوں کی جلد پر بھی پائے جاتے ہیں اور ان کے ابرازات کیمیائی پیغام رسانی کا سبب ہو سکتے ہیں۔ کبھی غدود ایک روغنی مادہ یا تیل کا اخراج کرتے ہیں جو سیبم (Sebum) کہلاتا ہے اور زیادہ تر لحمیات (Lipids) کا مرکب ہوتا ہے۔ انسانی جلد روزانہ ایک سے دو گرام تک سیبم تیار کرتی ہے۔ یہ روغنی مادہ کھال کو نرم اور ملائم رکھتا ہے اور بلوغ کے قریب یہ غدود زیادہ سرگرم ہو جاتے ہیں اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی جلد پر چکنائی کی مقدار زیادہ بنتی ہے۔ لیکن ادھیڑ عمری میں عام پر ان کا عمل سست پڑ جاتا ہے لیے عرصہ تک قلوی (Alkaline) محلول کھال پر لگنے سے اور کھال کو بار بار صابن سے لگا دھونے سے کھال پر سیبم کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور کھال سوکھی نظر آنے لگتی ہے اور آسانی سے ادھڑ نے لگتی ہے۔ بڑے حلقہ والے غدود (Large Coil Gland) سے منسلک ہوتے ہیں۔ یہ آنکھ کے پوٹوں کے کناروں کان کی نالی کے بیرونی حصے، بغلوں، پستانوں اور پستانی گھنڈیوں، مقعد اور اعضائے تناسل کی جلد میں پائے جاتے ہیں یہ بھی شحمی ترشے، نائٹروجنی مرکبات (Nitrogenous Compounds) نمکیات پانی اور کھال کی زیریں تہہ کے خلیات کا اخراج کرتے ہیں۔ ان غدود کے ابرازات کا جنسی خواہش اور رغبت کی کیمیائی پیغام رسانی میں اہم کردار معلوم ہوتا ہے اور اس طرح سے لاشعوری طور پر یہ جنسی اظہار میں اہم ہیں۔ پسینہ کھال کے اندر پائے جانے والے تینوں غدودوں (ایکرائن، سیبی اور ایپو کرائن) کے ابرازات کے مجموعہ کا نام ہے اور اس میں کیمیائی پیغام رسانی کی اہمیت کے مرکبات بھی شامل ہوتے ہیں۔

مندرجہ بالا حقائق سے یہ واضح ہو گیا کہ کھال جسم کے دیگر اعضاء کی طرح ایک پیچیدہ عضو ہے اور کھال میں بیرونی اشیاء کا بیرونی طریقہ سے نفوذ نہیں ہو سکتا یعنی کھال پر کوئی بیرونی تیل، روغن یا کریم لگا کر یہ سمجھنا غلط ہو گا کہ اس فارمولیشن کے اجزا کھال میں جذب ہو جائیں گے۔ کیونکہ قدرت نے باہر کے اجزاء کے نفوذ سے کھال کو محفوظ کیا ہوا ہے۔ لیکن جسم میں اندورنی تبدیلیوں یعنی پروٹین کی زیادتی یا کمی وٹامن کی زیادتی یا کمی یا غذا میں تبدیلی کا اثر کھال پر بھی پڑے گا۔ کھال کو کسی بیرونی ذریعہ سے غذا نہیں پہنچائی جاسکتی اس لئے بہت سی ایسی مصنوعات جو یہ بلند بانگ دعوے کرتی ہیں کہ ان کے استعمال سے جسم کی کھال کو غذائیت ملے گی اور چہرہ اور جسم کی کھال اس غذائیت سے دوبارہ خوشنما، تازی اور دیدہ زیب ہو جائے گی تو ایسی مصنوعات بنانے والے صرف لوگوں کو بے وقوف بنا کر ان کی جیبیں خالی کرتے ہیں۔ چہرہ، ہاتھوں اور جسم کے دیگر حصوں کی جلد کو تازہ خوشنما اور حسین رکھنے کے لئے افزائش حسن کی مصنوعات (Cosmetics) بنانے والی کمپنیوں نے مردوں اور عورتوں کے استعمال کے لئے اربوں روپے کے پاؤڈر، کریم، رنگ و روغن اور دیگر اشیاء بنا کر دنیا کے چپہ چپہ میں فروخت کرکے اس تجارت سے بے انتہا دولت کمائی ہے۔ ان مصنوعات کو مندرجہ بالا حقائق کے پس منظر میں دیکھنے سے آپ یہ اندازہ کر سکتی ہیں کہ ان مصنوعات کا صرف اتنا فائدہ ہو سکتا ہے کہ یہ جلد کو صاف کرنے اور رکھنے میں مدد کر سکتے ہیں لیکن ان مصنوعات کے بنانے والوں کے دیگر بلند و بانگ دعوے دور از حقیقت ہیں۔

ان مصنوعات کا یہ فائدہ ضرور ہو سکتا ہے کہ بڑھاپے میں جلد پر سیم اور شخمیات کی کمی کو یہ دور کر سکتی ہیں اور اس وجہ سے کھال پر جھریاں پڑنے کا عمل مقابلتا سست پڑ جاتا ہے اور جلد زیادہ عرصہ تک جوان محسوس ہوتی ہے اور خشک اور سوکھی ہوئی نہیں محسوس ہوتی۔ لیکن حسن دیر پا نہیں ہوتا اور اگر ایسا ممکن ہوتا تو دنیا میں الزبتھ ٹیلر ، جینا لولو بر جریدا ، صوفیہ لارین برجت بار دوت اور گریس کیلی جیسی حسین اور دولت مند خواتین ہمیشہ جوان اور حسین رہتیں اوربڑھاپے کو اپنے قریب بھی نہ پھٹکنے دیتیں۔ لیکن لاکھوں روپے کے کاسمیٹکس، یہاں تک کہ پلاسٹک سرجری کے کمالات بھی ان کے چہروں کے حسن اور دیدہ زیبی کو زیادہ عرصہ تک نہ روک سکے اور آخر کار بڑھاپے نے ان کو بھی آ لیا اور اب ان چہروں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ حسن کہاں گیا اور بے اختیار منہ سے نکلتا ہے کہ ذرا عمر رفتہ کو آواز دیتا۔ ہار سنگھار کے لئے بہت سے کریم استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہ کریمیں ٹھنڈی کریم (Cold Cream)، اڑنے والی کریم (Vanishing Cream)، جلدی کریم (Skin Cream)، پسینہ روکنے والی کریم (Antiperspiration Cream)، سورج سے جھلسنے کی صورت میں لگائی جانے والی کریم (Antisun Burn Cream)، غیر روغنی کریم (Greaseless Cream)، مساج کریم (Massage Cream)، بدبو دور کرنے والی کریم (Deodorising Cream)، اور بال صفا کریم (Depilatory Cream) شامل ہیں۔ ہاتھوں پر لگانے کے لئے (Hand Cream) استعمال ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ زیبائش (میک اپ) کے لئے ایک بنیادی کریم (Makeup Base) بھی ہوتی ہے، جس کو چہرے پر پہلے لگا کر دوسری حسن افروز مصنوعات لگائی جاتی ہیں۔ ہر کریم کی بہت سی مختلف اقسام بھی ہوتی ہیں۔

کریم زیادہ تر موم، تیل اور پانی کا شیرا (Emulsion) ہوتی ہیں۔ کولڈ کریم میں گلاب کا پانی بھی ڈالا جاتا ہے۔ جلدی کریم میں بوریکس (Borax) ڈالا جاتا ہے۔ اڑنے والی کریم اور ہاتھوں کی کریم (Vanishing Cream, Hand Cream) میں زیادہ تر اسٹیرک ایسڈ صابن ،گلسیرین (Glycerine)، اسٹیرک ایسڈ (Stearic Acid) اور پانی ہوتا ہے۔ اس قسم کی کریم کو چہرے پر لگانے کے سفوف کی بنیاد (Face Powder Foundation) کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ کریمیں چہرے اور ہاتھوں کی حفاظت کے لئے ایک تہہ بنانے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ جلد صاف کرنے والی کریم (Cleansing Cream) میں موم(Base wax)، لیولین (Lanolin)، پیرافن موم (Paraffin Wax)، بوریکس اور پانی شامل ہوتے ہیں۔

حسن افروز سفوف (Powder) میں چہرے پر لگانے والا پاؤڈر (Face Powder)، ٹالکم پاؤڈر (Talcum Powder) اور ٹائلٹ پاؤڈر (Toilet Powder) شامل ہیں۔ ان میں زیادہ تر ٹالک (Talc) جو آبی میگنیشیم سلیکیٹ (Magnesium Hydrated Silicate)، ہوتا ہے۔ میگنیشیم کاربونیٹ (Magnesium Carbonate)، چاک، کیولن (Kaolin)، ٹائٹینیم آکسائیڈ (Titanium Oxide)، زنگ آکسائیڈ (Zinc Oxide) اور میگنیشیم اسٹیریٹ (Magnesium Stearate) ہوتے ہیں۔ ایسے سفوف میں نشاستہ (Starch) بھی بنیادی سفوف کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

ہونٹوں کی خوبصورتی بڑھانے کے لئے لپ اسٹکس میں مختلف قسم کی موم جیسے بیس ویکس (Spermaceti, Beeswax)، کارنوبا ویکس (Carnauba Wax)، ارنڈی کا تیل (Castor Oil) یا دوسرے تیل اور لینولین شامل ہوتے ہیں۔ (Lanolin) یا اونی چربی (Wool Fat)، پیٹرولٹم (Petrolatum)، تالیفی مانو گلیسرائڈ (Synthetic Glyceride)، مختلف قسم کے رنگ جو ایک (Lakes) یعنی dyes کی مختلف دھاتوں (المونیم، ٹیٹینیم، کیلشیم، اسٹرا نشیم) کے ساتھ مرکب (Complex) اور بال (Resins) بھی ڈالا جاتا ہے۔ موم اور تیل ملا کر کھلائے جاتے ہیں اور رنگ ملائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد سانچوں (Molds) میں ڈال کر لپ اسٹکس بنائی جاتی ہیں۔

آنکھوں کے حسن کو بڑھانے کے لئے مسکارا آنکھوں کا میک اپ اور آنکھوں کے شیڈوز (Eye Shadows) استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان تضبیطات میں لوہے کا آکسائیڈ (Iron Oxide)، مختلف کاربن بلیک (Carbon Black) اور الٹرا میرین (Ultra Marines) استعمال کئے جاتے ہیں۔ آنکھوں کے حسن کو دوبالا کرنے کے لیے آنکھوں کی پلکوں کو گہرا کیا جاتا ہے اور یہ کام مسکارا کرتا ہے، مسکارا تیل میں رنگ اور شیرہ بنانے والے مرکبات (Emulsifiers) کے ذریعہ سے تیار کیا ہوا ایک شیرہ (Emulsion) ہوتا ہے۔ آنکھوں کے شیڈوز (Eye Shadows) میں زیادہ تر رنگ مختلف لوہے کے آکسائیڈ کے ذریعہ سے حاصل کئے جاتے ہیں۔ موم کو منزل آئل (Mineral Oil)، لینولین یا پیٹرولٹیم میں گھول کر اس آمیزہ میں رنگ ملا کر یہ شیڈوز بناتے ہیں۔ دھاتی چمک (Metallic Lustre) کے شیڈوز بہت باریک پسے ہوئے المونیم، چاندی یا سونے کے سفوف ملا کر بنائے جاتے ہیں۔

ناخنوں کی خوبصورتی کے لئے ناخن بڑھائے جاتے ہیں اور اگر خواتین ناخن نہ بھی بڑھائیں تو بھی ان کا حسن ناخنوں کی پالش (Nail Polish) کے ذریعہ بڑھا سکتی ہیں۔ ان میں سیلیولوز نائٹریٹ رنگ (Cellulose Nitrate) جو کہ ناخنوں پر رنگ کی تہہ (Film Former)، پلاسٹیسائزر (Plasticizer) جیسے ڈائی آکٹیل تھیلیٹ ((Dioctyl Phthalate)) یا ڈائی بیوٹل تھیلیٹ (Divutyl Phthalate)، مختلف رنگ اور محلل (Solvent) ہوتے ہیں۔ سیلیولوز نائٹریٹ کی جگہ اب مختلف رال (Resins) استعمال کئے جاتے ہیں۔

ناخنوں پر سے رنگ اتارنے کے لئے نیل پالش ریمور (Nail Polish Remover) استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں لینولن، ایک محلل جو نیل پالش گھلا سکے اور پرفیوم استعمال کیا جاتا ہے۔

عورتوں کی حسن افروز اشیاء کی طرح مرد بھی مختلف کاسمیٹکس استعمال کرتے ہیں۔ ان میں شیو کے بعد (After Shave Lotion)، جلد کی کریم یا لوشن (Skin Cream)، شیونگ کریم، غیر روغنی سن اسکرین کریم (Greaseless Sunscreen Cream) اور بالوں میں لگانے والے کریم (Hair Grooming Cream) شامل ہیں۔ کریم کے اجزاء تقریبا وہی ہوتے ہیں جو خواتین کی اس قسم کی کریم میں ہوتے ہیں۔ لیکن مردوں کے استعمال کے کریم میں پرفیوم (Perfume) مختلف ہوتے ہیں اور ایسے پرفیوم استعمال کئے جاتے ہیں جو Spicy ہوتے ہیں اور جن کو مرد حضرات لگانا پسند کرتے ہیں۔

بالوں کو بڑھانے، بالوں کی حفاظت اور بالوں کی آرائش و زیبائش کے لئے بھی مختلف انواع و اقسام کی اشیاء استعمال ہوتی ہیں۔ لیکن ان چیزوں کے بارے میں بتانے سے پہلے کچھ بالوں کے بارے میں بتانا بہتر ہو گا۔ ایک تندرست انسان کے سر پر ایک لاکھ بئیس ہزار بال پائے جاتے ہیں لیکن بالوں کی تعداد مختلف لوگوں میں مختلف ہوتی ہے۔ بھورے بال عام طور پر باریک ہوتے ہیں اور ان کی تعداد سر پر ایک لاکھ چالیس ہزار تک ہو سکتی ہے جب کہ سیاہ بال موٹے ہوتے ہیں اور سر پر ان کی تعداد ایک لاکھ آٹھ ہزار ہوتی ہے۔ بالوں کی اوسط عمر چھ ماہ ہوتی ہے یعنی ایک سو اسی دن لیکن گرمیوں میں عموما بال زیادہ عرصے میں گرتے ہیں اور ان کی عمر ایک سو ستانوے (۱۹۷) دن تک ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سردیوں میں بال زیادہ جھڑتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اب خواتین یہ اندازہ کر سکتی ہیں کہ کنگھا کرتے وقت بال جھڑیں تو یہ پریشانی کی بات نہیں کیونکہ یہ ایک قدرتی عمل ہے اور یہ وہ بال ہیں جو کہ اپنی عمر طبعی پوری کر چکے ہیں۔

انسانی جلد کی طرح بالوں پر بھی بیرونی اثرات کا بہت کم اثر ہوتا ہے۔ اگر جسمانی صحت اچھی ہو تو بالوں کی افزائش بھی زیادہ ہوگی اور بال گھنے ہوں گے۔

اچھی صحت کے لئے اچھی اور متوازن غذا کی ضرورت ہے جس میں پروٹین، وٹامن، کاربوہائیڈریٹ اور نمکیات شامل ہونے چاہئیں۔ گوشت، دودھ، انڈا اور پھل کھانے سے ایسی متوازن غذا مل سکتی ہے۔ اس لیے جو مرد و خواتین بال بڑھانے اور گھنے کرنے خواہشمند ہیں ان کے لیے یہ بہتر ہو گا کہ بجائے سینکڑوں روپے ہر ماہ بالوں کی حفاظت و بڑھانے کی مصنوعات یعنی تیل، کریم و روغن پر خرچ کرنے کے یہ رقم اچھی غذا کھانے پر خرچ کی جائے تاکہ صحت عمدہ ہونے سے جلد کی چمک بھی بڑھے اور بال بھی صحت مند رہیں۔

بال کیراٹن سے بنتے ہیں اور جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے انسانی جلد میں سکیبی غدود ایسی چکنائی خارج کرتے ہیں جو کہ بالوں کو چکنا رکھتی ہے۔ ان غدود کا فعل خراب ہونے پر بالوں کی جڑیں چکنی نہیں رہیں گی اور سر کی جلد سوکھنے سے بالوں کے گرنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ آج کل عام طور پر یہ فیشن ہے کہ بالوں کو تیل نہیں لگایا جاتا اور سوکھا رکھا جاتا ہے۔ اس طرح سے سر کی کھال بھی سوکھی رہتی ہے اور بال زیادہ گرتے ہیں۔ سر میں تیل لگانے سے بالوں کی جلد چکنی رہے گی اور بال مضبوط رہیں گے۔

بالوں کو بڑھانے کا دعوی کرنے والے نسخے اور روغنیات بے بنیاد ہوتے ہیں اس لیے کہ ان نسخوں سے بنائی ہوئی اشیاء کو بالوں پر لگانے سے ان کے بڑھنے کی رفتار پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ سر پر بالوں میں خشکی کی عام شکایت کی جاتی ہے اور خشکی کو دور کرنے کے لئے سینکڑوں قسم کے صابن، شیمپو اور تیل فروخت کیے جاتے ہیں اور بناؤ سنگھار کی مصنوعات بنانے والی کمپنیاں لوگوں سے اس طرح کروڑوں روپے وصول کرتی ہیں لیکن جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ جلد مردہ خلیات کا مستقل اخراج کرتی رہتی ہے اور سر کی کھال بھی اس طرح مردہ خلیات بناتی ہے اور بالوں کی جڑوں کو چکنا کرنے والا سیبم ان خلیات کو بھی چکنا رکھتا ہے جو کنگھی کرنے یا نہانے کے دوران سر دھونے پر نکل جاتے ہیں لیکن بالوں کے خشک ہونے کی صورت میں یا سر کی کھال کی خشکی کی وجہ سے یہ خلیات بالکل سوکھ جاتے ہیں اور پھر کنگھی کرنے پر خشکی یا (Dandruff) کی شکل میں جھڑتے ہیں۔ خشکی بذات خود بالوں کو گرانے کا باعث نہیں ہوتی اور اگر سر کے بالوں کو تیل ڈال کر چکنا رکھا جائے تو خشکی پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

مردوں کو گنجے پن کی شکایت ہزاروں برس سے ہے اور اس کا علاج بقراط حکیم بھی نہ کر سکے۔ گنجے پن کا تعلق موروثی اور جسم میں مردانہ ہارمون (Testosterone) سے وابستہ لگتا ہے کیونکہ عورتیں عموما گنجی نہیں ہوتیں۔ مردوں میں گنجا پن شروع میں سر پر انگریزی حرف M کی شکل سے شروع ہوتا ہے اور بعد میں سر کے سارے آگے کے حصے یا کافی حصے کے بال گر جاتے ہیں اور پورا سر گنجا ہو جاتا ہے۔

سر کے بال بڑھانے، گنجا پن دور کرنے اور بال دوبارہ اگانے کے لئے سینکڑوں نسخے، چٹکلے اور مصنوعات ایجاد کی گئی ہیں اور بہت سے گنجے حضرات انتہائی ذوق و شوق سے یہ مصنوعات خرید کر گنجا پن دور کرنا چاہتے ہیں لیکن اس طرح ان کی جیب ضرور خالی ہو جاتی ہے لیکن سربالوں سے نہیں بھرتا۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ جلد کو بیرونی طور پر غذا نہیں دی جا سکتی اور کیمیائی مرکبات بھی عموما جلد میں نفوذ نہیں کرتے۔ اس لیے یہ بالوں کو اگانے والے بیرونی نسخے بھی بے کار ہوتے ہیں۔ مرد میں بالوں کی صحت کا تعلق بھی اس کے جسم کی صحت، وراثت اور مردانہ ہارمون کی جسم میں مقدار پر ہوتا ہے اور یہ چیزیں یا باہر سے سر پر لگانے والے نسخوں، کریم اور لوشنوں سے تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔ اس لئے گنجے پن کو دور کرنے والی مصنوعات سے سوائے ان مصنوعات کے بنانے والوں کو مالی فائدہ پہنچانے کے گنجے حضرات کو خود کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔

بالوں کا حسن بڑھانے کے لئے بالوں میں لگانے کے تیل و کریم و ٹانک، بالوں کو جمانے کے لئے اشیاء (Hair Fixative)، شیمپو (Hair Setting Fluid)، بالوں کو گنگریالے بنانے کے لئے تیل و کریم، کنڈیشنر (Hair Cleaner And Conditioner) ملتے ہیں۔ زیادہ تر کاسمیٹکس میں خوشبویات (Perfumes) ڈالی جاتی ہیں اور حسن افروز اشیاء اور پرفیوم کا استعمال میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ مختلف پاؤڈر، کریم، لوشن، نیل پالش غرض زیادہ تر مصنوعات کا جزو پرفیوم ہی ہوتی ہے۔

اگر زن و مرد میں حسن افروز اشیاء کے استعمال اور حسین لگنے کی شدید خواہش پر غور کیا جائے تو اس خواہش میں قدرت کی بڑی مصلحت پوشیدہ نظر آتی ہے۔ جدید کیمیائی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایک ماحول میں ذی حیات ایک دوسرے سے اشاراتی کیمیائی مرکبات (Semiochemicals) کے ذریعہ سے کیمیائی پیغام رسانی کرتے ہیں۔ کیڑوں میں کیمیائی پیغام رسانی کرنے والے کیمیائی مرکبات فیرومون (Pheromone) کہلاتے ہیں۔ کیمیائی پیغام رسانی کرنے والے مرکبات کی موجودگی کا احساس بو (Smell) سے ہوتا ہے۔ دیگر جانوروں کی طرح انسان میں بھی بو کی کیمیائی پیغام رسانی کی بہت اہمیت ہے اور ہر مرد اور عورت کی ایک منفرد بو ہوتی ہے۔ بو کے اندر بے انتہا خفیف مقدار میں موجود کیمیائی مرکبات مرد و زن کو ایک دوسرے کی طرف کھینچنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کے درمیان جنسی تعلقات بھی بہت اہم ہیں۔ انسانی جسم کے ابرازات خصوصا پسینہ میں ان مرکبات کا اخراج ایک گرام کے کھربویں حصہ کے برابر ہوتا ہے۔ مگر انسانی ناک اتنی کم مقدار میں بھی ان مرکبات کا احساس کر لیتی ہے۔ عورت مرد کے مقابلہ میں ان مرکبات کی موجودگی کا زیادہ احساس کرتی ہے اور یہ مرکبات عورت کے لئے جنسی کشش کا باعث ہوتے ہیں اور ان مرکبات کا اخراج جنس مخالف کو جنسی اختلاط کے لئے آمادہ کرنے کے لئے ہو سکتا ہے۔ لیکن ان مرکبات کا جادو جگانے کے لئے مرد و زن کے ایک دوسرے کے انتہائی قریب آنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس خفیف مقدار میں پیغام رسانی کے ان مرکبات کا احساس کیا جا سکے۔

فطرت کا مقصد افزائش نسل ہے اور بلوغ کے وقت قدرت مرد و زن کو انتہائی پرکشش بناتی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے میں دلچسپی لے کر اپنی نسل کو بڑھائیں اور اس طرح سے تقاضہ حیات پورا کریں۔

حسن افروز اشیاء کے استعمال سے جنس مخالف ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچیں گے اور حسین چہرہ کشش کا باعث ہوگا اور اس طرح نگاہ کا جادو اپنی کمان سے تیر چلاے گا۔ پھر ان مصنوعات میں پڑی ہوئی پرفیوم اس کشش کو دو چند کر دے گی۔ یہاں تک کہ ان اشیاء کے استعمال سے وہ ایک دوسرے کے اتنے قریب آسکیں گے کہ کیمیائی پیغام رسانی کے مرکبات اپنے حیرت انگیز اثر دکھا سکیں گے۔ قدرت کے یہ کمالات انسانی فطرت کا حصہ ہیں مگر انسانی فطرت نے ہزاروں سال پہلے ہی یہ سیکھ لیا کہ ان جذبات اور خواہشات کو بے محابا آزاد چھوڑنے پر معاشرہ میں بے انتہا فتنے تباہ کاریاں و بربادی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لئے ان پر کنٹرول ضروری ہے۔ اس لئے ہر معاشرہ میں مرد و عورت کے بالعموم آزادانہ اختلاط پر پابندیاں لگائی گئیں اور ہر مذہب و معاشرہ نے بے مہار جنسی آزادی کو ناپسند کیا ہے۔ ہمارے مذہب میں بھی مرد و عورت کو اپنی زیب و زینت اور آرائش و زیبائش نا محرم مردوں کو دکھانے سے پرہیز کرنے کو کہا گیا ہے۔ لیکن شادی کے بعد عورت کو اپنے شوہر کے لئے آرائش و زیبائش کی صرف اجازت ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایک پسندیدہ امر خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے لئے بناؤ سنگھار کرے۔ یعنی شادی کے بعد ان میں کیمیائی پیغام رسانی کو بڑھانے کی ہمت افزائی کی گئی ہے تاکہ وہ فطرت کے تقاضے بخوبی پورے کر سکیں اور اپنی نسل کو بڑھا سکیں۔

بہر حال یہ ساری باتیں تو فلسفہ سے تعلق رکھتی ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حسن افروز اشیاء اگرچہ ان دعووں پر پورا نہ اتر سکیں جو ان کے بنانے والے کرتے ہیں لیکن ان کی تھوڑی بہت افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور یہی وجہ ہے کہ ان مصنوعات کی تجارت ہزارہا سال سے انسانی معاشرے میں رائج ہے۔ یہ ہر انسان کا حق ہے کہ وہ خوبصورت لگے اور اپنے حسن کو بڑھانے اور حسن افروز مصنوعات عارضی عرصہ کے لئے خوبصورتی کو بڑھا سکتی ہیں اور اس طرح سے ان اشیاء کے استعمال کرنے والوں کو اپنے میں خود اعتمادی اور اچھا محسوس کرنے کا اعتماد دلاتی ہیں اور جس معاشرہ میں ایسے لوگ ہوں گے جو مطمئن اور پر اعتماد ہوں گے تو وہ معاشرہ بھی خوشحال ہو گا اور ترقی کر سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دولتمند اور ترقی یافتہ تہذیبوں میں کاسمیٹکس کا استعمال بڑھتا ہے۔ اس لئے آپ کسی حسن افروز شے کو خریدنے کے بارے میں سوچیں تو یہ شوق ضرور پورا کریں اور خوش رہیں۔

حساس ترین انسان بھی تقریبا ۲۰۰ حصے پانی میں ایک حصہ شکر کو محسوس کر سکتا ہے۔ جب کہ شہد کی مکھی، تتلیاں اور دیگر رس چوسنے والے کیڑے تین سو ہزار حصے پانی میں صرف ایک حصہ شکر کو بھی آسانی سے محسوس کر لیتے ہیں۔

لڑاکا طیاروں کا ٹینک شکن کردار

لڑاکا طیاروں کے بارے میں عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ یہ فضاء سے فضاء میں معرکہ کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور زمینی اہداف میں صرف غیر منقولہ ٹھکانوں کے خلاف کار کردگی دکھا سکتے ہیں جس میں شامل دشمن کے انڈسٹریل ایریا، ہوائی اڈے اور دیگر فوجی اہمیت کے پل عمارتیں وغیرہ شامل ہیں لیکن دوسری جنگ عظیم میں ٹینک کے بھر پور استعمال نے فضائیہ کے کاندھوں پر ایک ذمہ داری کا مزید اضافہ کر دیا۔ یعنی دوران جنگ دشمن کے فوجی قافلوں، ٹینکوں اور فوجی نوعیت کی گاڑیوں کو تباہ کرنا۔ اس مقصد کے لیے دوسری جنگ عظیم میں جرمنی نے خاطر خواہ کامیابی حاصل کی اور اتحادیوں کے ٹینکوں کو خوب نشانہ بنایا۔ اس کامیابی سے متاثر ہو کر اتحادیوں نے بھی ٹینک شکن طیارے بنا نا شروع کر دیئے جس کے نتیجے میں مقابلے کا رجحان پیدا ہوا اور ایک سے بڑھ کر ایک عمدہ ٹینک شکن طیارہ معرض وجود میں آیا۔ ابتدائی دنوں میں ٹینک کو تباہ کرنے کے لیے طیاروں میں طاقتور توپیں نصب کی جاتی تھیں لیکن ٹینک کی چادر کی موٹائی میں اضافہ سے تو پوں کا استعمال متروک ہو تا گیا اور آج کل اس کی جگہ جدید، ہلکے اور کار گر ٹینک میزائل استعمال ہو رہے ہیں۔ اس وقت دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک لڑا کا ٹینک شکن طیارے تیار کر رہے ہیں جن میں امریکہ، روس، برطانیہ، اور فرانس شامل ہیں لیکن ان میں امریکہ کے تیار کردہ A10 Warthog کو ان سب پر واضح سبقت حاصل ہے۔

ٹینک کو تباہ کرنا ہر حملہ آور لڑاکا بمبار طیارے کا دیرینہ خواب ہوتا ہے اور طیارے پر ٹینکوں اور دیگر کامیابیوں کے نشانات اسے دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں۔ ٹینک یا اسی سے متعلق توپیں، فوجی گاڑیاں، میزائل بیٹریاں، ریڈار سائٹس، اہم پل اور فضائی رن وے کی تباہی تقریباً ایک ہی زمرے میں آتی ہیں۔ مگر ٹینک حرکت کرنے والا ایک مضبوط ہوشیار اور جوابی کارروائی کرنے والا زمینی ہتھیار ہے۔ اس کی تباہی نہ صرف دشمن کی قوت کا ایک موثر حصہ تباہ کرنا ہے بلکہ اس کی پیش قدمی کو روکنے کے ساتھ ساتھ اپنی سر زمین اور افواج کے نقصانات سے بھی بچانا ہے۔کھلے میدان اور شاہراہوں پر حرکت کرتے ہوئے ٹینکوں کی نسبت چھپے ٹینک اور تنگ گھاٹیوں میں چھپے ٹینکوں کی تباہی ایک مشکل عمل ہے۔ فی زمانہ ٹیکنالوجی کی دستیابی کے باوجود ماضی کی طرح آج بھی ٹینک شکن رول ایک مشکل عمل ہے۔ اس مضمون میں فضائیہ کے طیاروں کے لیے زمینی پلوں کی تباہی فضائی اڈے کے رن وے کی تباہی کے تسلسل کی پہلی کڑی کے طور پر ٹینک شکن صلاحیت کو ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے دیکھا جائے گا۔ گذشتہ ساٹھ سالوں میں ٹینک شکن رول میں فی زمانہ خاصی ترقی ہوئی ہے ٹینکوں کی تباہی کے لیے جہاں نت نئی حکمت عملی تدابیر جدید اسلحہ جدید بہتر آلات اور بہترین حملہ آور طیاروں نے ترقی کی ہے وہیں ٹینک کی عمومی صلاحیت اس کی حملہ آور صلاحیت اور فضائی حملے سے بچاؤ کے لیے بہترین دفاعی نظام و دیگر صلاحیت میں بھی ترقی ہوئی ہے۔

جنگ عظیم دوئم کی ابتداء میں درمیانے درجے کے ٹینک کا وزن۱۲ٹن ہو تا تھا اور وہ ۳۰ ملی میٹر (۸/۱) انچ دھانے کی توپ سے لیس ہوتے تھے۔ جبکہ بھاری ٹینک۳۵ ٹن وزنی اور ۶ ملی میٹر (۸/۲۳)انچ دھانے کی توپ سے مسلح تھے۔۱۹۴۲ میں جرمن ٹائیگر ٹینک کا وزن۵۶ ٹن تھا اور یہ ایک سو ملی میٹر (چار انچ) دھانے کی توپ سے لیس تھے۔ جنگ عظیم دوئم کے اوائل میں ہلکے اور درمیانے ٹینکوں کو تباہ کرنے کے لئے کم از کم۰ ۴میٹر یعنی ۱۳۰ فٹ کا فاصلہ درکار ہو تا تھا جو کہ بھاری گنوں یا بموں سے ہی تباہ کیے جاسکتے تھے۔ اس طرح ٹینک کے۴۰ میٹر کے دائرے سے باہر ٹینک کو کوئی مشکل ہی سے تباہ کر سکتا تھا۔ اسی جنگ کے وسط میں ٹینک کو براہ راست تباہ کرنا ہی اسے کارروائی سے روکنے کے مترادف تھا جو کہ زیادہ تر ٹینک کو نقصان کی حد تک ہو تا تھا جبکہ مکمل طور پر ٹینک کم ہی تباہ ہوتے تھے اکثر ٹینک پر داغے گئے نشانے خطا ہو جاتے یا پھر اس زاویے یا قوت سے لگتے کہ ٹینک کو معمولی نقصان پہنچتا جو کہ مرمت کے بعد دوبارہ قابل استعمال ہو جاتا اس طرح دشمن کی قوت وقتی طور پر کم ہوتی۔ ٹینک کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے زیادہ ہلاکت خیز اور دھماکہ خیز مواد سے لیس بموں یا توپوں کو استعمال کیا جاتا تھا۔ ٹینک کی ہلاکت خیزی کے ساتھ اسے تباہ کرنے کے لیے بھی جد و جہد جاری رہی فری فال بم راکٹ اور خاص کر ۲۰ ملی میٹر دھانے کی گنیں ٹینک کو کافی نقصان پہنچاتی تھیں ہتھیار کی ہلاکت خیزی میں۰ ۵ کلوگرام (۰۰ ۱ پونڈ)وزنی یا اس سے بڑا بم ہی کسی ٹینک کو کارروائی سے روک سکتا تھا۔بشر طیکہ ہتھیار صحیح تناسب اور فاصلے سے ٹینک پر براہ راست لگے۔ فضائیہ کے طیارے زیادہ طاقتور گنوں اور بموں کی مدد سے ٹینک کو تباہ کرتے ہیں۔ افقی حملہ آور یا غوطہ خور بمبار طیارے بموں، گنوں یا پھر راکٹوں سے اپنے ہدف پر حملہ آور ہوتے ہیں جو کہ نیچے سے اوپر بلندی پر جا کر زاویہ بناتے ہوئے ہدف پر غوطہ لگاتے ہیں۔ اس تکنیک کو(POP-UP) بھی کہا جاتا ہے۔

یہ تکنیک ہوا بازکے صحیح یا غلط نشانے پر کامیاب و ناکام ہو سکتی ہے۔ لولیول یعنی نچلی پرواز کر کے بمباری و حملہ کرنے سے بہتر نتائج آتے تھے مگر زمینی فائر سے طیارے کابچ نکلنا مشکل ہو تا ٹینکوں یا دیگر تباہی کے لیے بموں کو ہدف پر پھینکا جاتا ہے جو کہ ان سے ٹکرا کر پھٹ جاتا ہے مگر انہی بموں پر فیوز نصب کر کے انہیں زیادہ تباہ کن بنایا جا سکتا ہے۔ ہم طیاروں سے پھینکے جانے کے ۸ یا۰ ۱سیکنڈ بعد فیوز کے ذریعے پھٹ جاتے ہیں۔ اس طرح بم زمین سے کچھ بلندی کے اوپر پھٹتے ہیں اور اپنے زبر دست دباؤ اور دھما کے کے باعث نیچے موجود ہدف کو زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں اس طرح ٹینک کے اوپری حصے کے پرخچے اڑ جاتے ہیں۔ فیوز کو مطلوبہ وقت پر پھاڑنے کے لیے بلندی اور طیارے کی رفتار کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔۹۴۲ ۱کے موسم خزاں میں برطانیہ نےہری کین مارک ٹوڈی (Hurrican MK II D) ٹینک شکن حملہ آور بمبار لڑاکا طیارہ متعارف کرایا جو کہ صحیح معنوں میں اپنی نوعیت کے ٹینک شکن طیارے کے طور پر سامنے آیا یہ طیارہ ویکر (Vicker) ۴۰ ملی میٹر ۲/۱ ۱ انچ دھانے کی دو گنوں سے مسلح تھا ہر گن۱۲ راؤنڈ سے لیس تھی۔ علاوہ ازیں اعشاریہ ۳۳۰ انچ ۸ ملی میٹر دھانے کی دو مشین گنوں سے بھی لیس تھا جو کہ دوبدو لڑائی کے لیے نصب کی گئی تھیں۔ اس طیارے کا ہواباز اپنے طیارے کو۱۵ میٹر (۵۰ فٹ) کی بلندی تک رکھتے ہوئے۸۰۲ ناٹ یعنی ۵۸۳ کلو میٹر فی گھنٹے تک کی رفتار سے۲۰۰ میٹر (۰۰۰ ۲فٹ) دور سے ہی ہدف پر حملہ آور ہو تا تھا۔ ہر گن ٹریگر دبانے پر صرف ایک گولہ داغتی تھی اور تربیت یافتہ ہوا باز ایک حملہ آور ڈور کے دوران تقریباً دس مرتبہ گولے داغ سکتا تھا اور حملہ آور ہوتے ہوئے ہدف سے۱۰۰ میٹر (۳۳۰ فٹ) تک قریب ہو جایا کرتا تھا۔ دوری سے قریب ہوتے ہوئے داغے جانے والے گولے کی شدت فاصلہ کم ہونے کی بناء پر شدید ہوتی۔

گن کے علاوہ مشین گنوں سے بھی ٹینک کی درگت بنائی جاتی۔ ہری کین مندرجہ بالا حملوں کے لیے بہترین مشین تھا۔ اگلے مورچوں پر ٹینکوں کی دفاعی لائن کو توڑنے ٹینکوں کی پیش قدمی کو روکنے اور دیگر حملہ آور مشینوں کے لیے یہ موزوں ترین ہتھیار تھا۔ مگر زمینی مزاحمت کامیابیوں کے ساتھ طیارے کی تباہی بھی لاتی۔ طیاروں کی سالمیت اور حملے کا دارومدار زمینی مزاحمت یعنی طیارہ شکن توپوں کی کمی یا عدم دستیابی کی صورت میں تھا۔۹۴۲ ۱میں شمالی افریقہ میں موسم خزاں کے بعد کمانڈر ہری کین کو اکثر اپنی طاقت کے اضافے اوردشمن کی تباہی کے لیے بلایا کرتے لیکن جرمن افواج کے فضائی حملے کے پیش نظر موبائل زمینی دفاعی یونٹ ساتھ رکھتے۔۵ ۲مارچ۳ ۹۴ ۱کو تقریباً دس عدد ہری کین طیاروں نے تیونس اور(الھما)کے مقام پر دشمن کی پیش قدمی روکنے کے لیے حملہ کیا۔ اس حملے میں چھ ہری کین طیارے زمینی طیارہ شکن توپوں کا شکار ہو گئے۔ معجزانہ طور پر تمام ہوابازبچ گئے اور زخمی ہوئے اور واپس اپنے یونٹ پہنچ گئے اپریل کوکیکھیرہ کے مقام کے قریب اسی(نویں) اسکوارڈن کے(۱۱) عدد ہری کین طیاروں کو بھیجا گیا۔ اس مشن میں بھی ۶ طیارے تباہ ہوئے جبکہ ۳ ہواباز بھی ہلاک ہوئے۔ ان طیاروں نے اپنی بھاری گنوں کی مدد سے کئی ہلکے ٹینک تباہ کیے۔ جبکہ بھاری ٹینکوں کو بھی معمولی نقصان پہنچا۔

۹۴۲ ۱میں جرمن فضائیہ(لفتحواف)نے دوہرے انجن والے(Henschel-129) گراؤنڈ اٹیک حملہ آور طیارے متعارف کرائے جو کہ کا کپٹ کے ارد گر دو سیع رقبے پر کارروائی کر سکنے والی(Rheinmetall) مارک ۱۰۱ نامی ۳۰ ملی میٹر دھانے کی سریع الحرکت فائر کرنے والی گنوں سے لیس تھے۔ طیارہ(HS-129) جارح ہونے کے باوجود ناکام ہو گیا۔اس کے انجن بڑے حساس تھے اور صحرائی علاقوں میں مٹی وریت کی بناء پر ناکارہ جاتے تھے۔ اس لیے اس طیارے کو روس کے قریب تر ایئر فیلڈ پر تعینات کر کے کارروائیاں کی گئیں۔

تقریباً ۰ ۶عددطیارے روس کے خلاف برسر پیکار رہے۔ ۳ ۹۴ ۱ میں اس طیارے کا جدید ماڈل اور ۳۰ ملی میٹر مارک ۱۳۰ گنوں سے لیس ماڈل متعارف کرایا گیا۔ اس کی گنیں پہلے سے زیادہ طاقتور تھیں۔ ۸ جون ۳ ۹۴ ۱ کو(کرش) کے مقام پر ایک(Henschel-129) طیارے نے جاسوس پرواز کر کے روس کے سیکنڈ ایس ایس پینزر(Penzer) کور کے۴۰ عدد ٹینکوں کو بغیر کسی زمینی تحفظ کے پیش قدمی کرتے ہوئے دیکھا۔ اس ہوا باز نے یہ اطلاع اپنے بیس (میکو یا نووکا)کو بذریعہ ریڈیو پہنچائی۔فوراً ہی۲۱ عدد طیارے ان روسی ٹینکوں کی خبر گیری کے لیے پرواز کر گئے اور انہوں نے اپنا سارا اسلحہ روسی ٹینکوں پر آزمایا۔ ان کے پیچھے مزید ۴ طیارے بھیجے گئے۔ ان تمام طیاروں نے کئی ٹینکوں کو تباہ کیا اور کئی کو نقصان پہنچایا یہ مشن ایک کامیاب مشن ثابت ہوا۔ اس مشن میں کیے گئے دعوے غیر واضح رہے کیونکہ صرف جرمن ہوابازوں کے دعووں اور روسی نقصان میں تضاد رہا۔

جنکر جی ۸۷ (JU87G)ٹینک شکن طیاروں کو جرمنوں نے۳ ۹۴ ۱ میں متعارف کرایا۔ اسے وسیع طور پر آزمایا گیا۔ اس میں دونوں پروں کے نیچے دو عدد۷ ۳ ملی میٹر۲/۱ ۱ انچ دھانے کی تو پیں نصب تھیں۔ ہر گن کے ساتھ ۶ گراؤنڈ کلپ گنجائش تھی۔ یہ گنیں روس کے بھاری ٹینکوں کے اگلے حصے کو تباہ نہیں کر سکتی تھیں مگر بعد میں تجربوں سے پتہ چلا کہ ٹینک کے انجن والے حصے اور پیچھے کے حصے پر نشانہ داغا جائے تو کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ہری کین ٹوڈی کی طرح جرمن(جنکر جی ۷۸) طیارہ بہترین ٹینک شکن اور بہترین غوطہ خور بمبار حملہ آور طیارہ ثابت ہوا اور اس نے جرمنی کی دفاعی لائن کو مضبوط کیا اور دشمن کی زمینی مزاحمت کے باوجود بہترین کامیابیاں حاصل کیں جر من فضائیہ کا ایک ہوابازمیجر ہینس الرچ روڈل (Maj Hens Ulrich Rudel) نے کئی مشنوں کی رہنمائی کی یہ(جنکر جی ۷۸)کے ہواباز تھے اور نڈر دلیر اور بہترین نشانہ باز تھے۔ روڈل اکثر اپنا شکار۰۰ ۳ میٹر قریب سے کرتے۔ اس طرح انہیں ٹینک پرنشانے کے لیے مختصر وقت ملتا لیکن کم فاصلے اور ہدف کے واضح ہونے اور بہترین نشانے کی بدولت یہ دشمن ٹینک کے پیچھے اور اوپری حصے اور انجن والے حصے کو نشانہ بنا لیتے تھے اور ان کا ہدف مشکل ہی سے بچ پاتا تھا۔ جنگ کے اختتام پر روڈل کے حساب میں۱۹ ۵ روسی ٹینکوں کی تباہی درج تھی۔ یہ دعویٰ اپنی مثال آپ تھا غالباً آج تک دنیا کے کسی ہواباز نے اس قدر ٹینک تباہ نہیں کیے ہوں گے ان تمام کامیابیوں کے باوجود جرمنی کو جنگ کے آخر میں جنگ کے دائرہ کار کو سمیٹناپڑا۔

جنگ عظیم دوئم کی شروعات کے ساتھ ساتھ بہترین ہتھیار آزمائے جانے لگے۔ روس نے جنگ میں دیگر ٹینکوں کے ساتھ بھاری ٹینک بھی استعمال کرنا شروع کر دیئے۔ انہیں تباہ کرنے کے لیے طیاروں کو زیادہ طاقتور گنوں کی ضرورت پڑی۔ اس مقصد کے لیے(Henschel-129) طیارے میں مارک ۱۰۱ نامی۳۰ ملی میٹر دھانے کی گنوں سے بہتر ۵۰ ملی میٹر (۲ ا نچ) اور بعد میں بعض طیاروں میں ۷۵ ملی میٹر (۳ انچ) دھانے کی تو پیں بھی نصب کی گئیں۔ ان گنوں کی تنصیب سے ٹینکوں کو بہترین طور پر تباہ کیا جا سکتا تھا مگر ساتھ ہی طیاروں کی رفتار میں فرق آتا اور یہ حملہ آوری کے دوران کم رفتار ہو جاتے اور ان کے مد مقابل مزاحمتی طیاروں اور زمینی مزاحمت کے لیے یہ آسان شکار ثابت ہوتے(FW-190)زمینی حملہ آور طیارے دشمن ٹینکوں پر کلسٹربم طرز کے بم گراتے جو کہ(SD10) ۱۰ کلوگرام وزنی ایمونیشن اور شیپڈ چارج (Shaped Charge Warheads) وارہیڈ سے لیس ہوتے تھے۔ روسیوں نے جرمن طیاروں کے مد مقابل، سنگل انجن والاایلوشن آئی ایل ٹو شٹر مووک (Ilyushin 2 Shturmovik) کو بڑے پیمانے پراستعمال کیا ایلوشن ٹو نچلی پرواز کرنے والا حملہ آور طیارہ تھا اس کی ۸ ملی میٹر موٹی فولادی دیوار طیارے کے کاک پٹ(Cockpit) کی حفاظت کرتی تھی اور ساتھ ہی انجن و فیول ٹینک کی دیوار میں بھی موٹی فولادی تھیں کا کپٹ کا شیشہ موٹی تہوں سے بنے شیشوں سے بنایا گیا تھا تاکہ ہواباز دشمن کی گولیوں سے محفوظ رہے جبکہ ۸ ملی میٹر موٹا فولادی حصار طیارے کو دشمن کی گولیوں سے محفوظ رکھتا۔ ایلیوشن ٹو طیارے تقریباً ۳۶۱۳۶کی تعداد میں بنائے گئے غالباً اس تعداد میں کوئی اور طیارہ نہیں بنایا گیا۔ اتنی بڑی تعداد کے باوجود جرمنوں نے انہیں کثیر تعداد میں تباہ کیا اس کے باوجود یہ جرمنوں کے لیے مد مقابل کے طور پر ہر وقت دستیاب رہتے ایلیوشن ٹو کم رفتار والے۸۲ ملی میٹر (۴/۱ ۳ انچ) دھانے اور۱۳۲ ملی میٹر ( ۴/۱ ۵انچ) راکٹوں سے لیس تھے جو کہ ٹینکوں کے خلاف کارگر ثابت ہوئے۔ان راکٹوں کی بناء پر ٹینک مکمل طور پر تباہ ہو تا یا پھر عملی طور پر ناکارہ ہو جاتا۔ ایلوشن ٹو طیارے بھی شیپڈ چارج وارہیڈ(PTAB) ایمونیشن سے لیس کلسٹر بم استعمال کرتے تھے جو کہ وسیع رقبے پر تباہی پھیلاتے تھے۔ ایلوشن ٹو طیاروں کی کچھ تعداد کو۳۷ ملی میٹر دھانے کی گنوں سے بھی لیس کیا گیا جو کہ زیادہ کامیاب ثابت نہ ہو سکیں۔ ایلیوشن ٹو شٹر مووک یونٹ نے جرمنوں کے کثیر تعداد میں ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا مگر ان کی صحیح تعداد کبھی بھی معلوم نہ ہو سکی اور خود روس نے بھی کبھی ان دعووں کو صحیح ثابت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

۲ ۹۴ ۱ کے اختتام پر برطانوی فضائیہ نے ٹینک شکن رول کے لیے گنوں کے بجائے ۳ انچ کے راکٹ پر انحصار زیادہ کر دیا۔ یہ راکٹ۲۷ کلوگرام وار ہیڈ اور۷ء۷ کلوگرام انتہائی دھماکہ خیز مواد سے لیس تھے جو کہ زمینی اہداف کی تباہی کے لیے بے حد خطر ناک تھے یہ راکٹ لانچ ہونے کے بعد۵ء۱ سیکنڈ کے اندر۱۶۰۰کلومیٹر فی گھنٹے یعنی۱۰۰۰ میل فی گھنٹہ کی تیز ترین رفتار حاصل کر لیتے تھے اس طرح یہ ٹینکوں کے خلاف بے حد موثر ثابت ہوئے۔ ہاکر ٹائیفون طیارہ جو کہ برطانوی فضائیہ کا بہترین فائٹر بمبار طیارہ تھا۔ ٹائیفون زمینی اہداف کے لیے بہترین اسلحہ سے لیس ہو کر موثر کارروائی کر سکتا تھا یہ آٹھ عدد راکٹوں سے لیس ہو کر ۵ ہزار فٹ کی بلندی سے حملہ آور ہو تا تھا اور۳۰ ڈگری کا زاویہ بناتا ہوا اپنے ہدف پر غوطہ لگا تا اور اپنے راکٹوں کو یکے بعد دیگرے لہروں کی صورت میں داغتا اور قریب آنے کے بعد یعنی تقریباً۵ ۹۱ میٹر کا فاصلہ راکٹ داغنے کے لیے بہترین فاصلہ ہو تا۔ علاوہ ازیں یہ اپنی مشین گنوں سے بھی کارروائی کرتا۔ ۱۳انچ کے راکٹ کے داغنے کے لیے غوطہ مارنے کا زاویہ اور ہدف اور طیارے کے درمیان فاصلہ بہت اہمیت رکھتا تھا۔ زاویہ اور فاصلے کی تمیز یا درستگی کو ہواباز اپنے اندازے سے ہی ممکن بنا سکتا تھا جو کہ بڑا مشکل عمل ثابت ہو تا خاص کر ۳ درجے زاویے کا غوطہ خود زاویے کا فرق یا فائر کرنے کے لیے فاصلے میں ۵۱ فیصد غلطی راکٹ کو۱۵ میٹر یا۰ ۵ فٹ تک ہدف سے بھٹکا دیتی تھی اور تو اور حرکت کرتے ہوئے ہدف پر نشانہ لینا بے حد مشکل عمل تھا۔ اس کے ساتھ ہوا کی رگڑ کشش ثقل یعنیG قوت کا دباؤ بھی بہت سی مشکلات پیدا کرتے تھے ۳ انچ کے راکٹ اپنی تیز رفتاری اور تباہ کن صلاحیت کی بناء پر ہدف سے بھٹکنے کے باوجود بڑی تباہی بر پا کرتے۔ مگر انہیں داغنے میں بہت ہی زیادہ غلطیاں کی گئیں اگست۹۴۴ ۱میں (Falaise Gap)کے مقام پر اتحادی افواج کی فضائیہ کے بمبار طیاروں نے جرمن زمینی یونٹوں کے خلاف بھر پور پروازیں کیں۔ آرمی آپریشن ریسرچ ٹیم کے ارکان نے جو کہ زمینی نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا تھا، اس علاقے میں جرمن نقل و حرکت کو نوٹ کیا اس نے تقریباً ۵ ۳۸ ٹینک اور دیگر فوجی گاڑیوں اور توپوں کو علاقے میں پایا۔ اس کے جواب میں اتحادی فضائیہ نے فضائی کارروائی کی۔ اس معرکے میں جرمنی کے ۱۳ ٹینکوں اور خودکار توپوں کا تباہ کیا گیا۔

ان میں گیارہ عدد کو براہ راست راکٹوں سے اور دو عدد کو بموں سے تباہ کیا گیا۔ مارچ۱۹۴۵ میں سیکنڈ ٹیکٹیکل ایئر فورس ہیڈ کوارٹر کے تجزیہ نگاروں نے دوران جنگ راکٹوں کی کار کردگی کا جائزہ لیا خفیہ رپورٹ کے مطابق آٹھ راکٹوں سے لیس ایک طیارے کا صرف ایک راکٹ ہی صحیح تناسب سے ہدف پر گر سکا۔ فلائس کے مقام پر کی گئی فضائی کارروائی میں صرف دو فیصد کامیابی حاصل ہو سکی لیکن اس کے باوجود اتحادی فضائیہ کی طرف سے جرمنی کی سپلائی لائن توڑ دینے کی بناء پر جرمن کے کئی ٹینک ایندھن کی عدم دستیابی کی بناء پر ناکارہ ہو گئے۔ جنگ عظیم دوئم میں دیگر ممالک کی فضائیہ کے علاوہ امریکی فضائیہ نے بھی جرمنوں کے خلاف بھر پور کارروائی کی۔ دسمبر۱۹۴۴ میں بلگ(Bulge) کے مقام پر امریکی ری پبلک(P47) تھنڈر بولٹ طیاروں نے کثیر تعداد میں ۴۱۱ ملی میٹر (۲/۱ ۴ انچ) قطر کے (M10)راکٹ داغے۔ ان کارروائیوں میں امریکی طیاروں کے ساتھ ہمیشہ کی طرح بر طانوی ٹائفون طیاروں نے بھی حصہ لیا۔ ان امریکی و بر طانوی طیاروں نے دشمن کے۷۵۱ ٹینک اور دیگر گاڑیوں کے نقصان کا دعویٰ کیا بعد میں ایک اور کارروائی میں ان طیاروں نے۶۶ ٹینک اور۳۴ دیگر گاڑیوں کو تباہ کیا۔ تجزیہ نگاروں کی رپورٹ پر یہ تعداد۵۷ ٹینک۸ ۱ خودکار توپوں اور ۶ ۲دیگر گاڑیوں کی تباہی تک ہو گئیں۔اس کے ساتھ ۴ عدد ٹینک دو خودکار توپیں اور ایک فوجی گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا۔ جرمنی کی فضائیہ لفتحواف نے بھی ۸ سینٹی میٹر ( ۴/۱ ۳ انچ) کے (Panzer Blitz) راکٹ جنگ کے اختتام پر آزمائے اور اتحادی زمینی افواج کو کافی نقصان پہنچایا۔

جنگ عظیم دوئم کے اختتام تک ٹینکوں کے خلاف معرکہ آرائی جاری رہی جنگ کے بعد تمام متعلقہ ممالک نے اپنی فوجی طاقت کو مضبوط کرنے کے لیے نت نئی تحقیق کی مدد سے نت نئے ہتھیار و دفاعی نظام تخلیق کیے۔ کوریا کی جنگ میں امریکیوں نے۱۹۴۵ کے ونٹیج ٹائپ کے جدید راکٹ اور(Napalm)بم استعمال کیے۔ نیپام فوجی قافلوں، فوجی گاڑیوں اور دیگر اہداف کے لیے موثر اور بہترین ہتھیار کے طور پر سامنے آیا یہ وسیع رقبے پر تباہی پھیلاتا ہے۔ یہ دراصل طیارے کے پروں کے نیچے علیحدہ سے لگنے والے ایندھن ٹینک کی طرز کا خول ہوتا ہے جس میں پیٹرول جیلی بھر دی جاتی ہے یہ ہلکے سے دباؤ پڑنے پر آگ پکڑ لیتی ہے اور پھٹ کر وسیع رقبے پر آگ پھیلا دیتا ہے اور ہر چیز کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔ اسے ہدف کے اوپر۱۰۰ فٹ کی بلندی سے گرایا جا سکتا ہے اور ٹینک پر گرائے جانے والے(Napalm)بم کی آگ کا شعلہ ٹینک کو جلاکر کافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔۱۹۶۰کی دھائی میں ٹینکوں کے خلاف بہتر اور موثر طریقے و ہتھیار آزمائے گئے۔ جنگ عظیم کے سست رفتار طیاروں کی جگہ آواز سے تیز میک ون/ٹو ر فتار کے بہترین حملہ آور طیارے وجود میں آئے جو کہ اپنی تیز رفتاری کی بناء پر زمینی مزاحمت سے بچ نکلتے ہوئے اپنا اسلحہ ریٹار ڈ بم، کلسٹربم، راکٹ، جنرل پر پزبم و دیگر ہتھیار حملہ آوری میں معاون بہترین آلات و نظام کی بدولت پہلے سے بہتر نشانے سے داغے جانے لگے۔ ماضی کے مقابلے میں اسلحہ اٹھانے کی استعداد میں بھی اضافہ ہوا ساتھ ہی ان کی ہلاکت خیزی میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا۔

۱۹۶۵ کی پاک بھارت جنگ میں پاک فضائیہ نے بھارتی زمینی پیش قدمی کے خلاف بھر پور کارروائی کی۔ ۶ ستمبر۱۹۶۵ کو لاہور کی طرف پیش قدمی کے سلسلے میں بھارتی زمینی افواج نے کئی محاذوں سے پاکستان پر حملہ کر دیا۔ ۸ ستمبر کو مغربی پاکستان کے جنوبی علاقے میں کراچی کے مشرق میں سندھ کے ایک دیہات گڈرو پر دشمن نے ایک بٹالین اور دو بکتر بند اسکواڈرن سے حملہ کیا اور گڈرو پر فوراً قابض ہو گیا ساتھ ہی گڈرو سے پندرہ میل دور راجستھان کے ریگستان سے حیدر آباد اور کراچی کی طرف جانے والی ریلوے لائن پر واقع کھوکھرا پار کی سمت پیش قدمی شروع کر دی۔ پاک آرمی نے جوابی کارروائی کے ساتھ ماری پور ایئر بیس (موجودہ مسرور ایئر بیس) سے فضائی مدد طلب کرلی۔(۹) ستمبر کوایف-۸۶ سیبر طیاروں نے صرف ۹ پروازوں کے ذریعے دشمن کی سپلائی لائن اور فوجی اجتماع پر حملوں کے ساتھ اپنی جوابی کارروائی سے بھارتی علاقوں میں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ سپر طیاروں نے اس کارروائی میں دشمن کی کم از کم۶ ۲فوجی گاڑیوں اور ریلوے کی دس ویگنوں کو تباہ کیا۔ ۰ ۱ستمبرکو گڈرو اور موناباؤ کے اطراف دشمن پر فضائی مدد سے مزید حملوں کے بعد پاک آرمی نے ہندوستان کی سرحد کے چھ میل اندر موناباؤ اور اس کے ریلوے اسٹیشن پر قبضہ کر لیا۔ ۸ تا۷۱ ستمبر تک روزانہ ایک ٹی ۳۳ تربیتی طیارہ ماری پور سے اڑ کر دشمن پر حملہ کرتا اور اس طرح اس طیارے نے۲۰ حملے کیے اور پوری جنگ میں ۷ ۲مشن مکمل کیے۔ ٹی ۳۳ طیاروں نے ۷ تا ۲۲ ستمبر تک بھارت کی۲ ۶توپوں اور۶ ۱ریلوے ویگنوں کی تباہی اور گاڑیوں کے نقصان کا اعزاز حاصل کیا۔ اسی جنگ میں سیبر طیاروں کی تقریباً ۵۰۰ مہمات میں پاک فضائیہ کو دشمن کے خلاف فضائی کارروائی کرنا پڑی جس کے دوران ہندوستانی طیارہ شکن سے کسی سیبرکو نقصان نہیں ہوا۔ جبکہ چند جوابی کارروائی اور ایک ریل پر حملہ کرتے ہوئے خود ہی پھٹ جانے کی بناء پر تباہ ہوئے۔ بھارتی زمینی تو پچیوں نے اپنی بہترین نشانہ بازی سے ایک بھی سیبرطیارہ نہیں مار گرایا لیکن اس کے برعکس ٹینکوں، فوجی گاڑیوں اور فوجی دستوں پر حملوں کے دوران بھارت کی عددی برتری کے سبب بھارتی گولہ باری کی شدت سے کم از کم ۵۸ سیبرطیاروں کو یعنی پاک فضائیہ کی نصف سیبر فورس کو ہندوستانی زمینی فائر سے نقصان پہنچا۔اس کے مقابلے میں پاک آرمی کے طیارہ شکن تو پچیوں نے۷۲ بھارتی طیارے مار گرائے اور بحریہ نے ۳ طیارے مار گرائے پاک فضائیہ کے طیارے بھارتی فضائی مداخلت کا بھر پور مذاق اڑاتے ہوئے درسی کتابوں کے اصول پر عام تربیتی طریقوں سے اپنے اپنے ہدف کو ٹھکانے لگاتے اور منظم حلقہ بنا کر ایک کے بعد ایک کارروائی کرتے جبکہ ان کے پچھلے ساتھی ان کا عقب محفوظ رکھتے۔

پاک فضائیہ کے سیبر طیاروں کے کسی بھی ہدف پر تیس منٹ تک کارروائی جاری رکھنے کے واقعات عام تھے اس کے برعکس بھارتی فضائیہ کے طیارے کسی ہدف پر ایک بار ہی جھپٹتے اور اکثر ادھر ادھر گولے برساکر نکل جاتے۔ یکم ستمبر تا ۲۲ ستمبر کے دوران صرف ایف ۸۶ سیبرطیاروں نے ۱۴۹ ٹینکوں، مختلف اقسام کی ۶۶۶ گاڑیوں اور ایک مال گاڑی کو مکمل تباہ کرنے کے علاوہ۵۶ ٹینکوں اور۲۹ فوجی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اس کے بر عکس بھارتی فضائیہ کے ہاتھوں صرف ایک ٹینک تباہ ہوا اور ایک کو ٹریک اڑ جانے سے نقصان پہنچا جبکہ بھارتی فضائیہ کم از کم۱۲۰ پاکستانی ٹینکوں کی تباہی کا دعوی کرتی ہے۔ اس کی وجہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت بھارتی حملے تھے اور دھند اور کہر کی بناء پر اکثر نشانے خالی جاتے اور ان کے دعوے صرف بھارتی ہوا باز کی بیان بازی پر ہی تسلیم کیے جاتے ایک واقعہ میں اسکواڈرن لیڈار شد کی زیر کمان سیبرفارمیشن نے پاک آرمی کے ٹینکوں کو دشمن سمجھ کر حملہ کر دیا۔ خوش قسمتی سے فوراً ہی فلائٹ لیفٹیننٹ مختار نے ٹینکوں کو اپنے دوست شناخت کر لیا لیکن اس دوران پاک آرمی کی توپوں نے انہیں گھیر لیا تھا اور پاک آرمی کے تو پچیوں کی بہترین نشانہ بازی کے سبب لیفٹیننٹ صدر الدین کے نمبر ۴ سیبرنے آگ پکڑ لی اور مجبوراً انہوں نے طیارہ چھوڑ کر بذریعہ پیراشوٹ کو دکرجان بچائی۔

سرگودھا میں تعینات نمبر۳۲ اسٹرائک ونگ کا کام ٹینک شکنی بھی تھا۔ اس مقصد کے لیے سیبرطیاروں کو شدید دھماکہ خیز ٹینک شکن حربی انی سے لیس۷۵ء۲انچ کے تہہ شدہ پنکھ والے ٹینک شکن راکٹوں (ایف ایف اے آر) سے لیس کیا گیا نمبر۳۲اسٹرائک ونگ کی حربی قوت میں دو اسکواڈرن جن میں سے ہر ایک۱۲سیبر طیاروں سے منظم تھا شامل تھے۔ یہ طیارے ۴ سے ۶ ستمبر کے دوران ماری پور سے سرگودھا پہنچائے گئے تھے۔ دونوں اسکواڈرن نمبر۱۷ اسکواڈرن لیڈر عظیم داؤد پوتہ اور نمبر ۱۸ اسکواڈرن اسکواڈرن لیڈر علاؤ الدین بچ کے زیر کمان تھے۔ یہ دونوں اسکواڈرن دیگر سرگودھا کے سیبرطیاروں کے ساتھ لاہور، امر تسر روڈ اور کشمیر پر فضائی نگہبانی کا کام انجام دیتے اور وقت پڑنے پر زمینی کارروائی کے لیے تیار رہتے۔سیبر طیاروں کو ٹینک شکن رول کے لیے جن راکٹوں سے لیس کیا گیا تھا یہ راکٹ طیارے کے بازؤوں کے نیچے نصب ۴ عدد ایسے خول میں بند ہوتے اور جن کو با آسانی پھینکا جا سکتا تھا۔ ہر خول میں ۷ عدد(ایف ایف اے آر) تھے یا پھر پانچ انچ والے ۸ راکٹوں سے ہر سیبر مسلح ہوتا۔ مخصوص اہداف کے لیے نیام بم استعمال کیے جاتے اور اعشاریہ ۵ انچ کی نالی والی براؤننگ مشین گن تین سو راؤنڈ فی منٹ کے حساب سے سخت اور نرم کھال والے شکار کے لیے بہت موثر ہتھیار ثابت ہوتی۔۷۵ء۲انچ کا چھوٹا سا مہلک راکٹ عام مقاصد کے لیے بہترین ہتھیار تھا۔ کیونکہ فوراً طلب کیے جانے کی صورت میں طیارے کو ان راکٹوں سے فوراً مسلح کیا جا سکتا تھا۔ ان راکٹوں کو ہدف پر پہنچانے کے لیے گن کی طرح ٹھیک ٹھیک نشانہ بازی ممکن نہ تھی لیکن جب یہ ساتوں راکٹ ایک ساتھ فائر کیے جاتے تو ٹینک کو اڑانے میں۵ ۷ تا۸۰ فیصد کامیابی یقینی ہوتی۔ کشمیر کے اندر سمبا سیکٹر میں ۱۰ اور ۱۱ ستمبر کے دوران اس اسٹرائیک ونگ کے موثر ہونے کا ثبوت مل چکا تھا۔ سیالکوٹ اور جسٹر پر یلغار کے لئے ہندوستانی افواج کا بکتر بند گاڑیوں کا بڑا اجتماع موجود تھا اس پر نمبر۲ ۳اسٹرائک ونگ کی خصوصی توجہ کے بعد دودن کی خصوصی کارروائی کے نتیجے میں۹ ۱ٹینکوں اور سو فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا گیا۔ ۹اور۱۰ ستمبر کو چونڈہ میں ہندوستان کی یلغار کو روکنے کے لئے قصورکے اطراف بڑی تعداد میں پاک آرمی کے ٹینک اور دوسر ا سامان ریل کے ذریعے شمالی علاقے میں منتقل کرنے اور اس پر بھارتی فضائیہ کی یلغار کو پاک فضائیہ اور پاک آرمی نے موثر طریقے سے روکے رکھا۔

۷ ستمبر کو ونگ کمانڈر تواب کی قیادت میں سمبا سیکٹر اور سیالکوٹ میں چار وا کے مقام پر بری فوج کی مدد کے لیے چار سیبر طیارے سرگودھا سے طلب کیے گئے۔ انہوں نے اپنی کارروائی میں چودھویں ہندوستانی انفنٹری ڈویژن کے کئی ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا۔۱۳ ستمبر کو پاک فضائیہ کے اس نمبر۳۲ اسٹرائک ونگ نے اسکواڈرن لیڈر(بچ)کی قیادت میں چار سیبرفلائٹ لیفٹیننٹ سلیم، امان اللہ اور منظور کے ساتھ صبح کے وقت نارووال سیکٹر میں دشمن کے بہت سے ٹینکوں اور تو پوں کو اڑایا۔ بری فوج کی پشت پناہی کے لیے سیبرایف۸۶ طیاروں کی طرف سے۴۸۱ کارروائیوں میں اس ونگ نے۴۰۰ سے زائد حملے کیے۔ فضاء میں فضائی برتری حاصل ہونے کے بعد صرف سرگودھا کے سیبرطیاروں نے بری فوج کی پشت پناہی کے لیے روزانہ تیس سے چالیس پروازیں کیں اور صرف ایک طیارے کا نقصان ہوا وہ بھی ایک اسلحہ سے لوڈ مال گاڑی پر حملے کے دوران اسلحہ کے دھماکے کی زد میں آنے کی بناء پر تباہ ہوا۔ زمینی حملوں کے دوران سرگودھا کے تقریبا ہر سیبرکو چوٹ آئی مگر اس کے باوجود یہ طیارے ہدف پر تیس منٹ گزارنے سے باز نہ رہے۔ ۵۱ ستمبر کو چونڈہ اور سمبا کے درمیان زمین سے ہونے والی شدید گولہ باری بھی پاک فضائیہ کے سیبر اسٹرائک ونگ کے طیاروں کو(۱۰) ٹینکوں،۱۳۷ فوجی گاڑیوں اور دو تو پوں کی تباہی سے نہ روک سکی۔

اگلے دن دشمن چونڈہ اور جسورن میں برسر پیکار تھا تو پاک فضائیہ کے ان طیاروں نے مزید۸۱ ٹینک۶ ۲موٹر گاڑیاں اور۲ ۱ عدد توپیں تباہ کیں۔ اس سے اگلے دن انہی طیاروں نے معرکہ چونڈہ کو دشمن کے سینچوین ٹینکوں کا قبرستان بنایا۔۱۹ ستمبر کو پاک فضائیہ نے ۱۹ ٹینک اور ۶ موٹر گاڑیاں تباہ کیں۔ معرکہ چونڈہ میں بھارت نے خونی اشنان کا بدلہ لینے کے لیے۱ ۲ستمبر کو لاہور اور کھیم کرن پر ایک زبر دست حملہ کیا۔ حالانکہ ہندوستان کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت ہو رہی تھی اور ہندوستان نے ۲۲ ستمبر سے زیر عمل آنے والے جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ میں پندرہ گھنٹے کی مہلت اس لیے طلب کی تھی تاکہ وہ اپنے تمام دستوں کو جنگ بندی کی اطلاع کر سکے لیکن پاکستان بھارت کی اس چال کو اچھی طرح جانتا تھا۔۲۱ ستمبر کو ہندوستان نے اپنی بھاری توپیں جلو اور اٹاری کے در میان تعینات کر دیں تاکہ لاہور پر گولہ باری کی جا سکے۔ پاک فضائیہ نے آغاز کے طور پر ونگ نمبر۲ ۳کے آٹھ سیبرطیاروں سے ان پر حملہ کیا اسکواڈرن لیڈر عظیم داؤد پوتہ بھی چار سیبرطیاروں کی قیادت کر رہے تھے بقیہ چار کی قیادت امان کر رہے تھے یہ طیارے راکٹوں اور نیپام بموں سے لیس تھے اس موقع پر دشمن کی توپوں کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی کے لیے پاک آرمی کے توپ خانے نے سینسر دھوئیں کے گولے استعمال کیے اور دشمن کی طرف سے دھوئیں کے جعلی اشاروں اور آرٹی (ریڈیو ٹرانسمیشن) پر دھوکہ دینے والے پیغامات کے باوجود پاک فضائیہ نے بالکل ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے اور دشمن کی درمیانے درجے کی۱۵ اور ۵ بھاری توپوں کے ساتھ دو عدد ٹینک اور کئی موٹر گاڑیاں تباہ کیں انہی سیبر طیاروں نے گڈرو اور ڈلی سیکٹر میں دشمن کے۳ ٹینک ایک دستہ بردار گاڑی، اسلحہ کے چار ٹرک اور دیگر گاڑیاں تباہ کیں۔ واہگہ اٹاری اور کھیم کرن وہی علاقہ تھا جہاں اس ونگ نے ۶ ستمبر کو زمینی حملوں کا آغاز کیا اور آخری مرحلے میں بھی یہ یہاں موجود تھے، انہوں نے اپنی فہرست میں مزید پانچ ٹینک اور۱۲ موٹر گاڑیوں کی تباہی کا اضافہ کیا۔ ۲۲ ستمبر کو کھیم کرن پر بھارتی قبضہ کی کوشش ناکام بنانے کے سلسلے میں اس ونگ نے مزید دو ٹینک ایک درمیانے درجے کی توپ اور کئی عدد موٹر گاڑیاں تباہ کیں بی آربی نہر پر مزید کمک کے ساتھ دشمن وارد ہوا تو پاک فضائیہ نے کل۶۸ پرواز میں کیں اور ان کا ایک بھی طیارہ ضائع نہیں ہوا اس کے بر عکس فضاء میں کم نظر آنے ولے بھارتی طیاروں میں سے ایک ہنٹر طیارے کو پاک آرمی کی توپوں نے مار گرایا۔ اس جگہ ہندوستانی زمینی حملوں کا زور توڑنے کے لیے پاک فضائیہ کے ۴(B57)کینبر ا طیاروں نے اٹاری سیکٹر میں دن کی روشنی میں ایک کارروائی کے دوران ایک ہزار پونڈ وزن کے۲۸بم گرا کر درختوں اور جھاڑیوں کی آڑ میں چھپی ہوئی ہندوستانی بکتر بند اور موٹر گاڑیوں میں سے ۲ ٹینک اور ۲ موٹر گاڑیاں تباہ کیں۔ علاوہ ازیں سیبرطیاروں کی کارروائیوں کے ساتھ ان طیاروں نے اعشاریہ پانچ انچ کی مشین گنوں سے ساڑھے تین لاکھ گولیوں کی بارش سے ہندوستانی دستوں کو سخت جانی نقصان پہنچایا۔ رات۱۱ بج کر ۲ منٹ پر پاک فضائیہ نے۹۶۵ ۱کی جنگ کی آخری پرواز کی۔

اس جنگ میں کامیابی حاصل کرنے والے ونگ نمبر۳۲ کے چار اراکین اسکواڈرن لیڈر عظیم داؤد پوتہ فلائٹ لیفٹیننٹ سید منصور الحسن ہاشمی، امان اللہ اور سیف اعظم کو ستارہ جرأت عطا کیا گیا۔ جنوب کے دور دراز علاقے میں بری فوج کی عملی امداد کے لیے سیبر کی ایک اور چھوٹی سی فورس نے اسکواڈرن لیڈر اے اے رندھاوا کی قیادت میں ماری پور سے پرواز کر کے ۳۳ بار راجستھان میں ہندوستان افواج کے خلاف کارروائیاں کیں اور۳۰ ٹینک اور۱۰۵ موٹر گاڑیاں تباہ کیں اور دشمن کی تیاریوں اور ذرائع مواصلات میں خلل ڈالا۔ ماری پور کے سیبر طیاروں نے مجموعی طور پر۱۶۰ پروازیں کیں جبکہ مغربی پاکستان کے شمال میں اسکواڈرن۱۹ نے ساری جنگ میں جو شیلے نوزی حیدر کی قیادت میں بھر پور کارروائیاں کیں اور اس اسکواڈرن نے ۷۱ ۵پروازیں کیں۔اس اسکواڈرن نے نیچی پرواز کے ساتھ ہدف پر پہنچ کر سب سے زیادہ شدید زمینی فائر کا رخ کر کے اپنا ہدف تلاش کرنے کا طریقہ اختیار کیا تھا۔ پشاور کے دیگر اسکواڈرن نے بھی چند کارروائیاں کیں مگر نمبر۱۹ اسکواڈرن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ سب سے خطر ناک تدبیر اختیار کرنے کے باوجود اس کے کسی طیارہ کا نقصان نہیں ہوا اور اس اسکواڈرن نے دشمن کے۱۴ طیارے تباہ کرنے اور ۶ کونقصان پہنچانے کے علاوہ۴ ۷ٹینک۴۰ ۱فوجی گاڑیاں اور۱۶ توپوں کو تباہ کیا جبکہ ۶۸ ٹینکوں اور۱۲ گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کا اعزاز حاصل کیا اسی اسکواڈرن نے ۸ ستمبر کو ہندوستانی کشمیر کے علاقے پٹھانکوٹ کے قریب رام گڑھ نالے کی کارروائی کے دوران بہتر بند گاڑیوں اور ایندھن فراہم کرنے والی گاڑیوں کو اپنی گنوں سے نشانہ بنایا۔ یہ اسکواڈرن راکٹ ختم ہو جانے کے بعد اپنی مشین گنوں سے دشمن کے زمینی دستوں کی گاڑیوں و ٹینکوں کے اے پی آئی اور انجن کو ٹھنڈا ر کھنے والے نظام کی حفاظتی دیوار اور ٹینک کے عقب میں حملہ کر کے کئی کامیابیاں حاصل کرتا رہا۔ اس طرح پاک فضائیہ نے۱۹۶۵ کی جنگ میں ٹینک شکن رول کو بھر پور طریقے سے ادا کیا۔

نمبر۱۷ اسکواڈرن ۶ تا۳ ۲ستمبر تک ۱۰۴ حربی پروازوں کے ذریعے۳۶ ۱گھنٹے فضاء میں سرگرم رہا اور اس اسکواڈرن نے۱۵ سے۳۰ ٹینک تباہ کیے اور سو سے ڈیڑھ سو تک گاڑیاں تباہ کیں اور۱۰۰ تا۳۰۰ دشمن فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارا عرب اسرائیل جنگ میں بھی اسرائیل نے عربوں کے مقابلے میں دشمن کی زمینی قوت کا بہت نقصان کیا۔۱۹۶۷ کی جنگ میں اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے گنوں، ان گائڈڈ بموں، راکٹوں اور کلسٹر بموں سے نہر سوئز کے قریب مصری زمینی افواج کا بے حد نقصان کیا۔ ٹینک کے خلاف فضائی کارروائی طیاروں کی بہترین کار کردگی طیاروں کی بہترین اقسام جدید سازوسامان گائیڈڈ و جدید ہتھیاروں کی ہولناکیوں کے ساتھ ساتھ ٹینکوں کو بھی مضبوط سے مضبوط اور جارح بنایا گیا اور اس کی حفاظت کو مزیدمضبوط کیا گیا۔

۱۹۷۰ میں پہلا گائیڈڈ میزائیل فکسڈونگ طیارے سے داغا گیا اور اس کے نتائج۱۰۰ فیصد کامیاب رہے یہ امریکی(Hughes AGM 65 Maverick) ماورک میزائل تھا۔ یہ ایک مکمل ٹینک شکن میزائل تھا۔۱۹۷۰ سے اب تک اس میزائل کی کئی جدید اقسام وجود میں آچکی ہیں اور دنیا بھر کی فضائیہ بشمول پاک فضائیہ میں یہ کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔۲۰۹ کلو گرام وزنی بشمول ۵۹ کلوگرام دھما کہ خیز مواد کے ساتھ یہ میزائل ٹی وی گائیڈڈ تھر مل امیج انفراریڈ گائیڈڈ میزائل ہے۔ میزائل کے اگلے حصے میں ٹی وی کیمرہ یا تھر مل امیج انفراریڈ کیمرہ وسینسر نصب ہوتا ہے۔ اسے ہدف پر ۲۲ کلو میٹر دور سے داغا جا سکتا ہے۔ا سے طیارے میں نصب ٹی وی ڈسپلے کے ذریعے میزائل میں لگے کیمرے کے عکس سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور آخری لمحوں تک اسے طیارے سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور اسے طیارے ہی سے دائیں بائیں اوپر نیچے حرکت دی جا سکتی ہے اور ہدف پر انتہائی درستگی سے گرایا جا سکتا ہے۔ اندھیرے میں تھر مل امیج انفراریڈ نظام کی بدولت ہدف تک رسائی ممکن،بنائی جاسکتی ہے اور جنگی میدان میں ہدف کی حرارت سے اسے تباہ کیا جا سکتا ہے۔ اس میزائل کو ۱۹۹۰ کی خلیجی جنگ اور یوگو سلاویہ کی جنگ میں کثرت سے استعمال کیا گیا۔

جنگ عظیم دوئم کے بعد سے کوئی ایسا طیارہ فضاؤں میں رقص نہ کر سکا جو خالصتاً ٹینک شکن رول کے لیے ہو۱۹۷۶ میں امریکہ نے ٹینک شکن رول کے لیے تمام پچھلے تجربات کی روشنی میں ایک انتہائی موثر اور با صلاحیت طیارہ (اے۰۱تھنڈر بولٹ) متعارف کرایا۔۱۹۷۶ تک تمام طیارے تیز رفتار لڑاکا حملہ آور طیارے تھے اور ان کا ٹینک شکن رول کے لیے استعمال ان طیاروں میں کئی طرح کی تبدیلیوں کا باعث بنتا اور اسی بناء پر کئی مشکلات بھی سامنے آتیں۔ ایف ۴ فینٹم ایس یو سیون، میراج اور دیگر طیاروں کو ٹینک شکن رول کے لیے استعمال کیا گیا مگر کہیں بھی مکمل اور بہترین نتائج حاصل نہ کیے جاسکے۔ کیونکہ کم بلندی پر کم رفتار سے پرواز کے دوران پھر تیلا پن ان طیاروں کو زمینی سام میزائل اور طیارہ شکن توپوں کے لیے آسان ہدف بنا دیتا ہے۔ ویتنام و دیگر معرکوں میں زمینی نقصان کے بر عکس طیاروں کا نقصان زیادہ ہوا۔ ان تمام تجربات کی روشنی میں امریکہ نے اسٹیٹ آف دی آرٹ ری پلک تھنڈر بولڈ اے۱۰ طیارہ متعارف کرایا۔ یہ طیارہ انتہائی نیچی پرواز کرتا ہوا مناسب رفتار اور بہترین حرکت پذیری و پھر تیلے پن سے حملہ آور ہوتا ہے۔ ہتھیاروں کی وسیع تعداد و اقسام بہترین نیویگیشن و حملہ ری نظام اور اس کی اپنی گوناگوں صلاحیتوں کی بناء پر یہ کسی حملہ آور ہواباز کا پہلا انتخاب ہو گا۔ جیگوار‘ٹار نیڈو ایف۱ ۱۱‘مگ ۲۷ اور ایس یو۲۵ فاگ فوٹ زمینی حملہ آور کے لیے بہترین طیارے ہیں مگر(A10)اپنی مثال آپ ہے۔ ٹینک شکن رول کے لیے تقریباً ۷۰۶ کلومیٹر فی گھنٹہ یعنی۱ ۳۸ ناٹ کی متوازن رفتار کی ضرورت ہوتی ہے۔(A10)طیارے کے لیے ہدف پر سبک رفتاری اور میدان سے فرار کے لیے تیز رفتاری کے لیے اس میں نصب دو عدد ٹربو فین انجن بہترین قوت فراہم کرتے ہیں۔ (A10)میں نصب۳۰ ملی میٹر دھانے کی گھومنے والی سات نالی والی جی اے یو ۸ گن نصب ہے جو کہ ہلاکت خیزی میں اپنی مثال آپ ہے جی اے یو ۸ گن ٹینک کی مضبوط سے مضبوط فولادی چادر کو پھاڑ کر اسے کباڑی کی دکان میں تبدیل کر دیتی ہے۔ اس کی گولی۳۰ ۷گرام وزنی ہوتی ہے اور اسے یورینیم دھات سے ملے دھما کہ خیز مواد سے لیس کیا جاتا ہے یہ گن سے نکلنے کے بعد۹۸۸ میٹر فی سیکنڈ کی شرح سے ہدف کی جانب لپکتی ہے۔ طیارے کے اگلے حصے میں ۱۱۷۴راؤنڈ کا میگزین سے بھرا ڈرم نصب ہوتا ہے۔

اس گن کی گولی اپنی جسامت میں ہوا باز کے ہیلمٹ کی اونچائی جتنی ہوتی ہے اور ہلاکت خیزی میں خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ یہ گن۸۰۰ ۱میٹر یعنی ۶ ہزار فٹ کی دوری تک ضرب لگا سکتی ہے۔ اس گن کے علاوہ اسے ۱۰ اپنے وسیع پروں کے نیچے ۸ سے۱۰ مختلف جگہوں پر مختلف اقسام کا اسلحہ و دیگر نظام میدان جنگ میں لے جا سکتا ہے۔ ان میں خود دفاع کے لیے دو عدد سائڈونڈر میزائل الیکٹرانک وار فیئر آلات نیویگیشن و حملہ آوری میں معاونت کار آلات ماروک پے وے لیزر گائیڈڈبم، جنرل پر پز بم، کلسٹر بم دیگر جدید اقسام کے ہتھیار شامل ہیں۔(A10) کو روسی ٹینکوں کے خلاف بھر پور کارروائی کے لیے تخلیق کیا گیا جو کہ فل لوڈ کے ساتھ اپنے مستقر سے۴۶۰ کلو میٹر کے دائرے میں کارروائی کر سکتا ہے اور اندرونی ایندھن کے ساتھ ۷ء۱ گھنٹے تک محو پرواز رہ سکتا ہے جبکہ فضاء میں دوبارہ ایندھن لینے سے اس کی صلاحیت دوگنی ہو جاتی ہے۔

۱۹۹۱ کی خلیج جنگ میں (A10)طیاروں نے پہلی مرتبہ کسی جنگ میں حصہ لیا(A10)طیاروں کے ہوابازوں نے اس جنگ میں ۹۸۷ عراقی ٹینکوں و دیگر گاڑیوں کی تباہی کا دعویٰ کیا جو کہ بعد میں تجزیہ نگاروں و دیگر شواہد کے بعد صرف ۳۳۰ عدد تک محدود ہو گیا۔ عراق نے اپنے یونٹس جنوبی عراق اور کویت کے صحرامیں متعین کیسے تھے اور بلڈوزروں کے ذریعے ۳ میٹر گہرے چوڑے گڑھے بنا کر ان میں ٹینک کو چھپا کر کارروائی کرتے تھے اور اردگرد کے ماحول سے مطابقت والے کیمو فلاج کی وجہ سے یہ ٹینک صحرا کی گرم ریت میں زمین سے اوپر آسمان سے صحرا کا حصہ محسوس ہوتے اور حملہ آور طیارے اور ماروک و دیگر ہتھیار ان کا عکس مشکل ہی سے پاتے۔ اس خلیجی جنگ میں ۸۴ ویں ٹیکٹیکل فائٹر ونگ کے جنرل ڈائنامکس(ایف۱۱۱) طیاروں کو عراقی زمینی افواج کے خلاف کارروائی کے لیے دیگر طیاروں کے ساتھ بھیجا جانے لگا یہ طیارے عراقی یونٹوں کے اوپر سے گزرے اور(پیوو ٹریک)اور پے وے لیزر گائیڈڈ بموں سے لیس ہو کر اندھیرے میں دیکھنے والے خصوصی آلات کی مدد سے ان چھپے ٹینکوں کو تلاش کرتے۔ صحرا میں دن کو گرم ماحول کی بناء پر ٹینک صحرا کا حصہ بن جاتے مگر رات کو صحرا کی ٹھنڈک کی بناء پر یہی ٹینک رات کے اندھیرے میں واضع ہدف نظر آتے۔

۵ اور ۶ فروری کی درمیانی رات۴۸ ویں ٹیکٹیکل ونگ کے(ایف ۱۱)طیاروں کی ایک جوڑی نے آزمائشی طور پر حملہ کیا ہر طیارہ ۵۰۰ پونڈ وزنی(GBU12)پے وے لیزر گائڈڈ بموں سے لیس تھا۔ ان طیاروں نے ۵۵۰۰ میٹر یعنی ۸ ۱ ہزار فٹ کی بلندی سے لیزر کے نشان زدہ ٹینکوں پر لیزر بم داغے اس کے نتیجے میں ۸ عدد بموں میں سے ۷ عدد بموں نے۹۰ فیصد کامیابی سے اپنے اہداف کو تباہ کیا۔(ایف۱۱۱) طیاروں نے(A10)کی برتری کو یہاں مات دے دی اور اس تدبیر کو وسعت دی گئی اور اس ونگ اور اس کے عملے کو(ٹینک پلنکنگ) کا نام دیا گیا۳۱۔۴۱ فروری کی درمیانی رات۴۶ ایف ۱۱۱ طیاروں کی فوج نے عراق کے ٹینکوں پر یلغار کی اور۳۲ ۱ ٹینکوں و دیگر گاڑیوں کی تباہی کا دعویٰ کیا اور مزید حملوں کا سلسلہ جاری رہا مگر ٹینکوں و دیگر نقصانات کا صحیح اندازہ کبھی نہ لگایا جا سکا۔ اسی بناء پر اکثر صور تحال غیر واضح رہی۔ اتحادی طیاروں نے ۹۲۰ عراقی ٹینکوں کی تباہی کا دعویٰ کیا جو کہ بعد میں ۴۶۰ ٹینکوں تک محدود ہو گیا اور اتحادیوں کے قبضہ کیے گئے علاقوں سے جو ٹوٹے پھوٹے و متاثرہ ٹینک ہاتھ لگے اس سے یہ بات پتہ چلی کہ ان لیزر گائیڈڈ بموں کے حملوں سے بھاری ٹینکوں کے پر خچے اڑ گئے اور جن پر ہم براہ راست نہ لگے انہیں بھی ان بموں نے ناکارہ کر دیا اور انہیں جنگ سے باہر کر دیا۔ امریکی(A10) کا حریف روسی(ایس یو۲۵) فراگ فوٹ طیارہ ہے جو کہ(A10)کی طرح کی خصوصیات رکھتا ہے۔ جیگوار،ٹار نیڈو طیارے بھی کامیاب زمینی حملہ آور طیارے کے طور پر سامنے آئے۔ جدید ٹیکنالوجی اور جدید آلات کے باوجو د رات کو حملہ کرنے کی صورت میں اصل ہدف کی پہچان مشکل ہے۔ حالیہ یوگو سلاویہ کی جنگ میں اتحادیوں نے فوجی قافلے کے بجائے مہاجرین کے قافلوں پر اکثر بمباری کی۔ برطانیہ کا(Harrier)طیارہ اپنی عمودی پرواز کرنے کی صلاحیت کی بناء پر ایک موثر طیارہ ہے اور اگلے مورچوں کے لیے اور کمانڈوز طرز کی جنگ کے لیے یہ ایک بہترین ہتھیار ہے۔ برطانیہ نے ہیلی کاپٹرز میں نصب ہونے والا(ہیلی فائر) کی طرز کاایک جدید ٹینک شکن میزائل(Brim-Stone)تخلیق کیا ہے۔

(۸ء۱میٹر)طویل اور۵۰ کلو گرام وزنی برم اسٹون میزائل(۱۲)تا(۱۸)عدد کی تعداد میں کسی طیارے میں نصب کیے جاسکتے ہیں۔ امریکی فضائیہ و دیگر فضائیہ کم بلندی سے حملہ آوری کے لیے ۳ طرح کی حملہ آور حکمت عملی اختیار کرتے ہیں ان میں (Loft)اٹیک (Level Pass)اور(POP-UP) اٹیک ٹیکنیک شامل ہیں حکمت عملی میں در اصل نچلی پرواز کرتے ہوئے ہدف کی جانب جاتے ہیں اور ہدف سے پہلے اچانک بلند ہو کر ہدف کی جانب غوطہ لگاتے ہوئے اسلحہ ان پر گرایا جاتا ہے۔

ان تدابیر کے علاوہ(Split Attack)(Trap Attack)اور(Echelon Attack)جیسی تدبیریں بھی اپنائی جاتی ہیں ان حکمت عملی میں ایک طیارہ ہدف کو تلاش کرتا ہے اور اس پر حملہ کرتا ہے جبکہ دوسر ا طیارہ اس ہدف پر آخری اور بھر پور ضرب لگاتا ہے تاکہ ہدف مکمل طور پر تباہ ہو سکے۔ جدید دور کی ٹیکنالوجی میں سیٹلائٹ نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے گلوبل پوزیشننگ نظام کی بدولت حملہ آور طیارے زمینی مزاحمت اور سام میزائلوں کی حد سے باہر رہتے ہوئے حملہ کر سکتے ہیں۔ ایک حالیہ آزمائش میں ایک بی ٹو بمبار طیارے نے ۴۴ ہزار فٹ کی بلندی سے جی پی ایس نظام سے لیس جدید ان گائڈڈ جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونٹیشن(JDAM) بم داغا اور یہ بم ہدف سے صرف۳ میٹر ہٹ کر پھٹا اس طرح اس صلاحیت نے حملہ آوری کی ایک نئی جہت کا اضافہ کر دیا ہے۔ ماضی و حال کے تجربات کی روشنی میں نت نئے ہتھیار تخلیق کیے جا رہے ہیں تاکہ زمین پر چلنے والے اس ہاتھی ٹینک کو روکاجاسکے۔

خالہ اور بھانجے کی سلطنت

قدرت کے بے شمار شاہکاروں میں سے ایک شاہکار مخلوق بلی اور اسکی نسل سے تعلق رکھنے والے ممبران جن میں شیر، چیتا،تیندوااور دیگر شکاری جانور شامل ہیں شکار کرنے کی عمدہ صلاحیتوں کے سبب اپنے اپنے دائرہ کار میں بادشاہ یا سربراہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ وہ واحد نسل ہے جو۴ ۳ ملین سالوں سے اپنی شان و شوکت اور جاہ جلال کے جھنڈے گاڑ رہی ہے۔ ان بہترین صلاحیتوں کی وجہ سے بلیوں کو قدیم مصر میں دیوتا کی حیثیت حاصل تھی اور انکا اس قدر احترام کیا جاتا تھاکہ اگر کوئی شخص غلطی سے کسی بلی کو ہلاک کردیتاتو اسکی سزا سزائے موت ہوتی تھی اور اگر کسی کے گھر میں بلی اپنی طبعی موت مرجاتی تو گھر کے تمام افرادبطور ندامت اپنی بھونیں استرے سے صاف کرا لیا کرتے تھے۔

شیر،پھرتی، چلاکی،سمجھداری،بہادری اور جلال کی علامت ہے انہی خصوصیات کے بل بوتے پر وہ جنگل کا بادشاہ کہلوائے جانے کابجا طور پر مستحق ہے جس کا تعلق بلیوں کی بڑے سائز کی نسل سے ہے۔ غذائی چکر کا یہ وہ واحد جانور ہے جو انسان کے بعد غذائی چکر میں سب سے اونچا سمجھا جاتا ہے اور اسی کی نسل سے تعلق رکھنے والی قدرے چھوٹے سائز کی رکن بلی ہے جسے عرف عام میں شیر کی خالہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ جو اپنی ذہانت کی بناء پر کسی بھی طرح ایک چھوٹے وحشی تیندوے سے کم نہیں۔ دنیا جہان میں جہاں کہیں لوگوں میں پالتو جانور رکھنے کا شوق پایا جاتا ہے وہاں بلی کا نام ضرور آتا ہے۔ یہ وہ جانور ہے جو انسان کے اچھے ساتھیوں میں سے ایک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دنیا کے ہر خطے میں ماسوائے آسٹریلیا اور انٹار کٹیکا پائی جاتی ہے۔ ماحول سے اپنی ہم آہنگی کی بے پناہ صلاحیت کی بناء پر یہ میدانوں، ریگستانوں پہاڑوں برفانی جگہوں اور جنگلات غرض ہر جگہ اپنی ذہانت کا سکہ جمانے کے لیے موجود ہیں۔(مار گے) وسطی اور جنوبی امریکہ کی ایک چتی دار بلی اپنی ساخت کی بناء پر کسی جمناسٹ سے کم نہیں۔ اس کے مضبوط اور لچکدار پچھلے پنجوں کی بدولت برساتی جنگلات میں کوئی جانور اسے ہاتھ نہیں لگا سکتا وجہ یہ ہے کہ اس میں درختوں پر چڑھنے کی زبر دست صلاحیت ہے یعنی یہ اتنی پھرتی سے ایک درخت پر چڑھتی اور پھر ایک سے دوسرے پر چھلانگ مارتی ہے کہ پیچھا کرنے والا منہ تکتارہ جاتا ہے۔ اسی طرح بر فانی علاقوں میں پائے جانے والا سر مئی اور سفید لیو پارڈ اپنے مخصوص رنگ کی بدولت اپنے اطراف میں اتنا مل جل جاتاہے جسے بہروپ کہیں تو بے جانہ ہوگا کہ اس کے دشمنوں کو اس کی موجودگی کا پتہ چلانا خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ صلاحیت اسے سائبیریا سے ہمالیہ تک کی برف پوش پہاڑیوں کا بے تاج بادشاہ بنا دیتی ہیں۔ برفانی علاقے میں غذا کا واحد ذریعہ مچھلیاں ہوتی ہیں چنانچہ قدرت نے اس کے اگلے پنجے اس طرح تخلیق کیے ہیں کہ بھوک مٹانے کے لیے بہتے دریا میں سے مچھلیوں کو اس کے پنجے شکار کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتتے کچھ ایسی ہی دلچسپ خصوصیات کا حامل میدانی جنگلات میں پایا جانے والا تیندوا ہے جس کے پہلے جسم پر سیاہ یا گہرے رنگ کی (چھتیاں) تیز روشنی یا گھنے جنگلات کے مہیب سایوں میں اسے اس طرح مدغم کر دیتی ہیں کہ پہچاننا دشوار ہو جاتا ہے۔ یہ صلاحیت اسے اپنے شکار کی نظروں سے اوجھل کر دیتی ہے۔ یوں یہ اچانک شکار پر حملہ آور ہو کر اس کے اوسان خطا کر دیتا ہے اور پھر کچھ ہی دیر میں بے بس شکار تیز پنجوں اور نوکیلے دانتوں کا لقمہ بن جاتا ہے۔ جس طرح سائنسداں لیو پارڈ کے اس چنتی دار جسم کی توضیح پیش کرتے ہیں اسی طرح ایتھوپیا میں اس کے منفر در نگ سے ماورائی کہانی منسوب ہے جس کے مطابق ایک طاقتور شخص نے اپنی مضبوط انگلیاں تیندوا کی کھال میں پیوست کر کے نکال لی تھیں جس کی وجہ سے پانچ انگلیوں کے سیاہ دھبے قریب قریب بنتے چلے گئے۔

بلی کس طرح کام کرتی ہے؟

یہ وہ واحد جانور ہے جو۴۳ ملین سال کے بعد بھی عادتوں، خصلتوں اور ہئیت میں کوئی بہت بڑی تبدیلی کے بغیر ارتقاء کی منازل طے کرتا گیا۔ جسے قدرت نے ابتداء ہی سے اتنا متوازن بنایا ہے کہ زمانے کی تبدیلیوں کا کوئی اثر اس کی ذات کو متاثر نہیں کرسکا۔

اس کی جسمانی ساخت کا اگر جائزہ لیں تو اس کے اگلے پیر کو کسی گھومنے والے دروازے سے بھی زیادہ لچکدار پائیں جاتے ہیں۔ سر کے پچھلے حصے سے شروع ہونے والی قدرے ڈھیلے جوڑوں پر مبنی ریڑھ کی ہڈی اس کی لچیلی چال کا اہم حصہ ہے۔ اپنے جسم کی بے پناہ لچک دار خصوصیت ہی کی وجہ سے یہ بہت تنگ جگہوں میں سے انتہائی مزے سے گزر جاتی ہے جس کا مظاہرہ عام طور پر ہماری زندگی میں ہو تا رہتا ہے کہ دروازے کے نیچے انتہائی کم جگہ سے بلی اپنی لچکدار کمر کو خم دے کر نکل جاتی ہے۔

لچھدار جسم کا ایک اور فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کسی بلند جگہ سے چھلانگ لگانے کے دوران یہ ہوا میں اپنا توازن اتنے عمدہ طریقے سے بر قرار رکھتی ہے کہ شاید ہی کوئی دوسرا جانور کر سکتا ہو۔ اس صلاحیت کا تجربہ ابھی چند سال قبل اس وقت ہوا جب ایک بلی حادثاتی طور پر۴۶ ویں منزل سے نیچے گر گئی لیکن حیرت انگیز طور پر صرف دانتوں کے نقصان کے بلی محفوظ رہی اور اسے کوئی خراش تک نہیں آئی۔

بلی کا تعلق جانوروں کی اس قسم سے ہے جسے (کارنیور)یا گوشت خور کہتے ہیں۔ بلی کے جسم میں اس کا چہرہ خاصا چوڑا ہوتا ہے مگر اس کے بر عکس جبڑے قدرے چھوٹے ہیں۔ نتیجتاً جبڑوں میں پکڑنے کی زبر دست قوت پیدا ہو جاتی ہے اس کے بر عکس لمبے جبڑوں والے (جانوروں) کے یا اسے یوں سمجھیں کہ ایک بولٹ کھولنے والے پلاس کی قوت اور اس کے برعکس باریک کیلوں کو پکڑنے والے لمبے منہ کے(پلاس) کی قوت سکڑنے اور ضرورت پر باہر نکل آنے والے نوکیلے پنجے جو ضرورت نہ پڑنے پر پوروں کے درمیان واپس اندر کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کی چند اہم خوبیوں میں سے ایک اس کی تیز نظر ہے جو دن میں تو عمدہ دیکھتی ہی ہے لیکن رات کے اوقات یا اندھیرے میں بھی دیکھنے کی زبر دست صلاحیت رکھتی ہے جس کی بصری صلاحیت انسانی آنکھ سے چھ گنا زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس نسل کے تمام رکن جن میں شیر، چیتے، تیندوے شامل ہیں ان کی بڑی روشن اور چمکدار نکھیں ہوتی ہیں۔ جو انہیں دور بین کا سا منظر پیش کرتی ہیں بوقت ضرورت اپنے شکار کے اپنی جائے شکار سے فاصلے کا تعین یا او جھل اطراف میں سے شکار کو تلاش کرنا ان چمکدار آنکھوں کا ہی خاصہ ہے۔

(Smilodon) سیبر

اس نسل کا تعلق قدیم دنیا سے ہے۔ شیر سے مماثلت رکھنے والی اس نسل کا جانور تقریباً۸ا ملین سال تک قدیم دنیا میں حکمرانی کرتا رہا پھر آج سے تقریبا دس ہزار سال قبل یہ اپنی حدود سے آگے بڑھااور شمالی امریکہ تک اپنی حدود کو وسعت دی۳۲۰ پاؤنڈ (پونڈ) وزنی اسمیلوڈون ایک مضبوط جسامت والا جانور تھا جس کے اگلے پیر انتہائی جاندار سینہ کشادہ جبڑے نو کیلے خطر ناک اور طاقتور ہوتے تھے۔ جس کا اندازہ آپ لاس اینجلس کے مغرب میں واقع میوزیم میں محفوظ اس شاندار جسم کے رکازسے لگا سکتے ہیں۔ سپر اسمیلوڈون کے رکازات محفوظ کس طرح ہوئے یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ آج سے دس ہزار سال قبل اگر دیکھیں تو لاس اینجلس کا موجودہ شہر صنوبر (پائن) اور دیگر درختوں سے ڈھکاہوا تھا ۔ اس وقت زیر زمین تقریباً ۰۰۰ افٹ یا اس سے بھی زائد گہرائی میں سے تیل کی سوختوں سے سیاہ رنگ کا مائع رستے رستے سطح زمین پر آجاتا۔ اس سیاہ مائع کو بعد ازاں ایسفالٹ کے نام سے دریافت کر لیا گیا۔ خیر یہ سیاہ مائع زمین پر گڑھوں میں جمع ہونا شروع ہو جاتا۔ سطح زمین کی مٹی سے مل کر یہ دھوکہ کی حد تک بے ضرر دکھائی دیتا لیکن در حقیقت یہ دلدل بن چکا ہو تا تھا۔ اس دلدل میں اگر کوئی بد قسمت جانور ایک بار پھنس جاتا تو پھر اس کا باہر نکلنا محال ہو جاتا اس دوران اس اسمیلوڈون کے لیے یہ شکار نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہوتا وہ اپنے کنارے پر کھڑے ہو کر اپنے مضبوط جبڑوں میں شکار کو دبوچ کر کھینچ نکالتا اور چیر پھاڑ کھاتا لیکن یہی دلدل خود اس خونخوار جانور کے لیے بھی نقصان دہ تھی ایک بار اس میں پھنس جانے کے بعد نکلنے کی کوئی راہ نہ تھی بالآخر کچھ ہی دیر میں وہ موت کی آغوش میں چلا جاتا اور ہمیشہ کے لیے ایسفالٹ میں محفوظ ہو جاتا(پیج)میوزیم کے کلیکشن مینجر نے یوں اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔
” ایسفالٹ ایک عظیم محفوظ کنندہ ہے۔”

۱۹۷۵ میں ایک حیرت انگیز واقعہ رونما ہوا اس سال میوزیم کی تعمیر کے لیے جب زمین کھودی جانے لگی تو زمین کے نیچے سے مزدوروں کو دو سیبرٹوتھ کے ڈھانچے مکمل ایسی حالت میں ملے جس میں عام طور پر بلیاں مری ہوئی پائی جاتی ہیں۔ میوزیم کے ذخیرے میں اب تک جتنے ڈھانچے محفوظ ہیں وہ سب بھرے ہوئے پائے گئے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا جب یہ ڈھانچے مکمل حالت میں دریافت ہوئے۔ جب ان مکمل ڈھانچوں کا تفصیلی معائنہ کیا گیا تو سب سے اہم بات یہ معلوم ہوئی کہ ایڑی کی ہڈیوں میں سے جس ہڈی کو اب تک انگوٹھے کی ہڈی سمجھا جارہا تھا وہ انگوٹھے کی نہیں در اصل بیچ کی انگلی تھی۔ چنانچہ محفوظ ذخیرے کی از سر نو ترتیب کے لیے رضا کاروں نے اپنی چھٹیوں کے اوقات میں اس ترتیب کو درست کیا۔

شکار کا طریقہ کار

لیری مارٹن جو سیبر ٹوتھ اور اس قبیلے کے دوسرے جانوروں پر تحقیق میں مصروف ہیں شکار کے طریقہ کار کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سپر ٹوتھ کے سامنے کی طرف کے دوبڑے نوکیلے دانت اس کے شکار کو بے بس کرنے کی زبر دست صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کا مظاہرہ انہوں نے مشرق وسطی میں استعمال ہونے والے ایک تیز دھار والے خم کھائے ہوئے چاقو سے کیا۔ بقول لیری مارٹن کے اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ وہ اپنے تیز دھار والے لمبے نوکیلے دانتوں سے اپنے شکار کی گردن الگ کر دیتا تھا لیکن لیری مارٹن اس نظریے سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوتا تھا۔ کیونکہ دانتوں کی ساخت کا بغور جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ سپر ٹوتھ اپنے شکار کی گردن پر حملہ آور ہو کر اپنے تیز دھار دانتوں سے شکار کا نرخرہ کاٹ ڈالتا تھا جس سے تیزی سے خون بہنا شروع ہو جاتا اور شکار جلد ہی بے جان ہو کر بے سدھ زمین پر گر پڑتا۔

ایک اور طبقہ کے مطابق سپر ٹوتھ کا طریقہ کچھ شیر کے طریقہ سے ملتا جلتا ہو گا جو اپنے شکار کے پیٹ کی نرم کھال پر حملہ کرتا ہے اور پھر کمر سے ہوتا ہوا گردن دبوچ لیتا ہے لیکن ان دونوں طریقوں میں سے کون سا طریقہ قرین از قیاس ہے یہ کہنا بہت مشکل ہے کیونکہ موجودہ دور میں اس ہیبت ناک جانور کی نسل سے قریب ترین کوئی جانور نہیں جس کے طریقے کو بطور ثبوت یا سند کے پیش کیا جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر بہترین مخلوق جنگلات سے کس طرح غائب ہو گئی کہ اس نسل کے قریب تر کوئی دوسرا جانور بھی موجود نہیں۔ اس سوال کے بھی دوجوابات ہیں۔

نمبرا :
موسم کی تبدیلی جس کے نتیجے میں سبزہ ختم ہو گیا اور وہ سبزہ خور جانور جو سپر ٹوتھ کی خوراک بنتے تھے یا تو معدوم ہو گئے یا مختلف علاقوں میں ہجرت کر گئے جس کے نتیجے میں خوراک کی قلت ہوئی اور یہ عظیم نسل صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔

نمبر ۲ :
اس تمام قصہ میں حضرت انسان کی آمد ہے یعنی انسانوں نے جنگلات کو کاٹنا اور جانوروں کو ہلاک کرنا شروع کیا نتیجتاًسپر ٹوتھ کی ہلاکت ہوئی۔ آج بھی جنگلی بلیوں کی۳۷ اقسام کو جن میں شیر، چیتے وغیرہ سب شامل ہیں اور بہت سی نسلوں کی بقاء کو مشکلات در پیش ہیں۔

“چیتاا یا شیر بھوک کی حالت میں ایک رات کے کھانے میں 60 سے 80 پاؤنڈ تک گوشت کھا لیتا ہے، جبکہ دوسرے گوشت خور جانور مثلاً ریچھ، گوشت نہ ملنے کی صورت میں پودوں اور پتوں پر گزارا کر لیتے ہیں۔ شیر یا چیتا اس قدر زیادہ گوشت کھانے کے بعد کئی دنوں تک بغیر کھائے گزارا کر سکتا ہے۔”

اس کا اندازہ سوئٹزر لینڈ میں قائم ورلڈ کنزرویشن یونین کی رپورٹ سے کیا جا سکتا ہے کہ چیتا جس کی تعداد۰۷۹۱ میں ۵۱ ہزار تھی اب صرف دس ہزار رہ گئی ہے۔ ٹائیگر۱۱۰۰۰ہزار میں سے صرف۶۰۰۰ ہزار باقی رہ گئے ہیں۔ ان اقسام کی تیزی سے ختم ہوتی ہوئی ہوئی تعداد کی وجہ ایشیاء میں روایتی قسم کی ادویات میں ان کی ہڈیوں کا استعمال اور باقی ماندہ دنیا میں ان کی کھال کی بڑھتی ہوئی طلب ہے۔

ایشین یا ایشیائی ٹائیگر کو نسل تو سب سے زیادہ نقصان یہاں کے روایتی اطباء نے پہنچایا ہے جنہوں نے روایتی ادویات کی تیاری میں ٹائیگر کی ہڈیوں کا بے دریغ استعمال کیا اور ان کی خاصی بڑی تعداد کو بے رحمی سے ختم کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ شیر، چیتے اور میدانی تیندوے کی خوبصورت کھال ہی اس کی جان کی دشمن بن گئی۔ بین الا قوامی مارکیٹ میں اس کی کھال (فر) کی بڑھتی ہوئی مانگ اور منہ مانگے دام دونوں ہی نے اس خوبصورت اور حشمت کے نشان شیر کے غیر قانونی شکار کو بام عروج پر پہنچا دیا جس کے لیے افریقی اور ایشیائی ممالک میں جنگلات سے متعلق افسران اور دیگر افراد کی ملی بھگت سے اب بھی ان کا شکار جاری ہے۔ اگر بلیوں کی نسل کے ان بڑے ممبران جن میں شیر چیتا ٹائیگر اور تیندوے شامل ہیں، کی زندگی کا سنہری دور کسی زمانے کو کہا جائے تو وہ آج سے دس ملین سال قبل کا زمانہ ہے جب ان بلیوں کی خوراک جو گھاس یا سبزہ خور چوپایوں پر مشتمل تھی، جنگلات میں خاصی بڑی تعداد میں موجود تھی۔ وسیع و عریض جنگلات میں اس کثرت سے ان چوپایوں کی موجودگی نے شیر اور دیگر گوشت خور بڑے سائز کی بلیوں کی نسل کو بہت پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا لیکن جیسے جیسے انسان کا اثر ورسوخ جنگلات پر بڑھتا گیا جنگلات کاٹے جانے لگے اور سبزہ خور مویشی مختلف انجانی منزلوں کی جانب ہجرت کر گئے تو نتیجتاً یہ شیر چیتے وغیرہ بھی کچھ تو غذا کی کمیابی سے ختم ہو گئے اور کچھ انسانوں کے ہتھے چڑھ گئے۔ جو بچ گئے تو ان کی تعداد اب اس قدر کم ہے کہ ان کا شمار ان نسلوں میں کیا جا رہا ہے جن کی بقاء کو خطرات لاحق ہیں۔ بلیوں کی ایک اور دلچسپ خصوصیت ان کی اپنے آپ کو اپنے ارد گرد کے ماحول یں ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت ہے۔ مثلاً دھبے دار بلی ا پنا رنگ جنگلی سرمئی رنگ کے سائے دار اسٹائل میں بدل لیتی ہے۔ یہ رنگ کی تبدیلی انہیں ان کے دشمنوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور دوسری جانب خود انہیں اپنے شکار کی نظروں سے اوجھل رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے جس کی مثال ایشیائی ٹائیگر کے جسم پر سیاہ عمودی دھاریاں ہیں جو اسے لمبی خشک گھاس میں اس طرح چھپا لیتی ہیں کہ یہ بڑی مشکل سے نظر آتا ہے۔ خطہ زمین جیسے جیسے ٹھندا ہوتا گیا ویسے ویسے ہی بلیوں کی یہ نسل دو بڑے خاندانوں میں بٹ گئی۔ ایک کا تعلق لمبے دانتوں والے(اسمیلوڈون) سے ہے جو ایک عرصے تک زمین پر حکمرانی کرنے کے بعد قدرتی منظر میں تبدیلیوں کی بناء پر ایک سنہرا باب رقم کر کے ختم ہو گئے اس کے بر عکس دوسرے خاندان سے تعلق رکھنے والی بلیاں جن میں شیر، چیتا، ٹائیگر ایرانی اور سیامی بلیاں شامل ہیں انہوں نے اپنی بقاء کو ہر طرح کے خطرات سے محفوظ کیا موسمی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا نتیجہ آج تک ان کی اپنی اصل حالت میں موجودگی ہے۔ بلیوں کو پالتو بنانے کا فن سب سے پہلے مصریوں نے سیکھا اس کے بعد سے پالتو بلیوں کی مختلف النوع نسلوں کو پالتو بنایا گیا اور یہ عمل تقریباً۰۰۰ ۲ سال قبل مسیح میں شروع ہوا جب مصر میں بلیوں کو انتہائی مقدس مقام حاصل تھا۔ اس مقدس مقام کی بناء پر بلیوں کو قدیم مصری(میو)بلی کو خدائی درجات دینے کے لیے دیا گیا تھا۔ مصر میں بلیوں کے اعلیٰ مرتبے کا اندازہ یونانی تاریخ داں (ہیروڈوٹس) کی اس رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس رپورٹ میں وہ کہتا ہے۔

“اور اگر کسی قدیم مصری کے گھر میں کوئی بلی مر جاتی تھی تو اس گھر کے تمام اہل خانہ اپنی بھنویں استرے سے صاف کرا دیا کرتے تھے۔”

یہ وہ رپورٹ ہے جو مصریوں کے بارے میں ایک یونانی تاریخ داں نے دی ہے اس رپورٹ پر برطانیہ کے اہرام پر تحقیق کے ادارے کے سربراہ نے کہا کہ یہ رپورٹ بلیوں کی قدرو منزلت بتانے کے اعتبار سے آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہرام میں جہاں مصری بادشاہوں اور اعلیٰ افسران کی حنوط شدہ لاشیں اور مقبرے ملتے ہیں ویسی ہی بلیوں کی حنوط شدہ لاشیں بھی ملی ہیں جنہیں با قاعدہ مقبروں میں دفن کیا گیا تھا۔ قدیم مصری جن بلیوں کو خدائی درجات حاصل تھے ان میں سب سے بلند مقام جس بلی کو حاصل تھا وہ(اسفنکس)تھی۔ اگر کبھی آپ کو مصر جا کر اہرام دیکھنے کا موقع ملے تو علی الصبح آپ سورج نکلتے ہوئے دیکھیں گے تو سورج کی سب سے پہلی کرن اہرام پر جس جگہ پڑتی ہے وہاں مصر کے طاقتور شخص(فاراؤ) کی یہ تاریخ ساز آرزو لکھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ(میں بلیوں کی نسل کے طاقتور ترین رکن شیر کے روپ میں تبدیل ہو جاؤں)۔
موجودہ دور جدید میں جہاں اور بہت سی چیزیں لوگوں کے طرز زندگی میں شامل ہو گئی ہیں انہی میں سے ایک کسی پالتو جانور کا ساتھ رکھنا بھی شامل ہے اور ان جانوروں میں بلیاں اور کتے سر فہرست ہیں مگر ریاستہائے متحدہ امریکہ میں بلیاں کتوں پر سبقت لے گئی ہیں۔ مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں ۶۶ ملین پالتو بلیاں پائی جاتی ہیں جنہیں ۵۵ ملین پالتو کتوں پر واضح سبقت حاصل ہے۔ اس کی وجہ امریکیوں کی بلیوں سے انسیت نہیں ہے بلکہ کتوں کے مقابلے میں ان کی کم دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے اور یہ مصروفیت موجودہ تیز رفتار طرز زندگی میں آسانی سے ایڈ جسٹ ہو جاتی ہے لیکن اس کے مقابلے میں فرانس میں صور تحال اس کے بر عکس ہے وہاں عوام کی ایک بہت بڑی تعداد کتوں کو بلیاں پالنے پر ترجیح دیتی ہے۔ جب اس فرق کی وجہ ایک برطانوی ماہر آثار قدیمہ سے دریافت کی گئی تو اپنی روایتی چپقلش سے اس نے اس کی وضاحت صرف چند لفظوں میں یوں کی(ثقافتی فرق)ماہرین کے مطابق گھر یلو بلیاں دو طرز زندگیوں کا بھرپور لطف اٹھاتی ہیں۔ ایک پالتو گھریلو بلی ہونے کے ناطے ایک پالتو جانور کی حیثیت سے وہ تمام سہولتیں حاصل کرتی ہے جو اس کا مالک اسے فراہم کرتا ہے اور اسی دوران وہ اپنے جبلی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے چھوٹے پرندوں اور دیگر جانوروں کے شکار سے اپنی شکار کی عادت کو بھی بروئے کار لاتے ہوئے دوسری زندگی کا لطف بھی اٹھاتی ہیں۔

“قدرت نے بلی میں چھٹی حس (Whiskers) کی بے پناہ قوت رکھی ہے جس کی بدولت وہ بہت مشکل جگہوں پربھی انتہائی کامیابی سے اپنا شکار کرتی ہے۔ ایک ماہر کے مطابق نابینا بلی صرف اسی قوت اور کانوں کی مدد سے راستہ
تلاش کر لیتی ہے۔”

اگر کبھی یہ مقابلہ کیا جائے کہ بلی اور کتے میں سے زیادہ اسمارٹ کون ہے تو یہ خاصا مشکل کام ہو گا وہ اس وجہ سے کہ اگر کوئی ایسا امتحان لیا جائے جو ان دونوں جانوروں کے لیے ان کی فطرت سے قریب ہو تو دونوں ہی اپنی جگہ خوب تر ہیں۔ مثلاً اگر آپ ایک مقابلہ کریں جس میں کتے اور بلی کو آپ کے ہاتھ کے اشاروں کو سمجھنا ہو تو لا محالہ یہ مقابلہ کتا جیت جائے گا۔ دوسری طرف اگر گھاس اور پتوں میں چھپے کسی چوہے کو جھپٹنے کا مقابلہ ہو تو یہ میدان بلی مارے گی۔ غرض بلی مخلوقات خداوندی کا ایک ایسا شاہکار ہے جس پر غور و فکر اور مشاہدہ کی نظر سے مستقل مطالعہ کیا جائے تو کچھ عجب نہیں کہ ہمیں جدید علوم کے رہنما اصول نہ مل سکیں۔ یہ واحد جانور ہے جو پالتو ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر شکار کی ازلی خصوصیت رکھتا ہے۔

اسلام اور سائنس

سائنس موجوده جدید ترقی کا جزو لازم ہے جس کے نشتر میں ہر اس مسئلے کا حل موجود ہے جس کے بارے میں انسان کے ذہن میں انتشار پایا جاتا تھا لیکن سائنس کی ابتداء کہاں سے ہوئی اور کیا سائنس صرف اقوام مغرب ہی کا خاصہ ہے۔ نہیں اسلام ہی نے سب سے پہلے تدبر اور غور و فکر کی دعوت دی قرآن حکیم میں جا بجا اشیائے کائنات پر غوروفکر کی دعوت دی گئی ہے۔

ترجمہ: یعنی دین میں غوروفکر کرو
ترجمہ: یعنی اس زمین پر گھومو پهرو اشیائے کائنات پر غوروفکر کرو اور اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو خود اپنے آپ کو دیکھو

اسی طرح کی کئی آیات قرآن حکیم میں موجود ہیں۔ انہی اصولوں کو اپناتے ہوئے اقوام مغرب اور ترقی یافتہ اقوام نے ترقی کا راز پا لیا یعنی ہر مسئلے کے حل کے لیئے فکر و تدبر سوچ بچار اور اس عمل سے گزرنے کے بعد مرحلہ تجربے کا آتا ہے۔ یعنی اپنی فکر کو عملی جامہ پہنایا جائے پھر اس کے نتائج کا تجزیہ کر کے ان کی افادیت کا اندازہ لگانا یہی وہ عمل ہے جس پر آج سے چودہ سو برس پہلے مسلمان عمل پیرا ہوئے اورتین چوتھائی دنیا پر چھا گئے آج ہمارے اسلوب ترقی یافتہ اقوام نے اپنا لئے لہٰذا اللہ تعالیٰ کے برحق قوانین کے تحت آج وہ اس پھل دار درخت سے ثمر بار ہو رہے ہیں۔

سائنس کیا ہے؟

علم کے جس شعبہ کو ہم سائنس کہتے ہیں اس کا دوسرا نام علم کا ئنات ہے جس میں انسان کا علم بھی شامل ہے۔ سائنسی علوم کی کلید کائنات کے قدرتی حالات اور واقعات کا یا دوسرے لفظوں میں مظاہر قدرت کا مشاہدہ ہے جو ہمارے حواس خمسہ کے ذریعے سے عمل میں آتا ہے۔ سائنس داں کا ئنات کے مشاہدے سے کچھ نتائج اخذ کرتا ہے پھر ان نتائج کو ایک قابل فہم تنظیم اور ترتیب کے ساتھ جمع کرتا ہے۔ ہر درست سائنسی نتیجے کو ہم ایک مستقل علمی حقیقت یا قانون قدرت سمجھتے ہیں۔ مشاہدے سے دریافت ہونے والے نتائج یا علمی حقائق کو جب مرتب اور منظم کر لیا جاتا ہے تو اسے ہم سائنس کہتے ہیں۔

سائنسی طریق تحقیق کے چار مر حلے

بعض اوقات سائنس داں کا ئنات کے حالات اور واقعات کا مشاہدہ براہِ راست ان کی قدرتی حالت میں کرتا ہے اور اس غرض کے لئے ان کو ڈھونڈھ نکالتا ہے اور خود ان کے قریب جاتا ہے، لیکن بعض اوقات وہ اپنے معمل کے اندر کائنات کے حالات اور واقعات کو مصنوعی طور پر پیدا کر کے ان کا مشاہدہ کرتا ہے گویا ان کو اپنے قریب لائے۔ دونوں صورتوں میں وہ کائنات کے مشاہدے اور مطالعے کی خاطر اپنے لئے سہولتیں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سائنس داں کی اس کوشش کو تجربہ کا نام دیا جاتا ہے۔ تجربہ کی غرض مشاہدہ ہے اور مشاہدہ کی غرض غور و فکر کے بعد نتائج اخذ کرنا۔ بعض اوقات بہت سے الگ تھلگ سائنسی حقائق مل کر ایک ایسی حقیقت کی طرف راہنمائی کرتے ہیں جو بر او ر است تجربے اور مشاہدے کے طریقوں سے ثابت شدہ نہیں ہوتی، تاہم چونکہ وہ بعض ثابت شدہ حقائق کو منظم کرتی ہے، اس لئے سائنس داں اسے ایک قابل یقین نظریہ کے طور پر اپنے سائنسی حقائق میں داخل کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا کئے بغیر اس کے الگ تھلگ سائنسی حقائق قابل فہم نہیں ہوتے اور ان میں کوئی عقلی تنظیم یا وحدت پیدا نہیں ہو سکتی لہذا یہ نظریہ بھی، جب تک کہ سائنسی حقائق اسے غلط ثابت نہ کریں ایک سائنسی حقیقت کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ وہ بھی ہمارے مشاہدات کے نتائج میں شامل ہوتا ہے۔ سائنس داں کے اس طریق تحقیق کو جس کی روح کائنات کا مشاہدہ اور مطالعہ ہے، سائنسی طریق تحقیق یا سائنٹیفک میتھڈ کہا جاتا ہے ۔ اس سے ظاہر ہے کہ سائنس داں کے طریق تحقیق کے چارمرحلے ہوتے ہیں :

اول۔(تجربہ)
دوم۔(مشاہدہ)
سوم۔استنتاج یا اخذ نتائج
چہارم۔(تنظیم نتائج)

سائنسی علوم کی قسمیں

کائنات کے تین واضح طبقے ہیں: (۱) مادہ (۲) زندہ اجسام اور (۳) نفس انسانی۔

اور ان کے بالمقابل علم کا ئنات یا سائنس کے بھی تین بڑے حصے ہیں:

(1) مادے کی ماہیت سے تعلق رکھنے والے علوم یا طبیعیاتی علوم جن میں علم طبیعیات، علم کیمیا، علم الافلاک، علم الارض وغیرہ شامل ہیں۔
(۲) زندگی کی ماہیت سے تعلق رکھنے والے علوم، علوم ریا حیاتیاتی علوم جن میں علم حیاتیات، علم نباتات، علم الحیوانات، علم الجنین، علم الابدا ان طب وغیرہ شامل ہیں۔
(۳) نفس انسانی کی ماہیت اور اس کے مظاہر سے تعلق رکھنے والے علوم یا انسانی یا نفسیاتی علوم جن میں نفسیات فرد نفسیات جماعت، علم التاریخ علم السیاست علم الاخلاق، علم الاقتصاد، علم القانون، علم التعلیم وغیرہ شامل ہیں۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو ریاضیات اور منطق بھی نفسیات ہی کی شاخیں ہیں کیونکہ وہ ان اصولوں کی تشریح اور تفصیل پر مشتمل ہیں جن کے مطابق ذہن انسانی سوچتا ہے۔ ہم سائنس کے ان شعبوں کو اختصار کی غرض سے علی الترتیب طبیعیات، حیاتیات اور نفسیات بھی کہہ سکتے ہیں۔

سائنس داں کے بنیادی اعتقادات

بعض اوقات یہ سمجھا جاتا ہے کہ سائنس کو اعتقاد سے کوئی تعلق نہیں اور دور حاضر کا سائنس داں اپنی تحقیق کسی ایسے اعتقاد سے شروع نہیں کرتا جس کو اس نے بلا ثبوت پہلے سے قبول کر لیا ہو بلکہ وہ خالی الذہن ہوتا ہے اور اس کے مشاہدات جس طرف اسے لے جاتے ہیں، چلا جاتا ہے۔ یہ خیال درست نہیں۔ ہر سائنس داں اپنی سائنسی تحقیق کی بنیاد کے طور پر حقیقت سائنس یا حقیقت علم کے متعلق کچھ عقائد رکھتا ہے جو خود حقیقت کائنات کے کسی عقیدے سے ماخوذ ہوتے ہیں اور جو اس کی تحقیق کے نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں مثلاً ہر سائنس داں شروع سے ہی اس بات کا اعتقاد رکھتا ہے کہ کائنات ایک یکساں کل یا وحدت ہے، یعنی وہ فاصلے اور وقت دونوں کے لحاظ سے ایسے منطقوں یا حصوں میں بٹی ہوئی نہیں جن میں متضاد قسم کے قوانین قدرت جاری ہوں۔ کائنات کے قوانین مسلسل اور مستقل ہیں۔ وہ نہ صرف ہر جگہ ایک ہی ہیں بلکہ ہر زمانے میں بھی ایک ہی رہتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ سائنس داں کا یہ عقیدہ صحیح ہے اور اس کی صحت کی ایک دلیل یہ ہے کہ وہ آج تک غلط ثابت نہیں ہو سکا۔ یہ عقیدہ سائنسی تحقیق کا باعث ہے اس کا نتیجہ نہیں۔ سائنس کیتمام ترقیات جو اب تک ممکن ہوئی ہیں، ان کی بنیاد یہی عقیدہ ہے۔ اگر سائنس داں اس عقیدے سے آغاز نہ کرتے اور یہ عقیدہ صحیح نہ ہوتا تو سائنس ممکن ہی نہ ہوتی۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو سائنس داں کو سائنسی تحقیق کے لئے اکساتا ہے اور اسی کی تصدیق سے وہ اپنے سائنسی نتائج پر مطمئن ہوتا ہے اور اس کی راہ پر آگے قدم اٹھاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر سائنس داں کو معلوم ہو جائے کہ جو سائنسی حقیقت اس نے اپنی تحقیق سے آج اس وقت اور اس مقام پر دریافت کی ہے، وہ محض وقتی اور مقامی ہے اور اس کی متبادل یا متوازی سائنسی حقیقتیں اس کا ئنات میں بہت سی ہیں یا آئندہ ہو سکتی ہیں، مثلاً اگر اسے یہ خیال ہو کہ پانی سطح سمندر سے یکساں بلندی پر کہیں تو سو درجہ حرارت پر اور کہیں پچاسی درجہ حرارت پر ابلتا ہے اور کسی خاص ابلتا پر کسی وقت ۱۰۰ درجہ حرارت پر اور کسی اور وقت پچاس درجہ حرارت پر ابلتا ہے تو وہ اپنی تحقیق کے نتیجے کو بیکار سمجھ کر چھوڑ دے گا۔

کائنات کی وحدت کے نتائج

پھر کائنات کی اس وحدت کی وجہ سے سائنس داں بلا ثبوت اور بلادلیل یہ عقیدہ بھی رکھتا ہے کہ سائنس ایک وحدت ہے اور تمام بچے سائنسی حقائق خواہ وہ طبیعیاتی ہوں یا حیاتیاتی یا نفسیاتی ایک دوسرے کے ساتھ عقلی طور پر وابستہ ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ علمی ربط وضبط رکھتے ہیں، ایک دوسرے کو سہارا دیتے اور ایک دوسرے کی تائید و توثیق کرتے ہیں ایک دوسرے پر روشنی ڈالتے ہیں اور کسی صورت میں بھی ایک دوسرے سے متضاد نہیں ہوتے اور ایک دوسرے کی علمی اور عقلی مخالفت نہیں کرتے۔ سائنس داں بلا ثبوت اور بلادلیل یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ تمام سائنسی حقائق مل کر ایک ایسا عقلی اور علمی نظام بناتے ہیں کہ اگر کوئی ایسی نام نہاد ”سائنسی حقیقت اس میں داخل کر دی جائے جو سچی سائنسی حقیقت نہ ہو تو وہ اس نظام میں سما نہیں سکتی کیونکہ تمام سائنسی حقائق اس کی علمی اور عقلی مخالفت کرتے ہیں۔ اسی اعتقاد کی وجہ سے جب سائنس داں دیکھتا ہے کہ اس کی تحقیق کے ذریعے سے کوئی ایسی سائنسی حقیقت آشکار ہوئی ہے جو کسی دوسری سائنسی حقیقت سے جو پہلے سے معلوم اور مسلم ہو، ٹکراتی ہے تو وہ اپنی تحقیق کو ناقص سمجھتا ہے اور اس نام نہاد“ سائنسی حقیقت کو غلط سمجھ کر رد کر دیتا ہے یا پھر پہلی معلوم اور مسلم سائنسی حقیقت کو غلط سمجھ کر رد کر دیتا ہے۔ اس پر شبہ کرنے لگتا ہے، اس پر نظر ثانی کرتا ہے اور اگر وہ غلط ہو تو اسے رد کر دیتا ہے۔ سائنسی حقائق کی وحدت کا نتیجہ یہ ہے کہ جب سائنس کا کوئی حصہ غلط طور پر ترقی کر رہا ہو تو ساری سائنس کی ترقی پر اس کا برا اثر پڑتا ہے، یہاں تک کہ سائنس کے بعض خصوں کی ترقی بالکل رک جاتی ہے۔ سائنس داں بلا ثبوت اور بلادلیل یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ ہر سچی سائنسی حقیقت بہت کسی اور سائنسی حقیقتوں پر روشنی ڈالتی ہے اور اگر اس نے ایک ایسی حقیقت کو رد کر دیا تو بہت سی اور سائنسی حقیقتیں اس کی نظروں سے اوجھل ہو جائیں گی اور سائنس کی ترقی اس کے کسی نہ کسی شعبے یا حصے میں رک جائے گی۔ یہ وہ اعتقادات ہیں جن سے سائنس داں اپنی تحقیق کا آغاز کرتا ہے۔ یہ اعتقادات اس کی تحقیق کے آغاز سے پہلے اس کے دل کے اندر بطور مسلمات کے موجود ہوتے ہیں۔ وہ ان کو ثابت نہیں کرتا بلکہ قبول کرتا ہے اور ان کی مدد سے اور ان کی روشنی میں اپنے تمام سائنسی حقائق کو ثابت کرتاہے۔

سائنس کی وحدت کا سبب حقیقت کا ئنات کی وحدت ہے

سائنس داں وحدت کائنات اور وحدت سائنس پر بلا ثبوت اور بلادلیل اعتقاد کیوں رکھتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بحیثیت انسان اپنی فطرت کی بناء پر ایسا کرنے کے لئے مجبور ہے۔ انسان کی فطرت کے اندر یہ اعتقاد ودیعت کیا گیا ہے کہ حقیقت کا ئنات ایک ہے اور ساری کائنات اس کا مظہر ہے اور خواہ سائنس دان اپنے اس وجدانی اعتقاد کا اعتراف کرے یا نہ کرے لیکن یہ اعتقاد پھر بھی اس کی فطرت کے جزو لانیفک کے طور پر اس کے لاشعور میں جاگزیں رہتا ہے اور وہ اس اعتقاد کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ جب تک حقیقت کا ئنات کو شعوری یا لاشعوری طور پر ایک نہ مانا جائے، سائنسی حقائق کی وحدت کو ماننا ممکن نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وحدت بغیر نظم یا اتحاد کے نہیں ہوتی اور نظم متحد کرنے والے یا منتظم کرنے والے کسی مرکزی اصول کے بغیر محال ہے۔ پھر یہ ضروری ہے کہ جو اصدان تمام سائنسی حقائق کو متحد اور منتظم کرے اور ان کی جان یا روح یا آخری حقیقت کے طور پر ہو، یعنی وہ حقیقت الحقائق یا کائنات کی آخری حقیقت ہو اور تمام سائنسی حقائق اس کی تشریح اور تفسیر کے اجزاء اور عناصر ہوں اور اس کے ساتھ علمی ربط وضبط کی وجہ یہی ہے کہ وہ سب حقیقت کا ئنات کے ساتھ عقلی اور علمی ربط و ضبط رکھتے ہیں۔ سائنس داں کا شعوری یا لاشعوری تصور حقیقت ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے اور اس کے سائنسی نتائج پر اثر انداز ہوتا رہتا ہے اور چونکہ سائنسی حقائق صرف صحیح تصویر حقیقت کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں اور کسی غلط تصور حقیقت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھ سکتے لہذا اگر سائنس داں کا تصور حقیقت درست ہوگا تو اس کی سائنسی تحقیق درست ہو گی اور اس کو درست نتائج تک پہنچائے گی ور نہ جانجا غلط ہو جائے گی اور آخر کار رک جائے گی۔ ظاہر ہے کہ یہ صورت نفسیاتی یا انسانی علوم کے دائرے میں جو تصور حقیقت کے ساتھ زیادہ قریب کا تعلق رکھتے ہیں زیادہ شدت سے نمودار ہو گی۔ تصور حقیقت کے غلط ہونے سے سائنس کے غلط ہو جانے کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں سائنس والاں غیر شعوری طور پر بعض صحیح سائنسی حقائق کو بدل کر اپنے غلط تصور حقیقت کے مطابق کرتا جاتا ہے اور بعض غلط اور نام نہاد ”سائنسی حقائق کو جو اس کے مطابق ہوں صحیح سمجھ کر قبول کرتا جاتا ہے۔

فلسفہ کا کام یہ ہے کہ وہ آشکار طور پر کسی تصور حقیقت کو پیش کرتا ہے اور اس کے ساتھ تمام سائنسی حقائق کی عقلی اور علمی مطابقت کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ فلسفیوں نے صحیح تصور حقیقت کے مختلف نظریات قائم کئے ہیں اور قدرتی طور پر ہر فلسفی نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ تمام سائنسی حقائق صرف اسی کے تصور حقیقت کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں لہذا اسی کا تصور حقیقت صحیح ہے لیکن چونکہ صرف ایک ہی تصور حقیقت تمام سائنسی حقائق کو متحد اور منظم کر سکتا ہے، اس لئے ظاہر ہے کہ درست تصور حقیقت صرف ایک ہی ہو سکتا ہے۔

مسلمانوں کا تصور حقیقت

اشتراکیوں کے نزدیک یہ تصور حقیقت مادہ ہے لیکن مسلمانوں کے نزدیک یہ تصور حقیقت خدا ہے۔ لہذا مسلمانوں کے نزدیک یہی تصور حقیقت ہے جس سے تمام سائنسی حقائق مطابقت رکھتے ہیں اور جو تمام سائنسی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے اور ان کی طرف صحیح راہنمائی کرتا ہے۔ باقی ہر قسم کے تصوراتِ حقیقت سائنس کی مجموعی ترقی کے لئے مضر ہیں۔ دراصل ایک ہی تصور حقیقت ایسا ہے جو وحدت عالم اور وحدت علم کی معقول اور قابل قبول تشریح کر سکتا ہے اور وہ مسلمانوں کا تصور حقیقت ہے جس کی رو سے وہ یہ مانتے ہیں کہ سائنسی حقائق اور قوانین قدرت کی حقیقت اور اصلیت یہ ہے کہ وہ کائنات میں خدا کے تخلیقی اور تربیتی اعمال و افعال ہیں اور خدا ایک شخصیت کا خاصہ ہے کہ اس کا صرف ایک مقصد یا مدعا ہوتا ہے جس کے ماتحت اس کے سارے اعمال و افعال سرزد ہوتے ہیں۔ جہاں بھی ہمیں اعمال اور افعال کا ایک منظم سلسلہ نظر آئے وہاں کسی شخصیت کی کار فرمائی کا موجود ہونا ضروری ہے۔ فرد انسانی کے اعمال و افعال کے اندر بھی ایک وحدت ہوتی ہے کیونکہ وہ بھی ایک شخصیت ہے اور بیک وقت ہمیشہ ایک مقصد اور مدعا کے تحت اپنے سارے کام کرتا ہے۔ چونکہ کائنات کی تخلیق سے خدا کا ایک مقصد ہے لہذا خدا کے سارے اعمال و افعال میں جو قوانین قدرت یا سائنسی حقائق کی صورت اختیار کرتے ہیں، ایک وحدت موجود ہے۔ اب چونکہ قوانین قدرت یا کائنات کے اعمال و افعال کے اندر ایک وحدت موجود ہے لنڈ ا ضروری ہے کہ ان اعمال و افعال کا باعث کوئی شخصیت ہو جو کائنات کی خالق ہو۔

وحدت کا ئنات سے خدا کے وجود کا قرآنی استشہاد

وحدت کا ئنات کا باعث یہ ہے کہ اس کا کوئی مقصد ہے اور وہ مقصد ایک ہی ہے اور اس کے مقصد کی وحدت کا باعث یہ ہے کہ اس کا کوئی خالق ہے اور وہ خالق ایک ہی ہے۔ وحدت کا ئنات پر سائنس دانوں کے غیر شعوری وجدانی اعتقاد کا باعث ان کی فطرت کا یہ مخفی اور غیر شعوری تقاضا ہے کہ وہ کائنات کا ایک مقصد ما نیں اور وہ مقصد ایک ہی ہو اور اس کا ایک خالق تسلیم کریں اور وہ خالق ایک ہی ہو۔

قرآن حکیم نے کائنات کی وحدت کی طرف پر زور الفاظ میں توجہ دلائی ہے اور اس کو اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے کہ کائنات کا کوئی خالق ہے اور وہ خالق ایک ہی ہے۔

ما ترى في خلق الرحمن من تفاوت فارجع البصر هل ترى من فطور ثم ارجع البصر كرتين ينقلب اليك البصر خاستاً وهو حسير (الملك)

(ترجمہ) اے پیغمبر ! آپ خدا کی تخلیق میں کوئی فرق نہ دیکھیں گے۔ ذرا نظر دوڑائیے اور کائنات کا مشاہدہ کیجئے کیا آپ کو خدا کی اس تخلیق میں کبھی کوئی دراڑ نظر آتی ہے ؟ پھر دوبارہ نظر دوڑائیے اور دیکھئے نگا ہیں مایوس اور درماندہ ہو کر لوٹیں گی کہ خدا کی تخلیق میں کوئی دراڑ نہیں۔

کیا کا ئنات کی یہ وحدت اس کی مقصدیت کا اور پھر اس کی مقصدیت کسی خالق کائنات کی ہستی اور وحدت کا ثبوت نہیں؟

قل ارثيتم شركاء كم الذين تدعون من دون الله اروني ماذا خلقوا من الارض ام لهم شرك في السموت(فاطر :۴۰)

(ترجمہ) اے پیغمبر ان سے کہئے کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم خدا کو چھوڑ کر کس کو پکارتے ہو۔ مجھےبتاؤ تو سہی کہ آیا انہوں نے زمین میں کچھ پیدا کیا ہے یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کا کوئی حصہ ہے۔

یعنی اگر کائنات کی تخلیق میں خدا کے ساتھ کوئی اور شریک ہوتا تو زمین و آسمان میں کہیں تو اس کی اپنی تخلیق کا کوئی نشان ملتا جہاں جدا قسم کے قوانین قدرت نافذ ہوتے۔ ظاہر ہے کہ منکرین قرآن حکیم کے اس سوال کے جواب میں اس کا ئنات کا ایک حصہ پیش کر کے معقولیت کے ساتھ ہیں کہہ سکتے تھے کہ یہ حصہ خدا کے اس شریک نے پیدا کیا ہے جسے ہم مانتےہیں کیونکہ جب کائنات کے اس حصے میں بھی قوانین قدرت وہی ہیں جو باقی کا ئنات میں ہیں تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس کا خالق وہی نہیں جو باقی کائنات کا ہے؟

فلسفہ سائنس کا ہی ایک شعبہ ہے

فلسفے اور سائنس کے اس باہمی تعلق کی بناء پر ہم فلسفے کو سائنس سے الگ نہیں کر سکتے۔ جب تک سائنس کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے دریافت کئے ہوئے حقائق کی تشریح تو جہہہ یا تنظیم کے لئے نظریات قائم کرے فلسفے اور سائنس میں کوئی واضح امتیاز نہیں کیا جا سکتا بلکہ صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ فلسفہ پوری کائنات کی سائنسی تحقیق کی وہ چوتھی اور آخری منزل ہے جہاں تمام کائنات کا سائنسی علم، تجربے اور مشاہدے اور استنتاج کے تینوں مرحلوں سے گزر کر تنظیم کے چوتھے مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔ دراصل جب سائنسی تحقیق اپنی مجموعی حیثیت سے اپنے آخری درجہ پر پہنچتی ہے تو ہم اسے فلسفہ کہتے ہیں۔

مسلمان سائنسی طریق تحقیق کے موجد اور سائنسی علوم کے بانی تھے

بعض یورپی مصنفوں کی غلط بیانیوں کی وجہ سے دنیا مدت تک اس غلط فہمی میں مبتلارہی ہے کہ سائنسی علوم اور سائنسی طریق تحقیق کے موجد یورپ کے لوگ ہیں، چنانچہ بعض لوگوں کا خیال یہ تھا کہ سائنسی طریق تحقیق کا موجد( راجر بیکن) یا اس کا ایک اور ہم نام (فرانسس بیکن) ہے لیکن سائنسی علوم کی تاریخ کے موضوع پر حال کی علمی تحقیق نے اس نا قابل تردید تاریخی حقیقت سے پردہ چاک کر دیا ہے کہ سائنسی طریق تحقیق، جس کی بدولت موجودہ سائنسی علوم وجود میں آکر ترقی پذیر ہوئے، مسلمانوں نے ایجاد کیا تھا اور یورپ کے حالیہ سائنسی علوم کی بنیاد بھی مسلمانوں نے رکھی تھی۔ پھر بعض لوگوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ مسلمانوں نے سائنسی طریق تحقیق یونانیوں سے سیکھا تھا اور اپنے سائنسی علوم کی بنیاد یونانیوں کی سائنس پر رکھی تھی لیکن یہ خیال بھی درست نہیں۔

تعمیر انسانیت کا مصنف بر یفالٹ اس قسم کی تمام غلط فہمیوں کی پر زور تردید کرتے ہوئے لکھتا ہے: عصر جدید میں عربوں کی تہذیب کا عظیم الشان حصہ سائنس ہے لیکن اس کے پھل کو پکنے میں کچھ دیر لگی۔ جب تک ہسپانوی عربوں کی تہذیب تاریکی میں دوبارہ گم نہیں ہوئی، وہ دیو صہیب جس کو اس نے جنم دیا تھا اپنی پوری قوت کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا۔ یہ فقط سائنس ہی نہیں تھی جس نے یورپ کو زندہ کیا۔ اسلام کی تہذیب کے اور بہت سے اثرات نے یورپ کی زندگی کو اس کی پہلی چمک دمک سے آراستہ کیا۔
(ص: ۲۰۲)

“اگر چہ یورپ کی ترقی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس میں اسلامی تہذیب کے فیصلہ کن اثر کے نشانات موجود نہ ہوں، لیکن یہ اثر کہیں بھی اتنا واضح اور اتنا اہم نہیں جتنا کہ اس طاقت کے ظہور میں ہے جو دنیائے جدید کی مخصوص اور مستقل قوت اور اس کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے یعنی سائنس اور سائنسی طرز فکر ۔ “(ص: ۱۰۹)

“ہماری سائنس فقط انقلاب آفریں نظریات کی حیرت انگیز دریافت کے لئے ہی علوم عرب کی احسان مند نہیں بلکہ سائنس اس سے بھی بڑے احسان کے لئے عربوں کی تہذیب کی مرہون منت ہے اور اصل بات تو یہ ہے کہ وہ خود اپنے وجود ہی کے لئے اس زیر احسان ہے۔ دنیائے قدیم یعنی یونانیوں کی تہذیب جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، سائنس سے پہلے کی دنیا تھی۔ یونانیوں کی فلکیات اور ریاضیات دوسرے ملکوں سے درآمد کی ہوئی چیزیں تھیں جن کو یونانی تہذیب کی آب و ہوا کبھی پوری طرح سازگار نہ آسکی۔ اہل یونان حقائق کو منظم کرتے تھے، ان سے عمومی نتائج اور اصول اخذ کرتے تھے اور نظریات قائم کرتے تھے لیکن تحقیق و تجس کے صبر آزما راستے، مثبت علم کی فراہمی، سائنس کے نکتہ اس طریقے، مفصل اور طویل مشاہدے اور تجرباتی چھان بین ایسی چیزوں کا اہلِ یونان کی افتاد طبیعت سے کوئی سروکار نہ تھا۔ قدیم کلاسیکی دنیا کا علمی کام اگر کسی مقام پر ذرا سا بھی سائنسی تحقیق کے نزدیک پہنچا تو وہ یونانیوں کے دور کا اسکندریہ تھا۔ جسے ہم سائنس کہتے ہیں وہ یورپ میں تحقیق کی ایک ایسی نئی روح اور تجس کے ایسے نئے طریقوں یعنی تجربے، مشاہدے اور پیمائش اور ریاضیات کی اس قسم کی ترقی کے طفیل ظہور پذیر ہوئی جس سے اہل یونان محض بے خبر تھے۔ اس روح کو اور ان طریقوں کو یورپ میں عربوں نے داخل کیا۔ ” (ص: ۱۹۰)

یورپ میں علوم کا احیاء پندرہویں صدی میں نہیں بلکہ اس وقت ہوا جب عربوں اور موروں کی تہذیب کے اثر سے یورپی تہذیب میں زندگی کی نئی روح پھونکی گئی۔ یورپ کی نئی زندگی کا گہوارہ اٹلی نہیں بلکہ اسپین تھا۔ مدتوں تک بربریت کی پستیوں میں غرق ہوتے رہنے کے بعد یورپ جہالت اور ذلت کی تاریک ترین گہرائیوں میں پہنچ چکا تھا۔ جب عرب ملکوں کے شہر بغداد، قاہرہ، قرطبہ اور طلیطلہ تہذیب اور علمی مشاغل کے ترقی پذیر مراکز بنے ہوئے تھے ان شہروں میں اس نئی زندگی کا آغاز ہوا جو نوع انسانی کے ارتقاء کے ایک نئے پہلو کی صورت میں جلوہ افروز ہونے والی تھی۔ اس وقت سے لے کر جب عربوں کی تہذیب کا اثر محسوس ہونے لگا نئی زندگی حرکت میں آنے لگی۔(ص: ۱۸۸)

” لیکن وہ نقطہ نظر جس کی روشنی میں عرب موجودہ مواد کو کام میں لاتے تھے یونانیوں کے نقطہ نظر کے بالکل متضاد تھا۔ یہ نقطہ نظر بعینہ وہ چیز مہیا کرتا تھا جس کا فقدان یونانیوں کے ذہن کا کمزور اور ناقص پہلو تھا۔ یونانیوں کی دلچسپی کا مرکز نظریہ آفرینی اور اصول سازی تھے۔ وہ ٹھوس مشاہداتی حقائق سے بے پروا تھے اور ان کو نظر انداز کرتے تھے۔ اس کے بر عکس عرب محققین کا ذوق دریافت نظریہ آفرینی سے بے پروا تھا اور اس کا مقصود ٹھوس حقائق بہم پہنچانا اور اپنی معلومات کو صحت اور کمیت کے معیاروں پر لانا تھا۔ معتبر اور پائیدار سائنس اور ایک ڈھیلے ڈھالے سائنسی ذوق میں جو چیز فرق پیدا کرتی ہے۔وہ یہ ہے کہ کہنے والا کیفیت نہیں بلکہ کمیت بیان کر رہا ہے اور اپنی پیمائش کو ہر ممکن طریق سے درست کرنے کے لئے بے تاب ہے۔ عربوں کا سارا وسیع و عریض سائنسی کام اسی معروضی تحقیق اور کمیتی صحت و صفائی کے ذوق کے زیر اثر انجام پاتا رہا ہے۔ راجر پیکن نے آکسفورڈ اسکول میں ان لوگوں کے جانشینوں کے ماتحت عربی زبان اور عربی سائنس کا علم حاصل کیا تھا۔ نہ راجر لیکن اور نہ ہی اس کا دوسرا ہم نام اس بات کا اہل ہے کہ اسے سائنسی طریق تحقیق کے موجد ہونے کا اعزاز بخشا جائے۔ راجر لیکن تو محض عیسائی یورپ کے لئے مسلمانوں کی سائنس کے سفیروں یا پیام رسانوں میں سے ایک تھا اور وہ کبھی یہ کہتے ہوئے نہ تھکتا تھا کہ عربی زبان اور عربی سائنس کا سیکھنا اس کے ہم عصروں کے لئے بچے علم کا واحد راستہ ہے۔ یہ بخشیں کہ سائنسی طریق تحقیق کا موجد کون تھا، یورپی تہذیب کے سرچشموں کے بارے میں ایک بہت بڑی غلط بیانی پر مشتمل ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ لیکن سے پہلے عربوں کا تجرباتی طریق تحقیق عام ہو چکا تھا اور یورپ بھر میں اس کا تتبع نہایت ذوق و شوق سے کیاجاتا تھا۔”

مسلمانوں کو یہ امتیاز کیسے حاصل ہوا؟

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا سبب کیا ہے کہ دنیا کی تمام قوموں میں سے فقط مسلمانوں کو یہ امتیاز نصیب ہو سکا کہ انہوں نے قدرت کے گہرے مشاہدے اور مطالعے کو اپنا شعار بنایا یہاں تک کہ وہ اس قابل ہوئے کہ سائنسی طریق تحقیق ایجاد کریں اور سائنسی علوم کی بنیاد رکھیں۔ قرآن کی تعلیمات پر سرسری نگاہ ڈالنے سے اس بات میں ذرا بھی شک باقی نہیں رہتا کہ اس کا سبب خود قرآن حکیم ہے جس کے تقریباً ایک تہائی حصے میں قدرت کے گوناگوں مظاہر کی طرف توجہ دلا کر کائنات کے مشاہدہ اور مطالعہ پر زور دیا گیا ہے۔ دراصل مشاہدہ و مطالعہ قدرت کے لئے سب سے پہلی موثر آواز جو دنیا میں بلند کی گئی ہے وہ قرآن ہی کی آواز ہے۔

مشاہدہ اور مطالعہ قدرت کی قرآنی دعوت

قرآن نے مشاہدہ اور مطالعہ قدرت پر کیوں زور دیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی تعلیم کا نچوڑ یہ ہے کہ خدا کی محبت انسان کی فطرت میں رکھی گئی ہے اور جب تک انسان خدا کی ستائش، عبادت اور اطاعت کے ذریعہ سے خدا کی محبت کا اظہار نہ کرے اس کی شخصیت نشو و نما پا کر اپنے کمال کو نہیں پہنچ سکتی اور اس زندگی میں اور آنے والی زندگی میں اس مسرتوں اور راحتوں کو نہیں پاسکتی جو اس کے کمال کے ساتھ وابستہ ہیں۔ غذا کی محبت کے ذریعہ سے انسانی شخصیت کی تحمیل ہی مقصد کا ئنات ہے لیکن خدا کی محبت جو انسان کی فطرت میں ہے خدا کی معرفت کے بغیر بیدار نہیں ہوتی اور خدا کی معرفت حاصل کرنے کا طریق یہ ہے کہ انسان خدا کی صنعت یعنی کائنات کو دیکھے اس پر غور و فکر کرے اور اس کے ذریعہ سے اس کے صانع کے اوصاف اور محاسن اور کمالات کو جانے اور پہچانے۔ کائنات کا خود مخود وجود میں آنا انسان کی سمجھ میں نہیں آسکتا تو پھر جس ہستی نے کائنات پیدا کی ہے اس کی وجو د اور صفات کی شہادت اس کا ئنات سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے۔

کیا خدا میں شک ہے جو کائنات کا خالق ہے؟

صنعت کے اندر صانع کی تمام صفات جلوہ گر ہوتی ہیں اور اس کی صنعت سے اس کے مقاصد اورعزائم اور اس کی قابلیتوں اور اہلیتوں کا پتہ چلتا ہے۔ اگر چہ خدا کی شخصیت انسان کی آنکھوں سے مخفی ہے، تاہم اس کی صفات حسن کی کار فرمائیاں انسان کی آنکھوں کے سامنے آشکار ہیں۔ جسمانی اور مادی آنکھوں سے مخفی رہنا شخصیت کا خاصہ ہے خواہ شخصیت انسان. کی ہو یا خدا کی۔ لیکن جس طرح ہمارے لئے ایک ایسے انسان کی شخصیت کو بھی جو بعد میں ہمارے جاننے اور پہچاننے کی وجہ سے ہمارا بہترین دوست بن جانے والا ہو جاننے اور پہچاننے کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ ہم اس کی اندرونی مخفی صفات کے مظاہر کا جو اس کے اعمال و افعال کی صورت اختیار کرتے ہیں، مشاہدہ اور مطالعہ کریں۔ اسی طرح سے خدا کی شخصیت کو جاننے اور پہچاننے کی بھی صرف یہی ایک صورت ہے کہ ہم اس کی مخفی صفات کے مظاہر کا جو اس کے اعمال وافعال کی صورت اختیار کرتے ہیں، مشاہدہ اور مطالعہ کریں۔ خدا کے خالق کا ئنات ہونے کے معنی یہ ہیں کہ خدا کائنات کے اندر اپنی صفات کے ذریعہ سے موجود ہے اور کائنات اور خدا ایک دوسرے سے الگ الگ نہیں ہو سکتے۔ یہ کائنات سوائے اس کے اور کچھ بھی نہیں کہ خدا کی صفات کی ایک مرئی شکل ہے۔ اگر خدا کی صفات کا ظہور جو کائنات میں ہے، غائب ہو جائے تو پوری کائنات ہی فنا ہو جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم جہاں مومنین سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے ہوئے خدا کا ذکر کریں وہاں ان سے اس بات کی بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ کائنات کی تخلیق پر غورو فکر کریں۔

ٱلَّذِينَ يَذۡكُرُونَ ٱللَّهَ قِيَٰمٗا وَقُعُودٗا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمۡ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هَٰذَا بَٰطِلٗا سُبۡحَٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ

(ترجمہ) اور وہ لوگ جو خدا کا ذکر کرتے ہیں، کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر اور اپنے پہلوؤں پر لیٹے ہوئے اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور و فکر کرتے ہیں ( یہاں تک کہ پکار اٹھتے ہیں) اے ہمارے رب یہ کائنات (جس میں ہم بھی ہیں اور جس کا ذرہ ذرہ تیری صفات حسن کا آئینہ دار اور تیری خالقیت اور ربوبیت کا گواہ ہے) تو نے اپنے سچےمقصد کے بغیر پیدا نہیں کی پس ہمیں کائنات کے اندر اپنے مقصد کے ساتھ اعتقادی اور عملی مطابقت کی توفیق عطا فرما کر آگ کے عذاب سے بچائیو۔”

اور یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم مظاہر قدرت کو خدا کی ہستی اور صفات خالقیت و ربوبیت کی نشانیاں ( آیات) کہتا ہے :

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ

(ترجمہ) اس میں شک نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے اختلاف میں عقلمندوں کے لئے (خدا کی ہستی اور صفات ) نشانیاں ہیں۔

وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ

(ترجمہ) یقین کرنے والوں کے لئے روئے زمین پر خدا کی ہستی اور صفات کے بہت سے نشانات ہیں
اورتمہارے نفوس میں بھی۔ پھر تم کیوں نہیں دیکھتے؟

وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ
(ترجمہ) ایک نشان ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے مردہ زمین کو زندہ کیا اور اس سے دانے اگائے جن کو وہ خوراک کے لئے استعمال کرتے ہیں

إِنَّ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَٱلْفُلْكِ ٱلَّتِى تَجْرِى فِى ٱلْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن مَّآءٍۢ فَأَحْيَا بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍۢ وَتَصْرِيفِ ٱلرِّيَٰحِ وَٱلسَّحَابِ ٱلْمُسَخَّرِ بَيْنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَعْقِلُونَ

(ترجمہ) بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے تغیر میں اور کشتی میں جو سمندر میں لوگوں کو نفع دینے والے تجارتی مال کو لے کر چلتی ہے اور اس بات میں کہ خدا آسمان سے پانی نازل کرتا ہے پھر اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے اور اس بات میں کہ اس نے زمین کے اوپر ہر قسم کے جاندار پھیلا دیئے ہیں اور ہواؤں کی تبدیلیوں میں اور بادل میں جو آسمان اور زمین کے درمیان ٹھہرا دیا جاتا ہے، عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَٰجًا لِّتَسْكُنُوٓاْ إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ

(ترجمہ) اور اس کے نشانات میں سے ایک یہ ہے کہ تم کو مٹی سے پیدا کیا اور تم انسان بن کر زمین پر پھیل گئے۔ اور اس کے نشانات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تم میں سے ہی تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم اپنی بیوی سے سکون قلب حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی پیدا کی۔ بے شک اس بات میں غور کرنے والوں کے لئے نشانات ہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ

(ترجمہ) اور اس کے نشانات میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے۔ بے شک اس میں اہل علم کے لئے نشانات ہیں۔ اور اس کے نشانات ہی میں سے تمہارا دن اور رات کو سونا اور رزق کی صورت میں اس کے فضل کی جستجو کرنا ہے۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانات ہیں جو سنتے ہیں۔

وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ

(ترجمہ) اور اس بات میں ان کے لئے خدا کی ہستی اور صفات کا ایک نشان ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کر دیا۔

حواس سے کام لے کر مظاہر قدرت کا مشاہدہ کرنا اور دل سے کام لے کر ان پر غور و فکر کرنا اور ان سے صحیح صحیح نتائج اخذ کرنا مسلمان پر فرض قرار دیا گیا کیونکہ ایسا کرنا قرآن کے نزدیک صحیح عقائد اور صحیح اعمال کی بنیاد د ہے۔ جو لوگ آنکھیں تو رکھتے ہیں لیکن دیکھتے نہیں کان تو رکھتے ہیں لیکن سنتے نہیں اور دل تو رکھتے ہیں لیکن سوچتے نہیں، ان کو چوپایوں سے بدتر اور عذاب جہنم کا مستحق قرار دیا گیا ہے :

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ ﳲ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا٘-وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا٘-وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّؕ

(ترجمہ) اور بے شک ہم بہت سے ایسے جنوں اور انسانوں کو جہنم کی طرف ہانک دیں گے جن کے دل ہیں لیکن ان سے سوچتے نہیں آنکھیں ہیں لیکن ان سے دیکھتے نہیں کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں۔ وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ۔

جو لوگ اپنے حواس سے کام نہیں لیتے اور اپنے دلوں سے نہیں سوچتے یا تعصب کی وجہ سے غلط سوچتے ہیں ان سے اپنی ان قوتوں کو ضائع کرنے کے لئے باز پرس کی جائے گی۔

إِنَّ ٱلسَّمْعَ وَٱلْبَصَرَ وَٱلْفُؤَادَ كُلُّ أُوْلَٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔولًا

(ترجمہ) بے شک کان اور آنکھ اور دل ان سب سےپوچھا جائے گا۔
قرآن حکیم نے آسمانوں اور زمین میں مظاہر قدرت کو دیکھنے کے بعد ان پر غور و فکر کے بغیر آگے گزر جانے سے منع کیا ہے کہ ایسا کرنے سے خدا کی معرفت کے مواقع ہاتھ سے نکل جاتے ہیں اور انسان کی محبت اور شخصیت کا ارتقا نہیں ہوتا۔

وَكَأَيِّن مِّنْ ءَايَةٍۢ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ

(ترجمہ) آسمانوں اور زمین میں کتنے ہی نشانات ( خدا کی ہستی اور صفات حسن کے ایسے ہیں کہ یہ ان سے گزرتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں (اور ان پر غور و فکر نہیں کرتے۔) کسی مظہر قدرت یا آیت اللہ پر غور و فکر ترک کر دینا اس سے پہلے کہ اس کی حقیقت پوری طرح سے منکشف ہو یہ بھی اس سے اعراض ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کو یہ حکم ہے کہ جب موجودات قدرت میں سے کوئی چیز اس کے نوٹس میں آئے تو اسے نظر انداز نہ کرے بلکہ اس کے مشاہدے اور مطالعہ کا حق ادا کرے اس کی حقیقت اور اصلیت کو پوری طرح سے سمجھے اور خدا کی حکمتیں جو اس کے اندر پوشیدہ ہیں ان سے پوری طرح واقف ہونے کی کوشش کرے۔ گویا جب تک کسی چیز کی حقیقت پوری طرح واضح نہ ہو جائے مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ اپنی تحقیق و تجسس کو جاری رکھے۔

حضور نے امت کو ایک دعا سکھائی ہے جو اس مطلب کی تائید کرتی ہے:

اللهم نا الحق حقاً وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه اللهم ارنا الاشياء كماهي

(ترجمہ) اے خدا ہم کو صداقت بطور صداقت کے دکھا اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق دے اور جھوٹ بطور جھوٹ کے دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ اے خدا ہمیں اشیاء کو اسی طرح سے دکھا جیسی وہ در حقیقت ہیں۔

حضور کی یہ دعا گویا سائنسی طریق تحقیق کی حمایت کرتی ہے کیونکہ سائنسی طریق تحقیق جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ مشاہدہ کے نتائج کو کامل احتیاط سے اخذ کیا جائے اور انتہائی طور پر درست کرنے کی کوشش کی جائے اس کا مقصد یہی ہے کہ اشیاء ویسی ہی نظر آئیں جیسی کہ وہ در حقیقت ہیں۔

تفکر فی الخلق کا لازمی نتیجہ

قرآن کی رو سے خدا کی خالقیت اور ربوبیت کے نشانات کا ئنات کی تینوں سطحوں پر موجود ہیں۔ مادی دنیا کے مظاہر قدرت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے قرآن حکیم، چاند سورج اور ستاروں کی حرکت کا برق و سحاب کا ہواؤں کے چلنے کا اختلاف لیل و نہار کا مینہ برسنے کا چاند کے گھٹنے بڑھنے کا پہاڑوں کا زمین کی ہموار سطح کا، پہلے آسمان اور زمین کے یکجا ہونے اور پھر الگ الگ ہونے کا اور اس طرح کے اور مظاہر قدرت کا ذکر کر کے ان کے مشاہدہ اور مطالعہ کی دعوت دیتا ہے۔ اگر ہم ان مظاہر قدرت کے مشاہدہ اور مطالعہ کا حق ادا کر کے ان کی حقیقت اور اصلیت کو پوری طرح سمجھ لیں اور ان کے تمام رموز و اسرار سے اور خدا کی ان تمام حکمتوں سے جو ان کے اندر پوشیدہ ہیں پوری طرح آگاہ ہو جائیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ تمام طبیعیاتی علوم وجود میں آجائیں گے۔ اس کی وجہ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے، یہ ہے کہ تمام سائنسی حقائق ایک سلسلہ یا نظام بناتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ عملی اور عقلی ربط و ضبط رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی طرف دلالت اور راہنمائی کرتے ہیں۔

اسی طرح سے حیاتیاتی دنیا کے مظاہر قدرت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے قرآن حکیم زمین روئیدگی کے نمودار ہونے کا لہلہاتے کھیتوں کا غلہ کے پیدا ہونے کا مختلف رنگوں اور ذائقوں کے پھلوں کا پانی سے ہر جاندار کے زندہ ہونے کا کیچڑ سے انسان کی تخلیق کے آغاز کا زمین سے نسل انسانی کے اگنے کا زمین میں ہر قسم کے جانداروں کے پھیل جانے کا پرندوں کے اڑنے کا سواری کے کام آنے والے اور دودھ دینے والے چوپایوں کا نباتات اور حیوانات کے ازواج کا اونٹ کی حیرت انگیز جسمانی ساخت کا انسان کی قوت فہم و دید و شنید کا اور ماں کے رحم میں انسانی جنین کی حالتوں کے تدریجی تغیر کا اور اسی طرح کے دوسرے مظاہر قدرت کا ذکر کر کے ان کے مشاہدہ اور مطالعہ کی دعوت دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر ہم ان مظاہر قدرت کا پورا مشاہدہ اور مطالعہ کریں یہاں تک کہ ان کے تمام اسرار ورموز سے آشنا ہو جائیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ تمام حیاتیاتی علوم مکمل طور پر وجود میں آجائیں گے۔

پھر اسی طرح سے نفسیاتی یا انسانی دنیا کے مظاہر قدرت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے قرآن حکیم، انسانی تاریخ کے بعض اہم واقعات اور قوانین کا اور انسانی فطرت کے بعض بنیادی قواعد اور حقائق کا ذکر کرتا ہے۔ مثلاً قرآن حکیم ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح سے تاریخ عالم میں پے در پے ایسے انسانوں کا ظہور ہوتا رہا جنہوں نے کہا کہ وہ خدا کے رسول ہیں اور لوگوں کو یہ بتایا کہ ان کا سچا معبود خدا ہے جو اس کا ئنات کاخالق ہے۔ کس طرح سے رسولوں کی دعوت کو بعض لوگوں نے قبول کر لیا اور بعضوں نے قبول نہ کیا۔ کس طرح سے قبول کرنے والوں کے دل اطمینان اور مسرت سے بھر گئے یہاں تک کہ وہ خدا کے لئے طرح طرح کی مصیبتیں اور ذلتیں اٹھانے بلکہ مرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ کس طرح سے انکار کرنے والوں کو تباہی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ وہ نیست و نابود ہو گئے۔ کس طرح سے خدا کی محبت یا دین انسان کی فطرت میں ہے جو لازوال اور غیر مبدل ہے۔ کس طرح سے خدا کی عبادت انسان کے دل کو مطمئن کرتی ہے۔ کس طرح سے نوع انسانی اپنی فطرت کے اصلی تقاضوں کو بھولنے اور مختلف قسم کے غلط اور جھوٹے معبودوں کو اپنانے کی وجہ سے ٹکڑوں میں بٹ گئی ہے اور کس طرح سے ان کے اتحاد کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ وہ اپنے بچے معبود کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں۔ کس طرح سے انسان کے دل میں نیک و بد درست اور نادرست اور خوب وزشت کو پرکھنے کا ایک معیار موجود ہے جو خواہ انسان اس سے گریز کے بہانے بتاتا رہے، ہر وقت اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ پھر انسانی شعور کے بعض ایسے وظائف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جن کو ماہرین نفسیات نے حال ہی میں سمجھا ہے، قرآن حکیم ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح سے انسانی فرد کے تمام چھوٹے اور بڑے اعمال اس کے وجود میں ایک نامہ اعمال کی صورت میں محفوظ رہتے ہیں اور کس طرح سے یہ نامہ اعمال موت کے بعد انسان کے سامنے کھل جائے گا اور وہ کہے گا کہ میرا کوئی چھوٹا یا بڑا افعل ایسا نہیں جو اس کے اندر لکھانہ گیا ہو۔ وعلی ہذا القیاس؟ اگر ہم ان حقائق کا پورا پورا تجزیہ کریں اور ان کے معافی اور مطالب اور ان کے نتائج اور مضمرات اور اسباب اور عوامل پر پوری طرح سے حاوی ہو جائیں تو تمام انسانی علوم اپنی پوری تفصیلات کے ساتھ وجود میں آجاتے ہیں۔

گویا اگر ہم قرآن حکیم کے اس ارشاد پر کہ مظاہر قدرت پر پوری طرح سے غورو فکر کرو عمل کریں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تمام سائنسی علوم آیات اللہ کے ایک سلسلہ کے طور پر وجود میں آجاتے ہیں۔ مسلمانوں نے جو سائنسی طریق تحقیق ایجاد کیا تھا اور سائنسی علوم کی بنیادر کھی تھی اس کی اصل قرآن کی یہی تعلیم ہے۔

منکرین خدا کا مشاہدہ و مطالعہ کائنات

شاید یہاں یہ سوال کیا جائے گا کہ اگر مظاہرقدرت آیات اللہ ہیں تو کا فریاد ہر یہ قسم کے سائنس داں جو مظاہر قدرت کا مشاہدہ اور مطالعہ کرتے ہیں، خدا پر ایمان کیوں نہیں لے آتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک منکر خدا کا دل غیر اللہ کی محبت سے معمور ہوتا ہے۔ لہذاوہ مظاہر قدرت کو اس غلط محبت کی روشنی میں دیکھتا ہے اور ان کو اپنے غلط معبود کے ساتھ متعلق کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ چونکہ اس کا تصور حقیقت غلط ہوتا ہے اس لیئے وہ مظاہر قدرت کو دیکھ کر ان سے صحیح نتائج اخذ نہیں کر سکتا۔ ظاہر ہے کہ اگر مظاہر قدرت آیات اللہ یعنی خدا کی ہستی اور اس کی صفات خالقیت و ربوبیت پر دلالت کرنے والے نشانات ہیں تو ان کو آیات اللہ کے طور پر یعنی خدا کی خالقیت اور ربوبیت کے عقیدہ کی روشنی میں ہی ٹھیک طرح سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر ہم ان کے مشاہدہ اور مطالعہ کو خدا کے عقیدہ سے الگ کر دیں تو ان کو ٹھیک طرح سے نہیں سمجھ سکیں گے کیونکہ اس صورت میں ہم ان کو کسی اور قائم مقام عقیدہ کی روشنی میں یعنی کسی جھوٹے خدا کے عقیدہ کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں گے مثلاً مادہ کو ہی ایک قادر مطلق، خالق اور رب سمجھ لیں گے اور چونکہ یہ عقیدہ غلط ہوگا وہ ہماری غلط راہنمائی کرے گا اور ان کے مشاہدہ اور مطالعہ سے ہم جن نتائج تک پہنچیں گے وہ غلط یا نا تمام اور ناقص ہوں گے۔

آنکھوں کی بینائی اور دل کا اندھا پن

قرآن کی رو سے خدا کا ئنات کا نور ہے (اللہ نور السموت والارض) اس نور سے کائنات کا ایک ایک ذرہ روشن ہے۔ اگر ہم اس نور کے بغیر کا ئنات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تو ہمارا حال ایسا ہی ہو گا جیسے کوئی شخص رات کے وقت کسی کمرہ کے برقی قمقمے کو بجھا کرگھٹا ٹوپ اندھیرے میں چیزوں کو ٹولتا پھرے۔ ایک مومن کو مظاہر قدرت میں تخلیق اور تربیت اور و تجمیل اور تنظیم اور رحمت اور عدل اورتحفظ اورتحسین وحکمت اور علم اور قدرت اور زندگی اور بصارت اورسماعت کے آثار آشکار نظر آتے ہیں۔ اس لئے اس کا یہ یقین اور محکم ہو جاتا ہے کہ اس کا ئنات کا کوئی خالق ہے جو رب اور رحیم اور قدیر اور حفیظ اور جمیل اور حکیم اور علیم اور قدیر اور سمیع اور بصیر اور حی و قیوم ہے۔ اور اسے یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کوئی منکر خدا یہ کہے کہ کائنات میں تخلیق تو موجود ہے لیکن کوئی خالق نہیں، ربوبیت تو موجود ہے لیکن کوئی رب نہیں۔ تحفظ تو موجود ہے لیکن کوئی حفیظ نہیں۔ جمال تو موجود ہے لیکن کوئی جمیل نہیں اور رحمت اور عدل اور حکمت اور علم اور قدرت اور زندگی اور بصارت اور سماعت تو موجود ہیں لیکن کوئی رحیم یا علیم یا قد مر یا سمیع و بصیر یا حی و قیوم نہیں۔ لیکن یہ بات منکر خدا کے بس کی بات نہیں۔ اس کو کائنات میں نہ خدا کی صفات نظر آ سکتی ہیں اور نہ خدا کیونکہ اس کے دل کی فطری محبت جو بچے خدا کے لئے پیدا کی گئی تھی کسی اور جھوٹے خدا کے لیئے مصروف کار ہے لہذا بچے خدا کے لیئے مہیا نہیں ہو سکتی۔ وہ حقائق کی غلط ترجمانی کرتا ہے کیونکہ اس کی آنکھیں تو دیکھتی ہیں لیکن دل نہیں دیکھتا۔ اسی حالت کے متعلق قرآن حکیم نے فرمایا ہے کہ جو لوگ مظاہر قدرت کا مشاہدہ اور مطالعہ کرنے کے بعد بھی غلط نتائج پر پہنچتے ہیں ان کی آنکھیں تو اپنا کام کرتی ہیں لیکن دل نہیں دیکھتے۔

ترجمہ: آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں (وہ سب کچھ دیکھتی ہیں) لیکن دل جو سینوں میں ہیں اندھے ہو جاتے ہیں (کہ غلط سوچتے اور مشاہدات سے غلط نتائج نکالتے ہیں۔)

اقبال نے اسی مضمون کو ایک شعر میں یوں ادا کیا ہے۔

دل بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں

قرآن حکیم کی اس آیت کے حوالے سے اقبال کے اس شعر میں بھی دلِ بینا سے مراد ایسا دل ہے جس میں خدا کی محبت کا فطری جذبہ ابھی غیر االلہ کی محبت کے لئے اس طرح سے صرف نہ ہوا کہ پھر خدا کی محبت کے لئے مہیانہ ہو سکے یعنی جس میں غیر اللہ کی غیر فطری محبت سے بے اطمینانی ابھی باقی ہو جیسی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل کی بے اطمینانی تھی کہ وہ کسی ستارے چاند یا سورج کو زیادہ دیر تک اپنا رب نہ مان سکے۔

انسان کی فطرت اس طرح سے بنائی گئی ہے کہ جہاں بھی، جس وقت بھی اور جس وقت تک بھی وہ بچے خدا کے عقیدہ سے الگ رہے اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس جگہ اور اس وقت تک وہ بچے خدا کے عقیدہ کی بجائے عملی طور پر کسی اور خدا یعنی جھوٹے خدا کے عقیدہ کو اختیار کرے اور اسے کائنات کا خالق اور مالک اور رب سمجھے، خواہ زبانی طور پر اس بات کا اعتراف کرے یا نہ کرے۔ نظریاتی غیر جانبداری یا بے یقینی انسان کے لئے ناممکن ہے۔ انسان کا دل کبھی کسی معبود یا خدا کے بغیر نہیں رہ سکتا اور انسان کوئی عمل ایسا نہیں کر سکتا جو اس کے دل سے سرزد نہ ہو۔ جب بچے خدا کا عقیدہ انسان کے دل سے ہٹ جائے تو ی وقت کسی جھوٹے خدا کا متبادل عقیدہ اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ اگر انسان کا کوئی عمل (خواہ اس کی نوعیت روحانی ہو یا علمی یا اخلاقی یا جمالیاتی) بچے خدا کے عقیدہ کے ماتحت سرزد نہ ہو تو وہ کسی جھوٹے خدا کے عقیدہ کے ماتحت سر زد ہوتا ہے اور غلط ہوتا ہے۔ اسی لئے قرآن کی تعلیمات کے مطابق بتوں سے کفر کرنا خدا پر عملی ایمان لانے کی لازمی شرط ہے۔

(ترجمہ) جو شخص طاغوت سے کفر کرے اور اللہ پر ایمان لائے وہ ایک ایسے مضبوط حلقہ کو گرفت میں لیتا ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔

ہر قسم کے بتوں سے انکار خدا کے اقرار کی ایک ایسی شرط ہے جو انسان کی فطرت نے اس پر عائد کر رکھی ہے۔ اس سے گریز سائنس دان کے لئے سائنسی تحقیقات اور تعلیمات کے میدان میں بھی ممکن نہیں۔

قرآن کے فلسفہ سائنس کی بنیادیں

ان مفروضات سے ظاہر ہے کہ علم کا ئنات کے متعلق قرآن کے فلسفہ کی بنیاد یہ ہے کہ مصنوع کا علم بغیر صانع کے اور صانع کا علم بغیر مصنوع کے ممکن نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے علم کے لیئے لازم و ملزوم ہیں کیونکہ مصنوع صانع کے داخلی محاسن اور کمالات کا ایک خارجی مظہر ہوتا ہے۔ لہذا صانع کی صفات کا علم مصنوع کے علم کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ کائنات مصنوع اور مخلوق ہے اور خدا اس کا صانع اور خالق ہے۔ لہذا کا ئنات کا صحیح علم خدا کے علم کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم خدا کی معرفت چاہتے ہیں تو ہمیں کائنات پر جو خدا نے پیدا کی ہے غور و خوض کرنا پڑے گا، یہاں تک کہ ہم اس کے اندر خدا کی صفات خالقیت اور ربوبیت کا جلوہ دیکھ لیں اور اگر ہم کا ئنات کو ٹھیک طرح سے سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کا مشاہدہ اور مطالعہ اس عقیدہ کی روشنی میں کرنا پڑے گا کہ خدا اس کا خالق اور رب مع اور اس کی صفات اس میں جلوہ افروز ہیں۔